Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

      کتاب کی بات

      فروری 5, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

      اسلامیات

      نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد…

      ستمبر 23, 2023

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خبر نامہ

      پروفیسر خالد جاوید کی حیثیت شعبے میں ایک…

      اپریل 16, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

طلوع اور غروب آفتاب کی معنویت – عبدالرحمٰن

by adbimiras مارچ 21, 2022
by adbimiras مارچ 21, 2022 0 comment

اللہ تعالی، یعنی خالق کائنات، قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ فِىْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِى الْاَلْبَابِۙ ○

( آل عمران-3: 190)

یعنی بے شک، آسمانوں اور زمین کی تخلیق  میں،  اور رات اور دن کے باری باری سے آنے ( شب و روز کی گردش ) میں عقل مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں۔

اسی سورہ کی اگلی آیت (191) میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ، رب العالمین کو یاد کرنے والے جب آسمانوں اور زمین کی خلقت، اور اس میں پوشیدہ معنویت  پر غور کرتے ہیں تو وہ اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اللہ تعالی نے کوئی بھی چیز عبس پیدا نہیں کی ہے، یعنی اس کی ہر تخلیق با حکمت اور انسانوں کے لیے افادیت سے لبریز ہوتی ہے۔

قرآن پاک کے مندرجہ بالا مختصر مطالعہ سے ہی "دو اور دو چار”  کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالی نے کائنات کو حکمت اور بامعنی پلاننگ (منصوبہ) کے تحت تخلیق کیا ہے اور ہر شے کے اندر، اپنی خاص تخلیق یعنی   احسن تقویم، انسان کے لیے افادیت کے گوناگوں پہلو شامل کردئے ہیں۔ ہاں،  مگر انسان کو ضرور اس نے اپنی معرفت کے لیے پیدا کیا ہے ( الذاریات-51: 56)۔

انسان کی زندگی میں اللہ تعالی کی معرفت کا آخری اظہار اس کی عبادت کی شکل میں ہوتا ہے۔ انسان کو عقل اور فرقان، یعنی  چیزوں کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت، سے مزین کرکے دنیا میں پیدا کیا گیاہے۔ اپنے اسی عقل و شعور کے توسط سے جب انسان، اپنی ذات اور دوسری تمام مخلوقات  میں کار فرما ڈیزائن (design)، اور کائنات میں بکھری پڑی بے شمار متفرق نشانیوں (signs) پر غور و فکر کرتا ہے، تو وہ کائنات میں موجود پلاننگ (planning) اور ڈیزائن کو وجود بخشنے والے ڈیزائنر اور پلینر، یعنی خالق کائنات، یعنی اللہ، رب العالمین کا ادراک حاصل کرلیتا ہے۔

دراصل، یہی "ادراک”  اللہ تعالی کی "معرفت”  ہے۔

حقیقت میں، اللہ تعالی کی معرفت حاصل کرنا ہی، دنیا میں انسان کی کام یابی کا ہدف ہے۔ اپنے رب کی معرفت سے سرشار ہوجانے کے بعد، کوئی انسان کس طرح اپنے خالق و مالک اور پروردگار  کے آگے خود کو ڈھیر کر دینے سے روک سکتا ہے۔ اللہ تعالی کے سامنے بندگی کے اسی مقام کو، عرف عام میں عبادت کہا جاتا ہے ۔

رات اور دن کے باری باری آنے کے پس منظر میں، طلوع اور غروب آفتاب کوئی کتابی واقعہ نہیں، بلکہ خود  انسانوں کا صبح و شام کا مشاہدہ ہے۔

"اور اس کی نشانیوں میں سے ہیں رات اور دن، اور سورج اور چاند، تم سورج اور چاند  کو سجدہ نہ کرو، بلکہ اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے” ( حٰم السجدہ-41: 37)۔

سورج اور چاند کی چمک دمک سے مرعوب ہوکر جو انسان ان کو اپنا معبود بنائے ہوئے تھے یا آج بھی بنائے ہوئے ہیں، ان کو آگاہ کیا گیا ہے کہ کائنات کی دوسری چیزوں کی طرح ہی سورج اور چاند بھی خدا کی مخلوق ہیں۔ اس لیے وہ قابل پرستش نہیں ۔

رات اور دن، سورج اور چاند اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں، اور اپنی نشانیوں کے بارے میں انسانوں کے لیے  اس کی تاکید ہے کہ وہ ان پر غور و فکر کے عمل سے کائنات کی معنویت اور خالق کائنات کی معرفت حاصل کرنے کی سعئ کریں (الاعراف-7: 185)۔

سورج کے طلوع ہونے سے لےکر اس کے غروب ہوجانے تک اور رات کے چھا جانے سے لے کر دن کے نمودار ہوجانے تک کا پورا واقعہ انسانوں کے لیے سبق، نصیحت اور رہنمائی سے بھرا پڑا ہے۔ سورج کی روشنی ہی نہیں، بلکہ اس کی گرمی بھی انسان، حیوان اور تمام پیڑ پودوں کی نشونما کے لیے اشد ضروری ہے۔

آفتاب کے طلوع اور غروب ہونے کا واقعہ صرف سورج کا ہی ظاہرہ نہیں ہے، بلکہ اصلی کمال تو کرہ ارض، یعنی زمین (planet earth) کا ہے، جس پر ہم رہتے ہیں۔ سورج کے سامنے زمین اپنے محور (axis) پر لگاتار گھومتی رہتی ہے، اور اپنا ایک چکر تقریباً 24 گھنٹے  میں پورا کرتی ہے، جب کہ باریک بینی کی نظر سے یہ وقت 23 گھنٹے،  56 منٹ اور  4 آعشاریہ صفر نو ایک  سیکنڈ پر مشتمل ہوتا ہے۔ زمین کے جو حصے سورج کے سامنے رہتے ہیں، وہاں دن رہتا ہے اور جو حصے سورج کے سامنے نہیں ہوتے، وہ رات کا تجربہ کرتے ہیں۔

حقیقت میں، زمین گھومتی رہتی ہے، مگر زمین پر آباد انسان، بشمول سارے جان داروں کا مشاہدہ یہی ہوتا ہے کہ زمین نہیں، بلکہ طلوع ہونے کے بعد، سورج ہی  مختلف منازل طے کر رہا ہے،   یعنی صبح، دو پہر، شام اور پھر رات کا وقوع پذیر ہونا۔

در اصل، زمین کا اپنے محور پر  گھومنا ہی، گویا سورج کا زمین کے گرد گھومنا محسوس ہوتا ہے۔ اپنے محور پر گھومنے (rotation) کے ساتھ ساتھ زمین، نظام شمسی کے مرکز یعنی سورج کے گرد بیضوی مدار (elliptical orbit) میں بھی   گھومتی (revolution) ہے۔ سورج کے گرد گھومنے میں جو وقت لگتا ہے، وہی ہماری زمین کا ایک  سال (year) ہوتا ہے۔ اس سال کی مقدار  365 آعشاریہ دو پانچ دن ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہماری زمین، اپنے محور پر،  سورج کے گرد اپنے مدار کی نسبت سے 23 آعشاریہ پانچ ڈگری جھکی ہوئی ہے۔ زمین کا جھکا ہونا اور سورج کے گرد زمین کا چکر لگانے کے عمل کو خالق کائنات نے انسانوں کی فلاح  کے لیے اپنی عظیم مہربانیوں سے وابستہ کردیا ہے۔ بہت سے دوسرے فائدوں کے علاوہ، دن اور رات کا چھوٹا بڑا ہونا اور مختلف موسموں کا وجود میں آنا اسی وجہ سے ہوتا ہے۔

اللہ تعالی نے انسانوں کو آباد کرنے سے پہلے ہی، کرہ ارض کو استثنائی طور پر آکسیجن، فضاء(atmosphere), پانی، اناج اور ہر طرح کی غذائی اشیاء کے ساتھ ساتھ, چرندے،  پرندے، درندے, جنگلات، ندی نا لے، سمندروں اور پہاڑوں سے مزین کردیا ہے۔ معلوم کائنات میں زمین(Planet earth) ایک منفرد سیارہ ہے، جو جمالیات و خصوصیات میں جنت کی مثل ہے، سوائے اس فرق کے ساتھ کہ جنت ہر اعتبار سے ایک "معیاری” دنیا ہوگی۔

طلوع و غروب آفتاب کی معنویت اور انسانوں کے لیے  اس میں پوشیدہ رہنمائی کے عوامل پر تجزیاتی غور و فکر سے  پہلے، یہ مناسب ہوگا کہ کائنات کا ایک اجمالی جائزہ لیا جائے۔

تقریباً چودہ بلین (billion), یعنی 14 ارب سال پہلے ایک بہت بڑے دھماکہ کی صورت میں خدا کی قدرت کا ظہور ہوا، جس نے کائنات کو وجود بخشا ۔ اس ربانی واقعہ کو انسانی زبان میں بگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ اسی واقعہ کے پس منظر میں، ستارے (stars), سیارے (planets) اور سیارچے یا بالفاظ دیگر چاند (moons) نام کے کھربوں  کی تعداد میں اجرام فلکی (astronomical or celestial bodies) وجود پذیر ہوئے، اور جھنڈ کے جھنڈ وسیع کائنات میں پھیل گئے۔ خدا کی قدرت کا مزید شاہکار یہ ہے کہ جو  کائنات خود انسانی تصور و تخیلات سے بھی وسیع  ہے، وہ آج بھی اپنی وسعتیں کو مزید بڑھاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

ستاروں کے مختلف جھرمٹ (clusters) جو خود  اربوں کی تعداد پر مشتمل ہیں کہکشاں (galaxies) کہلاتے ہیں۔ انہیں کہکشائوں میں ایک معروف  کہکشاں ہے، جس کا نام ہے ملکی وے (Milky way). اسی ملکی وے میں ہمارا شمسی نظام (Solar system) واقع ہے۔ اس نظام کے اندر جس ستارے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، اس کو ہم سورج (Sun) کے نام سے جانتے ہیں۔

یوں تو سورج کے گرد متعدد چھوٹے بڑے اور مختلف قسم کے اجرام فلکی (Celestial bodies) اپنی اپنی مدار میں گردش کررہے ہیں، ان میں سے خصوصی طور پر بڑے طول و عرض کے اجرام (bodies ) سیارے (Planets) کہلاتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں ان سیاروں کی مستند تعداد آٹھ ہے۔

سورج سے فاصلے کے اعتبار سے ان سیاروں کے نام اور ان  کی ترتیب اس طرح سے ہے:

عطارد (Mercury)، زہرہ  (Venus)، زمین (Earth)،

مریخ (Mars)، مشتری (Jupiter)، زحل (Saturn)، یورینس(Uranus) اور

نیپچیون(Naptune)۔

سن 1930عیسوی میں  پلوٹو(Pluto) نام کے سیارہ کی کھوج کے بعد ہمارے نظام شمسی کو نو سیاروں پر مشتمل سمجھا جانے لگا تھا۔ 1990 کی دہائی تک معلومات کا یہی سلسلہ جاری رہا، جب تک کہ ماہر فلکیات (Astronomers) کے درمیان پلوٹو کے سیارہ ہونے کو لے کر بحث نہ ہونے لگی۔ یہ سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ سن 2006ء میں سیارے کی حیثیت سے پلوٹو (Pluto) کو خارج کر دیا گیا۔

نتیجتاً، موجودہ سائنسی حقائق کی روشنی میں، آج ہمارا سولر سسٹم، صرف آٹھ سیاروں پر مشتمل ہے۔

اجرام فلکی، جو سیاروں کے گرد گھومتے ہیں، "سیارچے” کیلاتے ہیں۔ ایک  سیارچہ کو ذیلی سیارہ یا چاند (Moon or natural satellite) بھی کہا جاتا ہے، جب کہ عرف عام میں، جس آسمانی جسم  (Celestial body) کو ہم  "چاند” (Moon) کہتے ہیں، وہ وہی ہے جو ہماری راتوں کو "چاندنی رات” بناتا ہے، سمندروں میں مد و جزر (flux and reflux)  پیدا کرتا ہے،  اور  زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے، اپنا ایک چکر 29 یا 30 دن میں پورا کرتا ہے ۔

چاند کے مختلف منازل کو دھیان میں رکھ کر جو کیلینڈر (Lunar calendar) ترتیب دیا گیا یے، وہ فطری کیلینڈر (natural calendar) کہلاتا ہے، کیوں کہ یہ دوسری رائج جنتریوں (almanacs/calendars) کے برعکس، کسی بھی قسم کی انسانی مداخلت سے پاک ہے۔ اس کی اسی فطری نوعیت کا کمال ہے کہ ماہ رمضان،  عید الفطر، حج بیت اللہ اور عید الاضحٰی ہر سال مختلف موسم (weather) اور آب و ہوا (climate) کا تجربہ کرتے ہیں۔

قدرتی یا فطری طور پر، زمین کے پاس ایک ہی چاند  ہے، جب کہ مریخ کے پاس "دو”۔ مریخ کو سرخ سیارہ (Red planet) بھی کہا جاتا ہے۔ عطارد اور زہرہ کے حصہ میں کوئی بھی چاند نہیں ہے, جب کہ مشتری، زحل، یورینس اور نیپچیون میں سے ہر ایک کے گرد چکر لگانے والے ذیلی سیاروں کی تعداد دو سے کہیں زیادہ ہے۔

جب سے ملک اور بیرون ممالک، مواصلاتی نظام (Communication systems) کو مضبوط کرنے کی غرض سے، سائنسدانوں کی کاوشوں کے زیر اثر، مصنوعی سیاروں (artificial satellites) کا نظام وجود میں آیا ہے، تب سے اب تک، ہزاروں کی تعداد میں، مصنوعی اجرام فلکی  زمین کے مدار میں داخل کئے جا چکے ہیں۔ علمی جدوجہد کے پیش نظر، ہماری زمین کے ذیلی سیارے، چاند پر انسان بہت پہلے اپنا قدم رکھ چکا ہے، اور متعدد ماہر فلکیات (Astronomers) اپنے خلائی جہازوں کے توسط سے خلا میں زمین کی مدار میں گھومتے ہوئے،  مختلف تجربات (experiments) کر رہے ہیں۔ اس طرح، آج کا انسان اپنی  سائنسی جدوجہد کے نتائج کے طور پر، اپنی تہذیب و تمدن کے میدان میں بے مثال ترقی حاصل کررہا ہے۔

سورج کا طلوع اور غروب ہونا اللہ تعالی کی بڑی نشانیوں میں سے ہے ۔ اس واقعہ میں بڑا سبق، نصیحت اور رہنمائی موجود ہے۔

انسانی نفسیات (human psychology) کے ذیل میں دو بڑے مراحل سے  انسان کا سابقہ پیش آسکتا ہے۔ یہ وہ مراحل ہیں جو اس کو دنیا اور آخرت، دونوں جگہ  ناکامی سے دوچار کرسکتے ہیں۔ وہ یہ ہیں:

مایوسی (hopelessness)  اور استکبار (arrogance)۔

حالانکہ، اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن پاک میں واضح کردیا ہے کہ انسانی دنیا کو امتحان کی مصلحت کے تحت خلق کیا گیا ہے، اس لئے  یہاں اگر کسی کے لیے  ” بے حساب رزق”  فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیاہے (آل عمران-3: 37)، تو وہیں، انسانوں کو  "خوف، بھوک، اور جان، مال اور پیداوار کے نقصان”  میں مبتلا کرکے آزمایا بھی ضرور جائے گا، جب کہ صبر کرنے والوں کے لیے خوش خبری کا اعلان ہے۔( البقرہ2: 155)۔

مگر، انسان آخر انسان ہے۔ "وہ بے شک، بڑا ظالم اور جاہل ہے”  (الاحزاب-33: 72)۔

بار بار بہکتا رہتا ہے اور قدرتی وسائل اور ربانی نعمتوں میں ادنیٰ کمی پر بھی صبر و تحمل کے بجائے، اداسی اور مایوسی کا شکار ہوجاتاہے، جب کہ  اللہ تعالی کا حکم ہے کہ اس کے بندے اس کی رحمتوں سے مایوس نہ ہوں ( لا تقنطوا من رحمة الله)۔

اس کے برعکس، عیش و آسائش اور مختلف نعمتوں کی فراوانی کی صورت میں، انسان اکثر اپنے منعم کی عنایتوں کے اعتراف اور اس کی نعمتوں کے شکر سے سرشار ہونے کے بجائے، غرور اور گھمنڈ (pride or arrogance) کی نفسیات میں  مبتلا ہوجاتاہے۔ اس نفسیات کو قرآن "استکبار”  کا نام دیتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ "مستکبر انسان”  کے لیے،  قرآن و حدیث میں سنگین نوعیت کی وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

مایوسی کی سب سے بڑی علامت ہے رات کا اندھیرا۔ سورج کی سر پرستی میں  زمین کی گردش یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ "رات”  آگئی ہے تو "صبح” کا آنا بھی یقینی ہے۔  بس، تھوڑا سا "صبر” اور  "طلوع آفتاب” کا نظارہ سامنے موجود!

سورج کے طلوع ہونے کے وقت نو مولود بچوں کی بےچارگی، اداسی اور کمزور حالت جیسی کیفیت میں جینے والے اشخاص کے لیے یہاں  واضح پیغام موجود ہے کہ تھوڑا سا صبر کرنے والوں کے لیے، دوپہر کے سورج کا پر شکوہ عروج ان  کا مقدر ہو سکتا ہے۔

اسی طرح، چاند کے مشاہدہ میں بھی  بڑا سبق، نصیحت اور رہنمائی چھپی ہوئی ہے۔ ایک ہلکی سی لکیر سے شروع ہوکر آہستہ آہستہ بڑھنا، ایک دن چاند کو "بدر منیر” یعنی "چودھویں کا چاند” (full moon) کا درجہ عطا کردیتا ہے۔

استکبار کی نفسیات میں جینے والے گویا کہ دوپہر کے سورج کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اچھے اچھے بھی ان کی طرف آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھ سکتے، اور وہ اس دھوکے میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ موجودہ "سر بلندی” کا مقام ان کا حق ہے، جس سے وہ کبھی محروم ہونے والے نہیں۔

مذکورہ افراد، اگر تفکر کے ساتھ سورج کا مشاہدہ کرنے کا مزاج بنا لیں، تو بہت جلد ان کی اپنی عقل ان کو مستقبل بینی کی شاہراہ پر لے آئیے گی، اور وہ خود اس حقیقت کا ادراک کرنے لگیں گے کہ سورج کی "آنکھ نہ ملانے والی”  دوپہر بہت جلد ڈھلنا شروع ہوجاتی ہے، اور کچھ ہی عرصہ میں اس کی وہی بچپن (طلوع) کی بے چارگی، پھر اس کے ماضی قریب کی گستاخانہ طمطراق کا احاطہ کرنے لگتی  ہے، جب کوئی بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو چڑا (taunt)  سکتا ہے. آخر کار، اسی بے چارگی کے عالم میں، آفتاب غروب ہوجاتاہے۔

سورج کے نکلنے سے لے کر ڈوبنے تک کے سفر کا مشاہدہ ہی قرآن کے اس بیان کی تصدیق کرنے کے لیے کافی ہے کہ عزت اور ذلت کا معاملہ  صرف اور صرف اللہ تعالی کے اختیار میں ہے( آل عمران-3: 26)۔

بے حد وسیع اور پر حکمت کائنات سے قطع نظر، اگر انسان صرف نظام شمسی کے سورج، زمین اور چاند کی  کارکردگی (functioning) کا ہی تفکر اور تشکر کی نظر سے مشاہدہ کرنے لگے، تو یقینی طور پر، اس کو صرف  اللہ تعالی کی رضا کی خاطر   "صبر اور شکر” کی زندگی جینے میں کوئی مشکل در پیش نہیں ہوگی۔ دنیا میں اگر صبر پریشانیوں سے محفوظ رکھتا ہے، تو شکر نعمتوں کو بڑھاتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ، صابر و شاکر مومنین کے واسطے  آخرت میں جنت کے لیے اللہ تعالی  کا وعدہ ہے، اور بے شک، اللہ رب العزت اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا( الروم-30: 6)۔

 

 

عبدالرحمٰن

نئی دہلی

(سابق چیف مینیجر، الہ آباد بینک )

9650539878

rahman20645@gmail.com

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کیا آزادی سے پہلے آیوروید کو صرف ہندو طلبہ پڑھتے تھے؟ – حکیم فخر عالم
اگلی پوسٹ
بنگلا نژاد پہلا اردو شاعر: محمد محمود الاسلام – ڈاکٹر صفدر امام قادری

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (182)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,042)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (535)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (204)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (402)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (214)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (475)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,133)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (897)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں