سر سید احمد خاں اپنی زندگی میں دو چیزوں کو بہت اہمیت دیتےتھے۔ پہلا” کام ” دوسرا ” دوستی” . وہ دوستی کو انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ مجھ تهے. ان کا خیال تھا کہ اگر کسی شخص کے پاس عیش و عشرت کا ہر سامان مہیا ہے لیکن اس کا کوئی دوست نہی تو اس شخص کی زندگی بیکار ہے۔
اگر چہ وہ ایک نہایت ہی عدیم الفرصت انسان تھے لیکن اس کے با وجود وہ اپنے دوستوں کے لئے وقت ضرور نکالتے تھے. دوستوں کے ساتھ ان کا سلوک بالکل ہی جدا گانہ تھا. بظاہر وہ ایک خشک مزاج انسان تھے. لیکن جیسے جیسے ان سے واقفیت بڑھتی جاتی ان کی شخصیـت پرت در پرت واضح ہوتی چلی جاتی اور ان کے اندر سے ایک انتہائى دوست پرست انسان باہر نکل آتا.
ملک اور قوم کی خدمت کے لئے انھوں نے جو کار ہاۓ نمایاں انجام دیۓ اس کی بدولت ان کے لاکھوں شیدائی پیدا ہو گیۓ تھے. ان میں سے بعض افراد تو ایسے تھے جن سے سر سید کی دوستی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی۔ اور سر سید قومی خدمات کے لئے ان سے جس قدر چاہتے چندہ وصول کر لیا کر تے تھے. اپنے ایک آرٹیکل میں وہ لکھتے ہیں کہ-
"اگر چہ اس طرﺡ متواتر امدادکی درخواست کرنے سے شرم آتی ہے مگر ہمارے دوستوں کی فیاضی ہم کو شرمندہ نہیں ہونے دیتی. اور حق یہ ہے کہ اگر دوستوں سے نہ مانگیں تو کس سے مانگیں . ”
اسی طرﺡ وقت پڑنے پر سر سید احمد خاں اپنے دوستوں کی بھـی امداد کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انھوں نے اپنے ایک ضروت مند دوست کو کچھ روپیوں کا چیک بھیجا مگر ان کے دوست نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ مجھ سے زیادہ ضرورت مند بھی موجود ہیں۔ سر سید کو ان کی بات سے نہایت دکھ پہنچا اور انھوں نے جواب میں لکھا-
"جو محبّت و یک جہتی مجھے تم سے ہے وہ اس لایق نہ تھی کہ تم ایسے کلمات لکھتے جو ایک غیر شخص کو لکھنے زیبا ہیں. خبر دار اس قسم کے خیالات ہمارے ساتھ ہر گز مت کرو ”
سر سید اپنے دوستـــوں کے ساتھ نہایت بے تکلفی سے پیش آتے تھے. جو دوست ان کے سب سے زیادہ نزدیک ہوتا تھا وہ اکثر و بیشتر ان کے خوبصورت عتاب کا نشانہ بھے بنتا رہتا تھا۔ لیکن ان کے اس عتاب کی قدر ان کے احباب اچھی طرح سمجھتے تھے. خان بہادر مولوی اور سیدِ زین العا بدین خاں کا شمار سر سید کے ان بے تکلف دوستوں میں ہوتا تھا جو اکثر و بیشتر سر سید کی خفگی کا شکار بنتے رہتے تھے۔ لیکن انھوں نے ہمیشہ سر سید کو اپنے دیگر احباب و غم خواروں سےزیادہ عزیز رکھا. سر سید کا ایک خط جو انھوں نے اپنے دوست خان بہادر کو علا لت کی حالت میں بھیجا تھا ملاحظہ ہو –
” مکرمی زینو ابھی تمہارا خط پہنچا کچھ شبہ نہیں کہ تم کو مجھ سے جدا ہونے کا ایسا ہی رنج ہے جیسا کہ تم نے لکھا مگر تم تو اس رنج کو کسی قدر لکھ بهى سکے مگر مجھ کو تمہارے چلے جاتے سے جو رنج ہے وہ لکھا بھی نہیں جا سکتا. ”
بظاہر اس خط میں کسی شوق اور خواہش کا اظہار نظر نہیں آتا مگر اس خط کی تحریر سے جو محبت ظاہر ہوتی ہے وہ بیان سے باہر ہے.
سر سید احمد خاں کی خفگی میں جو محبت تھی وہ لوکوں کی عنایت میں بھی نہیں تھی. یہی وجہ ہے کہ سید مہدی علی ہمیشہ انكى خفگی کو سر آنکھوں پر لیتے تھے۔ اور ان کی دوستی کو سب سے زیادہ عزیز رکھتے تھے.
سر سید نے اپنے ایک آرٹیکل میں مسٹر پسٹلی کا قول نقل کیا ہے کہ –
” انسان کو دشمن کے ساتھ بهى ایسا برتاؤ رکھنا چاہئے کہ اس کو دوست بنا لینے کا موقع رہے اور دوست سے اس طرح برتاؤ کر نا چاہییے کہ کبھی وہ دشمن ہو جائے تو اس کے ضرر سے بچنے کی جگہ باقی رہے. ”
سر سید پسٹلی کےاس قول کے متعلق لکھتےہیں کہ-
” اس کا پہلا حصہ جو دشمن کے ساتھ برتاؤ کرنے کا ہے وہ تو نہايت عمدہ ہے مگر پچھلی بات جو دوست کے ساتھ برتاؤ برتنے کی ہےاس میں سمجھ کی کوئی بات نہـیں بلکہ نری مکاری ہے. ایسے برتاؤ سےانسان زندگی کی بہت بڑی خوشی سے محروم رہتا ہےاپنے دلی دوستوں سے بھی دل کی بات نہی کہہ سکتا . ”
سر سید احمد خاں نے جو کچھ لکھا ہمیشہ اسی پر عمل کیا. جب کسی شخص سے ان کا دل مل جاتا تھا تو پھر وہ اس سے کسی طرح کا تکلف باقی نہیں رکھتے تھے . مذہب و ملت کا فرق بھی کبھی ان کی دوستی کے درمیان نہی آیا. وہ اپنے دوستـوں سے محبت رکھنے میں کسی طرح کا امتیاز نہیں رکھتے تھے. انکے حلقۂ احباب میں ہندو’ مسلم سبھی مذاھب کے لوگ بلا تفریق شامل تھے. اور وہ سب کے ساتھ یکساں محبت کا اظہار کرتے تھے۔ کبهی کسی طرح کا میل یا برایٔ دوستوں کے حوالے سے ان کے دل میں پیدا نہی ہوئ. انھوں نے جس سے بھی دوستی کی پورے خلوص اور سچایٔ کے ساتھ نبھایٔ. ظاہر داری اور منافقت کے وہ قایٔل نہ تھے. سید مہندی على کو ایک خط میں لکھتے ہیں –
” میں تو اس شخص کو کافر اور بے ایمان سمجھتا ہوں جو دوست کی نسبت خیال کرے کہ اس نے خلافِ دوستی و محبت کے کوئ بات کی. میں تو دوست کے گالی دینے اور برا کہنے کو بھی دوستی پر حمل کرتا ہوں. در حقیقت دوستی کے ہی سبب وہ بات ہوتی ہے. مکر جب کہ حقیقت میں خلافِ محبت اور دوستی کے کوئ بات ہو تو پھر شیشۂ محبت جو نہایت نازک ہے کسی طرح ثابت نہی رہ سکتا. اگر چہ دوستی اور محبت ایسی سخت چیز ہے کہ ہتوڑوں اور ہزاروں صدموں سے بھی نہیں ٹوٹتی . مگر وہ نازک بھی ایسی ہے کہ ایک ادنیٰ سی خلافِ محبت بات کرنے سے ٹوٹ جاتی ہے۔ اور جس قدر محبت ذیاده بڑھتی جاتی ہے اس کی نزاکت زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ ”
سر سید احمد خاں دوستی کے معا ملے میں بہت وضع دار انسان تھے. وہ دوستی میں خلوص اور وفا داری کے قایٔل تھے. انکی قومی خدمات کے لئے جن دوستوں نے انکی مدد کی سر سید نے انھیں ہمیشہ عزیز رکھا. خان بہادر برکت علی خان. سردار محمد حیات خاں، قاضی رضا حسین ریٔس، خلیفہ سید محمود حسن خاں، مولوی چراغ علی اور میر ظہور حسین ان کے نہایت عزیز دوستوں میں سے تھے. نذیر احمد کے متعلق انکا قول تھا کہ یہ شخص ہماری قوم کے لئے باعث فخر ہے .
مولوی ذکاءاللہ،مولوی مشتاق حسین،راجہ جے کشن داس، حاجی اسمٰعیل خاں اور مرزا عابد علی بیگ کی دوستی کو بھی وہ نہایت عزیز رکھتے تھے. وہ ایک دوست پرست انسان تھے اور پر خلوص دوستی کے قایٔل بھی .
انکی شخصیت میں وہ تمام خوبیاں تھیں جو ایک مخلص دوست کا خاصہ ہوتی ہیں . سر سید احمد خاں نے اپنی ذات سے کبھی اپنے کسی دوست کو دکھ نہیں پہنچایا. یہی وجہ ہے کہ ان کے دوست ہمیشہ ان کے شیدائی رہے. نواب محسن الملک نے ایک جگہ ان الفاظ میں سر سید کا ذکر کیا ہے۔
” میں نے کسی شخص کی ذات میں اس قدر خوبیاں نہیں دیکھیں . اس شخص کی سی سچی محبت اور وفاداری دنیا میں کہیں نہیں دیکھی .”
صایٔمہ ذوالنور رامپور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

