جب سے ہم نے سنبھالا ہے ہوش و خرد
آہ و نالے فلسطیں کے کانوں میں ہیں
اور ہم ہی نہیں ہم سے پہلے بھی سب
ان کی چینخیں کراہیں بھی سنتے رہے
ساری ملت جہاں کے سبھی انس و جن
ہائے مظلومیت ظلم دیکھا کیے
بحث و تمحیص جلسے جلوسوں میں سب
یہ نہیں وہ نہیں کہتے سنتے رہے
ایک مدت ہوئی کتنی نسلیں مٹیں
جو ہوئیں خاک میں دفن، مظلوم تھیں
تم جو دیکھو اگر عدل کی چشم سے
اور جو دل کہے گا وہ سن لو ابھی
ظلم کی سب سے بنیادی بنیاد تم
ملت شصت کشور غلامانِ خم
جن کی نامردی و بز دلی سے ستم
ظلم و اجبار کے بھیڑئیے پل رہے
نا خلف ہو تمھاری یہ تقصیر ہے
اور گردن میں ذلت کی زنجیر ہے


1 comment
Bahut umda bahut hi Sahi , haqiqat talakh ye musslman or Muslim country sirf or sirf apni fikar me haen, inse kuch Nahi ho Sakta, ,