آزادہندوستان کی تاریخ میں دودن بڑی اہمیت کے حامل ہیں ؛ایک 15/اگست ،دوسرا 26/ جنوری ۔یہ دونوں دن ہر ہندوستانی کے لئے مسرت و شادمانی اور جشن و تہوار کے ہیں۔جن میں اول الذکر وہ اہم اور عظیم دن ہے جس میں ہمارے ملک ہندوستان کوبڑی طویل اور صبرآزما جد وجہد، مسلسل قربانی اور جانفشانی کے نتیجہ میں انگریزوں کی غلامی سے آزادی ملی ؛اور ہمارا پیارا ملک انگریزوں کے تسلّط سے آزاد ہوا ۔ یہ ایک ناقابل فراموش تاریخی حقیقت ہے کہ تحریک آزادی میں سب سے پہلے حصہ لینے والے مسلمان ہیں جنھوں نے خون کی ہولی کھیل کر اور جان کی بازی لگاکر اس ملک کو آزاد کرانے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی،لیکن آج جب ہمارے ملک ہندوستان کی آزادی کی تاریخ بیان کی جاتی ہے تو سن کر بہت افسوس اور رنج ہوتا ہے کہ ہمارے جن اکابر اور بزرگوں نے اس دیش کوآزاد کرانے کے لئے اپنی جانیں نچھاور کردیں، اُن کانام تک لینا گوارہ نہیں کیا جاتا ۔تاریخ شاہد ہے کہ سترہویں صدی کے اوائل میں جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام ہوا ،اور 1612ء میں مغربی ساحل سورت سے انگریزوں نے اپناکاروبار اور تجارت شروع کی اور ان تاجروں پر ہندوستانی فرمانرواؤں نے اپنی ناعاقبت اندیشی سے حد درجہ دریا دلی اور رعایات ومراعات روا رکھیں اور بڑی کشادہ دلی کے ساتھ احسانات کئے جو بعد میں خودانھیں کے لئے وبال ِجان بن گئے ۔بہرحال رفتہ رفتہ تجارت اور کاروبار کی آڑ میں انگریزوں نے ملک میں اپنے ہاتھ پاؤں پھیلانے شروع کئے ، لیکن اورنگزیب عالمگیرؒ کے عہد(1707ء) تک مغلیہ حکومت کافی مضبوط ہونے کے سبب انگریزوں کو کامیابی نہیں مل سکی ،البتہ عالمگیرؒ کی وفات کے بعددہلی کی حکومت کمزور پڑنے لگی تو اس کا سیدھا فائدہ ایسٹ انڈیاکمپنی کو ہوا ؛چناں چہ اس کامیابی کا فائدہ 1757ءمیں پلاسی کے میدان میں افسوسناک سانحہ کی شکل میں رونما ہوا جب بنگال کے نواب سراج الدولہ کی فوج اپنوں کی درپردہ سازش اور میر جعفر کی غداری کی سبب ایسٹ انڈیاکمپنی کی مٹھی بھر فوج سے شکست سے دوچار ہوئی ، اس طرح گویا نواب سراج الدولہ تحریک ِ آزادیٔ ہند کے سب سے پہلے جانباز مجاہد اور محبِّ وطن تھے جنھوں نے سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف علم ِبغاوت بلند کیا تھا۔
پھر سات سال بعد 22/اکتوبر 1764ءکو بکسر(پٹنہ کے نزدیک) کے مقام پر انگریزوں سے زبردست جنگ ہوئی جس میں مغل بادشاہ شاہ عالم اور اودھ کے نواب شجاع الدولہ کو شکست ہوئی۔(تحریک ِآزادی میں علماء کاکردار،ص 185) اور بنگال سے اودھ تک انگریز قابض ہو گئے ۔پھر رفتہ رفتہ پورے ملک میںانگریزوں کی حکومت مضبوط ہوتی گئی ،عوام پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جانے لگے ،اور حد درجہ سفّاکانہ برتاؤ کیاجانے لگا۔حتیٰ کہ 3/مئی 1799ء کو میرصادق کی غداری سے سری رنگا پٹنم کا معرکہ ٔ دلخراش پیش آیا ،جس میں شیرِ میسور، مردِ مجاہد فتح علی سلطان ٹیپوؒ کی شہادت ہوئی ،اس وقت جنرل ہارس نے سلطان ٹیپو شہیدؒکی لاش کے قریب آکرفرطِ مسرت سے چیخ کراعلان کیا:
”آج ہندوستان ہمارا ہے۔“
یہی سلطان ٹیپو ؒ ہیں جن کا تاریخی جملہ آج تک یادگار ہے کہ:
” شیر کی زندگی کاایک لمحہ گیدڑ کی صدسالہ زندگی سے بہتر ہے۔“(علماء ہند کا شاندار ماضی، جلد2،ص434)
اس کے بعد انگریزوں نے پورے ہندوستان پر قبضہ کرتے ہوئے دہلی کا رخ کیا اور منظم سازش اور منصوبہ بندپالیسی کے تحت بادشاہِ وقت کی حکومت کو باقی رکھتے ہوئے یہ اعلان کیاکہ:
” خلق خدا کی ، ملک بادشاہ سلامت کا، اور حکم کمپنی بہادر کا۔“
ان حالات کو دیکھتے ہوئے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ کے فرزند ارجمند شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒنے ہندوستان کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ صادر کردیا جس کے نتیجہ میں ہندوستانی علماء اور عوام میں انگریزوں کے خلاف غصہ پھوٹ پڑا ،اور باقاعدہ جنگ کی شروعات ہو گئی ،چناں چہ حضرت سیداحمد شہیدؒ نے علاقوں کادورہ کرکے لوگوں میں دینی شعور بیدارکرنے کے ساتھ ساتھ عملی طور پر جہاد کے لئے بھی تیار کیا، جس کے لئے 50پاکباز نفوس پر مشتمل ایک چھوٹا سا مجاہدین کاقافلہ 1818ء کو دہلی سے روانہ ہوا ۔
دورہ کرنے کے بعدبغرض جہاد جب سیداحمدشہیدؒ نے رخت ِسفرباندھا تو آپ کے ساتھ 500 مجاہدین تھے جس میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ اس قافلہ کی تعداد ڈیڑھ ہزار تک ہوگئی ،بالآخریہ قافلہ اپنے عظیم جانباز قائدین حضرت سیداحمدشہیدؒ اور حضرت شاہ اسمٰعیل شہیدؒ کی قیادت میں جہاد کرتا ہوا بالاکوٹ کے میدان میں 7/مئی 1831ءکو شہید ہوگیا۔(تحریک ِ آزادی ٔ ہندمیںمسلم عوام اور علماء کا کردار، ص32)
تحریک ِ بالاکوٹ کے بعد 1857ءکی تحریک بڑی اہم تحریک مانی جاتی ہے جس کو انگریزوں نے غدر کا نام دیا تھا یعنی ہندوستانی سپاہیوں کی بغاوت۔اس تحریک کے جرم میں مسلم عوام کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں علماء نے شہادت دی ؛بقول مصنف قیصرالتواریخ :
” 27/ہزار افراد کو پھانسی پر لٹکادیا گیا۔چاندنی چوک ہی نہیں بلکہ شہر کے ہر چوراہے پر سولیاں نصب کردی گئیں۔جوبھی معزز مسلمان انگریزوں کے ہاتھ چڑھ گیا ، اسے ہاتھی پر بٹھایا ، درخت کے نیچے لے گئے ،پھندااُس کی گردن میں ڈال کر ہاتھی آگے بڑھادیا ،لاش پھندے میں جھول گئی ۔ آنکھیں اُبل پڑیں ، زبان منھ سے باہر نکل پڑی ، ذبح کئے ہوئے مرغ کی طرح جانکنی کا وہ ہیبت ناک منظر کہ الامان والحفیظ ۔“
ایک ہندو مؤرخ میوارام گپت نے لکھاہے کہ :
” ایک اندازہ کے مطابق 1857ءمیں 5لاکھ مسلمانوں کو پھانسیاں دی گئی تھیں۔“ ( ص 56)
اس تحریک میںمسلم عوام تو شریک تھے ہی ، مشہورعلماء کرام میںحاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ ، مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ ، مولانا رشیداحمد گنگوہیؒ، مولانا محمد منیر نانوتویؒ، حافظ ضامن تھانوی شہیدؒ، مولانا جعفر تھانیسریؒ، قاضی عنایت علیؒ ،مولانا رحمت اللہ کیرانویؒ ، مولانا فیض احمدبدایونیؒ ،مولانامحمد مظہرؒ، مولانا کفایت علی کافی شہیدؒ ، مولوی وہاج الدین عرف مولوی منوؒ اورمولانا احمداللہ شاہؒ وغیر ہ شامل ہیں ۔ان کے علاوہ برادران ِ وطن میں سے منگل پانڈے کانام سر ِ فہرست ہے۔
اس جنگ میںمسلمانوںکی شکست فاش ہوئی ۔لیکن اس کے بعدڈاکٹر ولیم کی رپورٹ (کہ یہ جنگ صرف اور صرف مسلمانوں نے لڑی ہے اور جب تک ان کے دلوںمیں جذبۂ جہاد موجود ہے ان مسلمانوں پر حکومت کرنا ناممکن ہے، اس لئے سب سے پہلے ان کے دلوں سے جہاد کی محبت اور اس کاجذبہ ختم کرنا ضروری ہے ،اوراس سے پہلے یہاں کے علماء اور ان کی کتاب قرآن کو ختم کرنا ضروری ہے )کے مطابق ہندوستان سے علماء اور قرآن کریم کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایاگیا،جس پر عمل کرتے ہوئے1961ءمیں 3/لاکھ قرآن کریم کے نسخے جلائے گئے۔ اُس وقت سب سے زیادہ معتوب اور باغی جماعت علماء کی قرار پائی ،جن کوختم کرنے کے لئے یہ حکم جاری کیا گیا کہ جس کے داڑھی ہو ،یا لمبا کرتا ہو، یا مولویانہ وضع قطع والا ہو،اُس کو پھانسی پر لٹکادیا جائے ، چناں چہ صرف 15/دنوں میں 2 /لاکھ مسلمانوں کومختلف طریقوں سے شہیدکردیاگیا؛جس میں ساڑھے51/ہزار صرف علماء تھے،صرف دلّی میں 500 /علماء کو پھانسی دی گئی۔پھر 1864ءسے 1867ءتک تین سال میں 14 /ہزار علما کو تختۂ دار پر لٹکایاگیا۔
1857 کی تحریک کے بعدحضرت مولانا محمودحسن شیخ الہندؒ کی ریشمی رومال نامی تحریک نہایت اہم ہے ، اس تحریک کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے بیرونی مددکے ذریعے انگریزوں سے جنگ اورہندوستان پر حملہ کی حتمی شکل دینے کے لئے اپنے خاص شاگرد مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کو کابل بھیجا ، مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے کابل پہنچ کر صورتِ حال کاجائزہ لینے کے بعد حالات سے باخبر کر نے لئے ایک ریشمی رومال پرحضرت شیخ الہندؒ کو خط لکھا،جس میں پوری کارگذاری ، منصوبوں ، حملوں اور مورچوں وغیرہ کا تفصیلی ذکر تھا ۔اسی لئے اس تحریک کانام ریشمی رومال پڑا۔ یہ خط 10/جولائی 1916ءکو مولانا سندھی ؒ نے اپنے ایک معتمدعبدالحق کے سپرد کیا ،جسے مولاناعبدالرحیم سندھی کے حوالے کرنے کو کہا گیا، اور مولانا عبدالرحیم سندھی پر یہ ذمہ داری ڈالی گئی کہ وہ خط مدینہ منورہ حضرت شیخ الہندؒ تک پہنچائیں ، کیوں کہ اُن دنوں مولانا شیخ الہند ؒ بغرض حج و زیارت حجاز مقدس تشریف لے گئے تھے اور مدینہ منورہ میں فروکش تھے ، لیکن مقدر کی بات کہ اس تحریک کاراز اس طرح فاش ہوگیا کہ وہ خط عبدالحق سے رب نواز نامی انگریزی ایجنٹ نے حاصل کرکے انگریز حکام کے سپرد کردیا ۔خط کے پکڑے جانے سے انگریز کی نیند یںاُڑ گئیں اور تفتیش شروع ہوگئی، جس کے نتیجہ میںحضرت شیخ الہندؒ کو گرفتار کر کے مالٹا میں قید کردیا گیا ، جہاں 3 /سال سے زائد مدت قید میں گذارنے کے بعد12/مارچ 1920ء بروز جمعہ مالٹا کی قیدسے رہا ہوئے۔حضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ گرفتار ہونے والوں میں مولانا وحیداحمدصاحب فیض آبادیؒ ، حضرت مولانا عزیرگل صاحبؒ اور حکیم سید نصرت حسین صاحب ؒ تھے جبکہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمدمدنی ؒ پہلے ہی مدینہ منورہ سے گرفتار کئے جا چکے تھے اور فی الحال قید میں تھے ۔
مولانا عبیداللہ سندھی ؒ حضرت شیخ الہندؒ کے بعد ریشمی رومال تحریک کے سب سے بڑے قائد تھے اور جب اُن کو افغانستان روانہ کیا گیا تھا؛ اُس وقت اُن کی داڑھی نکل رہی تھی اور جب لوٹے ہیں تو داڑھی سفید ہوچکی تھی ۔
اسی طرح شیخ الہند ؒ کے دوسرے چہیتے شاگرد شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمدمدنیؒ تھے جنھوں نے خلافت کانفرنس کراچی میں اس وقت شرکت کی تھی جب اُنھیں گولی مار دینے کاحکم ہو چکاتھا ،لیکن لوگوں کی توقع کے برخلاف خلافت کانفرنس کے اسٹیج پربغل میں کفن لے کر پہنچے اور کانفرنس کی صدارت فرمائی ، اسی کانفرنس میں حضرت مدنیؒ نے انگریزوں کو بلبل سے اور گولیوں کو گُل سے تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا تھا؎
لئے پھرتی ہے بلبل چونچ میں گل
شہیدِ ناز کی تربت کہاں ہے
یہ شعر سن کر مجمع آدھے گھنٹے تک نعرے لگاتا رہا ، پھر حضرت مدنیؒ نے علماء کی قربانیوں اوراپنے ایک فتویٰ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انگریزوں کو مخاطب کر کے فرمایا ؎
کھلونا سمجھ کر نہ برباد کرنا
کہ ہم بھی کسی کے بنائے ہوئے ہیں
فرنگی کی فوجوں میں حرمت کے فتوے
سرِ دار چڑھ کر بھی گائے ہوئے ہیں
وہ شجرِ آزادی جسے خوں دے کے سینچا
تو پھل اس کے پکنے کو آئے ہوئے ہیں
یہی حضرت مدنی ؒ ہیں جنھوں نے فتویٰ دیا تھا کہ انگریز کی فوج میں بھرتی ہونا حرام ہے ، اس فتویٰ کی بنیاد پر حضرت مدنیؒ کو گرفتار کرکے کراچی کے کابینہ ہال میںانگریز جج کے سامنے پیش کیا گیا ، جج نے پوچھا کیا تم نے یہ فتویٰ د یا ہے؟ حضرت مدنی ؒ نے جواب دیا ؛ہاں ،ہمارا کل بھی یہی فتویٰ تھا اورآج بھی یہی فتویٰ ہے ، امامِ حریت مولانا محمدعلی جوہر ؒ کے حضرت مدنی ؒ کے پاؤں پکڑ لئے اور کہا حضرت ! بیان بدل دیجئے ،جواب دیا کہ اگر بیان بدل دیا تو ایمان بدل جائے گا ۔ اور فرمایا کہ اگر انگریز مجھے اس فتویٰ کے جرم میں پھانسی دے دے تو اُس کو کفن کی ضرورت نہیں پڑے گی ،میں کفن ساتھ لایاہوں۔
غرض یہ کہ ہمارے علماء اور اکابر نے اپنی اجنوں کی قربانی دے کر اس ملک کو آزاد کرایا ،مگر افسوس کہ آج انھیں علماء کی مخلصانہ جد وجہد اور بے لوث خدمات کو ملکی تاریخ سے حرفِ غلط کی طرح مٹادیا گیا اور وہ مسافر جواس کفن بردوش قافلہ میں سرِ راہ آکر شامل ہو گئے تھے ، ان کی قافلہ کی قیادت کاتاج پہنادیا گیا۔ اورمزیدافسوس اس بات کاہے کہ جن مسلمانوں نے آزادی کیلئے اپنی جانیں نچھاور کردی تھیںوہی مسلمان آج اپنے محبوب اور عزیز ترین ملک ہندوستان میں غداری کا بد نما داغ لگائے ہوئے گھٹ گھٹ کر جینے پر مجبور ہیں ، نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ؎
جب گلستاں کو خون کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہماری ہی گردن کٹی
آج کہتے ہیں پھر یہ اہلِ چمن
یہ چمن ہے ہمارا ، تمھارا نہیں
آزادی کے بعدکے ان 75سالوں میں جبکہ پورا ملک” آزادی کا امرت مہوتسو “اور آزادی کا جشن منارہا ہے ،مذکورہ بالا علماء اور مسلمانوں کی قربانیوں اور جد وجہد کو یکسر فراموش کیا جارہا ہے ، برابر کا حق دار سمجھنے کے بجائے ہمیشہ کرائے دار سمجھاگیا ہے اور آج بھی سمجھا جارہا ہے ، ہماری حب الوطنی کو شک کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے ،ہمیں قومی دھارے سے جوڑنے کے بجائے یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے ،حالانکہ اس ملک میں ہم مسلمان برابر کے حق دار ہیں ، مگر افسوس! ؎
کتنی بربادی مقدر میں تھی آبادی کے بعد
کیا بتائیں ہم پہ کیا گذری ہے آزادی کے بعد
سفیان احمدانصاری
ریسرچ اسکالر شعبۂ اردو ، لکھنؤ یونیورسٹی ،لکھنؤ
موبائل نمبر 9839574196
sufyanahmadansari2@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

