میں جانتا ہوں تمہارا وعدہ فریب ہے اور کچھ نہیں ہے
مگر ہمارا بھی ظرف دیکھو فریب کھاکر بہل گئے ہیں
زبیر الحسن غافل کا یہ شعر ایک بڑی سچائی کے کتنا قریب ہے، یہ محل غور وفکر ہے- یہ فریب خوردہ دنیا جس کے فریب میں انسان بہت حد تک اسیر ہے، اس پر فریب دنیا سے کوئی انسان بغیر فریب کھائے کیسے گز ر سکتاہے؟
سچ تو یہی ہے کہ دنیا داروں کے لیے یہ ایک فریب ہے اور مومن کے لیے دارالعمل-اس لیے ہمارے بننے بگڑنے اور ہماری خوشحالی وبدحالی میں قصور دنیا کا نہیں بلکہ ہماری کوتاہ عملی کاہے- چوں کہ ہماری اکثریت اچھے اور برے کی تمیز سے بے بہرہ ہے،نفع اورنقصان سے بے نیاز اور فطری حس سے محروم ہوتی چلی جارہی ہے- جب کہ ایک ادیب اور شاعر کا سب سے بنیادی آلہ اس کا احساس ہوتاہے،کہ وہ جس ملک اور جس سماج میں رہتا ہے اس کے متعلق وہ کیا سوچتا ہے- وہ خود اپنے تئیں کیا سوچتا ہے، اس کے محسوسات کی دنیا کیا کہتی ہے-
ایک سچا شاعر نہ صرف دنیا پر نظر رکھتاہے بلکہ اس کی پہلی نظر اپنی ذات پر پڑتی ہے،وہ اپنی ذات کو پڑھنے کے ساتھ اپنے گردوپیش کا مطالعہ کرتاہے، سماجی اورسیاسی حالات کا جائزہ لیتاہے،انسان اورانسان کی جبلتوں کا باریک بینی سے مطالعہ کرتاہے،اور سماج ومعاشرے میں در آ نے والی تبدیلیوں کے مثبت اور منفی دونوں پہلووں سے اس کا غیر جانب دارانہ جائزہ پیش کرتا ہے-
زبیر الحسن غافل نے بھی اپنے گردوپیش کا بہت ہی قریب سے مطالعہ کیا، اور ناپید ہوتی تہذیب پر اپنا کرب بیان کیاہے-نمونے کے چند اشعار ملاحظہ کریں:
سوال یہ نہیں کیوں قتل ہوگیا میرا
سوال یہ ہےکہ الزام کس کے سر آئے
…………………………..
وہی بستی وہی چہرے مگر ایسی فضابدلی
کہ سب کے ہاتھ میں خنجر ہے کس کوآشنا کہیے
…………………………..
شرم آنکھوں سے رخ سے حیا لے گئی
جانے تہذیب نو اورکیا لے گئی
…………………………..
پھر پکی فصلوں کی صورت کاٹ کرلے جائے گا
جانے یہ موسم جنوں کاکتنے سرلے جائے گا
…………………………..
مرے قتل کا کیا سبب ہوایہ بحث یار فضول ہے
چلو دفن کردو کہیں مجھے مری مغفرت کی دعا کرو
…………………………..
ان اشعار کا اگر ہم غائر مطالعہ کریں تو ہمیں محسوس ہوگا کہ ان میں شاعرنے اپنے سوزِ جگر اور سوزش جگر دونوں کو سمو کر رکھ دیا ہے- غم والم اور یہ کرب شاعر کو صرف اپنی ذات کا ہی نہیں بلکہ زوال آمادہ تہذیب و معاشرت کا بھی ہے-
سماج ومعاشرے میں پھیلی بے حیائی وعریانیت،ظلم وجبر، انارکی،خود غرضی،بے مروتی، قتل وغارت گری،بےوفائی اور تہذیبی قدروں کی زبوں حالی کو دیکھنے اورمحسوس کرنے کے بعد شاعر مجبور ہوا کہ اپنے مشاہدات ومحسوسات اور باطنی کرب کو قلم بند کرے- ( یہ بھی پڑھیں مولانا عرشی کی غزلیں – پروفیسر کوثر مظہری )
زبیر الحسن غافل نے اپنے احساسات کو بڑی خوب صورتی اور ہنرمندی کے ساتھ رقم کیاہے-یہ وہ احساسات ہیں جو انسانی دنیا کی حقائق ہیں،جس کو محسوس کر کے حساس طبیعت شاعر بے چین ہوجاتا ہے،اور اس کا باطن اسے مجبور کرتاہے کہ وہ اس بے ترتیب زندگی کے خلاف آواز بلند کرے – در اصل یہ انسانی فطرت اور نفسیاتی معاملہ بھی ہے، ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ انسانی نفسیات کس طرح سماجی اتھل پتھل سے بیدارہوتی ہے،جولوگ اپنے اس انسانی اور فطری عمل کو دباکر رکھتے ہیں اور سماج ومعاشرے میں روز بروز پروان چڑھ رہے غیر فطری رویہ کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کرتے گویا وہ انسانی اور طبعی میلانات کو کچل دیتے ہیں جوکہ فطرت کے عین خلاف ہے-انسانی فطرت یہ نہیں ہے کہ ہر سردوگرم کو گورا کرلیاجائے بلکہ یہ ہے کہ اس کے احساس کا اظہار بھی کرایاجائے-
…………………………..
وہ ذات میں اپنی خود اک محفل رنگیں ہے
وہ شخص مجھے کتنا تنہا نظر آتا ہے
…………………………..
یہ شور، یہ ظلمت یہ بھاگتے سائے
تمہارا ہاتھ نہ ہوتا تو ڈرگئے ہوتے
…………………………..
کس کو فرصت تھی جو دیتا مرے قاتل کا پتہ
لاش ہم اپنی لیے کاندھے پہ پھرتے ہی رہے
…………………………..
کل تک زمیں پہ تھا جو خداؤں کی طرح
اج اس کو دیکھے کہ خلا میں بکھر گیا
…………………………..
مذکورہ بالا اشعار میں زبیر الحسن غافل نے نفسیات کے طالب علم کی صورت میں انسانی نفسیات کا مطالعہ پیش کیا ہے،انسانی فطرت کو اس طور پر بے نقاب کیاہے کہ انسان کی اپنی ذات، اس کا علم، اس کا عمل، اس کی دولت،اس کی بیوی اور اس کے بچے ہی اس کا سرمایہ ہیں باقی یہ سب جو ہم دیکھ رہے ہیں صرف نظر کا دھوکا ہے، انسان تنہا آتا ہے اور تنہا چلا جاتاہے،یہ دنیا تو صرف دھوکے کی ٹٹی ہے،نظر کا فریب ہے-دوسرے شعر میں ایک روشن حقیقت کی جانب سے ہمارا ذہن مبذول کرنے کی سعی کی ہے کہ یہ دنیا اور اس دنیا کا ہاؤ ہو بس ایک تماشہ ہے اور کچھ نہیں-اسی طرح تیسرے اور چوتھے شعر میں بھی اہم مسائل اور ازلی حقیقت کی جانب اشارہ ہے کہ انسان اپنے دکھ کا خود مداواہے دنیا اور وسائل دنیا اس کا مداوا نہیں بن سکتیں،کیوں کہ اقبال علیہ الرحمہ نے کہاتھا کہ:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
‘یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے’-
انسانی سوچ جب تک فطرت سے ہم آہنگ نہیں ہوگی تب تک انسان مسائل ومشکلات سے دوچار ہوتا رہے گا-ضروری ہے کہ انسان اپنے احساس کو زندہ کرے کیونکہ
جب یہ حس مرجاتی ہے تو پھر انسان ایک لاشہ کی مانند ہوجاتاہے، پھر سرد وگرم کا اس بے حس انسان پر کچھ بھی اثر نہیں ہوتا-اور پھر وہ اپنے موافق اور ناموافق ہر طرح کے حالات کو گوراکرتا چلا جاتاہے-اور یہی انسان کی طبعی موت ہے-
احساس ہی انسان کو زبان عطاکرتا ہے،ایک شاعر اسی احساس کے سہارے اپنی باطنی کیفیات کو قلم بند کرتاہے-احساس انسان کا زیور ہے،
احساس نہ ہو تو زندہ اور مردہ میں کیا فرق ہے؟احساس ہی نہ ہو تو ایک بے حس انسان اور ایک حساس انسان میں آپ کیسے تمیز کریں گے؟ ( یہ بھی پڑھیں نازؔ قادری کی شاعری ــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک تجزیاتی مطالعہ – انور ایرجؔ )
زندگی کی ایک سچی اور بڑی حقیقت احساس ذات وکائنات ہے- اور یہی ایک شاعر اورادیب کا جوہر ہے-سائنس اور ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرجائیں لیکن ہماری شاندار ماضی کی یادوں پر خاک نہیں ڈال سکتیں، آج کے اس گلوبلائز دنیا میں بھی ہر انسان کا ماضی اس کے سامنے ہے، وہ اپنے ماضی کے لوٹنے کا آرزومند ہے، وہ اپنے ماضی میں پھر سے جینا چاہتاہے اور ہر انسان اپنے ماضی کو اتنا ہی شدت سے یاد کرتاہے جتنا اس کا ماضی روشن اور تابناک تھا-بلکہ زمانہ ہمیشہ سے گردش میں ہے اور یہ بعید نہیں کہ دنیا اپنی خرابی حالات کے بعد اپنے ماضی کی روایات پر لوٹ آئے چونکہ سائنس انسان کی صرف وقتی ضرورت ہے دائمی نہیں-اور سائنس کے ذریعہ وجود میں آنے والی اختراعات و ایجادات فطرت کا تقاضا ہیں عین فطرت نہیں-دراصل مادیت نے انسان کو اپنی فطرت اور اصلیت سے کوسوں دورکردیاہے،جب کہ مادہ انسان کی صرف ضرورت ہے، کل نہیں ہے، جس طرح ایک شاعر اپنے باطن کی تسکین کے لیے شاعری کرتاہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعری ہی اس کا باطن ہے بلکہ شاعری تو اس کے باطن کے احساسات کی صرف ترجمان ہے-
شاعر نے اپنے باطن میں ڈوب کر اپنے رب سے کس طرح دست طلب دراز کیاہے، یہ اشعار باطن کے احساس کی خوب صورت دلیل ہیں، حمد کے دوشعر ملاحظہ کیجیے:
اتنی ہمت مجھے خدا دےدے
غم اٹھانے کا حوصلہ دے دے
……………………………
میرے جذبات چھین لے مجھ سے
میرے احساس کو فنادےدے
……………………………
حمدیہ کلام کا یہ وہ اسلوب بیان اور انداز طلب ہے جو مسائل حیات اور مسائل روزگار کی خوب صورت عکاس ہیں-زبیر الحسن غافل نے سنجیدہ کلام کے ساتھ طنزیہ ومزاحیہ کلام بھی کہے ہیں بلکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی طور پر طنزومزاح کے ہی شاعر تھے، حقانی القاسمی نے اپنے ایک مضمون”صرصر الجھتی صبا:زبیر الحسن غافل کا تخلیقی مدوجزر ” جوکہ غافل کے شعری مجموعہ کلام "اجنبی شہر” میں شامل ہے لکھا ہے کہ:
غافل(زبیر الحسن) بنیادی طور پر طنزومزاح نگار اور ضمیر جعفری، دلاور فگار، سید محمد جعفری، شوق بہرائچی، شہباز امروہوی، ماچس لکھنوی، ٹی این راز، ساغر خیامی، رضانقوی واہی، بلال سیوہاروی، کے سلسلۃ الذہب کی ایک اہم کڑی ہیں ”
فن شاعری کوئی آسان فن نہیں،یہ مشکل ترین کاموں میں سے ایک ہے،انسانی زندگی میں کچھ کام ایسے ہیں جو مکمل طور پر سنجیدگی،متانت،ظرافت اور زود حسی کے طلب گار ہوتے ہیں ان میں ایک طنز ومزاح ہے-کمال فن یہ ہے کہ شاعر ہنر مندی، چابک دستی اور ذہانت سے کام لے کر مزاح کے ساتھ طنزکا پہلو پیداکرے-اس فن میں شاعر کو بیک وقت دو کام لینے ہوتے ہیں ایک ہے طنز اور ایک ہے مزاح اور دونوں ہی مشکل ترین کام ہیں-عموما اس طرح کی شاعری کو آسان، عام فہم اور سہل کام تصورکیا جاتاہے، اور سمجھاجاتاہے کہ یہ کوئی غیر سنجیدہ کام ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سنجیدہ کام سے بھی زیادہ مشکل ہے، کیوں کہ اس میں سنجیدگی کے ساتھ طنز اور مزاح پیدا کرناہوتاہے-
زبیر الحسن غافل نے اس کام کو بحسن وخوبی کرکے دکھایاہے-
ان کی ایک نظم ہے”مسئلہ”اس کے اشعار بطورنمونہ پیش کرتاہوں ملاحظہ کریں:
بھاؤ آٹے دال کا معلوم ہوگا تب میاں
رکن ہاؤس کی بنیں گی جب گھریلو بیویاں
عورتوں کے ہاتھ میں جب اقتدا آجائے گا
گھر کے اندر قید پھر مردوں کو رکھا جائے گا
جا نہیں سکتی کچن میں کوئی بھی خاتون اب
پاس ہوگا دیش میں ایسا ہی اک قانون اب
بیویوں کے آگے اپنا سراٹھاسکتا نہیں
حکم ان پر اب کوئی شوہر چلا سکتا نہیں
لازمی سینا پرونا ہوگا لڑکوں کو اگر
لڑکیوں کو سیکھنا ہوگا سیاست کاہنر
اب تلک کی مانگ لڑکوں سے کریں گی لڑکیاں
نان ونفقہ پائے گا بیوی سے اب اس کا میاں
مرد ہی اب سے کریں گے عورتوں کے سارے کام
چھین لیں گی عورتیں اب مردسے ان کا مقام
الغرض الٹا ہی سارا معاملہ ہوجائے گا
دردِ زہ سہنا ہے کس کو مسئلہ ہوجائے گا
…………………………
اس نظم میں شاعر نے صارفیت اور سماجی و معاشرتی نظام، ذہنی اور فکری میلان پر زبردست ضرب لگائی ہے-قرآن میں مرد کو قوام کہا گیا ہے،یعنی مرد کو عورتوں کے بالمقابل ساختیاتی اعتبارسے قدر مختلف پیدا کیا گیا ہے-ویسے بھی عورتوں کو مردوں کے مقابلےمیں ذہنی اور جسمانی اعتبار سے حساس،نازک اندام،اورپرکشش بنایاگیا ہے،مگر فیمینسٹ ذہنیت کے حاملین اسے عورتوں کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں جوکہ سراسر غلط اور کج فہمی پر مبنی ہے،-یہی وجہ ہے کہ حقوق نسواں کی علم بردار تحریکیں عورتوں کو مردوں کے بالمقابل لاکھڑاکرنا چاہتی ہیں،جس کی وجہ سے آج سماجی انتشار آسمان پر پہنچ چکا ہے،عورتوں میں احساس برتری اس قدر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ آج عورتیں اپنے عضو نازک کو مردوں کے عضو خاص سے مبدل کر رہی ہیں، اپنے جسم کو عریاں کرنا فیشن سمجھنے لگی ہیں،نتیجتاً حیا بے حیائی میں بدل گئی اور زیادہ تر عورتیں مردوں کی طرح آزاد اور بےلگام رہنے کی آرزو میں تنہا رہنے لگیں، جوکہ ہندوستانی تہذیب اور معاشرت کے مغائر ہے-شاعر نے ایسی ذہنیت رکھنے والوں پر طنز کے تیرونشتر چلائے ہیں اور نہایت سنجیدگی سے ان کی تضحیک بھی کی ہے-
زبیر الحسن غافل نے سماج کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے،یہی وجہ ہے کہ وہ معاشرے کی ایک ایک چیز پر باریکی کےساتھ نظر رکھتے ہیں-ان کے یہاں طنز اور مزاح صرف تفریح طبع کی غرض سے نہیں ہے بلکہ تعمیری اور اصلاحی غرض سے برتے گئے ہیں- اس ضمن میں قطعہ کے اشعار ملاحظہ کیجے:
شیخ جی جب سے میونسپلٹی کے ممبر ہوگئے
دیکھتے ہی دیکھتے ان کا مقدر پھر گیا
ایک بھی تنکا کہیں رہنے نہ پائے اس لیے
شہر میں جھاڑو پھرا ڈاڑھی پہ ریزر پھر گیا
…………………………..
گوپراناہے مقولہ پھر بھی کتنا سچ ہے یہ
اس کی سچائی میں ہر گز ہونہیں سکتا کلام
اسپ سرکش ہوکہ ہوں ارباب اقتدار
دونوں کے واسطے ہے ضروری مگر لگام
…………………………….
غافل کی خاص بات یہ کہ معاملہ چاہے سیاسی ہویا سماجی اسے سنجیدگی کے ساتھ شعر کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں، اور مضحک پہلووں میں بھی اصلاحی پہلو تلاش کر لیتے ہیں-در اصل یہ مشکل عمل ہے کہ شاعر بے خوف ہو کر سماج کے مختلف پہلوؤں کو اپنے حیطہ احساس کا حصہ بنائے-یہ وہی شاعر کرسکتا ہے جو حساس ہونے کے ساتھ زیرک بھی ہو تاکہ ان تمام سیاسی اور معاشرتی مسائل کو من وعن پیش کرسکے-دلیل کے طور پر میں یہاں ان کی نظم”نام پر دھرم کے کٹ جاتے ہیں لاکھوں گردن”
کے چند اشعار پیش کرتا ہوں:
ہم نے سوچا تھا کہ جمہور کا مطلب ہے یہی
کوئی انسان نہ توڑے گا کبھی بھوک سے دم
عصمتیں اب نہ بکیں گی کہیں روٹی کے عوض
گیت افلاس کے چھیڑے گا نہ شاعر کا قلم
مفلسی آج بھی اگتی ہے یہاں کھیتوں میں
نام پر دھرم کے کٹ جاتے ہیں لاکھوں گردن
مخملیں فرش کہیں بچھتے ہیں ایوانوں میں
لاش انسان کی رہ جاتی ہے بے گورو کفن
آج بھی ملک میں ہر روز کروڑوں انساں
کھردرے فرش پہ سوجاتے ہیں آکاش تلے
کوئی گھر کوئی آنگن نہیں جن کی تقدیر
زندگی آج بھی ہے ایک سزا جن کے لیے
کل جو جائز تھا وہی رسم کہن آج بھی ہے
تھا جن ہاتھوں میں کبھی دیش کا دھن آج بھی ہے
…………………………..
زبیر الحسن غافل کا شعری مجموعہ”اجنبی شہر” پڑھ کر دلی خوشی ہوئی-اور احساس ہوا کہ انھوں نے اپنی روایت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے شعری سفر کو جاری رکھا-یہی نہیں بلکہ کلاسیکی روایات کی توسیع کا فریضہ انجام دیاہے- خواہ سنجیدہ شاعری ہو، طنزیہ یا مزاحیہ شاعری ہو یا پھر پیروڈی-ہر میدان میں مستحسن سعی کی ہے-
پیروڈی کا آغاز اودھ پنج سے ہواتھا اور یہی دور اس کاسنہری دور بھی تھا-موجودہ عہد میں پیروڈیکل شاعری کی حالت زار پر ہنسی تک نہیں آتی- مگر ایسے ناگفتہ بہ دور میں بھی غافل نے اپنے بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طنز ومزاح کی زریں روایات کی توسیع کی عمدہ کوشش کی ہے-انھوں نے غالب، اقبال اور مجروح کی شاعری کی پیروڈی کرکے شعری رویے کو نہ صرف پر لطف بنایا ہے بلکہ ان کے کلام میں تازگی اور چاشنی پیدا کردی ہے-زبیر الحسن غافل لائق ستائش ہیں کہ انھوں نے فنون لطیفہ کے جس فن کو بھی مس کیا اس کے نباہ کی حتی الوسع سعی کی ہے-
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

