اردو وراثت میلہ 2024
دہلی حکومت نے آثار قدیمہ کے ساتھ جوڑکر ثقافت و زبان کو فروغ دینے کی بھر پور کوشش کی ہے : سوربھ بھاردواج
نئی دہلی
سندر نرسری جو اپنی صاف ستھری آب و ہوا کی وجہ سے پوری دہلی والوں کے لیے بچوں کے ساتھ وقت گزاری کے لیے مشہور ہے لیکن ابھی چار دنوں بائیس تا پچیس فروری کے لیے یہ خوبصورت باغ اردو زبان و ادب کی پیشکش کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ۔ جس میں موسیقی ، غزل سرائی ، بیت بازی قوالی اور ادبی مباحث کے پروگرام پیش کیے جارہے ہیں ۔
دوسرے دن مہمان خصوصی وزیر برائے فن و ثقافت و السنہ دہلی حکومت جنا ب سوربھ بھاردواج نے خوبصورت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ، دہلی کتنی بار اجڑی اور آباد ہوئی اس کے بارے میں تو نہیں پتہ کیونکہ تاریخ داں تو سات بار لکھتے ہیںلیکن باقیات بہتوں کے مل جاتے ہیں ، دہلی حکومت نے سبھی کے تاریخی باقیات کو دوبارہ سنوارنے کی کوشش کی ہے اور ان تمام مقامات میں عوام کی دلچسپی کے لیے ہیریٹیج واک کا بھی اہتمام کیا ہے ۔ کیونکہ جس نے بھی دلی میں راج کیا اس نے پورے ملک میں راج کیا اور راج کرنا دلوں میں راج کرنا ہوتا ہے ۔ دہلی حکومت لگاتار ثقافتی پروگرام کرتی رہتی ہے ، آپ تمام حاضرین سے گزراش ہے کہ ان ثقافتی پروگراموں میں اپنی حاضری کو اپنے اپنے سوشل میڈیا پیچ میں ضرور اپلوڈ کریں ۔پھر وزیرمحتر نے سبھی فنکاروں کا مومنٹوپیش کرکے استقبال کیا ۔
دوسرے دن کا سورج نصف النہار کو پہنچا تو بیت بازی سے پرو گرام شروعہوا ۔ اس بیت بازی کے مقابلے میں دہلی کی تینوں یونیورسٹیوں او رکالجوں سے کل نو ٹیموں نے شرکت کی ۔ شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، شعبہ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ ، شعبہ اردو دہلی یونی و رسٹی ، دیال سنگھ کالج مارننگ ، ذاکر حسین کالج ایوننگ ، ذاکر حسین کالج مارننگ ، سینٹ اسٹیفن کالج ، شعبہ اردو جواہر لال نہرویونی و رسٹی اور شعبہ عربی جواہر لال یونی ورسٹی کی ٹیموں نے شرکت کی ۔ اول انعام شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ ، دوم انعام شعبہ تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ اورسوم انعام ذاکر حسین دلی کالج ایوننگ اور شعبہ عربی جے این یو کی ٹیمیں مستحق قرار پائیں جبکہ حوصلہ افزا انعام ذاکر حسین دلی کالج مارننگ کو ملا۔ اس پروگرام میں جج کے فرائض ڈاکٹر واحد نظیر اور معروف شاعر شکیل جمالی نے انجام دیے ۔ شکیل جمالی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اشعار میں عصر حاضر کی نمائندگی نظر نہیں آئی طلبہ بیت بازی میں جدید شعرا کے اشعار کو بھی اپنی زنبیل میں رکھیں ۔ شعر کی ادائیگی ہی شعر کی روح ہوتی ہے اس جانب بہت ہی زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹرواحد نظیرنے کہا کہ شعر کی قرأت کرتے ہوئے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ آپ شعر پڑھ رہے ہیں جب کہ کبھی کبھی نثر کا بھی گمان ہونے لگتا ہے ۔ بیت بازی میں تین چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ معیار ،ادائیگی اور پیش کش ۔یہی تینوں چیزیں درجہ بندی میں معیار پاتی ہیں ۔
سورج مائل بہ زوال تھا لیکن سنہری دھوپ کی تپش سے حاضر ین کے عارض سرخ ہوئے جارہے تھے کہ دوسرا پروگرام رنگ غزل شروع ہوا ۔ سیف نعیم علی اس میں گلوکار کے طور پر تھے ۔ انھوں نے اپنی پیشکش میں کلاسک کو مد نظر رکھتے ہوئے بھولی بسری، سلا چکی تھی دنیا تھپک تھپک کے مجھے ، میں نے تم سے میری جان محبت کی ہے ، ہنگامہ ہے کیوں برپا اور آج جانے کی ضد نہ کرو جیسے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔
موسیقی کی سوزو ساز میں ڈوبنے کے بعد مسکراہٹوں اور قہقہوں کا پروگرا م ’ مشاعرے کا پوسٹ مارٹم‘ تھا ۔ یہ ایک مزاحیہ ڈارامائی پیشکش تھی جس کے مصنف پروفیسر محب الحق،علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اور ہدایت کار ڈاکٹر جاوید حسن جامعہ ملیہ اسلامیہ تھے ۔ اس میں بطور کردار ، مائیکل کھٹکھٹ بار ہ بنکوی، شمس العشاق جناب علاء الدین کھجلی، بانکے بہاری، نواب میزائل الدولہ نواب الملک بندوق جنگ رائفل خاں بہادر لکھنوی، چلم مرادآبادی ، لاغر سلامی ، عیار بنارسی ، چنچل دہلوی اور ہدہد بارہ بنکوی اپنے اپنے منفرد انداز میں کل ہند مشاعرہ کے شعرا تھے ۔
سندر نرسری کے سبزہ زار میں درختوں اور پودوں کے سائے لمبے ہورہے تھے کہ ایک منفر دپروگرام چار بیت کا آغاز ہوتا ہے جسے بزمِ نسواں،بھوپال پیش کرتی ہے ۔ ان کے استا د جناب مختار احمد نے انہیں ٹرینڈ کیا تھا جنہیں پیش کررہی تھیں مال شری ، آرتی ، ویشالی ، ویہو، اور دویا ۔ ان کے مخصوص انداز و پیشکش کو سامعین نے بہت زیادہ سرا ہا ۔
سورج غروپ پہ آمادہ تھا کہ شو خی غزل میں گائتری اسوکن کی آواز کا دیپ لہک اٹھتا ہے ۔ پہلی غزل ’گلوں میں رنگ بھرے ‘ میں ہی سامعین کا تحسینی شور بلند ہوتا ہے اور ہر غزل میں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ شوخی غزل کا پروگرام شفق کے ساتھ ہی رہتا ہے کہ شام رات کے آغوش میں چلی جاتی ہے اور محفل قوالی میںنیازی نظامی برادرس اپنی آواز کا جادو بکھیرتے ہیں ۔تمام پروگراموں میں سامعین و ناظرین اردو کی ثقافت و زبان سے بھرپور محظوظ ہوئے ۔
جشن اردو میں اسٹالس خصوصی طور پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں جن میں دہلی آرکائیوز ، مائلس ٹو مائلس کیلی گرافی، اردواکادمی دہلی، قومی کونسل، ریختہ پبلی کیشنز، راج کمل پرکاشن ، راج پال اینڈ سنس ، وانی پرکاشن ، زرود ، خواب تنہا کلیکٹو، آرٹی کائٹ ، قریشی دسترخوان ، کول پوائنٹ ، سول بائی سواتی ، منگلا چاٹ ، بکس ای ٹی ، ڈسٹرک سیلف ہیلپ گروپ اورمحسن کیلی گرافی کے اسٹال ناظرین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئیہیں۔تمام پروگراموں کی نظامت جناب اطہر سعید اور ریشماں فاروقی نے کی ۔
تصویر:
1۔ بیت بازی پروگرام میں کالج و یونیورسٹی کے طلبا۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

