استاد صرف وہی نہیں جو رسمی طور پر ہمیں کلاس میں درس دیتا ہے، بلکہ ہر وہ شخص، واقعہ، تحریر بھی استاد کا درجہ رکھتا ہے یا کم از کم استاد معنوی تو ہے ہی، جو ہماری شخصیت کو بنانے، سنوارنے، نکھارنے میں معاون ہوتا ہے یا جو ہمیں فکر و تدبر کی طرف مایل کرتا ہے۔ چنانچہ والدین اور اہل خانوادہ اولین استاد شمار ہوتے ہیں۔ اسی لیے اچھی صحبت کی تاکید کی جاتی رہی ہے اور مشہور ہے کہ: صحبت صالح ترا صالح کند/ صحبت طالع ترا طالع کند۔
زندگی ساز اور فکر انگیز کتابیں اور تحریریں معلم انسانیت ثابت ہوئی ہیں اور انقلابات کی حامل بھی۔ انھیں کتابوں میں ایک کتاب "گلستان سعدی” بھی ہے، جو صدیوں سے ہماری ادبی، اخلاقی، اور فکری تربیت کا حصہ رہی ہے۔ اس کے مقدمہ میں اس عظیم شاعر و مصنف نے کہا ہے:
گِلی خوشبوی در حمام روزی
رسید از دست محبوبی به دستم
بدو گفتم که مشکی يا عبیری
كه از بوي دلآويز تو مستم
بگفتا من گِلی ناچيز بودم
ولیكن مدتی با گُل نشستم
کمال همنشين در من اثر کرد
وگرنه من همان خاکم که هستم _________________(سعدی شیرازی)
راقم نے اس کی ترجمانی کی ناچیز کوشش کی ہے:
میں بیٹھا تھا وہیں حمام میں جب
کسی محبوب کے ہاتھوں سے مجھ تک
جو پہنچی ایک مٹی کی ڈلی تو
کیا دریافت میں حیرت زدہ سا
ہو کوئی مشک یا ہو چوبِ مشکیں
ہوا جاتا ہوں میں مست و محیر
تو اس نے پھر بتایا میں وہی ہوں
پڑی مٹی کا اک ناچیز تودہ
مگر کچھ روز گل کے ساتھ بیٹھی
وہی خوشبو بسی اب مجھ میں آکے
و گر نہ کیا بتاوں میں کہ کیا ہوں
پڑی مٹی کا اک ناچیز تودہ! _________________(اخلاق آہن)
ایران کے معروف فارسی شاعر ملک الشعراء بہار نے شیخ سعدی اس قطعہ کی خوبصورت تضمین کی ہے:
شبی در محفلی با آه و سوزی
شنید ستم ز مرد پاره دوزی
چنین می گفت با پیر عجوزی
گلی خوشبوی در حمام روزی
رسید از دست مخدومی به دستم
گرفتم آن گل و کردم خمیری
خمیری نرم و نیکو چون حریری
معطر بود و خوب و دلپذیری
بدو گفتم که مشکی یا عبیری
که از بوی دل آویز تو مستم
همه گلهای عالم آزمودم
ندیدم چون تو و عبرت نمودم
چو گل بشنید این گفت و شنودم
بگفتا من گلی ناچیز بودم
و لیکن مدتی با گل نشستم
گل اندر زیر پا گسترده پر کرد
مرا با همنشینی مفتخر کرد
چو عمرم مدتی با گل گذر کرد
کمال همنشین در من اثر کرد
و گرنه من همان خاکم که هستم
غالباً سابق سویت روس کے معروف مدبر اور ادیب صدرالدین عینی سے منسوب یہ واقعہ ہے۔وہاں ملک میں کچھ صورتحال ایسی ہوئی جب لوگوں پریشان ہوئے تو ان کے پاس پہنچے کہ کچھ مشورہ دیں تاکہ حالات بہتر ہوں، انھوں نے بڑی بے نیازی سے کہا کہ فکر کی کوئی ایسی بات نہیں، سب ٹھیک ہوجائے گا۔ دوبارہ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ، پھر لوگ ان کے پاس مشورہ کے لیے آئے تو پھر ویسا جواب دیا۔ لوگوں نے پوچھا آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ تو انھوں کہا کہ جب تک میں تعلیمی نظام اور اسکولوں میں اساتذہ کی سنجیدہ تندہی دیکھتا ہوں تب تک مجھے کوئی فکر نہیں۔ ملک و قوم کا مستقبل محفوظ ہے، جس دن یہ نظام بگڑ گیا اس دن مجھے ضرور فکر ہوگی۔
___اخلاق آہن
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

