by adbimiras
0 comment

 

 وحشت کلکتوی: حیات اور کارنامے /  ڈاکٹر سید علی عرفان نقوی – پروفیسر سید فضل امام رضوی

زیرِ تبصرہ تحقیقی مقالہ چھ ابواب پر مشتمل ہے۔ اس پر فاضل مقالہ نگار کو کلکتہ یونیورسٹی سے ڈاکٹر آف فلاسفی کی سند عطا ہوئی ہے ۔ وحشت کلکتوی اپنے عہد کے نابغہ روزگار تھے۔ انہوں نے شاعری میں جملہ اصنافِ سخن کے ساتھ نثر میں بھی اپنے قلم کی جولانیاں بکھیری ہیں۔  ڈاکٹر سید علی عرفان نقوی نے محنتِ شاقہ سے تحقیق کا حق ادا کیا ہے۔

بابِ اول میں وحشت کلکتوی کے عہد اور ماحول کے پس منظر میں اردو شاعری کے احوال و کوائف پر مغربی بنگال کے خصوصی حوالے کے ساتھ سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ اس مقالے کا باب دوم کافی تفصیلی اور معلومات افزا ہے۔ اس میں وحشت کی مختصر سوانح کے ساتھ اس دور کی سیاسی’ سماجی’ تہذیبی اور تمدنی صورتِ حال پر بھر پور روشنی ڈالی گئی ہے- اس میں  وحشت کے آباء و اجداد اور خاندانی امتیازات سے گفتگو کی گئی ہے۔ کلکتے میں ان کا ورودِ مسعود’ ولادت و تعلیم’ شادی اور اولادوں کی تفصیلات بہم پہنچائی گئی ہیں. بابِ سوم میں  وحشت کے علمی و ادبی اکتسابات اور خدمات پر انتقادی نقطۂ نظر سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ غزل’ نظم’ رباعی اور قطعہ نگاری کا محاکمہ کیا گیا ہے۔

وحشت نابغہ روزگار شعراء میں شمار ہوتے تھے۔ حالی نے دیوانِ وحشت دیکھ کر رائے ظاہر کی تھی:

” *دیوانِ وحشت کے مطالعے سے میرے دل میں بلا مبالغہ ایک عجیب کشش پیدا ہوئی۔ مرزا غالب نے وحشت اور شیفتہ کے تعلق اپنی ایک اردو غزل کے مقطعے میں ارشاد فرمایا تھا :*

*وحشت و شیفتہ اب مرثیہ لکھیں شاید*

*مرگیا غالب آشفتہ نوا کہتے ہیں*

*بلا تکلف اگر مرزا غالب کے ان بلند اور اچھوتے خیالات کو جن میں وہ اپنے تمام معاصرین میں ممتاز تھے مستثنی کرلیا جائے تو آپ کے اردو دیوان کو بے شائبہ تصنع ان کے کلام کا نمونہ قرار دینا ہرگز داخلِ مبالغہ نہیں ہوسکتا.”*

حالی کے اس اعتراف کے بعد علامہ شبلی نعمانی کا یہ تسلیم کرنا بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے:

*” آپ( وحشت ) کے کلام میں من حیث الاغلب جدت’ ندرت اور پختگی ہوتی ہے۔ غالب اور مومن کی ترکیبیں اور طرزِ ادا آپ سے خوب بن پڑتی ہے۔”*

اسی طرح نیاز فتح پوری’ ظہیر دہلوی’ شوق قدوائی نے وحشت کے کلام کی پذیرائی کی ہے۔

شاعرِ مشرق علامہ اقبال جیسے مفکر اور عظیم شاعر نے بھی بڑی گراں قدر رائے سے نوازا ہے۔ لکھتے ہیں:

*” میں ایک عرصے سے آپ کے کلام کو شوق سے پڑھتا ہوں۔آپ کا غائبانہ مداح ہوں۔ دیوان قریباً  سب کا سب پڑھا اور لطف اٹھایا۔ ماشاء اللہ آپ کی طبیعت نہایت تیز اور فی زمانہ بہت کم لوگ ایسا کہہ سکتے ہیں. مضمون آفرینی اور ترکیبوں کی چستی خاص طور پر قابلِ داد ہے۔ فارسی کلام آپ کی طباعی کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔”*

فاضل مقالہ نگار نے غالب اور وحشت کے کلام کے متوازی نمونے بھی پیش کیے ہیں۔ جس سے ان کے ذوقِ شعری اور تفہیمِ شعریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ وحشت اور غالب کے کلام کے متقابل نمونے کو تلاش و تجسس سے مقالے کا وزن و وقار بڑھ جاتا ہے۔ دو نمونے ثبوت کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں:

*دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالب*

*آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا ( غالب)*

 

ایک دریا تھا غمِ پنہاں کا

قطرہ جو دیدہ تر سے نکلا( وحشت)

 

*غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے*

*غمِ عشق گر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا ( غالب)*

 

ہزاروں ہیں بکھیڑے زندگی کے ان میں پھنس جاتا

جو اپنا دل نہ ترے گیسوؤں میں مبتلا ہوتا( وحشت)

یہ شعری مماثلت اکثر غالب کی طوالت پسندی کو آئینہ دکھلاتی ہے اور وحشت کا سہلِ ممتنع فوقیت رکھتا ہے۔

مقالہ میں تحقیقی کاوشیں اور تنقیدی شعور وحشت کی علمی اور ادبی خدمات پر مدلل انداز سے روشنی ڈالتا ہے۔ وحشت نرے شاعر ہی نہیں تھے بلکہ اچھے نثر نگار بھی تھے۔ ان کے سماجی اور ادبی مضامین ان کے سماجی شعور کے ساتھ لسانی ادراک پر بھی متوجہ کرتے ہیں- وحشت کے مکاتیب بھی علمی و ادبی نکات کو اجاگر کرتے ہیں۔ تالیف’ ترتیب اور تدوین میں بھی وحشت کو قدرت حاصل تھی۔

بلا خوف تردید یہ کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر عرفان نقوی نے یہ بڑا گراں قدر تحقیقی مقالہ دنیائے اردو زبان و ادب کو بخشا ہے—– وحشت کلکتوی اور ان کے عہد اور ماحول کی تفہیم میں یہ مقالہ ایک اہم زینہ بن گیا ہے. کوئی بھی محقق اس مقالے سے بے اعتنائی نہیں برت سکتا ہے۔ اس دور کے تمام اہم اور قابلِ توجہ حالات اور واقعات کو انتہائی سلیفے اور تحقیقی روش کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار کی انتقادی بصیرت بھی لائقِ تحسین ہے۔ مجموعی طور پر رضا علی  وحشت پر ڈاکٹر سید علی عرفان نقوی قابلِ دید اور لائقِ داد ہے۔

 

پروفیسر فضل امام*

 سابق صدر شعبۂ اردو*

 الہٰ آباد یونیورسٹی*

 

 

You may also like

Leave a Comment