Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

ظفر اوگانوی بیچ کا ورق کے تناظر میں:پر ایک تاثر – نسیم اشک

by adbimiras مارچ 15, 2023
by adbimiras مارچ 15, 2023 1 comment

"کتنے” پر "کیا” کو فوقیت دینے والے افسانہ نگار ظفر اوگانوی اردو ادب کی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس کے بغیر جدیدیت کے افسانہ نگاروں کا تذکرہ مکمل نہیں ہوسکتا۔ایک دلیر محقق،ایک غیر جانبدار ناقد،روایت شکن صحافی ،تجریدی و علامتی افسانوں کی آبرو اور ایک گہرے فکر و فراست کا شاعر ظفر اوگانوی نے اردو ادب پر کئی جہتوں سے روشنی بکھیری۔صحافت کی نئی روش سے نئے” اقدار”کو واضح کیا۔ایک غیر جانبدار محقق کا حق ادا کیا۔ محقق کا غیر جانبدار ہونا شرط اول ہے  اور تحقیق کا مقصد صرف پوشیدہ گوشوں کو عیاں کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس فنکار کا ادب میں مقام کا تعین کرنا بھی ہوتا ہے اور حق کو پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ زمانہ  ان کے استعداد سے حتی المقدور واقف ہوسکے اور ان کے مقام کے تعین میں بر زبان و دل،تحریر و تقریر ساتھ کھڑا ہوسکے۔ ایک محقق اس وقت کامیاب تصور کیا جاتا ہے جب وہ اپنی تحقیق سے اس فنکار کو وہ مقام دلانے میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے جس کا وہ مستحق   ہوتا ہے ، تو تحقیق کا مقصد نئی باتوں کا انکشاف تک ہی محدود نہیں ہوتا۔اس تناظر میں پروفیسر ڈاکٹر دبیر احمد کامیاب نظر آتے ہیں کہ ان کی  ظفر اوگانوی کو وہ مقام دلانے کی سعی ثمرآور ثابت ہوئی۔ظفر اوگانوی سے ان کا قلبی لگاؤ بحیثیت استاد قابل تحسین ہے۔گرچہ ظفر صاحب کی دوسری ادبی کارناموں سے ذیادہ ان کی افسانہ نگاری موضوع بحث رہی خصوصی طور پر "بیچ کا ورق”۔اس مجموعے کی روشنی میں ہی ظفر اوگانوی کی افسانہ نگاری کو پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش ہوئی گرچہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مستحکم ہے کہ جدید افسانے کو سمجھنے کی جو کوشش ہوئی وہ بہت کم ہوئی ایسے افسانوں کی گتھی سلجھانے کے لئے غیر معمولی  ذہانت کی ضرورت پڑتی ہے کہ اگر ایک بار اس کا جائزہ لیا جائے تو اگلے ہی پل اس کے دوسرے نظرئے ذہن و دل میں عیاں ہونے لگتے ہیں۔المختصر مختلف لوگوں کی فہم و فراست میں ایسے افسانے مختلف تاثر پیدا کرتے ہیں۔ادب کی بقا کےلئے ایسے مختلف نظریات کا ہونا نہایت اہم ہیں ۔ہر دور کا آدمی اپنے دور اور اپنے نظرئے سے چیزوں کو دیکھتا اور سمجھتا ہے اور اس میں خیالات کے ٹکراؤ کے بہت مواقع ملتے ہیں جو ادب میں ایک نئی بحث کا آغاز کرتا ہے۔قبولیت ہو یا  تردید کا عمل اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ ادب خود۔زندگی کے بھی کسی ایک پہلو پر ہر ایک کا اپنا نظریہ ہوتا ہے۔لہذا اسی کوشش کی ایک کڑی یہ کتاب ہےجس میں ایک ہی تخلیق پر الگ الگ لوگوں کا تجزیہ شامل ہے۔یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہوتا ہے کہ کون کتنی دور تک مصنف کےساتھ چل سکا ہے۔ جب کوئی تخلیق  ذی شعور،علم و ادراک والے ہاتھوں تک رسائی پا جاتی ہے تو وہ اس تخلیق کو تخلیق  کار کی آنکھوں سے نہیں  دیکھتا اور نہ سمجھتا ہے  بلکہ اپنی  فہم کی روشنی میں اس کے معنی مطالب تلاش کرتا ہے۔تخلیق کے محاسن و معائب بیان کرتا ہے ۔ظفر اوگانوی نے کسی نظرئے کی پاسداری نہیں کی انہوں نے وہ لکھا جو لکھنا چاہا۔ ظفر صاحب نے اپنی تحقیق میں ایسے نکتے کو بھی بیان کرنے سے معزوری ظاہر نہیں کی جس کے بیان کرنے میں اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔جدیدیت کا رحجان جب تیزی سے بڑھا تو اس کے مثبت اور منفی دونوں  اثرات نمایاں ہوئے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ افسانوں کی دلکشی جاتی رہی افسانوں میں کہانی پن کھونے لگا مگر ظفر اوگانوی نے اس کا اثر قبول نہیں کیا اور جدیدیت کے سائے میں رہ کر افسانے کو افسانہ پن دیا جس کے توقعات ختم ہو رہےتھے۔
بیچ کا ورق اور ظفر اوگانوی کے بیچ ایسا رشتہ ہے ایک کو آواز دی جائے تو دوسرا حاضر ہوجاتا ہے۔ادب کا شائد ہی کوئی ایسا قاری ہو جو بیچ کا ورق کو نہ جانتا ہو اور ظفر اوگانوی سے واقفیت نہ رکھتا ہو۔ایک فن کار جب اپنے  فن کو گڑھتا ہے تو وہ صرف اپنے فکر و خیال کو بروئے کار لاتا اس کے ذہن میں کبھی اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ آنے والا اس کے فن کو کیا نام دے گا۔تاج محل کو بنانے والے نے بس محبت کی ایک نشانی بنائی تھی آنے والے زمانے نے اس نشانی کو تاج محل بنایا دیا  اور اس کی ان خوبیوں کو واضح کیا جس کا احساس خود معمار تک کو بھی نہ ہوگا۔ظفر اوگانوی نے بھی اپنے افسانے کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا بغیر اس بات کی پرواہ کئے کہ کون ان افسانوں میں کیا ڈھونڈے گا اور کون کیا مفاہیم پیدا کرے گا۔
” بیچ کا ورق” ظفر اوگانوی کے افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں 11 افسانے شامل ہیں۔افسانے کے روایتی اجزائے ترکیبی سے انحراف میں لکھے گئے افسانے سنجیدہ قاری کے اذہان کو جھنجھوڑتے بھی ہیں اور آسودگی بھی فراہم کرتے ہی۔

ڈاکٹر دبیر احمد کی ترتیب کردہ کتاب”ظفر اوگانوی بیچ کا ورق کے تناظر میں” ظفر اوگانوی کو بحیثیت  جدید افسانہ نگار سمجھنے کی ایک بہترین کوشش ہے۔ظفر اوگانوی کا یہ مجموعہ اور اس مجموعے میں شامل تجریدی اور علامتی افسانے جن کی فہم بہت مشکل نہیں تو بہت آسان بھی نہیں ہے۔ان افسانوں کے بہترین تجزئے مع متن شامل کرکے ڈاکٹر دبیر احمد نے ایک مثالی خدمت انجام دی ہے اور ایک بار پھر ادب کے گلیاروں میں جدیدیت کے اس مایہ ناز افسانہ نگار کو زیر بحث لا دیا ہے۔ظفر اوگانوی کے افسانوں کی تفہیم اوسط درجے کا قاری کے بس کی بات نہیں لہذا اس تناظر میں یہ کوشش اور بھی معنی خیز بن جاتی ہے کہ ان افسانوں کو دوبارہ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ایک افسانے پر دو یا تین تجزئے شامل کئے گئے ہیں یعنی ایک چیز کو مختلف کیمروں سے مختلف زاویوں سے دیکھا گیا ہے اور اپنی رائے قائم کی گئی ہے اور ہر بار کی طرح فیصلہ قارئین کو سونپ دیا گیا ہے کہ وہ ان تجزیات کی روشنی میں عہد ساز افسانہ نگار کے فن اور شخصیت پر فیصلہ صادر کرے۔
ادب کے اسٹیج پر سارے رول تخلیقات کرتا ہے مگر فیصلہ ناظرین کو ہی سونپتا ہے یعنی کہیں ہو یا نہ ہو ادب میں آج بھی قارئین کی وہی اہمیت باقی ہے جو کل تھی۔

کتاب میں شامل مضامین کے تعلق بات کرنے کے قبل ڈاکٹر دبیر احمد کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جو انہوں نے اتنا بسیط و بلیغ دستاویزی حیثیت کا مقدمہ لکھا ہے۔مجھےیہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہےکہ ان کا یہ مقدمہ ایک تاریخی دستاویز ہے جو آنے والے دنوں میں ظفر اوگانوی کی شخصیت اور فن کو سمجھنے میں کافی مددگار ثابت ہوگا۔جدیدیت اور جدید افسانوں کے متعلق جو رائے قائم کی ہے، مستحکم قائم کی ہے اور مشاہیر ادب کے حوالوں کے ساتھ قائم کی۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ مقدمہ ایک کتاب ہے جو اس کتاب میں جڑ کر اس کے حسن کو مذید نکھار دیا ہے۔دبیر صاحب نے مقدمے کا حق بھی ادا کیا ہے نیز مقدمے کی مثال بھی پیش کی ہے۔

"انٹرا موروس” ظفر اوگانوی کا نمائندہ افسانہ ہے جس پر تین صاحب علم و فن نے اپنے نظرئے پیش کئے ہیں یہ دیکھنا واقعی انوکھا احساس دلاتا ہے کہ تخلیق کار کی ایک تخلیق کو جب پارکھوں کی پیش خدمت رکھا جاتا ہے تو کتنی آن کہی باتیں سامنے آتی ہیں کتنے رمز کھلتے ہیں۔ممکن ہے تخلیق کار کے ذہن میں بھی یہی بات رہی ہو مگر آج کے تناظر میں اس کی تجدید بہت معنی رکھتی ہے۔اس افسانے کو سمجھنا میری نظر میں بہت بہت مشکل ہے پر جو تجزئے پیش کئے گئے ہیں ان کی روشنی میں اس افسانے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔جدید کہانیوں کی طرح بیچ سے اس کی شروعات قاری کو پیش قیاسی کے بجائے پش قیاسی کی طرف لے جاتا ہے جہاں جاکر وہ اس کا سرا ڈھونڈتا ہے۔ میرے خیال سے اس افسانے کی کلید افسانہ نگار کے یہ جملے ہیں۔

"یہ جو تم دیکھ رہی ہو نا،وہ میں ہوں۔۔۔۔تمہارا اپنا۔اور یہ جو تم اس کو دیکھ رہی ہو نا،وہ میں نہیں ہوں.”

"اس کو "اور "میں ” نے اس کہانی کو ذہنی مشقت دےدی ہے۔میں اسے نفسیاتی افسانہ سمجھتا ہوں۔
کتاب میں شامل اس افسانے پر فاضل قلم کاروں کی آراء نے اس کی فہم کو آسان بھی بنادیا ہے اور نئی راہ بھی وا کردی ہیں۔پرفیسر انیس اشفاق کے اس جملے سے افسانے کی اجتماعیت اور آفاقیت کا پتا چلتا ہے کہ
"یہ محض شخصی وجود کی برہنگی نہیں ہے بلکہ شخصی وجود کے پردے میں کائناتی وجود کی برہنگی ہے.”

"نیا آئینہ”ایک استعاراتی افسانہ ہے۔ اس افسانے کے تجزئے کے دوران پروفیسر  قدوس جاوید نے ظفر صاحب کے تعلق سے جو بات کہی ہے وہ بہت مناسب معلوم ہوتی ہے۔
"ظفر اوگانوی کی افسانہ نگاری کا امتیاز یہی ہے کہ انہوں نے جدیدیت کی فلسفیانی موشگافیوں کو اپنے افسانوں میں بیانیہ اسلوب اور تکنیک کے حوالے سے برتا تو ہے لیکن قدیم وراثتوں کی کشش سے وہ چاہتے ہوئے بھی کبھی منہ نہیں موڑ سکے”
محولہ بالا اقتباس ظفر اوگانوی کے افسانوں سے بھی ثابت ہے۔

"ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا ہے،ایک سگریٹ سے دوسری سگریٹ اور ایک زندگی سے دوسری زندگی۔یہ سلسلے کتنے اہم ہیں اور کتنے خوبصورت بالکل اسی پرانے آئینے کی طرح جو مقابل کی دیوار پر لٹکا ہوا ہے،جو پرانا ہونے کے باوجود آج بھی پر کشش ہے اور اس وقت بھی حسین تھا جب کسی نے مجھے تحفے میں پیش کیا تھا.”

قمر اشرف اس افسانے کے تعلق سے یوں  رقمطراز ہیں۔
"شناخت ختم ہوجانے کےخوف نے انسان کو بھیڑ میں تنہا کردیا ہے۔ظاہر ہے کہ اس خوف و بے اطمینانی نے داخلی کیفیات کا منظر نامہ پیش کرتا ہے جس میں ایک جانب تضادات زندگی کی تصویریں ہیں تو دوسری جانب داخلی تصادم اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا ملا جلا احساس ۔ٹوٹے رشتے والی کرسی ،ساٹھ پاور کا بلب،پناما سگریٹ کی ڈبیا اور پرانا آیینہ”

” نئی سڑک ” پر دونوں تجزئے پوری وضاحت سے افسانے کا رمز کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھے یہ علامتی افسانہ لگا جس میں تجریدی رنگ کی آمیزش بھی ہے  ذاتی طور پر "نئی عورت” مجھے کرپٹ عورت کی ہی کہانی لکی۔ظفر صاحب کی کہانیوں میں” وہ” ،”اس کا” اور میں کی تلاش جابجا ملتی ہے جو سیدھا سیدھا وجودیت کی تلاش ہے۔

افسانہ "اہرام ” پر تجزئے اس افسانے کی نئی قرأت کی راہیں ہموار کرتے ہیں نیز اہرام کی علامت افسانہ نگار کی فکری اڑان کی نشاندہی کرتی ہے اور ان کی ذہنی حسیت کا پتہ چلتا ہے۔”بیچ کا ورق”ٹائٹل افسانہ ہے اور اس پر بھی عمدہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ تاثر کی طوالت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ اہل قلم نے ظفر اوگانوی کے ہر افسانے پر دل جمعی سے لکھا ہے اور خوب لکھا ہے بلا شبہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ظفر اوگانوی کے افسانے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی نیز جس باریک بینی سے تمام افسانوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے اس کتاب کی اشاعت کی گئی ہے اور اس کے موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے اس کتاب کی  انفرادیت ہے ۔آج بھی اردو ادب کا قاری جو ظفر صاحب کے افسانوں سے محبت رکھتا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے مگر ان افسانوں کی سمجھ سے یکسر مایوس ہوجاتا ہے ایسی صورتحال میں ڈاکٹر دبیر احمد کی اس کتاب کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے انہوں نے ظفر صاحب کی کہانیوں کو قاری کے سامنے مع شرح پیش کیا ہے جو ادب کی ایک بڑی خدمت ہے اس جانب توجہ دینی ضروری تھی تاکہ ایک کھرے فنکار کے فن سے ادب کا ایک وسیع حلقہ روشناس ہو سکے۔ایک محقق کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا اس کی تحقیق اور حق کو سامنے لانے کی کوشش ہمیشہ  جاری رہتی ہے۔
اس بات کا مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ظفر شناسی کے ساتھ جدیدیت کے رحجانات اور مسائل کو سمجھنے میں اور اس عہد کی تخلیقات سے واقفیت میں، جہاں کہ ابھی ہلکے ہلکے مدھم چراغ روشن تھے وہی یہ کتاب light post کا کام انجام دےگی یقیناً کچھ اس بات سے حیران ہوں گےکہ یہ کتاب تو ظفر اوگانوی کے ایک مجموعے میں شامل افسانوں کے تجزئے پر مشتمل ہے مگر یہ یاد رہے کہ کسی عہد کےایک سکے کے  مل جانے سے تاریخ نویس اس عہد کی بہت ساری باتوں کا پتہ لگا لیتے ہیں یہاں تو گیارہ افسانے ہیں۔
بہترین تجزیہ نگاروں کی نگارشات ایک ساتھ  شامل کرنا بہت بڑی بات ہے ان تجزیہ نگاروں کی حیثیت درس گاہ کی ہے جن سے ہم یقیناً بہت کچھ سیکھیں گے ،سمجھیں گے اور آنے والی نسل  ان کی تحاریر سے استفادہ بھی کریں گی نیز بطور حوالہ پیش بھی کی جائیں گی۔

یہ خوبصورت تحفہ جو ڈاکٹر دبیر صاحب نے اردو کے قاری کو دیا ہے انمول ہے اور بے حد کار آمد ہے۔

نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال

 

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراث
1 comment
4
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
قومی ایوارڈ کے لیے پروفیسر اسلم جمشید پوری کاانتخاب ادب کا انتخاب ہے:پروفیسر وسیم بریلوی
اگلی پوسٹ
ڈاکٹر خان مبشرہ فردوس سے علیزے نجف کا انٹرویو

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

1 comment

غُلام حسین مارچ 16, 2023 - 1:16 شام

ماشاء اللہ ۔۔۔۔بہت عمدہ ۔۔۔۔بہترین الفاظ کا استمعال۔۔۔۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں