Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

صوفی منش شخص کا صوفیانہ ناول : تلک الایّام – ڈاکٹر ذاکر فیضی

by adbimiras فروری 5, 2021
by adbimiras فروری 5, 2021 1 comment

کہا جانے لگا ہے کہ اکیسویں صدی فکشن کی صدی ہوگی، یا ہے ۔ یہ بات کتنی درست ہے یا ہوگی اس بات سے قطع نظر اگر ہم اکیسویں صدی کی ان دو دہائیوں کا جائزہ لیں تو اردو ناول کے حوالے سے مایوسی نہیں ہوتی ۔ بہت سے لکھنے والوں نے اہم ناول لکھے ہیں ، جن کا ذکر یہاں مقصود نہیں ۔ ان ناول نگاروں میں ایک بہت اہم نام دوحہ قطر انعام سے نوازے جا چکے نورالحسنین کا ہے ۔ ان کی پیدائش اورنگ آباد(دکن ) میں 19مارچ 1950کو ہوئی ۔ وہ علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ خانقاہی سلسلے نقشبندی کے چشم و چراغ ہیں ۔ ان کے والدنقشبندی نورالوحید ( مرحوم ) کا تعلق جاگیردار آصف جاہی سلطنت سے تھا ۔ ان کی والدہ غوثیہ بیگم ( مرحوم) بھی راجہ پمپری جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں ۔ ان کے مزاج و اخلاق سے یہ ظاہر بھی ہو جاتا ہے کہ وہ اعلی خاندان سے ہیں ۔ ان کا گھرانہ صوفیوں کا گھرانہ تھا ۔ وہ خود بھی صوفی صفت انسان ہیں ۔ اس اعتبار سے ان کی تخلیقات میں اس طرح کا ماحول آجانا فطری بھی ہے ۔ نور الحسنین نے ایم اے ( اردو ) تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے سینئر ریڈیو اناوَسر تھے ۔ انھوں نے چار سال تک اسسٹنٹ ڈائرکٹر کی حیثیت سے گیان وانی ، اورنگ آباد میں بھی کام کیا ۔

نورالحسنین کو بہت سے انعام و اعزاز ت سے نوازاہ جا چکا ہے ۔ جس میں سب سے اہم بزمِ فروغِ ادب کا ’ دوہا قطر عالمی ‘ ایوارڈ ہے، جو انھیں 2020 میں دیا گیا ۔ ان کی شخصیت اور فن پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ کئی تخلیقات یونیورسٹیز میں نصاب کا حصّہ بن چکی ہیں ۔ جو اپنے آپ میں خود بہت بڑا اعزاز ہے ۔ انھوں نے بچّوں کے لیے بھی لکھا ہے ۔ بچّوں کی تین کہانیوں کی کتابیں ’’ گڈّو میاں ‘‘ (1988)،’’ چوتھا شہزادہ‘‘ (2009)اور بچوّں کے ڈراموں کی کتاب ’’حضور کا اقبال بلند رہے‘‘ (2008) میں شاءع ہو چکی ہیں ۔ آپ تنقید کے میدان کے بھی شہسوار ہیں ۔ اس میدان میں انھو نے چھ کتابیں لکھی ہیں ۔

فکشن کی بات کریں تو اب تک اُن کے چار افسانوی مجموعے ہمارے سامنے آچکے ہیں ۔ سمٹتے دائرے 1985، مور رقص اور تماشائی 1988، گڑھی میں اترتی شام1999 اور فقظ بیان تک 2012 میں شاءع ہوئے ۔ جہاں تک ناولوں کا معاملہ ہے آپ کے چار ناول ہم تک پہنچ چکے ہیں ۔ سب سے پہلا ناول ’’ آہنکار‘‘ 2005 میں آیا دوسرا ’’ ایوانوں کے خوابیدہ چراغ‘2013 میں ، تیسرا ناول ’’چاند ہم سے باتیں کرتا ہے ‘‘ 2015 میں اور اب تک کا آخری ناول ’’ تلک ّالایام‘‘ 2018 میں شائع ہوا ۔

’’ تلک الایّام ‘‘ عربی لفظ ہے ، جس کے معنی ہیں ’ وہ دن‘ ۔ ناول نگار نے ناول میں گزرے ہوئے دن کے ساتھ موجودہ زمانے کا بھی ذکر کیا ہے ۔ یہ ناول اپنے انداز کا منفرد ناول ہے ، جس کے ذریعے ناول نگار ہ میں بیک وقت حال او رماضی دونوں کی خوب سیر کراتا ہے ۔ اور اس انداز سے کراتا ہے کہ ہم کبھی تصوّف کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں اور کھی عہدِ حاضر کی تلخ سر زمین پر گھومتے نظر آتے ہیں ۔ اس ناول کو کچھ لوگ تاریخی ناول قرار دے سکتے ہیں ، لیکن میرے نزیک یہ صوفیانہ مزاج کا ناول ہے ۔ نور الحسنین جب جب ناول کے مرکزی کردار حسین کو ماضی کی دنیا میں لے جاتے ہیں تب تب قاری بھی عجیب سے روحانیت میں اپنے آپ کو پاتا ہے ۔ ( یہ بھی پڑھیں عنوان چشتی کا رنگِ تغزل – ڈاکٹر عادل حیات)

ناول نگارنے جس عمدہ طریقے سے ناول میں موجود واقعات اور ان کے کرداروں کو پیش کیا ہے ،و ہ ایک بے حد مشکل اور صبر آزماکام تھا ۔ ایک ایسی تہذیب جسے قاری نے دیکھانہیں ہو یا کسی بھی طرح کی واقفیت نہ رکھتا ،اُس کے سامنے اس انداز سے رکھ دینا جیسے پڑھنے والا خود اسی کا حصّہ ہو ، یہ بہت بڑی بات ہے ۔ اس ناول کی اہم خوبی یہ ہے کہ ماضی اور حال کو ایک دوسرے میں مدغم کر دیا گیا ہے ۔ قاری بہت آسانی سے حال سے ماضی میں اور ماضی سے حال میں پہنچ جاتا ہے ۔ پڑھنے والے کو احساس بھی نہیں ہوتا ۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ اس تبادلہَ ذہن میں کہیں ابہام بھی نہیں ہے ۔ کسی طرح کی الجھن محسوس نہیں ہوتی ۔ قاری سمجھ جاتا ہے کہ اب ہم کہاں ہیں ۔ یہ آسان کام نہیں تھا ،جسے نورالحسنین نے بے حد فنکارانہ چابکدستی سے نبھایا ہے ۔ جس کے لیے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔

مذکورہ ناول میں جہاں جہاں ناول کا مرکزی کردار حسین ماضی کی وادیوں میں پہنچتا ہے ، وہاں کے پورے ماحول میں روحانیت کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ماضی کے جتنے بھی کردار ناول میں دکھائے گئے ہیں ان کا تعلق خانقاہوں سے رہا ہے ۔ جس میں موجود بزرُگوں پر روحانیت طاری رہتی ہے ۔ ’ اللہ ہو‘ کی گردان کے ساتھ اللہ کا نور برستا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ قاری خود کو صوفیانہ ماحول میں پاتا ہے ۔

ناول داستانوی انداز میں آگے بڑھتا ہے ۔ اس داستان میں ہمارے زمانے کی تلخ سچائیاں بھی سامنے آتی ہیں ۔ ان دنوں ہندوستان میں مسلمانوں کی جو حالتِ زار ہے یا یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ دنیا میں مسلمانوں کا جوحشر ہے اس کو پیش کیا گیاہے ۔

ناول میں ہ میں نظام ِ حیدرآباد کی حکومت ختم ہونے کا بھی ذکر ملتاہے اور اس وقت کے وہاں کے مسلمانوں پر کیا گزری ، اس پر بھی بحث کی گئی ہے ۔ جاگیرداروں ، زمینداروں اور رئیسوں کی شان و شوکت کا بھی تذکرہ ہے ۔ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے میں ہندو مسلم میں کیا خوب بھائی چارہ تھا اور لوگوں کے دل معصوم ہوتے تھے ۔ مزاج میں رحم دلی تھی ۔

ناول کا ہیرو حسین ادیب ہے ۔ کئی ناولوں کا خالق ۔ ان دنوں وہ اپنے ادھورے ناول کو پورا کرنے میں لگا ہوا ہے ۔ ایک روز خواب میں اسے کوئی دوسری دنیا میں لے جاتا ہے ۔ کچھ دِن کے بعد اس کی دسترس میں اپنے بزرگوں کے کچھ کاغذات، ڈائری اور خطوط وغیرہ ہاتھ آ جاتے ہیں ۔ وہ ان دستاویز کا مطالعہ کرتے ہوئے اپنے اجداد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان کے کارناموں کے بارے میں جاننے کی خواہش میں اپنی زندگی کا چین و سکون کھو دیتا ہے ۔ حسین کے مطابق وہ جن خوابوں کی دنیا میں چلا جا تا ہے، وہ دراصل حقیقت میں اس کے بزرگوار ہیں ۔ جو کبھی اسی دنیا میں چلتے پھرتے حقیقی انسان تھے ۔ حسین عجیب سی زندگی جینے لگتا ہے ۔ ہمیشہ کھویا کھویا ، خوابیدہ کیفیت کا شکار رہتا ہے، جس سے اس کے گھر والے پریشان رہتے ہیں ۔ حسین کی یہ حالت دیکھ کر اس کی بیوی یاسمین اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے جہاں ڈاکٹر اس کو شائزوفرونیا کا مریض قرار دیتے ہیں ، ا س مرض کا شکار انسان خوابوں کی باتوں کو سچ تسلیم کر لیتا ہے اور حقیقی دنیا سے اس کا رشتہ منقطع ہو جاتا ہے ۔ لیکن حسین اپنے آپ کو مریض نہیں مانتا ۔ اس بات پر بضد رہتا ہے کہ جو کچھ وہ دیکھتا ہے وہ سچ میں ہیں اور اس کو دوسری دنیا میں لے جاتے ہیں اور یہ بھی کہ وہ اس کے اجداد ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اس کی بیوی اور بچّے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں اور تب ایک تکرار کا ماحول قائم ہو جاتا ہے ۔ ناول کے خاندان کے افراد کے لیے بھی اور خود قاری کے لیے بھی ۔ سچ تو یہ ہے کہ ناول کا یہی وہ دلچسپ پہلو ہے جو قاری کو باندھے رکھتا ہے اور اس بات پر اکساتا رہتا ہے کہ جانیں آگے کیا ہوتا ہے;238;

قاری ایسی دنیا بھی دیکھ لیتا ہے جسے روحانی دنیا کہتے ہیں جہاں پہنچنا انسان کے بس کاکام نہیں ہے ۔ یا کم از کم عام انسان کے بس کا تو بالکل بھی نہیں ہے ۔ قاری جب حسین کے ساتھ روحانی سفر پر روانہ ہوتا ہے تو حسیں کی طرح اس کا بھی تعلق دنیا سے کچھ دیر کے لئے ہی سہی ختم ہو جاتا ہے اور اپنے زمانے کی تلخیوں ، نا انصافیوں ، ظلم و زیادتیوں کو بھول جاتا ہے ۔

خواب اور حقیقت کے پنڈولم پر جھولتا یہ ناول عجیب و غریب خیالات و واقعات کو ہمارے سامنے فنکارانہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ خواب اور حقیقت کی بحث کو ناول میں کس طرح پیش کیا گیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے ناول کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’ یاسمین تمہارے جواب کے لیے میں نے کتاب ’ مقدمہ ابنِ خلدون ‘کا مطالعہ کیا ہے ۔ جو خواب کی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے ۔ اور اُسے نبوت کا ۶۴واں حصہ قرار دیتا ہے ۔ اب رہی بات کہ خواب کی حقیقت کیا ہے ;238;

تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ نفسِ نا طقہ اپنی روحانی ذات میں کسی کسی وقت

کسی واقعہ کی تصویر کا مطالعہ کر لیتا ہے ۔ کیونکہ وہ جب روحانی حالت میں

ہوتا ہے تو اُس میں بھی واقعات بالفعل موجود ہوتے ہیں اور دیگر روحانی

ذاتوں کی طرح چھُپ جاتے ہیں ۔ نفسِ ناطقہ کو روحانیت کا کمال اُس

وقت حاصل ہے جب وہ جسمانی مادوں اور بدنی حواس سے تعلقات

چھوڑ دیتا ہے ۔ یہ قطعی تعلق اُسے سونے کی حالت میں کچھ دیر کے لیے

حاصل ہوتا ہے ۔ اس لیے وہ اس پُر سعادت لمحے میں مستقبل کے چند

واقعات کا علم حاصل کر لیتا ہے ۔ ‘‘ ( صفحہ : 78)

ناول کی زبان سادہ سلیس اور رواں ہے، جو پڑھنے والے کو ابتدا سے لے کر آخر تک باندھے رکھنے میں کامیاب ہے ۔ ناول میں اس کی گرفت کہیں بھی کمزور نہیں ہوتی ہے ۔

کرداروں کے درمیان کی گفتگو فطری معلوم ہوتی ہے ۔ کسی بھی تخلیق کار کے لیے کرداروں سے

ایسے مکالمے ادا کراد ینا جو ایک دم حقیقی معلوم ہوں ، آسان کام نہیں ہیں ۔ اس کے لیے وسیع مطالعہ، عمیق مشاہدہ اور تخیل کی پرواز بلند ہونی چاہیے ، جو نورالحسنین کے پاس ہے ۔ یہ مکالمے ملاحظہ فرمائیں :

میڈیکل کالج کی کینٹین میں بیٹھے ریحان اور شوبھا کافی کی چُسکیاں

لے رہے تھے اور ریحان محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا، جیسے

ہی شوبھا کی نظریں اُس سے ٹکرائیں ، اُ کی زبان سے نکلا ’’ کسی کو کھاتے

پیتے وقت اس طرح دیکھنا بدتمیزی کہلاتا ہے ۔ ‘‘

’’ جی ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ریحان نے شریر نظروں سے اُ سکی طرف دیکھتے ہوئے

کہنا شروع کیا ، ’’ لیکن کسی کا کھاتے پیتے وقت چہرا مضحکہ خیز بننے لگے تو

اُس سے لطف اندوز تو ہو سکتے ہیں ۔ ‘‘

’’ میں پیالی پھینک کر مار دوں گی ۔ ‘‘ اُس نے پیالی کو جنبش دی ۔

’’ ارے ارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوش میں آوَ ۔ ۔ ۔ بدنامی ہوگی ۔ تُم میڈیکل

کی اسٹوڈنٹ ہو ، لوگ جان جائیں گے کہ تمھیں پاگل پن کے دورے

پڑتے ہیں ۔ ‘‘

’’ ریحان ۔ ۔ ۔ میں تمہارا منہ نوچ لوں گی ۔ ‘‘ وہ دانت پیسنے لگی ۔

(صفحہ : 159)

ناول اگرچہ ماضی کی وادیوں کی سیر کراتا ہے ۔ اس کے باوجود ناول نگار ہمارے عہد کی سماجی و ،معاشراتی اور سیاسی سرگرمیوں کی اطلاع بھی ہ میں دیتا رہتا ہے ۔ ناول نگار داستانوی آسمانوں میں اڑتا ہوا ایک دم ہی ہمارے عہد کی تلخ زمین اور کھردری مٹّی پر اُتر آتا ہے ۔ ہندوستان کے آج کے زمانے کے سیاسی حالات دکھاتے ہوئے نور الحسنین فرماتے ہیں :

’’ اُ س نے میری طرف گھور کر دیکھا ، ’’ میں بھی کہتی ہوں یہ الیکشن

پاٹل ہی جیتے گا ۔ ہمارے شہر میں اکثر یت جو ہندووَں کی ہے ۔ ‘‘

’’ عقلمند اس الیکشن میں چار نیشنل پارٹیوں کے امیدوارلڑ رہے ہیں ۔

پھر چار پانچ آزاد امیدوار ہیں ۔ جن میں تین مسلمان ہیں ۔ چار

نیشنل پارٹیوں میں تین کے ووٹر طئے شدہ ہیں ۔ اب بچی ایک

نیشنل پارٹی جو کانگریس کی ہے ۔ مسلمان اُس سے نالاں ہیں

کہ اُس نے ساٹھ برسوں میں بھی مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا ۔

پھر بھی مسلمانوں کا ایک طبقہ اُسے ووٹ دے گا ۔ یہ جو تمہارے

تین مسلمان کھڑے ہیں ، یہ خود نہیں بلکہ کھڑا کیے گئے ہیں تاکہ

مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہو کر بے وقعت ہوجائیں ۔ اس پوزیشن

میں تمہارے پاٹل صاحب کہاں دکھائی دیں گے;238;‘‘

(صفحہ : 102)

نورالحسنین نے داستانوی دنیا اور حقیقی دنیا کو ایک دوسرے میں اس طرح ضم کر دیا ہے کہ ایک نئی خوابیدہ دنیا قائم ہو گئی ہے اور ناول پڑھنے والا اُس کا حصہ بن گیا ہے ۔ اس خوابیدہ کیفیت میں قاری علمی ، خانقاہی اور صوفیانہ ماحول میں ڈوب جاتا ہے اور جب وہ ابھرتا ہے تو خود کو ہندوستان کی موجودہ سیاسی صورت حال میں لاچارو مجبور پاتا ہے ۔

بیشتر ناولوں کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ جیسے بات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، کچھ کسر باقی رہ گئی ہے ۔ یا ابھی کچھ اور کہا جاسکتا ہے مگر ناول ’’ تلک الایام‘‘ کا اختتام نہایت خوبی اور فنکارانہ مہارت سے کیا گیا ہے ۔ کسی افسانے کی ہی طرح اس ناول کا کلائمکس وحدّتِ تاثر پیش کرتا ہے ۔ قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ نورالحسنین نے ناول کے مرکزی کردار کی زبان سے ایک مکالمہ ادا کرا کر ناول کا اختتام کیا جو بہت ہی فنکارانہ صلاحیت ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں :

’’ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں وہ کب تک اسی طرح بیٹھا رہا ، پھر اُ س نے بیوی کو

آواز دی ۔ وہ جیسے ہی اُس کے قریب پہنچی ، کچھ دیر تک وہ اُسے مایوس

نظروں سے گھورتا رہا اور پھر اُس کی گردن جھک گئی اور اُ س کی زبان

سے نکلا، ’’ یاسمین تُم سچ کہتی تھی ۔ میں واقعی شائزو فرونیاکا مریض ہوں ۔

مجھے داکٹر کے پاس لے چلو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ ( صفحہ : 296)

نورالحسنین کو بیانیہ پر مکمل دسترس حاصل ہے ۔ وہ کسی بھی فضا کو اپنے تخیّل کے ذریعے اسیر کر لیتے ہیں ۔ اُن کے بیانیہ کی خوبی یہ ہے کہ اپنے تجربے کو منفرد شکل میں قاری کے سامنے پیش کر نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ نو رالحسنین واقعات، صورتِ حال اور کرداروں کی نفسی کیفیات ایسے موثر انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قاری ان کیفیات کی توانائی، صداقت اور اندرونی ارتعاش کو بہ خوبی محسوس کر سکتا ہے ۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثتلک الایامناولنور الحسنین
1 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
عنوان چشتی کا رنگِ تغزل – ڈاکٹر عادل حیات
اگلی پوسٹ
حنیف ترین-ایک البیلا شاعر – محمدشرافت علی

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

1 comment

ڈاکٹر نازنین فروری 7, 2021 - 3:50 صبح

بہت ہی لا جواب مضمون ہے . ایک حقیقت بھی شامل ہے

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں