Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

آزادی وطن اور اردو شاعری – پروفیسر ابوبکرعباد

by adbimiras اگست 16, 2022
by adbimiras اگست 16, 2022 0 comment

جنگ آزادی کے متوالے ہمارے صرف وہ اسلاف ہی نہیں تھے جو ہندوستان پر قابض انگریزی حکومت سے براہ راست، بالواسطہ،علی الاعلان یا گوریلا طرز کی جنگ اپنے اپنے ہتھیاروں اور حربوںسے لڑ رہے تھے ۔ بلکہ وہ لوگ بھی وطن کی محبت میں سرشار اور آزادی کے جانباز سپاہی تھے جو اپنی شاعری، فکشن اورصحافت کو انقلاب اور جنگ آزادی کے اسلحے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ ایک طرح سے دیکھیے تو یہ شاعر و ادیب اور صحافی کہیں زیادہ موثر اور دور رس خدمات انجام دے رہے تھے ۔ یوں کہ یہ اپنی تحریروں اور تقریروں سے لوگوں کو غلامی کی بد بختی اور آزادی کی عظمت سمجھا رہے تھے ، غلام آنکھوں کوآزاد ملک کا حسین سپنادکھا رہے تھے، عوام کے دلوں میں آزادی کا جذبہ جگا رہے تھے اور سپاہیوں میں عسکری میں حوصلہ پیدا کر رہے تھے ۔ یعنی وطن عزیز کو انگریز غاصبوں سے نجات دلانے کے لیے عوامی جوش و ولولے ، جرأت و حوصلے ، آپسی اتحاد و اتفاق ،حب وطن اور انقلاب کی راہ تیار کرنے میں ان قلم کاروں کے کارنامے محض لائق ستائش ہی نہیں، بعد تک کی نسلوں پر ان کا یہ احسان عظیم ہے۔ یہ تمام لوگ مختلف مذہب و ملت کے ماننے ، متعدد علاقوں میں بسنے ، اونچے نیچے اور متوسط طبقوں میں رہنے اور الگ الگ زبانیں بولنے والے تھے ؛ جو دو انتہائی مضبوط رشتوں میں بندھے تھے ۔ اول یہ کہ سب ایک ہی مادر وطن کے سپوت تھے ۔اور دوسرے یہ کہ یہ سب مادر وطن کو آزادکرانے اور قابض انگریزوں سے اپنا حق چھیننے کے لیے ایک عظیم الشان ملک گیر ماحول تیار کرنے میں دل و جان سے شریک تھے۔ لیکن یہاں گفتگو صرف اردو شاعری کے مختصر حوالے سے ہوگی ،اوریہ دیکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ اردو شاعری اور شاعروں نے اس سلسلے میں کیا کیا کیے۔

آزادی وطن کی جنگ کا باضابطہ آغاز اور انگریزوں کے خلاف پہلے متحدہ محاذکا قیام 1857 میں تب ہوا،جب بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں نانا صاحب، بیگم حضرت محل، تانتیا ٹوپے ،منگل پانڈے،مولوی لیاقت علی،جرنل بخت خاں،رانی لکشمی بائی،مولوی احمد اللہ،کنور سنگھ اور حکیم احسن اللہ خاں وغیرہ نے مشترکہ طور پر جنگ آزادی اور اس میں عملی شمولیت کا اعلان کیا۔ ایک طرف یہ لوگ عسکری طریقے آزمارہے تھے تو دوسری جانب ہمارے شعرا انقلاب اور آزادی کی فضا تیار کرنے کے جذباتی طور اپنا رہے تھے ۔چنانچے اس زمانے میں کثرت سے اردو شاعری کے ذریعے انگریزوں کے فریب اور ظلم و جبر کو اجاگر کیا جارہا تھا اور ہندوستانیوں میں وطن کی محبت اور آزادی کا جذبہ پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں ۔ مصحفی کا یہ شعر دیکھیے:

ہندوستاں کی دولت و حشمت جو کچھ کہ تھی

ظالم فرنگیوں نے بہ تدبیر کھینچ لی

اور مومن خاں مومن ؔ تو انگریزوں کے خلاف جہاد کو اصل ایمان ،اور آزادی کی راہ میں اپنی جان قربان کردینے کو سب سے بڑی عبادت کہتے تھے۔انھوں نے ایک مثنوی لکھی تھی جو ’’مثنوی برائے جہاد‘‘ کے عنوان سے ان کے کلیات میں موجود ہے ۔ اس مثنوی کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے :

عجب وقت ہے یہ جو ہمت کرو

حیات ابد ہے جو اس دم مرو

سعادت ہے جو جاں فشانی کرے

یہاں اور واں کامرانی کرے

الٰہی مجھے بھی شہادت نصیب

یہ افضل سے افضل عبادت نصیب

تو اپنی عنایت سے توفیق دے

عروج شہید اور صدیق دے

میں گنج شہیداں میں مسرور ہوں

اسی فوج کے ساتھ محشور ہوں

غالب نے 1857کے تعلق سے نظم و نثر میں بہت کچھ لکھا ہے ، بلکہ ان کی تحریروں سے تو ہمارے محققوں نے باضابطہ اٹھارہ ستاون میں دہلی اور وہاں کے باشندوں پر گزرنے والی پوری تاریخ مرتب کی ہے۔ 1857میںا نگریزوں کی جانب سے کیے جانے والے قتل و غارت گری کی صورت حال کو انھوں نے اپنے ایک قطعہ میں بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:

بس کہ فعال مایرید ہے آج

ہر سلح شور انگلستاں کا

گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے

زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے

گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا

شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک

تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا

مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر جو ’دہلی اردو اخبار‘ نکالتے تھے انھیں انگریزوں نے شہید کردیاتھا۔خود مولانا محمد حسین آزاد کے نام کاانگریزوں نے وارنٹ ایشو کیا ہوا تھا، لیکن کافی عرصے تک وہ چھپتے چھپاتے گرفتاری سے بچ گئے۔ بعد میں وہ انگریزوں کے علم ہنر کے قائل ہوگئے تھے ،لیکن ملک میں ان کے قبضے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ ان کی نظم ’تاریخ عبرت افزا‘کے یہ اشعار دیکھیے جن میںانھوں نے  ہندوستانی انقلابیوں کی کامیابی اور انگریزحاکموں کی حالت زار کا بیان ہے :

ہوتا ہے ابھی کچھ سے کچھ اک چشم زدن میں

ہاں دیدۂ دل کھول دے اے صاحب الابصار

ہے کل کا ابھی ذکر کہ جو قوم نصاریٰ

تھی صاحب اقبال وجہاں بخش و جہاں دار

تھے صاحب علم و ہنر و حکمت و فطرت

تھے صاحب جاہ و حشم و لشکر جرار

اللہ ہی اللہ ہے جس وقت کہ نکلے

آفاق میں تیغ غضب حضرت قہار

سب جوہر عقل ان کے رہے طاق پہ رکھے

سب ناخن تدبیر و خرد ہوگئے بے کار

کام آئے نہ علم و ہنر و حکمت و فطرت

پورب کے تلنگوں نے لیا سب کو یہیں مار

داغؔ دہلوی نے مسدس کی ہیئت میں ایک شہر آشوب لکھا تھا جس کا آغازدہلی کے بیان سے ہوتاہے ،چوتھے سے ساتویں بند میں میرٹھ سے سپاہیوں کے دہلی آنے اور ان کے جنگ کرنے کا ذکر ہے ۔ اوراختتام میں جنگ کے بعد کی تباہ صورت حال کا تذکرہ ہے۔یہ بند ملاحظہ کیجیے:

بے محاسبہ پرشش ہے نکتہ دانوں کی

تلاش بہر سیاست ہے خوش زبانوں کی

جو نوکری ہے تو اب یہ ہے نوجوانوں کی

کہ حکم عام ہے بھرتی ہے قید خانوں کی

یہ اہل سیف و قلم کا ہو جب کہ حال تباہ

کمال کیوں نہ پھرے در بدر کمال تباہ

جن شاعروں نے اپنی شاعری میں انگریزوں کے ظلم و زیادتی کا ذکرکیا،ہندوستان کی جنگ آزادی کے لیے لوگوں میں جوش و لولہ بھرنے اور انگریزی سرکار کی غلامی سے نجات کی باتیں کیں،انگریزوں کی جانب سے انھیں سخت سزا ئیں بھگتنی پڑیں اور جان و مال کا شدید نقصان اٹھاناپڑا۔ امام بخش صہبائی اپنے خاندان کے اکیس افراد کے ساتھ قتل کردیے گئے ، نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ ؔ کی جاگیر ضبط ہوئی اورانھیں سات سال قید کی سزادی گئی ، جس سے بعد میں وہ بری ہوگئے ۔ ظہیرؔ دہلوی عرف مرزانواب دہلوی کو بھی بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ،اور در بدری ان کا مقدر بنا ۔انھوں نے شاعری کے تین دیوان کے علاوہ 256 صفحات پر مشتمل ’’داستان غدر‘‘ نام کی ایک نثری تصنیف بھی چھوڑی ہے۔ ظہیر دہلوی نے اس وقت کے حالات سے متعلق ایک شہر آشوب لکھا تھا جس میں انگریزوں کے ظلم و زیادتی کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔چند اشعار ملاحظہ کیجیے :

کہاں سے باغی بے دین آگئے ہے ہے

کہ نام اس کا جہاں سے مٹا گئے ہے ہے

یہ کیسی آتش فتنہ لگا گئے ظالم

جہاں میں ایک قیامت مچا گئے ظالم

غرض کہ نام خلافت اٹھا گئے ظالم

سبھوں کو مٹنے سے پہلے مٹا گئے ظالم

کسی پہ قہر خدا کا نہ آفت آئی تھی

یہ خاندان تمر پر قیامت آئی تھی

انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے ایک شاعر منیر شکوہ آبادی بھی تھے ، جنھیں عمر قید کی سزا دے کر کالاپانی بھیج دیا گیا تھا۔وہ ایک نظم میں اپنے قید کر کے بھیجے جانے کے سفر کا ذکر کرتے ہیںجس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آزادی کے متوالے شاعروں کو کس کس طور سے ذلیل کیا جاتا اور انھیں تکلیفیں دی جاتی تھیں۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے :

آئے باندے میں مقید ہوکے ہم

سو طرح کی ذلت و تحقیر سے

کوٹھری تاریک پائی مثل قبر

تنگ تر تھی حلقۂ زنجیر سے

پھر الٰہ آباد لے جائے گئے

ظلم سے ، تلبیس سے ، تزویر سے

جو الٰہ آباد میں گزرے ستم

ہے فزوں تقریر سے تحریر سے

پھر ہوئے کلکتے کو پیدل رواں

گرتے پڑتے پاؤں کی زنجیر سے

ہتھکڑی ہاتھوں میں بیڑی پاؤں میں

ناتواں تر قیس کی تصویر سے

سوئے مشرق لائے مغرب سے مجھے

تھی غرض تقدیر کو تشہیر سے

ان کے علاوہ اس زمانے میں بہت سے شعرا تھے جنھوں نے آزادی وطن کے تعلق سے انقلابی نظمیں لکھیں اور اشعار کہے۔ کچھ انقلابی اشعار ایسے تھے جن کے لکھنے والوںکے نام نہیں معلوم ہوسکے ،لیکن وہ اشعار نعرے کے طور خوب استعمال ہوتے تھے، مثلاًیہ دو اشعار دیکھیے :

(۱)

ایک دو تین

گھوڑے کی زین

بھاگ جاؤ وارن ہیستین

(۲)

لبالب پیالہ بھرا خون سے

فرنگی کو مارا بڑی دھوم سے

خود بادشاہ سلامت بہادر شاہ ظفر نے ہندوستان سے حد درجہ محبت اور انگریزی حکومت سے نجات اوراس سے آزادی کا اظہار متعدد اشعار میں کیا ہے۔منشی جیون لال جو انگریزوں کا تنخواہ دار خفیہ جاسوس تھااور ہر دن کی خبریں انگریزی سرکار کو پہنچا تا تھاوہ اپنے روزنامچے میں 2؍اگست 1857 کو لکھتا ہے:

’’۲ ؍ اگست : آج بادشاہ دربار عام میں نہایت شان و شوکت کے ساتھ جلوہ فرما تھے ۔مرزا امین الدین خاں ، سعادت علی خاں وکیل ،اکبر علی خاں بھی دربار میں حاضر تھے ۔جنرل سمند خاں رسالدار ،غلام نبی خاں وکیل ، حسن علی خاں اور مولوی صدرالدین خاں بھی شریک ہوئے ۔ کل 126روپے اور نو اشرفیاں بطور نذر پیش ہوئیں ۔بالعموم جنگی حالت پر گفتگو ہوتی رہی ۔اس کے بعد بادشاہ نے چند اشعار سنائے ، جنھیں انھوں نے موزوں کیا تھا۔یہ اشعار جنرل بخت خاں کے پاس بھیج دیے گئے تھے ۔ان کا مفہوم یہ تھا:

’’ خدا کرے کہ دین کے دشمن تباہ وبرباد ہوجائیں !

خدا کرے کہ فرنگی نیست و نابود ہوجائیں!

قربانیاں کر کے عید قرباں کے تہوار کو مناؤ !

اور دشمنوں کو تہہِ تیغ کردو ،اور کوئی نہ بچنے پائے!‘‘

(غدر کی صبح و شام، خواجہ حسن نظامی،ہمدردپریس دہلی، 1926، ص ، 197)

یہ دونوں اشعار بھی بہادر شاہ ظفر سے منسوب ہیں:

غازیوں میں بو رہے گی جب تلک ایمان کی

تب تو لندن تک چلے گی تیغ ہندوستان کی

یہ رعایا ہند تباہ ہوئی ،کہوں کیا جو اُن پہ جفا ہوئی

جسے دیکھا حاکم وقت نے، کہا یہ تو قابل دار ہے

یہ اس زمانے کے محض چند شاعروں کا ذکر ہے ،ورنہ حقیقت یہ ہے کہ آزادی وطن کے متوالے شاعروں کی ایک طویل فہرست ہے جو مختلف اصناف شاعری میںاپنے انقلابی جذبات کا اظہار اور ہندوستان کی آزادی کی راہ ہموار کرنے میں مصروف تھے۔

ہندوستان کے نئے تعلیم یافتہ نوجوان اٹلی اور آئر لینڈ کی سیاسی جد و جہد،امریکہ کی جنگ آزادی اور فرانس کے انقلاب سے شدیدطور پر متاثر ہورہے تھے ۔ بعد میں جاپان کی روس پر فتح،چین میں بیدای کی لہر،ایران میں حالات کی تبدیلی اور ترکی کے انقلاب کے زیر اثر بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان کی تحریک آزادی میں بھی ایک بار پھرسے نئی جان پڑی ، اور آزادی کے متوالوں میں ایک نیاجوش و ولولہ پیدا ہوا۔ آزادی کے سیاسی لیڈروں مثلاً دادا بھائی نوروجی، بدرالدین طیب جی،رانا ڈے، گوکھلے،فیروز شاہ مہتہ اور سریندر ناتھ بینرجی جیسے آئینی گفتگو کرنے والے دانشور لیڈروں کے ساتھ نئی نسل کے جوشیلے اور قدرے انتہا پسند لیڈر عملی طور سے سیاسی جدوجہد کی فضا تیار کرنے کے لیے میدان میں اتر آئے جن میں لالہ لاجپت رائے ، مولانا ابوالکلام آزاد ،مولانا محمد علی جوہر اوراربندو گھوش وغیرہ اہم ہیں۔انھی دنوں الہلال، البلاغ، ہمدرد، مدینہ،ہمدم اور مسلم گزٹ جیسے اخباروں نے آزادی کی باضابطہ عملی فضا سازی میں اہم، نمایاں اور ناقابل فراموش خدمات انجام دینی شروع کیں۔ایسے میں بھلا اردو شاعر کسی سے پیچھے رہنے والے کہاں تھے۔انھوں نے بھی نئی آب و تاب کے ساتھ اور کہیں زیادہ اثرانگیز اور پُر جوش انداز میں تحریک آزادی کے مشن کو فروغ دینا شروع کیا ۔ مولانامحمد حسین آزادؔ کا ذکر پہلے آچکاہے ، گوکہ وہ انگریزوں کی ترقی کے ہم نوا تھے مگر ہندوستان پر ان کے قبضے کو پسند نہیں کرتے تھے۔خواجہ الطاف حسین حالی کا معاملہ بھی تقریباً یہی تھا۔وہ ایک طرف انگریزی سرکار کی علمی،صنعتی اور تہذیبی ترقیوں کے معترف تھے ، مگر ہندوستان پر ان کے قبضے کے مخالف تھے۔یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں کہ حالیؔ ہندوستانی سیاست سے متاثر ہونے، اوراس کے مضمرات کو سمجھنے والے پہلے شاعرتھے ، جن کے دل نے ہندوستان کی غلامی پرآنسو بہایا ۔ اپنی شاعری میں انھوں نے ہندوستان کے شاندار ماضی کو یاد دلاتے ہوئے اس کی بازیافت کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوششیں کیں ، سماجی ترقی اور حب الوطنی کے جذبے کو اپنی شاعری کے خمیر میں شامل کیا،وطنیت کے احساس کو قومی شعور میں ڈھالا اوردھیمے سروں اور متوازن لہجے میں اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ آزادی کا جذبہ جگاتے رہے۔ اس حوالے سے ’مسدس حالی ‘کو قومی شاعری کی بنیاد کہیے تو بجا ہے ۔ ’انگلستان کی آزادی اور ہندوستانی کی غلامی‘، ’آزادی کی قدر‘ ، سیاست ، ’فلسفۂ ترقی ‘ ، ’ لی ہے کروٹ ایک مدت سے زمانے نے بدل‘ ، ’قوم کی پاسداری‘ اور ’حب وطن ‘ جیسی نظموں میں ان کے سیاسی اور سماجی شعور کو بخوبی دیکھااور سمجھا جاسکتاہے ۔ ان کی نظم ’آزادی کی قدر‘ ملاحظہ کیجیے :

ایک ہندی نے کہا حاصل ہے آزادی جنھیں

قدر داں ان سے بہت بڑھ کر ہیں آزادی کے ہم

ہم کہ غیروں کے سدا محکوم رہتے آئے ہیں

قدر آزادی کی جتنی ہم کو ہو ، اتنی ہے کم

عافیت کی قدر ہوتی ہے مصیبت میں سوا

بے نوا کو ہے زیادہ قدر دینار و درم

’تعرف الاشیا ئ بالاضداد‘ ہے قول حکیم

سن کے اک آزاد نے یہ لاف، چپکے سے کہا

دے گا قیدی سے زیادہ کون آزادی پہ دم

ہے سقر موری کے کیڑے کے لیے باغ ارم

کہنے کی ضرورت نہیں کہ نظم اپنے آخری شعر کی بلاغت ، اس کے حسن ،کنایے اور شدیدطنز کی بنا پر چھپی ہوئی کٹار کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔

پنڈت برج نرائن چکبست کی شاعری بھی تحریک آزادی کے تعلق سے کافی حد تک اعتدال پسند اور میانہ روی پر قائم ہے ۔ وہ سچے محب وطن اور آزادی کے متمنی تھے ۔ان کی شاعری کا بیشتر حصہ حب وطن، محبین وطن اور جدو جہد آزادی پر مشتمل ہے ۔ ان کی طویل ظریفانہ نظم ’لارڈ کرزن سے جھپٹ‘ کے کچھ اشعار ملاحظہ کیجیے:

نشہ میں چور ہوں اور سوجھتی ہے دور کی اب

ڈر ہے کرزن سے نہ ہوجائے کہیں مجھ سے جھپٹ

لیجئے سامنے میرے ہے شبیہِ کرزن

رنگ اس طرح بدلتی ہے کہ جیسے گرگٹ

سرخ غصہ سے کبھی ، زرد کبھی صدمہ سے

خوف کے مارے کبھی رنگ میں ہے نیلاہٹ

آئے ہیں آپ توکچھ حضرت ِکرزن سنیے

آپ اگر منھ کے کڑے ہیں تو ہوں میں بھی منھ پھٹ

آگیا طیش مجھے دل کا نکالوں گا بخار

صاف کہتا ہوں، نہیں بات میں اپنی بنوٹ

مانیے گا نہ برا ،آدمی ہیں آپ شریف

عالم نشہ میں اگر بک جاؤں کچھ سٹ پٹ

حالیؔ اور چکبست ؔکے مقابلے میں علامہ شبلی نعمانی کی شاعری کافی بلند آہنگ،پُرجوش اور ولولہ خیز تھی۔ ان کا سیاسی شعور بھی کافی واضح تھااور نظریہ بہت ہی مستحکم ۔ چنانچہ شاعری کے ذریعے انھوںنے تاریخ کے عظیم الشان ماضی سے حال کو روشن کرنا چاہا۔ان کی شاعری میں شجاعت، صداقت، انصاف ، بغاوت اور آزادی نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ ہندوستان کی غلامی اور ہندوستانیوں کو غفلت میں رکھنے والے ،یا ملک کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے والی تمام تنظیموں کے سخت مخالف تھے ۔ اردو میں مسلم لیگ کے خلاف غالباً سب سے زیادہ نظمیں مولانا شبلی نعمانی نے ہی لکھی ہوں گی۔ یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی سیاسی شاعری میں وطنی اور قومی نظریے کو مرکزی موضوع کے طور پر اپنانے کوشش کی ہے ۔ ’علمائے زندانی‘ ، ’جنگ یورپ اور ہندوستان، ’ آپ ظالم نہیں زنہار پہ ہم ہیں مظلوم‘، ’احرار قوم اور طفل سیاست‘ ، ’ہمارا طرز حکومت‘ ،’عدل جہانگیری ‘ اور ’سوٹ ایبل سلف گورنمنٹ‘ جیسی ان کی نظمیں ملک کی آزادی، نظام انصاف اور طرز حکومت کے تعلق سے خاصی اہم ،قابل مطالعہ اور شبلی کے جمہوری نظریے کی غماز ہیں:

یہ مسلم کہ ہر اک ملک کی حالت ہے جدا

جس کا آئین حکومت پہ بھی پڑتا ہے شر

جو حکومت کہ کناڈا کے لیے ہے موزوں

ہے وہی مملکت ہند میں سرمایہ ٔ شر

ملک میں ہم بھی ہیں ، ہندو بھی عیسائی بھی

جو ہیں نخل حکومت کے لیے برگ و ثمر

مولانا محمد علی اور ظفر علی خاںکی شاعری پر شبلی کا اثر نمایاں ہے ۔ یہ دونوں حضرات انگریزی حکومت کے سخت مخالف تھے،اور ہندوستان کو ایک آزاد اور خود مختار ملک بنانے کی جدوجہد میںتن من دھن سے لگے ہوئے تھے ۔ مولانا محمد علی جوہر کو جد و جہد آزادی میں سرگرمی سے شرکت کے جرم میں زندگی کا بیشتر حصہ قید و بند میں گزارنا پڑا۔ وہ تحریک خلافت کے بھی بانی تھے ،اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے قیام میں ان کا اہم کردار رہاہے۔ مولاناشاعری کو مقصد پر قربان کرنے کے قائل نہیں تھے ، اس لیے ان کی شاعری حب وطن اور تحریک آزادی کی بات بھی فصاحت و بلاغت پردے میں کرتے ہیں ۔ ظفر علی خاںاپنے کلام پر اصلاح داغؔ دہلوی سے لیتے تھے مگر جوش و جذبہ شبلی کا سا رکھتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری سیاست ،ہنگامی صورت حال، وطن کی محبت اور تحریک آزادی کے حوالے سے حد درجہ بلند آہنگ ،جوش و خروش سے لبریز اور واضح ہے ۔ تحریک آزادی کے حوالے سے بلا مبالغہ انھوں نے سیکڑوں انقلابی نظمیں لکھی ہیں، جن میں جوش و جذبہ ابلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔یہ اشعار دیکھیے:

گاندھی نے آج جنگ کا اعلان کردیا

باطل سے حق کو دست و گریبان کردیا

سر رکھ دیا رضائے خدا کی حریم پر

خنجر کو پھر حوالۂ شیطان کردیا

ہندوستاں میں ایک نئی رو ح پھونک کر

آزادی ٔ حیات کا سامان کردیا

دشمن میں اور دوست میں ہونے لگی تمیز

کتنا بڑا یہ ملک پہ احسان کردیا

دے کر وطن کو ترک موالات کا سبق

ملت کی مشکلات کو آسان کردیا

شیخ اور برہمن میں بڑھایا وہ اتحاد

اوراقِ جبر وجور وجفا کو بکھیر کے

گویا انھیں دو قالب و یک جان کردیا

شیرازہ سلطنت کا پریشان کردیا

اور رنگا رنگا وطن عزیز کی محبت اور اتحاد و اتفاق سے متعلق ان کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:

ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے

مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے

تہذیب ہند کا نہیں چشمہ اگر ازل

یہ موج رنگ رنگ پھر آئی کہاں سے ہے

ذرے میں گر تڑپ ہے تو اس خاک پاک سے

ہے اس کے دم سے گرمیِ ہنگامہ ٔ جہاں

سورج میں روشنی ہے تو اسی آسماں سے ہے

مغرب کی ساری رونق اسی اک دکاں سے ہے

اور یہ شعر کہ:

ہندو جو شیٖر ہوں تو مسلمان ہوں شکر

دونوں میں اتفاق کا رشتہ بڑھائے جا

رام پرشاد بسمل ؔ صرف ہمارے مایۂ ناز مجاہد آزادی ہی نہیں تھے جنھیں انگریزوں نے پھانسی دی ،بلکہ وہ ایک مورخ،مترجم ،ادیب اور شاعربھی تھے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف تھے ۔ اپنی زندگی میں ہی انھوں نے گیارہ کتابیں شائع کروائیں اور ان کے پیسوں سے انگریزوں کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ہتھیار خریدے ۔ان کے ناول ’بولشویکوں کے کرتوت ‘ کو خاصی شہرت ملی تھی ۔ ہندی میں ان کی کتاب ’میں کرانتی کاری کیسے بنا‘ خاصی اہم ہے۔ان کی یہ مشہور نظم دیکھیے جسے انگریزی حکومت نے ضبط کرلیاتھا:

چرچا اپنے قتل کا اب یار کی محفل میں ہے

دیکھنا ہے یہ تماشا کون سی منزل میں ہے

دیش پر قربان ہوتے جاؤ تم اے ہندیو!

زندگی کا راز مضمر خنجر قاتل میں ہے

ساحل مقصود پر لے چل خدا را ،ناخدا!

آج ہندوستان کی کشتی بڑی مشکل میں ہے

دور ہو اب ہند سے تاریکی بغض و حسد

بام رفعت پر چڑھادو دیش پر ہوکر فنا

بس یہی حسرت، یہی ارماں ہمارے دل میں ہے

بسملؔ اب اتنی ہوس باقی ہمارے دل میں ہے

ہمارے ناقدین نے جگر کے یہاں سیاست کے موضوع کا انکار کیا ہے مگر جگرؔ کے کلیات کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اخیر دور میںنہ صرف سیاست کو دانستہ اپنی شاعری کا موضوع بنارہے تھے ،بلکہ اس موضوع سے متعلق وہ خاصی بصیرت بھی رکھتے تھے۔وہ ایک حساس شاعر اور سچے محب وطن کی مانند اپنی غزلوں میں ان تاریخی دستاویزوں کو رمزی، علامتی اور استعاراتی انداز اورنظموں میں اعلانیہ طور پر بلکہ برہنہ گفتاری کی حد تک ڈھال رہے تھے ۔کانپور ، ممبئی ، چھپرا،نواکھالی، دہرہ دون اور دہلی وغیرہ میں فسادات اور قتل و غارت گری کی وارداتوں کے حوالے اور ان کا شعری اظہار ان کی سیاسی بصیرت اور ملک و قوم سے ہمدردی کے غماز ہیں۔ ’قحط بنگال‘ ،’پھرتے ہیں آستینوں میں خنجر لیے ہوئے ‘ ، ’آجکل‘ ،’گاندھی جی کی یاد میں‘ ، اور ’اعلان جمہوریت:  26جنوری 1950 ‘ آزادی وطن اور اس کے سیاق و سباق کے حوالے سے اہم نظمیں ہیں۔ ’قحط بنگال ‘ کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے جن میں انگریزی حکومت کے ظلم ،اس کی بد انتظامی ،عوامی بیداری کی لہر اور انگریزوں کے ملک چھوڑ کر جانے کا مژدہ سنایاگیا ہے :

بے مہری و بے درد و افلاس و غلامی

ہے شامت اعمال جدھر دیکھ رہاہوں

تعمیر کے پردے میں یہ انداز حکومت

تخریب بہ عنوان دگر دیکھ رہا ہوں

بیداری احساس ہے ہر سمت نمایاں

بے تابی ارباب نظر دیکھ رہا ہوں

انجام ستم اب کوئی دیکھے کہ نہ دیکھے

میں صاف ان آنکھوں سے مگر دیکھ رہا ہوں

ارباب وطن کو مری جانب سے مژدہ

اغیار کو مجبور سفر دیکھ رہا ہوں

آزادی کے متوالے شاعروں میں احمقؔ پھپھوندوی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا اصل نام محمد مصطفیٰ خان تھا ، اور مداحؔ اور احمقؔ تخلص کرتے تھے ،لیکن شہرت انھیں ثانی الذکر تخلص سے ملی۔1857کی جنگ آزادی میںان کے دادا کو انگریزوں نے پھانسی دے دی تھی۔احمق پھپھوندوی نے ابتدائی تعلیم کے بعد طبیہ کالج دہلی سے طب کی ڈگری لی تھی ،اور ابھی مطب کا آغاز بھی نہیں کرنے پائے تھے کہ انگریزی سرکار کے خلاف شروع ہونے والی عدم اعتماد کی تحریک میں وہ شامل ہوگئے ۔آزادی کی تحریک میں سرگرمی سے حصہ لینے لگے اور قید و بند کے مصائب برداشت کیے۔ وطن عزیز کی آزادی کے حوالے سے انھوں خاصی پاور فل شاعری کی ہے ۔ان کی نظمیں حب وطن ،تحریک آزادی اور انگریزی حکومت کے خلاف جذبۂ بغاوت سے لبریز ہیں۔ ان کی نظموں سے دو اقتباسات ملاحظہ کیجیے ۔ پہلے اقتباس میں انگریزوں کے جبر و مکر کا بیان ہے ، جس میں ہندوستانیوں کو صبر کی تلقین کی گئی ہے اورنتیجے میں جابر انگریزوں کے شکست کی بشارت ہے ۔ دوسرے اقتباس میں ان کے خلاف عوامی مظاہرے کا ذکر اورناپسندیدگی کا اظہار ہے :

(۱)

ہند کا آزاد ہوجانا کوئی آساں نہیں

دیکھنا تم کو ابھی کیا کیا دکھایاجائے گا

تم میں ڈالا جائے گا اک سخت و نازک تفرقہ

تم کو شہ دے دے کے آپس میں لڑایا جائے گا

دھرم رکشا کے لیے تم سے لیے جائیں گے عہد

تم کو مذہب اپنا خطرے میں دکھایا جائے گا

لیڈروں سے ہوں گے وعدے خلعت و انعام کے

قلت و کثرت کا ہنگامہ دکھایا جائے گا

انتہائی بربریت سے لیا جائے گا کام

بند کر کے تم کو جیلوں میں سڑایا جائے گا

باوجود اس کے بھی تم قائم رہے ضد پر اگر

بے تامل تم کو پھانسی پر چڑھایا جائے گا

اس طرح بھی تم اگر لائے نہ ابرو پر شکن

سر تمھارے پاؤں پر آخر جھکایا جائے گا

(۲)

ہے حکومت کی یہ فیاضی بہت ہی شاندار

اس رعایا پروری پر دنگ ہے عقل مغول

خیر مقدم ہے کہیں اس کا سیہ پرچم کے ساتھ

ہے کہیں ہڑتال کی صورت میں اظہار عدول

ہے کہیں جلسوں میں پاس اس کے لیے لعنت کا ووٹ

ہے جلوسوں میں کسی جا اس کے سر پر خاک و دھول

کوئی دیتا ہے اسے تشبیہ خارستان سے

کوئی کہتا ہے اسے باغ سیاست کا ببول

جذبۂ آزادی ،حب وطن اور اتحاد و اتفاق کے حوالے سے علامہ اقبال کی شاعری بالکل الگ انداز کی ہے۔علامہ اقبال نے اردو شاعری کو نیا شعور، آفاقی فکر، ذہنی بلندی ،جدید لب و لہجہ اور انوکھا احساس دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی شاعری کا آغاز ہی وطن کی محبت کے اظہار و اعتراف سے ہوتا ہے ۔ ہندوستان ،ہندوستانی مناظر اور ہندوستانی ذہن و فکر کی محبت کا جتنا خوبصورت ،سلیقہ مند اور اعلیٰ و ارفع اظہار علامہ اقبال کی شاعری میں ہوا ہے ، کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ان کی لافانی نظمیں’’ ترانۂ ہندی‘‘  اور ’’نیا شوالہ‘‘ اپنی مثال آپ ہیں۔ ’نیا شوالہ ‘میں وہ مذہبی ٹھیکہ داروں کے حوالے سے عوام کو اپنی اپنی حدود سے نکل کر وسیع محبت و مساوات اپنانے کا درس دیتے ،اور انھیں اس نکتے سے آگاہ کرتے ہیں کہ ملک کے باشندوں کے لیے آپسی میل محبت ہی امن و سکون کا نسخۂ کیمیاہے۔’’ شعاع امید ‘‘ اور ’’ تصویر درد ‘‘ ان کے دل کی آواز ہے جس میں وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ جو قومیں غفلت اور غلامی کے خلاف جد و جہد نہیں کرتیں ،دنیا سے ان کے نام نشان ختم ہوجاتے ہیں۔’تصویر درد ‘ کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے :

رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کو

کہ عبرت خیز یے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

وطن کی فکرکر ناداں ! مصیبت آنے والی ہے

تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہورہا ہے ، ہونے والا ہے

دھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میں

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کو

مرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے

علامہ اقبال کے مقابلے جوشؔ ملیح آبادی کی شاعری میں فکری گہرائی و گیرائی زیادہ نہیں ہے ۔ لیکن انھوں نے تحریک آزادی کی شاعری کو مزید وسعت دی، اسے مذہب کی دھوپ چھاؤں سے الگ کیا ،اس میں انقلابی جوش بلکہ گھن گرج پیدا کی، اور انگریزوں کے خلاف عوامی نفرت کو اعلان اور غصے کو ہیجان انگیز بناکر پیش کیا۔’شکست زنداں کا خواب‘ ، ’زوال جہانبانی‘ ،’ وفاداران ہندی کا پیام شہنشاہ ہندوستان کے نام‘ ، خونی بینڈ‘ اور ’ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے‘جیسی نظمیں اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ ان کی ایک چھوٹی سی نظم ’رعبِ حکومت‘ میں حاکم و محکوم کی نفسیات ملاحظہ کیجیے ، جس میں در اصل ہندوستانی ’محکوم کے لیے اصل ’حاکم ‘بننے کی تلقین پوشیدہ ہے :

اک فرنگی معمر و بیمار

سانس لینا بھی تھا جسے دشوار

بید کو ٹیکتا، چرٹ سلگائے

اک طرف جارہا تھا سر کو نھوڑائے

سامنے سے مثال پیلِ دماں

ہند کا آرہا تھا ایک جواں

رشک ارجن، نمونۂ سہراب

رخ پر امواجِ عنفوانِ شباب

دونوں آئے قریب جیسے ہی

ہٹ گیاڈر کے اک طرف ہندی

خون رو، خون ،اے دلِ محروم

دیکھ لے فرقِ حاکم و محکوم!

ترقی پسندوں کے منشور میں ’ہندوستان کی آزادی کے لیے جد و جہد بھی شامل تھی۔چنانچے ترقی پسندشاعروں نے آزادی وطن کی تحریک،حصول آزادی، اور اس کے بعد کی صورت حالات پر کثرت سے نظمیں لکھیں۔ ظاہر ہے اس میں مجازؔ، فیضؔ، مخدوم ؔ،علی سردار جعفری اور کیفی اعظمی جیسے اہم شاعروں کی ایک طویل فہرست ہے۔یہاں محض ایک دو کے ذکر پر اکتفا کیا جارہاہے۔ مجاز کی نظم’ بدیسی مہمان سے ‘ یہ اقتباس دیکھیے :

مناسب ہے کہ اپنا راستہ لے

وہ کشتی دیکھ ساحل سے لگی ہے

بگولے اٹھ رہے ہیں ، بڑھ رہے ہیں

فضائے دہر میں ہلچل مچی ہے

یہاں ہر شاخ شمشیر برہنہ

گلوں سے خون کی بو آرہی ہے

مرتب اک نیا دستور ہوگا

بنا اک دورِ نو کی پڑ رہی ہے

یہاں کے آسمان آتشیں پر

بغاوت کی گھٹا منڈلا رہی ہے

مخدوم محی الدین اپنی نظم ’زلف چلیپا‘ میںوطن کی عظمت اور انگریزوں کی گھبراہٹ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:

کتنی ماؤں کی سہانی گودیاں ویراں ہیں آج

فرق گیتی پر نظر آتا ہے پھر کانٹوں کا تاج

جس زمیں سے ارتقا کے انبیا پیدا ہوئے

جس زمیں سے علم و حکمت کے خدا پیدا ہوئے

رام و لکشمن کی زمیں وہ کرشن و گوتم کی زمیں

وہ محمد کی زمیں ، وہ ابن مریم کی زمیں

اس زمیں کے ہر نشیلے بام و در میں موت ہے

اِس کے دل میں موت ہے ، اُس کی نظر میں موت ہے

برہمی زلف چلیپا میں کبھی دیکھی نہ تھی

برہمی دیکھی ہے ایسی ، برہمی دیکھی نہ تھی

اہم ترقی پسند افسانہ نگار علی عباس حسینی کے بھانجے شمیم کرہانی ترقی پسندتحریک کے معتبر شاعر تھے ، گو کہ اس حوالے سے انھیںکم یاد کیا جاتا ہے۔ کچھ دنوں تک انھوں نے فلموں میں گیت بھی لکھے ۔ بعد میں اینگلو عربک ہائر سکنڈری اسکول دہلی میں فارسی کے استاذ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ’جاگا ہندوستان‘ ،’فوجی لاری‘ ، پرچم نہ جھکانا‘ ،’سپاہی کا رقص ‘، ترنگا پرچم‘ اور مہاتما گاندھی کی شہادت سے متاثر ہو کر لکھی گئی ان کی نظم’جگاؤ نہ باپو کو نیند آگئی ہے‘ کافی اہم حب وطن اور جذبہ آزادی سے لبریز ہیں۔اگست 1942میں ہندوستان چھوڑو کی  تحریک کا جوش وخروش والا منظر شمیم کرہانی کے اس ایک شعرسے آنکھوں میں پھر جاتاہے :

تھا زبانوں پر یہ نعرہ ’’آشیاں کو چھوڑ دو‘‘

’’چھوڑ دو اے غاصبو! ہندوستاں کو چھوڑ دو‘‘

شمیم کرہانی نے صرف1942میں آزادی کے تعلق سے کہی گئی اپنی اکتیس نظموں کا مجموعہ ’روشن اندھیرا کے نام سے شائع کروایا۔ان کی نظم  ’ جوان جذبے ‘کے یہ اشعار دیکھیے:

یہ ظلم شہنشاہی جس وقت مٹادیں گے

سوئی ہوئی دنیا کی قسمت کو جگادیں گے

ہیں آج بغاوت پر تیار جواں جذبے

جلاد حکومت کی بنیاد ہلادیں گے

ہم پرچم قومی کو لہرا کے ہمالہ پر

دشمن کی حکومت کے جھنڈے کو جھکادیں گے

جو آڑ میں مذہب کی ہنگامہ کرے برپا

ہم ایسے فسادی کو گنگا میں بہا دیں گے

تحریک آزادی سے متعلق تلوک چند محروم کی نظمیں بھی جوش ؔ ملیح آبادی کی نظموں کی مانندہی بلند آہنگ ہیں۔’ترک موالات‘، ’سودیشی تحریک‘ ، ’جلیان والاباغ‘اور’ ہندو مسلم‘ جیسی نظمیں انگریزوں کی سیاسی چالوں،جنگ آزادی اوراتحاد و اتفاق کے تعلق سے قابل ذکر ہیں۔ درگا سہائے سرور جہان آبادی نے وطن کی مقدس اور اہم ہستیوںکے تعلق سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں بعض نظمیں حب وطن سے بھی متعلق ہیں۔ پنڈت آنند نرائن ملا تعلیم سے فراغت کے بعد 1954میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے ،1968میں لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے ،اور پھر دوبار راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیے گئے۔جس زمانے میں وہ انجمن ترقی اردو ہند کے صدر تھے ، اس زمانے میں انجمن نے کافی ترقی کی تھی۔ انھوں نے آزادی، اور آزادی کے بعد کے حالات کو بڑی ہی خوبی اور سچائی کے ساتھ اپنی نظموں کا موضوع بنایاہے۔ اس حوالے سے ’محبان وطن کا نعرہ‘،’انقلاب زندہ باد‘،صبح آزادی‘ ،’مہاتما گاندھی کا قتل‘ اور ’جادۂ امن‘ وغیرہ ان کی عمدہ نظمیں ہیں۔آزادی کے دو مہینے بعد ان کی لکھی ہوئی نظم ’انسانی درندے ‘  کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے ۔ نظم میںآزادی کے بعد متعصب اور درندہ صفت ہندوستانیوں کی عیارانہ خصلتوں کو نمایا کیا گیا ہے:

کتنے آباد ہیں نفرت کدۂ دیر و حرم

ہم پیالہ جو کبھی تھے یہ ہیں میخوار وہی

آج کس سطح پہ ہے ذہنیت عام افسوس

روکتا ہے جو خطاؤں سے خطاوار وہی

جو تشدد کا کرے ذکر وہی قوم پرست

نام بھولے سے جو لے امن کا غدار وہی

فرقہ وارانہ حکیموں کی دوا سے ہوشیار

بھیس میں آج معالج کے ہے ، بیمار وہی

وطن ! اے میرے وطن! یوں مجھے مایوس نہ کر

شبھ گھڑی آئی ہے تیری، اسے منحوس نہ کر

ظاہر ہے ملک آزاد ہوا تو بدقسمتی سے یا کہیے جاتے ہوئے انگریز حکمرانوں کی سازشوں کے نتیجے میں وطن عزیز اپنے بیٹے بیٹیوں کے خون سے لہو لہان بھی ہوا۔ ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے اس سازش کو شدت سے محسوس کیا اور اس کی تھام کے لیے ایک بارپھر  میدان اترے ۔ اب انھوں نے آزادی کو اصل روپ دینے ،اور اسے سجانے سنوارنے کی کوششیں کیں۔اردو میں اس نوع کی شاعری اب بھی جاری ہے ۔

یہ اردو شاعری اورشاعروں کی اپنے ملک ،اس کی آزادی اور ملک کے باشندوں سے محبت اور ان کے اتحاد امن کی خواہش و کوشش کا ثبوت ہے کہ 1857سے کر 1947تک آزادی کی فضا تیار کرنے ،عوام کے دلوں میں وطن کی محبت پیدا کرنے ،آپسی اتحاد و اتفاق کی ترغیب دینے ،مجاہدوں کا حوصلہ بڑھانے اور ملک کو آزادی و خود مختاری کی منزل تک پہنچانے کے لیے مسلسل کوشاں رہے، اور بالآخر کامیابی سے ہم کنار ہوئے۔ یقین کیجیے کہ اس تسلسل وتواتر کے ساتھ آزادی وطن کی جد و جہد میں حصہ لینے مثال سوائے اردو شاعری کے کسی اور زبان کی شاعری میں نہیں ہے ۔

٭٭٭

Abu Bakar Abbad

bakarabbad@yahoo.co.in

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
آزادی کے 75سال میں ہندوستان کی حصولیابیاں قابلِ فخر: پروفیسر شیخ عقیل احمد
اگلی پوسٹ
ہمارا ہندوستان – فوزیہ رباب

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

صبیحہ سنبل کا شعری نگارخانہ – حقانی القاسمی

نومبر 7, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں