شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے زیر اہتمام سالانہ غالب یادگاری خطبہ بعنوان’ اردو اور پنجابی کے لسانی رشتے ‘کا انعقاد
نئی دہلی :شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے زیر اہتمام سالانہ غالب یادگاری خطبہ بعنوان ’اردو اور پنجابی کے لسانی رشتے‘ کا انعقادکیا گیا، اس یادگاری خطبے کے مقرر بھوپندر عزیز پریہار، سابق صدر شعبہ انگریزی، گورنمنٹ کالج، لدھیانہ اور ایڈیٹر اردو لائیو تھے،پروگرام کی صدارت پروفیسر تنمئے بھٹاچاریہ ،صدر شعبہ لسانیات، دہلی یونیورسٹی نے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر رویندر کمار، ڈین کلچر کونسل، دہلی یونیورسٹی شریک ہوئے ۔
شعبۂ اردو کی صدر پروفیسر نجمہ رحمانی نے سالانہ غالب یادگاری خطبے کاتعارف پیش کرتے ہوئےکہاکہ اردو اور پنجابی دو بہنیںہیں، بیشتر ہندوستانی زبانوں کا آپسی رشتہ بہت اہم ہے، ہم زبانوں کے آپسی اور لسانی رشتے پڑھتے توہیں، لیکن اس پر بہت زیادہ غور نہیں کرتے،اسی کے پیش نظر اس خصوصی یادگاری خطبے کا انعقاد کیاگیا ہے، تاکہ اردو اور پنجابی کے رشتے پربات کی جاسکے ۔اس لکچر کا مقصد نہ صرف لسانی رشتوں کو جاننا ہے بلکہ ان صاحبان علم سے واقف ہونا بھی ہے، جو لسانیات میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ آج کا یہ خطبہ انتہائی مفید ثابت ہوگا۔
سالانہ غالب یادگاری خطبے کے مقرر بھوپندر عزیز پریہار نے کہا کہ میں شعبۂ اردو کا ممنون ہوں کہ اس موضوع کو منتخب کیا اور مجھے مدعو کیا، اس کے علاوہ انھوں نے اردو و پنجابی کے لسانی رشتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہاکہ اردو میں عربی اور فارسی سے جو ندرتیں اور لطافتیں آئی ہیں، انھیں قبول کیا گیا ۔اردو اور پنجابی دونوں زبانیںلسانی طور پر بہت قریب ہیں،حالاں کہ دونوں کا رسم الخط مختلف ہے ۔ پروفیسر محمود شیرانی نے پنجاب میں اردو میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قدیم اردو کا تعلق پنجابی سے ہے، اردو اور پنجابی کی صرف و نحو کا تعلق بھی انتہائی قریبی ہے، پنجابی پر عربی اورفارسی زبانوں کے خاصےمثبت اثرات پڑے۔ صرف و نحو کےساتھ معنی خیزی کی سطح پر بھی دونوں بہت حد تک قریب ہیں، صوتی آہنگ کے معاملے میں پنجابی اردو کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ پنجابی میں تلفظ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، جب کہ اردو میں تلفظ کا بہت خیال رکھا جاتا ہے، اسی طرح پنجابی میں جمع الجمع کا استعمال نہیں ہوتا، نیزحروف کے نیچے نقطہ دینے کا رواج بھی پنجابی میں نہیں ہے، نقطےوہی لوگ ڈالتے ہیں، جو اردو سے واقف ہوتے ہیں۔ معاصرپنجابی نثر عربی و فارسی کے اثرات سے عاری ہوتی جارہی ہے۔زبان اور ادب بڑی جمہوریتیں ہیں اور جمہوریت میںخیالات اور آرا سب کے اپنے ہوتے ہیں،جن سے اختلاف کیاجاسکتاہے اور اختلافات ہی غور وخوض کے راستے کھولتے ہیں۔انھوں نے اپنے خطاب میں اردو و پنجابی کے شعری سرمایے سے بہت سی مثالیں بھی پیش کیں۔
مہمان خصوصی پروفیسر رویندر کمار نےاس پروگرام کے انعقاد پر شعبۂ اردو کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ زبانوں کے آپسی لسانی رشتے ہمیشہ سے رہے ہیں مگران پرکھل کربات نہیں ہوتی۔ شعبۂ اردو نے ملنے ملانے کے رواج کوآگے بڑھانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے، یہ سلسلہ آگے بڑھنا چاہیے ۔صوبہ پنجاب بالخصوص مالیر کوٹلہ میں اردوبولنے والوں کی ایک بڑی آبادی ہے، اردو اور پنجابی کے لسانی، علاقائی اور اردو و پنجابی والوں کے رشتے بھی خاصے مستحکم ہیں، ساحرلدھیانوی کی وراثت کو آگے بڑھانے والوں میں ایک نام عزیز پریہار صاحب کا بھی ہے، ہماری فلمیں بھی بتاتی ہیں کہ اردو اور پنجابی کےرشتے انتہائی قریبی اورگہرے ہیں ۔ درجنوں فلموں کے مکالمے یا ڈائریکشن کا کام پنجابیوں نے کیا ہے، جو خالصتا اردو تہذیب پر مبنی فلمیں ہیں۔
غالب یادگاری خطبے کے صدرپروفیسر تنمئے بھٹا چاریہ نے کہا کہ یونیورسٹی میں بین المطالعاتی کورسزکا مقصد گم ہو گیا ہے، حالاںکہ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے لیے مختلف زبانوں کا جاننا انتہائی ضروری ہے، اگر ہم اپنی فیکلٹی میں بین المطالعاتی کورسز کو رواج نہیں دے پارہے ہیں، تو دوسری جگہوں پر اسے کیسے رواج دے سکیں گے ۔ میری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے ،مختلف شعبوں کے افراد ایک دوسرے سے ملتے رہیں ۔زبانوں کے آپسی رشتوں پرگفتگوکے لیے خصوصی لکچرزکاآغازخوش آئندہے ، میںاس کے لیے صدر شعبہ اور شعبہ اردودونوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
پروگرام کے کنوینر ڈاکٹر علی احمد ادریسی نے مقرر اور صدر جلسہ کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے موضوعات پر اس نوعیت کے پروگرام کا انعقاد وقت کی ضرورت ہے، اس پروگرام سے طلبا و طالبات کو مستفید ہونے کا موقع ملےگا۔ پروگرام کے آخر میں اظہار تشکر کی رسم ڈاکٹر شاذیہ عمیر نے اداکی۔
خصوصی یادگاری خطبے میں بالخصوص پروفیسر ابوبکر عباد، پروفیسر ارجمند آرا ، پروفیسر محمد کاظم، پروفیسر مشتاق عالم قادری ،ڈاکٹر متھن کمار ، ڈاکٹر مہتاب جہاں، ڈاکٹر احمد امتیاز، ڈاکٹر ارشاد نیازی، ڈاکٹر نچھتر سنگھ، ڈاکٹر شمیم احمد، ڈاکٹر فرحت کمال، ڈاکٹر زاہد ندیم احسن اور ڈاکٹر سنیل کمار کے علاوہ مختلف شعبہ جات کے اساتذہ، طلبا و طالبات اور ریسرچ اسکالرز نے شرکت کی۔
کیپشن:پوڈیم پر بھوپندر عزیز پریہار، ڈاکٹر علی احمد ادریسی، پروفیسر رویندر کمار، پروفیسر تنمئے بھٹاچاریہ اور صدرشعبہ اردو پروفیسر نجمہ رحمانی
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

