قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام پرچم کشائی کی تقریب
نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے زیر اہتمام 75؍ویں یوم آزادی کے موقعے پر پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ کونسل کے ڈائریکٹر پروفیسر شیخ عقیل کے ذریعے پر چم کشائی کی گئی۔ اس موقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج ہم اپنے وطن عزیز کی آزادی کے 75 سال کی تکمیل کا جشن منا رہے ہیں جو یقینا تمام ہندوستانیوں کے لیے بے پناہ خوشی اور مسرت کی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس عرصے میں ہمارے ملک نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ہر میدان میں ہندوستان نے اپنی شناخت قائم کی ہے۔ اس آزادی کو برقرار رکھنا اور اس کی حصولیابیوں میں اضافہ کرتے رہنا ہم تمام شہریوں کی ذمے داری ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آزادی کے 75سال مکمل ہونے پر’آزادی کا امرت مہوتسو‘ منارہی ہے جس کا سلسلہ اگست 2023تک جاری رہے گا، یہ روایتی معنوں میں محض جشنِ آزادی نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد ہندوستان کی 75سالہ کامیابیوں سے پوری دنیا کو روشناس کروانے اور ملک کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے حکومت کی طرف سے کی جانے والی کاوشوں سے باخبر کرنے کے ساتھ نئی نسل کو اپنے ملک کی ہمہ گیر تعمیر و ترقی کے لیے حوصلہ مند و پرجوش بنانا بھی ہے۔ اس کے تحت ہندوستان اپنی کامیاب سفارت کاری کے ذریعے پوری دنیا کواپنے قریب لارہا ہے۔ مختلف ملکوں کے ساتھ اپنے علمی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط کررہا ہے، سائنسی نقطہ نظر کو فروغ دے رہا ہے، ماحولیات اور معیشت کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کی سمت میں کام کررہا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آزادی کا امرت مہوتسو ہندوستان کی صدیوں پرانی اس ثقافتی وراثت کی نمایندگی کرتا ہے جس کی بنیادعالمی اخوت،انسانیت نوازی اوربھائی چارے پر ہے۔ پروفیسر شیخ عقیل نے تحریک آزادی میں اردو زبان کے غیر معمولی کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ آزادی کی تحریک کے دوران اردو کے صحافیوں، شاعروں اور ادیبوں نے اپنی منظوم و منثور تخلیقات اور بے باکانہ صحافت کے ذریعے مجاہدین آزادی کے دلوں میں جوش و جذبہ پیدا کیا۔انھوں نے کہا کہ آج بھی اردو زبان ملک میں اتحاد، یکجہتی، بھائی چارہ اور اخوت کا ماحول قائم کرنے میں اہم رول ادا کر رہی ہے۔ تقریب پرچم کشائی میں کونسل کا عملہ بھی موجود رہا۔
(رابطہ عامہ سیل)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

