Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

اُردو زبان کے تدریجی ارتقا میں انتظامیہ کی حصّہ داری – پروفیسر عبدُ البرکات

by adbimiras اکتوبر 1, 2022
by adbimiras اکتوبر 1, 2022 0 comment

اُردو اپنی لسانیاتی خصوصیات کی بدولت بطور عالمی زبان؛ توسیع کی راہ پر گامزن ہے۔مفرد اور مرکب/مخلوط حروف سے قطعِ نظر کہ یہ علمِ السنہ کا دقیق موضوع ہے اور لسانی مباحث کے نتائج بھی منظرِ عام پر آتے رہتے ہیں۔ لہٰذا عوام الناس کے لیے عام جانکاری کے بطور مخرج کے ساتھ منھ سے تنہا نکلنے والی آواز کو حرف کہتے ہیں اور اردو زبان میں ۵۴؍حروفِ تہجی ہیں۔یہ درست ہے کہ چند حروف کی آواز میں انفراد نہیں ہے مثلاً ہمزہ اور بڑی ’ے‘، پھر بھی دوسری زبان سے زیادہ آوازیں نکالنے کی اہلیت اردو حروفِ تہجی کو ہے۔موزوں مجموعۂ حروف جس کا کوئی معنی برآمد ہو؛لفظ کہتے ہیں۔ اس تناظر میں تشکیلِ الفاظ کے امکانات اردو زبان میں بڑھ جاتے ہیں۔جب کہ عالمی رابطے کی زبان انگریزی میں ۲۶؍حروف ہیں۔نیز اردو نے دوسری زبانوںکے مانوس الفاظ، تراکیب اور اصطلاح کے لیے اپنے دامن کو وَا رکھا ہے جس سے اردو میں الفاظ و مرکبات کی تشکیل کے دائرے وسیع ہوئے اور کم مدت میں اس طرح ترقی کے اہم منازل طے کرلیا کہ آج شعر و ادب اور علم و ہنر کے ساتھ سائنسی و تکنیکی نکات کو بحسن وخوبی اپنے دامن میں سمیٹنے کی اہل ہوگئی ہے جو ایک زندہ اور مقبول زبان کا لازمہ ہے

اردو زبان کی پیدائش کے تعلق سے متعدد خیالات ونظریات وضع کیے گئے جس میں تضاد بھی ہے اور ہر نظریہ کے دلیل وجواز بھی فراہم کی گئی ہے۔اردو زبان کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟ اس سلسلے میں محمد حسین آزاد، سیّد سلیمان ندوی، نصیر الدین ہاشمی، حافظ محمود خاں شیرانی، شوکت سبزواری، محی الدین قادری زور، اختر اورینوی، اعجاز حسین، مسعود حسین خاں، جمیل جالبی وغیرہم کے نام اہمیت کے ساتھ نمایاں ہے۔انھوں نے اپنے نظریات کی صداقت ظاہر کرنے کے لیے جواز بھی پیش کیے ہیںجو قابلِ قدر ہیں کہ انھیں کی تحقیق و جستجو پر اردو زبان کی پیدائش کی عمارت تیار ہوئی ہے۔ان میں کسی کا خیال ہے کہ اردو متھرا اور آگرہ کے گرد ونواح میں بولی جانے والی برج بھاشا سے نکلی ہے تو کوئی عرب و ہند کے قدیم تجارتی تعلقات سے اردو زبان کی پیدائش کو جوڑتے ہیں۔کوئی دکن کو اس کا مولد و ماوا قرار دیتا ہے کہ عرب تجار سمندر کے ساحلی علاقے میں تجارت کے لیے آئے جس کے طفیل اردو کی پیدائش ہوئی تو کوئی پنجاب میں اردو کی پیدائش کا دعویٰ کرتا ہے تو کوئی بہار کے ساتھ ہندوستان میں ایک ساتھ اردو زبان کی پیدائش کا جواز پیش کرتا ہے تو کوئی سندھ کے علاقہ میں اردو کی پیدائش کی جستجو کرتا ہے لیکن ایک بات پر سبھی متفق نظر آتے ہیں کہ اردو ہند آریائی زبان کی ایک شاخ ہے اور خالص ہندوستانی زبان ہے۔

مورخین کے مطابق پرانے پتھروںکے دور میں ہندوستان کے جنوبی اور مشرقی خطوں میں انسانی آبادی موجود تھی۔وہ،ان کی شکل، صورت، حلیہ، رنگ وغیرہ تو بتاتے ہیں لیکن ان کو کسی نام سے موسوم نہیں کرتے ہیں لیکن وہی ہندوستان کے خالص قدیم باشندے ہیں۔اسی طرح نئے پتھروں کے دور میں باہر سے آنے والے انسانوں کا بھی کوئی نام نہیں دیتے ہیں جب کہ لوہے کے دور میں آنے والی انسانی آبادی جو دھات کی تلاش میں آئی تھی اور یہاں مقیم ہوگئی، ان کو دراوڑ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ان کے بعد آریہ قوم وسط ایشیا سے نکل کر ایران ہوتے ہوئے متعدد گروہوں اور اوقات میں ہندوستان آئی۔ اس کی مدلل تفصیلی تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں دستیاب ہے۔تاریخ کے مطابق آریہ عقل مند، ہنرمند اور مضبوط قویٰ کے حامل تھے۔لہٰذا دراوڑ اور ہندوستان کے قدیم باشندوں سے ان کی شدید جنگیں ہوئیں۔دراوڑ جنوبی ہند کی طرف چلے گئے اور کچھ قدیم باشندوں کے ہمراہ جنگل پہاڑوں میں آباد ہوگئے اور آریہ شمال مشرق کے میدانی علاقے میں پھیل گئے۔آریہ چوںکہ ہنرمند تھے اور لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لیے تھے اس لیے ان کی کوششوں سے سنسکرت زبان کو عروج حاصل ہوا۔سنسکرت علمی و ادبی زبان کے بطور رائج ہوگئی۔زبان کے لیے قواعد بھی مرتب ہوگئے۔ اس طرح جو لکھنے پڑھنے سے ناواقف تھے اور آریہ کے علاوہ جو نسلیں تھیں، ان کی زبان جدا ہوگئی۔ ان کی زبان پر علاقائی اثرات نمایاں تھے اور الگ الگ علاقوں میں الگ الگ بولیاں روز مرہ کے لیے استعمال کی جاتی۔پروفیسر مسعود حسن خاں کے مطابق:

’’شروع سے ہی عوام کی زبان ایک مخلوط زبان تھی۔ایک ایسی زبان تھی جس میں آریوں کی ابتدائی زبان اور دیسی بولیوں دونوںکا میل تھا۔بعض لوگوں نے اسی کو ’’پہلی پراکرت‘‘ کہا ہے اور ویدک سنسکرت اور ادبی سنسکرت دونوںکی ماں مانا ہے۔ہم اسے ’’ابتدائی زبان‘‘ سے یاد کریں گے اور پہلی پراکرت اس زبان کو کہیں گے جس کا ادبی روپ ’’پالی‘‘ ہے۔ ‘‘

(مقدمہ تاریخ زبان اردو: ڈاکٹر مسعود حسین خاں، ص ۳۱۔مطبوعہ سرسید بک ڈپو، جامعہ اردو گھر، علی گڑھ۔۱۹۸۲ء)

درحقیقت زمانۂ قدیم سے ہی عرب و ہند کے تجارتی تعلقات رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تجار کے مخصوص ہم تجارتی پیشہ افراد سے ہی تعلق رہا ہوگا جب کہ دینِ اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سمندر کے ساحلی علاقے میں آنے والے مبلغینِ اسلام کو اظہارِ خیال کی ترسیل کے لیے مقامی بولیوںکا سہارا لینا پڑتا ہوگا۔ نیز ۷۱۱ء؁ میں محمد بن قاسم کے سندھ پر فتح کے بعد عربی فارسی بولنے والے فوجی خاصی تعداد میں پھیل گئے۔علاوہ ازیں تواتر سے عرب، ایران اور ترکی سے مسلمانوں کی آمد شروع ہوگئی۔۱۲۰۶ء میںدہلی سلطنت مستحکم ہوئی اور دہلی دار الخلافہ بنا اور عربی، فارسی اور ترکی بولنے والے دہلی اور اس کے گرد ونواح میں پھیل گئے اور ہندوستانی عوام سے ان کا میل جول بڑھا۔ ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کے دوران عربی، فارسی اور ترکی کو ہندوستان میں سنسکرت کے ساتھ علاقائی بولیوں اور پراکرتوں سے سابقہ پڑا۔خصوصاً برج بھاشا، کھڑی بولی، ہریانی، شورسینی اور مہاراشٹری کے اختلاط سے ایک نئی زبان ابھرکر سامنے آئی جس کو لشکری زبان کہا گیا۔پھر ریختہ، ہندی اور ہندوستانی کے نام سے موسوم ہوئی۔مدھیہ دیش یعنی دلی اور اس کے گرد ونواح جس کو آج دہلی این سی آر کہتے ہیں، متھرا، پنجاب، ہریانہ کی جدید بولیاںکھڑی بولی ، برج بھاشا وغیرہ شامل تھیں۔ان میں کھڑی بولی جو خالص ہندوستانی عام عوام کی زبان ہے، اس کو اردو نے اپنا محور بنایا جو فارسی رسم الخط کے ساتھ اردو زبان سے رائج ہے۔کھڑی بولی خالص ہندوستانی عام عوام کی زبان تھی کیوںکہ شورسینی اور اپ بھرنش سے پیدا ہوئی۔ڈاکٹر اعجاز حسین لکھتے ہیں:

’’اردو زبان نہ برج بھاشا سے بنی نہ پنجابی سے بلکہ مخلوط زبانوں سے ہوکر کھڑی بولی پر اس نے اپنی بنیاد قائم کی۔یہ نئی زبان اپنی مقبولیت کی وجہ سے برابر ترقی کرتی رہی۔‘‘ (مختصر تاریخِ ادبِ اردو: ڈاکٹر اعجاز حسین، ص ۲۸)

بہرکیف!آٹھویں صدی کی ابتدا سے تیرہویں صدی کے درمیان میں ہندوستان کے عوام و خواص کی مخلوط زبان کھڑی بولی اپنی ارتقائی منازل طے کرتی ہوئی فارسی رسم الخط کے ساتھ اردو زبان سے مروّج ہوئی۔مسعود حسین خاں لکھتے ہیں:

’’ہندوستان کی زبانوں میں جو اہمیت آج اردو کو حاصل ہے،وہ محض اتفاق نہیں بلکہ سیکڑوں سال کی تمدنی اور سیاسی تحریکات کا لازمی نتیجہ ہے۔‘‘(مقدمہ تاریخ زبان اردو: ڈاکٹر مسعود حسین خاں۔ ص ۹۷)

اردو زبان نے اپنے اس ارتقائی سفر میں صوفیاکی آغوش میں پرورش پائی، لشکر اور بازاروں میں چہل قدمی کرتی ہوئی شاہی دربار میں پہنچ کر ’’اردوئے معلی‘‘ سے بھی موسوم ہوئی۔ بزرگانِ دین اور عوام سے قربت کی وجہ سے اردو زبان میں محبت، رغبت، اخوت، یکجہتی اور رواداری آگئی۔شاہی دربار میں پروان چڑھنے کی وجہ سے اس میں نزاکت و نفاست اور شان و شوکت پیدا ہوئی۔ اردو نے دوسری زبانوں کے برمحل الفاظ، محاورے اور ضرب الامثال سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا شروع کردیا جس سے اردو کا ذخیرۂ الفاظ وقیع ہوا۔۱۸۲۵ء میں ’’دہلی کالج‘‘ کا قیام عمل میں آیا جس میں تمام علوم کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی۔۱۸۳۲ء تک دہلی دربار کے بہت سارے احکام اردو میں جاری ہونے لگے۔اس طرح اردو کو غیراعلانیہ درباری زبان ہونے کا اعزاز مل گیا۔رابطے کی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامی امور بھی اردو زبان میں انجام پانے لگے۔انتظامیہ کی سرپرستی کی وجہ سے دستاویز اور عدالتی فیصلے بھی اردو میں تحریر ہونے لگے۔اس طرح اردو زبان کی ہمہ جہت ترقی ہوئی۔

۱۸۵۷ء کے بعد ہندوستان میںانگریزوں کے پاؤں مضبوط ہوگئے اور دیگر معاملات کے ساتھ اردو بھی معتوب ہوئی۔دہلی کالج جہاں ہندوستانیوں کو اردو زبان کے ذریعے ادب اور سائنس کی تعلیم دی جاتی تھی، تباہ و برباد ہوگئی اور انگریزی زبان کا دبدبہ بڑھنے لگا۔ اعلیٰ عہدوں پر بحالی کے لیے انگریزی زبان میں مسابقاتی امتحانات ہونے لگے۔انتظامی امور انگریزی میں انجام پانے لگے اور ہندوستانی زبانوں کی راہ مسدود ہوگئی۔نیز انگریزوںکی سیاسی شعبدہ بازی کی وجہ سے لسانی اختلافات سنگین ہوگئے۔نتیجتاً اردو اور ہندی میں رقابت پیدا ہوگئی جب کہ پہلے فارسی رسم الخط یا دیوناگری رسمِ خط میں لکھی جانے والی زبان کو ہندوستانی کہا جاتاتھا۔اس پہلی جنگِ آزادی میں اردو نے نمایاں رول ادا کیا ہے۔اردو صحافت، ریشمی رومال تحریک اور دیگر تحریکات میں اردو نے مجتہدانہ حصہ لیاہے اس لیے انگریزوںکی سازش کا شکار بھی ہوئی۔اردو شعر و ادب کے ذریعے تحریکِ آزادی کو مزید دھاردار بنادیا گیا۔’’انقلاب زندہ باد‘‘ تحریکِ آزادی کا نمایاں نعرہ قرار پایا۔علاوہ ازیں بہت سارے نعرے اور اردو کے اشعار عوام میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ عوام کے جذبات و خیالات کے ترجمان بن گئے۔مثلاً

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اس طرح اردو زبان نے اپنے ارتقائی دور میں ہی مقبولیت کا شرف حاصل کرلیا جس میں اس کی لسانی خصوصیات کا کلیدی حصہ رہاہے۔اردو کی ہردل عزیزی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے بہت سارے عہدوں کے نام اور اصطلاحیں اردو زبان کی ہیں جیسے منصف، عدالت، وکالت، مدعی، مدعاعلیہ، سمن، قانون، سپاہی، چوکیدار، دفعہ دار، جرم، مجرم، قیدی، حوالات، ناظر، نظارت، تحصیل، تحصیل دار وغیرہ وغیرہ کے استعمال سے جو معاملات اور تہذیبی پس منظر اُبھرتے ہیں وہ بے نظیر ہیں۔

ہندوستان میں انگریزوںکے تسلط کے بعد انگریزی حکومت کی ریشہ دوانیوں اور حصولِ آزادی کی جدوجہد کے دوران ۱۹۱۸ء میں حیدرآباد عثمانیہ یونیورسٹی کی تاسیس عمل میں آئی؛ جہاں تمام علوم کی تعلیم اردو میں دی جاتی تھی اور یہاں ترجمہ اور اصطلاح سازی کا کام بھی شروع کیا گیا۔ زبیر بھاگلپوری کے مطابق:

’’اردو اصطلاح سازی اور ترجمے کا اساسی عمل فرمانروائے دکن عثمان علی خاں اور بابائے اردو مولوی عبد الحق کے زیرِ قیادت جامعہ عثمانیہ میں مختلف علوم کی کتابوںکا اردو میں ترجمہ کرنے کے مقصد سے قائم ’’دار الترجمہ‘‘ سے انیسویں صدی کے نصف اوّل میں متحدہ ہندوستان میں شروع ہوا۔ ’’ورناکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی‘‘ دہلی اور اس کے علاوہ’’سائنٹفک سوسائٹی‘‘ علی گڑھ نے بھی اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کیا لیکن باضابطہ اور منظم طریقے سے یہ کام ’’دار الترجمہ‘‘ جامعہ عثمانیہ سے ہی شروع ہوا، جہاں وسیع پیمانے پر نہ صرف دیگر علوم کی کتابوں کا ترجمہ اردو میں ہوا بلکہ ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ میں تمام علومِ متداولہ وغیرمتداولہ کی تعلیم اردو میڈیم میں پہلی بار شروع ہوا۔‘‘  (بحوالہ اردو اصطلاح سازی: مرحلہ در مرحلہ۔مشمولہ:زبان و ادب، پٹنہ۔ص۲۰۔دسمبر ۲۰۱۷ء)

مادرِ وطن ہندوستان کی تقسیم کے سانحہ نے ترقی کی راہ پر گامزن اردو زبان کے راستے مسدود کردیے۔تھوڑے دنوں کے لیے اردو زبان پر سخت دن ضرور آئے تاہم ہندوستان کے قومی رہنماؤں نے بڑی فراخ دلی ، رواداری، جسارت اور دور اندیشی کا ثبوت دیا اور ہندوستان ایک سیکولر جمہوری ملک کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرکر سامنے آیا۔ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد نے قدیم اور جدید تعلیم کے لیے منصوبہ بنایا جس سے اردو زبان بھی فیضیاب ہوئی اور رفتہ رفتہ فروغِ اردو زبان کے لیے فضا بنی اور تقریباً ہر صوبہ میں اردو اکادمیاں قائم ہوئیں۔انجمن ترقی اردو؛ہندوستان میں از سرِ نو تشکیل پائی۔ہندوستان کے کئی صوبوں میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہوا،اس میں صوبہ بہار کو ممتاز درجہ حاصل ہے کہ انتظامیہ نے فروغِ اردو زبان کے لیے لائحۂ عمل تیار کیا اور ریاست میں اردو کے نفاذ اور فروغ کے لیے انتظامیہ نے ’’اردو ڈائریکٹوریٹ،بہار‘‘ پٹنہ میں قائم کیا۔قانونی مراعات عطا کی جس کی رہنمائی میں ریاست بہار کے ۳۸؍ضلعوں میں ہرسال’’فروغِ اردو سے مینار‘‘، مشاعرے اور تحریری و تقریری مقابلے کے لیے مجلسیں آراستہ کی جاتی ہیں۔حقیقتاً اردو کی اس وسیع معاشرتی و تہذبی،سیاسی عوامل اور عوامی مزاج نیز جذبات و خیالات سے اردو زبان کی ہم آہنگی کی بناپر مرکزی حکومتوں نے بھی متعدد اہم ادارے فروغِ اردو زبان و ادب کے لیے قائم کیے ہیں مثلاً ’’قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان‘‘ دہلی، ’’مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی‘‘حیدرآباد کی کارکردگی لائقِ ستائش ہے۔ مولانا آزاد اردو یونیورسٹی میں تمام علوم و فنون کی تعلیم اردو میں دی جاتی ہے اور فاصلاتی نظامِ تعلیم کے توسط سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے اسٹڈی سینٹر پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں جہاں اردو داں طبقہ سند حاصل کرکے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ پورے ہندوستان میں فروغِ اردو کے لیے انتظامیہ نے متعدد اقدام اٹھائے ہیں۔

لسانیات کے ارتقائی سفر پر غور و فکر سے بشمول اردو زبان؛انکشاف ہوتاہے کہ سیاسی صورتِ حال، جغرافیائی حالات اور عصری معاملات کے گہرے اثرات، زبان پر مرتب ہوتے ہیں اور جس زبان میںاثرپذیری کی صلاحیت اور لچک ہوتی ہے وہ وقت کے ریلے میں لڑھکتے، ڈھلکتے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ زندہ رہتی ہے کیوںکہ زبان رقیق مادہ کی طرح ہوتی ہے جس میں وقت اور حالات سے ہم آہنگی کا مادہ ہوتا ہے لیکن جو زبان قواعد اور ضابطے کی پابندیوں کی وجہ سے سخت اور جامد ہوجاتی ہے وہ ٹوٹ پھوٹ کر بکھرجاتی ہے۔دنیا کی کئی زبانوںکے تعلق سے ماہرینِ السنہ نے رپورٹ کی ہے کہ وقتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث فنا ہوگئی۔اردو زبان بیدار بخت رہی ہے کہ اس نے وقت سے قدم تال کرتے ہوئے ریختہ، ہندی، ہندوی اور ہندوستانی پھر اردو رسمِ خط کے ساتھ آج ’’اردو‘‘ نام سے زندہ و پائندہ ہے اور مسلسل وقت اور حالات کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ دراصل اردو زبان میں شعر و ادب کی تخلیقات کے ساتھ ہی زبان کی اصلاح ،املا کی درستگی، ترکیب میں ردّ و بدل اور نئی نئی اصطلاح گھڑنے پر ،زبان داں اور دانشوروں نے خصوصی توجہ دی۔انشاء اللہ انشا، مصحفیؔ کے سلسلے کو بڑھاتے ہوئے بابائے اردو مولوی عبد الحق، گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، رشید حسن خاں، ابومحمد سحر وغیرہ جیسے زبان و بیان اور املاکے رمزشناس دانشوروںکے کارنامے لائقِ تقلید و ستائش ہیں۔ان دانشوروں نے عربی، فارسی،ترکی، سنسکرت، ہندی، انگریزی کے وہ الفاظ جو اردو کی صوتیات سے میل کھاتے تھے ان کو اردو کے قالب میں ڈھال دیا۔مثلاً آج سائیکل کو بتانے سے لوگوںکو معلوم ہوتا ہے کہ یہ انگریزی کا لفظ بائیسکل ہے۔لہٰذا دانشوروں کی کاوشوں سے شعر و ادب کے ساتھ اردو، علمی زبان کی اہلیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی اور اسکرپٹ کے خانہ میں فارسی کے بجائے اردو رسمِ خط لکھنے کا رواج عام ہوگیا جس کو سند مانا جائے گا۔آج سائنس و تکنالوجی سے بھی اردو زبان خود کو آراستہ کرنے میں منہمک ہے۔اگر اردو داں طبقہ سائنسی ایجادات میں انہماک پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اردو کو عالمی رابطے کی زبان ہونے کا شرف بھی حاصل ہوجائے گا۔

 

(غیرمطبوعہ)

پروفیسر عبدُ البرکات

صدر شعبۂ اردو

ایم۔پی۔ایس۔ سائنس کالج، مظفرپور(بہار)

Mob. : 8210281400

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
 سرسری ملاقات – محمد غزالی خان 
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں