ارداکادمی دہلی کے زیر اہتمام چار روزہ’ جشن اردو‘مشترکہ وراثت کا جشن ،کناٹ پلیس میں تیسرے دن بھی جاری
ارداکادمی ، دہلی نے محکمۂ فن ، ثقافت و السنہ ،حکومت دہلی کے زیر اہتما م چار روزہ جشن اردو کا انعقاد کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں جاری ہے۔ یہ چار روزہ جشن 17 اکتوبر تا 20 اکتوبر دوپہر بارہ بجے سے شروع ہوکر رات دس بجے تک عوام و خواص کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ اس جشن میں عالمی شہرت یافتہ فنکاروں کے ذریعہ روزانہ چھ پرواگر م اور کل چوبیس پروگرام پیش کیے جارہے ہیں ۔
لگاتار دو دنوں سے اردو زبان و ادب اور ثقافت سے منسلک پروگراموں سے دلی کے عوام بھر پور لطف اندوز ہورہی ہے ۔ تیسرا دن ہفتہ کا دن ہونے کی وجہ سے کالجوں کے طلبا و طالبات کی کثیر تعداد دوپہر سے ہی پروگرام میںموجود تھی ۔ تیسرے دن کا پہلا پروگرام بیت بازی تھا ۔ جس میں دہلی یونی ورسٹی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل یونی ورسٹی سے کل گیارہ ٹیموں نے شرکت کی ۔ پہلا انعام ٹیم ’میر تقی میر ‘ شعبہ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ (عبیداللہ ، ابو الاشبال، محمد فرحان)۔ دوسرا انعام ٹیم ’’علامہ اقبال ‘ شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ( سید تجمل اسلام ، زاہد اقبال، نوید یوسف ) اور تیسرا انعام ، ٹیم ’ولی دکنی ‘ جواہر لعل یونی ورسٹی ( آفتاب عالم ، محمد فرید الدین ، عائشہ خاتون ) کو دیا گیا ۔ بیت بازی میں ججز کے فرائض ڈاکٹر شبانہ نذیراور ڈاکٹر وسیم راشد نے انجام دیے ۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اشعار میں سب سے اہم ادائیگی ہوتی ہے ، جس سے اشعار میں تاثر پیدا ہوتا ہے ، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شعر مکمل پڑھ دیا جاتا ہے لیکن آواز میں نشیب فراز نہ ہونے کی وجہ سے معانی کی ترسیل میں بہت کمی آجاتی ہے ۔
دوسرا پروگرام ’’صوفی محفل ‘‘ کا شروع ہوا، جس میں قطبی برادرس نے اپنی آواز کے جادو سے سامعین کو مسحور کیا ، انہوںنے روایتی انداز میں اپنی قوالی شروع کی جس میں حمد و نعت اور منقبت پیش کیا، اس کے بعد صوفیانہ کلام سے کناٹ پلیس میں ہر آنے والے سامعین کو اپنی آواز سے متوجہ کیا ۔ قطبی برادرس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی درگاہ کے دستار بند قوال ہیں ۔ ان کے نام کئی ریکارڈ بھی ہیں جیسے لگاتار بارہ گھنٹے تک قوالی پیش کرنا ، نیز وہ کلاسیکی قوالی میں ہندوستان کی نمائندگی دنیا بھر میں کرتے ہیں۔
تیسرا پروگرام ڈراما ’’ باغ تو سارا جانے ہے (میر)‘‘ تھا ۔ جس میں میر کی ذاتی اور ادبی زندگی کو پیش کیا گیا ۔اس ڈرامے کے ہدایت کارجامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاد ڈاکٹر جاوید حسن تھے ، جس کو تحریر کیا ہے پروفیسردانش اقبال نے ۔اس ڈرامے نے غیر اردو برادری میں اچھا تاثر قائم کیا ۔
اس کے بعد جشن اردو ساز وآہنگ کی جانب سفرکرتا ہے اور ’ محفل ترنگ‘ کے تحت دھروو سنگاری صوفیانہ کلام سے محفل میںساز و آہنگ کی نیرنگیا ں لاتے ہیں ۔ ان کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے موسیقی کی تعلیم دلی گھرانے سے حاصل کی اور نصرت فتح علی خاں کے خاص اور آخر ی شاگر د ہونے کابھی شرف حاصل ہے ۔ تیسرے دن کا پانچواں پروگرام ’’ رونق غزل ‘‘ کے تحت مشہور ومعروف غزل گلوکارہ رادھیکا چوپڑا نے اپنی میٹھی اور ترنم ریزآواز سے سبھی کو عالم بے خودی کی کیفیت میں پہنچادیا ۔ انہوں نے اردو شعرا کی اہم غزلوں کے علاوہ اپنی اہم کمپوزیشن بھی پیش کی ۔شام اب رات میں داخل ہوچکی تھی اور عوام غزل کی میلوڈی سے نکل کر ساز و آہنگ اور بھر پور آواز کے لیے ’’ شام قوالی ‘‘ سے لطف اندوز ہونے کے لیے سبھی جواں دلوں میں دھڑکن تھی۔ اس دھڑکن کی تسکین کے لیے صابری برادرس (ممبئی )(آفتاب صابر ی و ہاشم صابری )نے اپنی خوبصورت قوالیوں سے سامعین کو جھومنے پر مجبور کردیا ۔
جشن کی دیگر خصوصیات میں کتابیں، خطاطی اور دیگر دست کاری کے اسٹالس ہیں ۔ اردو اکادمی دہلی، ویسٹ ڈسٹرک سیلف ہیلب گروپ ، محسن کیلی گرافی، اسپین میگزین، زبیرس قلم ، قومی کونسل برائے فروغ اردو ، ریختہ پبلی کیشنز، آرٹی کائٹ ، دی ماضی مرچنٹس ، خواب تنہا کلیکٹو، پرانی دلی کیلی گرافی ہب ، ووڈ ورلڈ وینڈرس، عذرا بک ٹریڈرس ، داؤد کیلی گرافی،ایشیا کتاب ہاؤس ،مائلس ٹو مائلس کیلی گرافی، بکس ای ٹی سی، نیشنل بک ٹرسٹ، پبلی کیشن ڈویژن اور دیگر اسٹالس موجو د ہیں جن پر آج چھٹی کا دن ہونے کی وجہ سے خریداروں اور شائقین کی بھیڑ بکثرت نظر آئی ۔
فن کاروں کا اردو اکادمی دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول اور گورننگ کونسل کے ممبر شیخ علیم الدین اسعدی و محمد محسن نے مومینٹو پیش کیا ۔ تمام پروگراموں کی نظامت جناب اطہر سعید اور محترمہ ریشما فاروقی نے کی ان دونوں کی بھرپور نظامت اور اردو اشعار کی عمدہ پیش کش سے عوام بھرپورلطف اندوز ہوتی رہی ۔
- بیت بازی مقابلے کے فاتحین کے ساتھ ججز ڈاکٹ شبانہ نذیر و ڈاکٹر وسیم راشد
- قطبی برادرس قوالی پیش کرتے ہوئے
- دھروو سنگاری کو اکادمی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپررسول ودیگر ممبران اکادمی کا نشان پیش کرتے ہوئے
- رادھیکا چوپڑا غزل پیش کرتی ہوئی
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

