"کتنے” پر "کیا” کو فوقیت دینے والے افسانہ نگار ظفر اوگانوی اردو ادب کی ایک ایسی شخصیت کا نام ہے جس کے بغیر جدیدیت کے افسانہ نگاروں کا تذکرہ مکمل نہیں ہوسکتا۔ایک دلیر محقق،ایک غیر جانبدار ناقد،روایت شکن صحافی ،تجریدی و علامتی افسانوں کی آبرو اور ایک گہرے فکر و فراست کا شاعر ظفر اوگانوی نے اردو ادب پر کئی جہتوں سے روشنی بکھیری۔صحافت کی نئی روش سے نئے” اقدار”کو واضح کیا۔ایک غیر جانبدار محقق کا حق ادا کیا۔ محقق کا غیر جانبدار ہونا شرط اول ہے اور تحقیق کا مقصد صرف پوشیدہ گوشوں کو عیاں کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس فنکار کا ادب میں مقام کا تعین کرنا بھی ہوتا ہے اور حق کو پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ زمانہ ان کے استعداد سے حتی المقدور واقف ہوسکے اور ان کے مقام کے تعین میں بر زبان و دل،تحریر و تقریر ساتھ کھڑا ہوسکے۔ ایک محقق اس وقت کامیاب تصور کیا جاتا ہے جب وہ اپنی تحقیق سے اس فنکار کو وہ مقام دلانے میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے ، تو تحقیق کا مقصد نئی باتوں کا انکشاف تک ہی محدود نہیں ہوتا۔اس تناظر میں پروفیسر ڈاکٹر دبیر احمد کامیاب نظر آتے ہیں کہ ان کی ظفر اوگانوی کو وہ مقام دلانے کی سعی ثمرآور ثابت ہوئی۔ظفر اوگانوی سے ان کا قلبی لگاؤ بحیثیت استاد قابل تحسین ہے۔گرچہ ظفر صاحب کی دوسری ادبی کارناموں سے ذیادہ ان کی افسانہ نگاری موضوع بحث رہی خصوصی طور پر "بیچ کا ورق”۔اس مجموعے کی روشنی میں ہی ظفر اوگانوی کی افسانہ نگاری کو پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش ہوئی گرچہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مستحکم ہے کہ جدید افسانے کو سمجھنے کی جو کوشش ہوئی وہ بہت کم ہوئی ایسے افسانوں کی گتھی سلجھانے کے لئے غیر معمولی ذہانت کی ضرورت پڑتی ہے کہ اگر ایک بار اس کا جائزہ لیا جائے تو اگلے ہی پل اس کے دوسرے نظرئے ذہن و دل میں عیاں ہونے لگتے ہیں۔المختصر مختلف لوگوں کی فہم و فراست میں ایسے افسانے مختلف تاثر پیدا کرتے ہیں۔ادب کی بقا کےلئے ایسے مختلف نظریات کا ہونا نہایت اہم ہیں ۔ہر دور کا آدمی اپنے دور اور اپنے نظرئے سے چیزوں کو دیکھتا اور سمجھتا ہے اور اس میں خیالات کے ٹکراؤ کے بہت مواقع ملتے ہیں جو ادب میں ایک نئی بحث کا آغاز کرتا ہے۔قبولیت ہو یا تردید کا عمل اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ ادب خود۔زندگی کے بھی کسی ایک پہلو پر ہر ایک کا اپنا نظریہ ہوتا ہے۔لہذا اسی کوشش کی ایک کڑی یہ کتاب ہےجس میں ایک ہی تخلیق پر الگ الگ لوگوں کا تجزیہ شامل ہے۔یہ دیکھنا کافی دلچسپ ہوتا ہے کہ کون کتنی دور تک مصنف کےساتھ چل سکا ہے۔ جب کوئی تخلیق ذی شعور،علم و ادراک والے ہاتھوں تک رسائی پا جاتی ہے تو وہ اس تخلیق کو تخلیق کار کی آنکھوں سے نہیں دیکھتا اور نہ سمجھتا ہے بلکہ اپنی فہم کی روشنی میں اس کے معنی مطالب تلاش کرتا ہے۔تخلیق کے محاسن و معائب بیان کرتا ہے ۔ظفر اوگانوی نے کسی نظرئے کی پاسداری نہیں کی انہوں نے وہ لکھا جو لکھنا چاہا۔ ظفر صاحب نے اپنی تحقیق میں ایسے نکتے کو بھی بیان کرنے سے معزوری ظاہر نہیں کی جس کے بیان کرنے میں اچھے اچھوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں۔جدیدیت کا رحجان جب تیزی سے بڑھا تو اس کے مثبت اور منفی دونوں اثرات نمایاں ہوئے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ افسانوں کی دلکشی جاتی رہی افسانوں میں کہانی پن کھونے لگا مگر ظفر اوگانوی نے اس کا اثر قبول نہیں کیا اور جدیدیت کے سائے میں رہ کر افسانے کو افسانہ پن دیا جس کے توقعات ختم ہو رہےتھے۔
بیچ کا ورق اور ظفر اوگانوی کے بیچ ایسا رشتہ ہے ایک کو آواز دی جائے تو دوسرا حاضر ہوجاتا ہے۔ادب کا شائد ہی کوئی ایسا قاری ہو جو بیچ کا ورق کو نہ جانتا ہو اور ظفر اوگانوی سے واقفیت نہ رکھتا ہو۔ایک فن کار جب اپنے فن کو گڑھتا ہے تو وہ صرف اپنے فکر و خیال کو بروئے کار لاتا اس کے ذہن میں کبھی اس بات کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ آنے والا اس کے فن کو کیا نام دے گا۔تاج محل کو بنانے والے نے بس محبت کی ایک نشانی بنائی تھی آنے والے زمانے نے اس نشانی کو تاج محل بنایا دیا اور اس کی ان خوبیوں کو واضح کیا جس کا احساس خود معمار تک کو بھی نہ ہوگا۔ظفر اوگانوی نے بھی اپنے افسانے کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا بغیر اس بات کی پرواہ کئے کہ کون ان افسانوں میں کیا ڈھونڈے گا اور کون کیا مفاہیم پیدا کرے گا۔
” بیچ کا ورق” ظفر اوگانوی کے افسانوں کا مجموعہ ہے جس میں 11 افسانے شامل ہیں۔افسانے کے روایتی اجزائے ترکیبی سے انحراف میں لکھے گئے افسانے سنجیدہ قاری کے اذہان کو جھنجھوڑتے بھی ہیں اور آسودگی بھی فراہم کرتے ہی۔
ڈاکٹر دبیر احمد کی ترتیب کردہ کتاب”ظفر اوگانوی بیچ کا ورق کے تناظر میں” ظفر اوگانوی کو بحیثیت جدید افسانہ نگار سمجھنے کی ایک بہترین کوشش ہے۔ظفر اوگانوی کا یہ مجموعہ اور اس مجموعے میں شامل تجریدی اور علامتی افسانے جن کی فہم بہت مشکل نہیں تو بہت آسان بھی نہیں ہے۔ان افسانوں کے بہترین تجزئے مع متن شامل کرکے ڈاکٹر دبیر احمد نے ایک مثالی خدمت انجام دی ہے اور ایک بار پھر ادب کے گلیاروں میں جدیدیت کے اس مایہ ناز افسانہ نگار کو زیر بحث لا دیا ہے۔ظفر اوگانوی کے افسانوں کی تفہیم اوسط درجے کا قاری کے بس کی بات نہیں لہذا اس تناظر میں یہ کوشش اور بھی معنی خیز بن جاتی ہے کہ ان افسانوں کو دوبارہ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ایک افسانے پر دو یا تین تجزئے شامل کئے گئے ہیں یعنی ایک چیز کو مختلف کیمروں سے مختلف زاویوں سے دیکھا گیا ہے اور اپنی رائے قائم کی گئی ہے اور ہر بار کی طرح فیصلہ قارئین کو سونپ دیا گیا ہے کہ وہ ان تجزیات کی روشنی میں عہد ساز افسانہ نگار کے فن اور شخصیت پر فیصلہ صادر کرے۔
ادب کے اسٹیج پر سارے رول تخلیقات کرتا ہے مگر فیصلہ ناظرین کو ہی سونپتا ہے یعنی کہیں ہو یا نہ ہو ادب میں آج بھی قارئین کی وہی اہمیت باقی ہے جو کل تھی۔
کتاب میں شامل مضامین کے تعلق بات کرنے کے قبل ڈاکٹر دبیر احمد کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جو انہوں نے اتنا بسیط و بلیغ دستاویزی حیثیت کا مقدمہ لکھا ہے۔مجھےیہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہےکہ ان کا یہ مقدمہ ایک تاریخی دستاویز ہے جو آنے والے دنوں میں ظفر اوگانوی کی شخصیت اور فن کو سمجھنے میں کافی مددگار ثابت ہوگا۔جدیدیت اور جدید افسانوں کے متعلق جو رائے قائم کی ہے، مستحکم قائم کی ہے اور مشاہیر ادب کے حوالوں کے ساتھ قائم کی۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ یہ مقدمہ ایک کتاب ہے جو اس کتاب میں جڑ کر اس کے حسن کو مذید نکھار دیا ہے۔دبیر صاحب نے مقدمے کا حق بھی ادا کیا ہے نیز مقدمے کی مثال بھی پیش کی ہے۔
"انٹرا موروس” ظفر اوگانوی کا نمائندہ افسانہ ہے جس پر تین صاحب علم و فن نے اپنے نظرئے پیش کئے ہیں یہ دیکھنا واقعی انوکھا احساس دلاتا ہے کہ تخلیق کار کی ایک تخلیق کو جب پارکھوں کی پیش خدمت رکھا جاتا ہے تو کتنی آن کہی باتیں سامنے آتی ہیں کتنے رمز کھلتے ہیں۔ممکن ہے تخلیق کار کے ذہن میں بھی یہی بات رہی ہو مگر آج کے تناظر میں اس کی تجدید بہت معنی رکھتی ہے۔اس افسانے کو سمجھنا میری نظر میں بہت بہت مشکل ہے پر جو تجزئے پیش کئے گئے ہیں ان کی روشنی میں اس افسانے کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔جدید کہانیوں کی طرح بیچ سے اس کی شروعات قاری کو پیش قیاسی کے بجائے پش قیاسی کی طرف لے جاتا ہے جہاں جاکر وہ اس کا سرا ڈھونڈتا ہے۔ میرے خیال سے اس افسانے کی کلید افسانہ نگار کے یہ جملے ہیں۔
"یہ جو تم دیکھ رہی ہو نا،وہ میں ہوں۔۔۔۔تمہارا اپنا۔اور یہ جو تم اس کو دیکھ رہی ہو نا،وہ میں نہیں ہوں.”
"اس کو "اور "میں ” نے اس کہانی کو ذہنی مشقت دےدی ہے۔میں اسے نفسیاتی افسانہ سمجھتا ہوں۔
کتاب میں شامل اس افسانے پر فاضل قلم کاروں کی آراء نے اس کی فہم کو آسان بھی بنادیا ہے اور نئی راہ بھی وا کردی ہیں۔پرفیسر انیس اشفاق کے اس جملے سے افسانے کی اجتماعیت اور آفاقیت کا پتا چلتا ہے کہ
"یہ محض شخصی وجود کی برہنگی نہیں ہے بلکہ شخصی وجود کے پردے میں کائناتی وجود کی برہنگی ہے.”
"نیا آئینہ”ایک استعاراتی افسانہ ہے۔ اس افسانے کے تجزئے کے دوران پروفیسر قدوس جاوید نے ظفر صاحب کے تعلق سے جو بات کہی ہے وہ بہت مناسب معلوم ہوتی ہے۔
"ظفر اوگانوی کی افسانہ نگاری کا امتیاز یہی ہے کہ انہوں نے جدیدیت کی فلسفیانی موشگافیوں کو اپنے افسانوں میں بیانیہ اسلوب اور تکنیک کے حوالے سے برتا تو ہے لیکن قدیم وراثتوں کی کشش سے وہ چاہتے ہوئے بھی کبھی منہ نہیں موڑ سکے”
محولہ بالا اقتباس ظفر اوگانوی کے افسانوں سے بھی ثابت ہے۔
"ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا ہے،ایک سگریٹ سے دوسری سگریٹ اور ایک زندگی سے دوسری زندگی۔یہ سلسلے کتنے اہم ہیں اور کتنے خوبصورت بالکل اسی پرانے آئینے کی طرح جو مقابل کی دیوار پر لٹکا ہوا ہے،جو پرانا ہونے کے باوجود آج بھی پر کشش ہے اور اس وقت بھی حسین تھا جب کسی نے مجھے تحفے میں پیش کیا تھا.”
قمر اشرف اس افسانے کے تعلق سے یوں رقمطراز ہیں۔
"شناخت ختم ہوجانے کےخوف نے انسان کو بھیڑ میں تنہا کردیا ہے۔ظاہر ہے کہ اس خوف و بے اطمینانی نے داخلی کیفیات کا منظر نامہ پیش کرتا ہے جس میں ایک جانب تضادات زندگی کی تصویریں ہیں تو دوسری جانب داخلی تصادم اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا ملا جلا احساس ۔ٹوٹے رشتے والی کرسی ،ساٹھ پاور کا بلب،پناما سگریٹ کی ڈبیا اور پرانا آیینہ”
” نئی سڑک ” پر دونوں تجزئے پوری وضاحت سے افسانے کا رمز کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔مجھے یہ علامتی افسانہ لگا جس میں تجریدی رنگ کی آمیزش بھی ہے ذاتی طور پر "نئی عورت” مجھے کرپٹ عورت کی ہی کہانی لکی۔ظفر صاحب کی کہانیوں میں” وہ” ،”اس کا” اور میں کی تلاش جابجا ملتی ہے جو سیدھا سیدھا وجودیت کی تلاش ہے۔
افسانہ "اہرام ” پر تجزئے اس افسانے کی نئی قرأت کی راہیں ہموار کرتے ہیں نیز اہرام کی علامت افسانہ نگار کی فکری اڑان کی نشاندہی کرتی ہے اور ان کی ذہنی حسیت کا پتہ چلتا ہے۔”بیچ کا ورق”ٹائٹل افسانہ ہے اور اس پر بھی عمدہ تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ تاثر کی طوالت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اس بات پر اکتفا کرتا ہوں کہ اہل قلم نے ظفر اوگانوی کے ہر افسانے پر دل جمعی سے لکھا ہے اور خوب لکھا ہے بلا شبہ اس کتاب کے مطالعے کے بعد ظفر اوگانوی کے افسانے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی نیز جس باریک بینی سے تمام افسانوں کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے اس کتاب کی اشاعت کی گئی ہے اور اس کے موضوع کا انتخاب کیا گیا ہے اس کتاب کی انفرادیت ہے ۔آج بھی اردو ادب کا قاری جو ظفر صاحب کے افسانوں سے محبت رکھتا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے مگر ان افسانوں کی سمجھ سے یکسر مایوس ہوجاتا ہے ایسی صورتحال میں ڈاکٹر دبیر احمد کی اس کتاب کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے انہوں نے ظفر صاحب کی کہانیوں کو قاری کے سامنے مع شرح پیش کیا ہے جو ادب کی ایک بڑی خدمت ہے اس جانب توجہ دینی ضروری تھی تاکہ ایک کھرے فنکار کے فن سے ادب کا ایک وسیع حلقہ روشناس ہو سکے۔ایک محقق کا کام کبھی ختم نہیں ہوتا اس کی تحقیق اور حق کو سامنے لانے کی کوشش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔
اس بات کا مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ظفر شناسی کے ساتھ جدیدیت کے رحجانات اور مسائل کو سمجھنے میں اور اس عہد کی تخلیقات سے واقفیت میں، جہاں کہ ابھی ہلکے ہلکے مدھم چراغ روشن تھے وہی یہ کتاب light post کا کام انجام دےگی یقیناً کچھ اس بات سے حیران ہوں گےکہ یہ کتاب تو ظفر اوگانوی کے ایک مجموعے میں شامل افسانوں کے تجزئے پر مشتمل ہے مگر یہ یاد رہے کہ کسی عہد کےایک سکے کے مل جانے سے تاریخ نویس اس عہد کی بہت ساری باتوں کا پتہ لگا لیتے ہیں یہاں تو گیارہ افسانے ہیں۔
بہترین تجزیہ نگاروں کی نگارشات ایک ساتھ شامل کرنا بہت بڑی بات ہے ان تجزیہ نگاروں کی حیثیت درس گاہ کی ہے جن سے ہم یقیناً بہت کچھ سیکھیں گے ،سمجھیں گے اور آنے والی نسل ان کی تحاریر سے استفادہ بھی کریں گی نیز بطور حوالہ پیش بھی کی جائیں گی۔
یہ خوبصورت تحفہ جو ڈاکٹر دبیر صاحب نے اردو کے قاری کو دیا ہے انمول ہے اور بے حد کار آمد ہے۔
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
ماشاء اللہ ۔۔۔۔بہت عمدہ ۔۔۔۔بہترین الفاظ کا استمعال۔۔۔۔