(رپورٹ: ڈاکٹر محمد علی حسین شائق ) گزشتہ اتوار 11 جون 2023 ء کو شام چھ بجے جگتدل کے مہاویر لاج میں نئی نسل کے نمائندہ شاعر و ادیب نسیم اشک کی دوسری کتاب ’بساط فن‘ کی رونمائی بدست ڈاکٹر تسلیم عارف (اسسٹنٹ پروفیسر و کوآرڈی نیٹر، شعبہ اردو، ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی) ہوئی۔ محفلِ رونمائی کی صدارت جناب دبیر احمد (صدر شعبہ اردو، مولانا آزاد کالج) نے فرمائی جبکہ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر ارشاد علی، جناب علیم ہاشمی، جناب نسیم عزیزی اور جناب صادق محمد (سینئر اسسٹنٹ ٹیچر، آدرش ہندی ودیالیہ) نے محفل کو وقار بخشا۔ پروگرام کا آغاز جناب محمد غلام حسین نے تلاوت کلام پاک کے ذریعہ کیا، بعد ازاں جناب روشن ضمیر نے نعت پاک پیش کی۔ مہمانان میں جناب صادق محمد نے اپنی تقریر میں نسیم اشک کو نثر کا جادو گر کہا اور ان کے اسلوب بیان کی خوب تعریف کی۔ علیم ہاشمی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ نسیم اشک ایک انتہائی سلجھے ہوئی ادیب ہیں۔ سہل الفاظ کے ذریعہ فصیح جملے میں اپنی باتیں بیان کرنے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے۔ مذکورہ دونوں مہمانان کی گفتگو کے بعد ڈاکٹر تسلیم عارف نے ’بساط فن‘ کی رونمائی کی اور نسیم اشک سے اپنے خوشگوار مراسم اور اُن کی نثر پر طویل گفتگو کی جس میں انہوں نے نسیم اشک کو ایک بہترین نثر نگار اور خاکسار انسان بتایا۔
رونمائی کے بعد ڈاکٹر رضی شہاب نے کہا کہ نسیم اشک نئی نسل کے نمائندہ قلم کار ہیں۔ اردو کی کلاسیکی نثر کی روایت کے وہ پاس دار نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تازہ کتاب میں جس طرح کی نثر لکھی ہے، اس سے گمان ہوتا ہے کہ ہم کلاسیکی ادیب کی نثر پڑھ رہے ہیں۔ معتبر شاعر و ادیب نسیم عزیزی نے اپنی تقریر میں کہا کہ نسیم اشک سے ملاقاتوں کا سلسلہ کم رہا ہے لیکن اخبارات اور رسائل کے ذریعہ ان کی تحریروں سے اکثر ملاقات ہوتی رہی ہے۔ نسیم اشک شگفتہ نثر لکھتے ہیں۔ انہوں نے جن شخصیتوں پر مضامین قلم بند کئے ہیں، وہ وقت کے گرد میں کھو گئے ہیں۔ نسیم اشک کا بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اسلاف کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا ہے اور انہیں عصری منظر نامے پر صحیح جگہ دلانے کی سعی کی ہے۔ نسیم اشک نے اپنی گفتگو میں انتہائی رقت آمیز لہجے میں کہا کہ میں ’بساط فن‘ کو کتاب نہیں مانتا ، یہ ایک مجموعہ ہے۔ جو شخصیتیں یہاں موجود ہیں، ان کے کارناموں کے آگے میری کتاب کچھ بھی نہیں۔ میں شکر گزار ہوں کہ کلکتہ سے چل کر مہمانان یہاں آئے اور میری خوشی میں شامل ہوئے۔ یہ سب اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے تحریری صلاحیت سے مالامال کیا ہے۔
صدر جلسہ ڈاکٹر دبیر احمد نے صدارتی خطبے کے دوران نسیم اشک کے اندر موجود گونا گوں خوبیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی شگفتہ نثر کی جم کر ستائش کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ نسیم اشک جس تواتر سے لکھ رہے ہیں، وہ ان کی فنکارانہ صلاحیت کا نمونہ ہے۔ انگریزی ادب کے آدمی ہوتے ہوئے بھی جس طرح کی اردو وہ لکھتے ہیں، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے صاحبِ کتاب کو ’بساط فن‘ کے منصہ شہود پر آنے پر مبارک باد پیش کی اور اُمید جتائی کہ اہل اردو کو اب نسیم اشک کے افسانوی مجموعہ کا انتظار رہے گا۔ آخر میں غلام حسین نے مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کے پہلے حصے کی نظامت جناب محمد رئیس نے اور بعد میں ڈاکٹر محمد علی حسین شائق نے کی۔
٭٭٭٭
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

