اس میں دورائے نہیں کہ اللہ رب العزت نے انسان کی بہترین صورت میں تخلیق فرمائی اور دنیا کی شکل میں اُسے ایک خوب صورت پناہ گاہ عطا فرمایا، لیکن انسانوں کی نادانی ،حرص وہوس اورخودغرضی نےآج پوری انسانی برادری کی مٹی پلیدکرکے رکھ دی ہے۔انسانوں نے اپنی شکل وصورت کی نورانیت کو غائب تو کیاہی ہےاس کے ساتھ اپنے کرداروعمل سے پوری انسانی برادری کو بھی تباہ وبربادکرکے رکھ دیا ہے۔نتیجے کے طورپر آج انسانی برادری کا ہرفرد، خواہ چھوٹاہویابڑا،امیرہویاغریب سب کے سب چین وسکون کی دولت سے محروم نظرآتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس کے پیچھے کیاراز ہے کہ آج کاانسان ہر لحاظ سے ترقی یافتہ ہے،چاند پر کمندیں ڈال رہا ہے،سمندر میں تیررہاہے ،ہواؤں پر حکومت کررہا ہے ،پھر بھی وہ چین وسکون کے لیے ترس رہا ہے؟ہمارے خیال میں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انسانوں نے اپنی فطرت سے بغاوت کرلی ہے، اپنی محبت وعداوت کا معیاربدل لیاہے،حسد وکینہ جیسی مہلک بیماریاں اپنے اندر پیدا کرلی ہے اوردولت وثروت کی اندھی محبت نے اُن کے شعورواِحساس کو چھین لیا ہے،جب کہ اِس کے برخلاف کسی بھی قوم وبرادری کاانسانی خوبیوںسے متصف ہونا انتہائی ضروری ہےتبھی وہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کرسکتاہے اور اِنسانی معاشرے کی اصلاح وفلاح میں کوئی تعمیری کردار اَدا کرسکتاہے ورنہ نہیں۔
موجودہ حالات کا جائزہ لیں تو دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی قوم ہوجو محبت وعداوت کے صحیح معیارپر قائم ہو،حسد وکینہ جیسی جان لیوا بیماری سے پاک وصاف ہو، یا پھر دولت وثروت کی اندھی محبت میں انسانیت کا قتل نہ کررہا ہو،ورنہ بیشترقوم ان بُرائیوں میں سرسے پاؤں تک لت پت ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہرقوم اسی میں فخر بھی محسوس کررہی ہے،جب کہ یہ تمام باتیں جس بھی قوم کے اندر پائی جائیں اُس کے لیے چلّو بھرپانی میں ڈوب مرنےکے برابر ہے۔ان خرابیوںمیں بالعموم ہرمعاشرہ اوربالخصوص ہندوستانی مسلم معاشرہ کچھ زیادہ ہی مبتلاہے۔آئیں ان بیماریوں سے نجات پانے کا صحیح اور آسان حل محبوب سبحانی سیدناشیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ کی تعلیمات کی روشنی میں تلاش کریں جنھیں دنیا ’’بڑے پیرصاحب ‘‘ کے نام سے بھی جانتی اور پہچانتی ہے۔
محبت وعداوت کامعیار:ایک انسان کس بنیادپر دوسرے انسان سے محبت کرے اور کس بنیاد پر دشمنی ، کیوںکہ محبت وعداوت بھی دنیوی اوردینی دونوںمعاشرے میںکامیابی کا ایک اہم حصہ ہے،اگر محبت وعداوت رکھنے میں توازن( Balance) نہیں تو ممکن ہے کہ اچھے کاموں کے باجود انسان فوزوفلاح کی خوشبو سے محروم رہ جائے۔چناںچہ محبت وعداوت کی بنیادکی نشاندہی شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں:’’جب تو اپنے دل میں کسی شخص کی محبت یا عداوت پائے تو اس شخص کے اعمال کتاب وسنت کی کسوٹی پر پرکھ،اگر وہ اعمال کے لحاظ سے کتاب وسنت کا مخالف ہے تو تو صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی ومحبت پر خوش رہ۔ لیکن اگر اس کے اعمال کتاب وسنت کے مطابق ہیں پھر بھی تو اسے دشمن سمجھتاہے تو تو نفسانی خواہشات میں گرفتار ہے اور اپنے ذاتی اغراض کے لیے دشمنی رکھتا ہے۔اس بغض وعداوت کی وجہ سے تو اس پر ظلم کررہاہے اور اللہ و رسول کے فرمان کی مخالفت کررہا ہے جو ایک جرم ہے،اس لیے اپنے اس بغض وعداوت سے بارگاہ الٰہی میں توبہ کراور اللہ سے خود اس کی اور اس کے نیک بندوں اور صالحین کی محبت کا سوال کر۔اسی طرح جس شخص سے تو محبت رکھتاہے اس کے افعال وکردار کتاب وسنت کی روشنی میںپرکھ،اگراس کے اعمال کتاب وسنت کے مطابق ہیں توبے شک اس سے محبت رکھ اوراگر اس کے اعمال کتاب وسنت کے خلاف ہیں توتو اسے دشمن جان! تاکہ تیری محبت ودشمنی محض خواہشات نفسانی کے تابع ہوکرنہ رہ جائے، کیوںکہ تجھے اس کی مخالفت کا حکم دیاگیاہے:’’نفسانی خواہش کے پیچھے نہ بھاگ،کیوںکہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکادےگی۔(سورۂ ص:26،فتوح الغیب،مقالہ:31)
بےشک اِس گفتگو کے مخاطب بالخصوص مسلمان ہیں لیکن اِس کے پردے میں تمام مذاہب کے ماننے والوں سے خطاب کیا جارہاہےکہ کسی بھی مذہب کا ماننے والا انسان ہواَگروہ محبت وعداوت کے مذہبی اور دینی اصول ومعیار کو ملحوظ رکھتاہے تویقیناًوہ بہت ساری ملکی اورمعاشرتی آفتوں سے محفوظ رہ سکتاہے۔یعنی آپس میںمحبت ودشمنی کی بنیاد اَچھائی اوربُرائی پر رکھنی جانی چاہیے نہ کہ ذات پات اور قوم وبرادری کے نام پر۔جیساکہ آج کل اِس کا چلن ہندوستانی معاشرے میں بڑے پیمانے پر ہے۔
حسد وکینہ ایک بیماری :آج کل انسانوں کے درمیان حسد، کینہ دشمنی اور جلن جیسی بیماریاں عام ہیں،اورنہ چاہتے ہوئے بھی انسان اس بیماری کے شکار ہورہے ہیں،جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انسان نہ ملکی سطح پر مطمئن ہے اور نہ ہی سماجی اعتبار سے پُرسکون ۔ چناںچہ حسد وکینہ سے دوری اختیار کرنےپر زور دیتے ہوئے بڑے پیرصاحب فرماتے ہیں:’’کیا وجہ ہےکہ میں تجھے اپنے ہمسائے اورپڑوسی سے حسد کرنے والا دیکھتا ہوں؟ تو اُس کے خوردونوش، لباس ومکان،زن و مال اوراللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی دوسری نعمتوں سے جلتاہے۔ تجھے علم نہیں کہ حسدایک ایسی خطرناک بیماری ہے جو ایمان کو کمزور، مولیٰ کی بارگاہ سے دور اوراللہ کی نافرمانی کا باعث بن جاتی ہے ۔کیاتونے حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سناکہ حاسدمیری نعمتوںکے دشمن ہیں اورحسد، نیکیوںکو اِس طرح کھاجاتاہے جیسے آگ لکڑی کو۔اے مسکین !تو اُس کی کس چیزپر حسدکرتا ہے؟اُس کی قسمت پر یا اپنی قسمت پر؟ اگر تواُس کی قسمت پر حسدکرتاہے تو وہ اللہ کی طرف سے عطاکردہ ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے:ہم نے اُن کے درمیان اُن کے جینے کا سامان دنیا کی زندگی میں تقسیم کر دیا۔ (سو رۂ زخرف:32)گویا ایک ایسے شخص پرجو اللہ تعالیٰ کی نعمتوںپر صابر وشاکرہے، حسد وکینہ کے ذریعے ظلم کا ارتکاب کررہا ہے ۔خود ہی غورکروکہ تجھ سے زیادہ ظالم،بخیل،احمق اورکم عقل کون ہے؟اگرتو اپنے تقدیرونصیب پر حسدکررہاہے تو یہ اُس سے بھی زیادہ جہالت اور نادانی ہے،جان لے کہ تیرا حصہ غیر کوکبھی نہیں دیا جائے گا، کیوںکہ اللہ پاک کافرمان ہے:’’میرافیصلہ بدلتا نہیں اور نہ میں بندوںپر ظلم کرتا ہوں۔‘‘(ایضاً، مقالہ:37)
شاید ہی کوئی ملک اور معاشرہ ہوجوحسد اورکینے کی مار سے بچ گیاہو۔بالعموم پوری انسانی برادری اور بالخصوص پورا ملک ہندوستان حسدوکینے کی قہر کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں بڑے پیر صاحب کی تعلیمات کی اہمیت وضرورت اور بھی دوچندہوجاتی ہے ،تاکہ مذہبی،ملکی ،معاشرتی اور ذات برادری کے نام پرلوگوں کے دلوں میں جو حسد وکینہ گھرکرچکاہے اُس سے ملک ومعاشرے کو نجات ملے اور پوری انسانی برداری حسداورکینے جیسی ناپاک چیزوں اور بُری بیماریوں سے محفوظ رہے۔
مال وزر کی خرابی: مال ودولت ایک ایسی چیز ہے جوہر کسی کواَچھی اوربھلی معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ اسی وقت بہترہے جب فرائض اور واجبات(دینی ومعاشرتی ذمہ داری) کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو، اگریہ دولت،بندہ کو عبادت سے روکے اور اللہ تعالیٰ کی محبت دل میںنہ آنے دے، توپھریہ کسی مصیبت سے کم نہیںبلکہ اِس بات کاخوف ہےکہ اُس کی وجہ سے کہیں کوئی وبال اور مصیبت نہ آجائے۔ اِس تعلق سے تنبیہ کرتے ہوئے بڑے پیر صاحب فرماتے ہیں:’’گر اللہ تعالیٰ تجھے مال ودولت عطافرمائے اور اُس کی وجہ سے تواللہ تعالیٰ کی عبادت سے منھ پھیرلے تو دنیاوآخرت میں اللہ تعالیٰ اُس کو تیرے لیے حجاب بنادے گااورممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھ سے دولت وثروت بھی چھین لے اور تیری حالت بدل ڈالے… اوراَگر تو نے مال کو عبادت الٰہی کے فرائض کی بجاآوری میں رکاوٹ نہ بننے دیاتو وہ مال ہمیشہ کے لیے تجھے بخش دیاجائے گا ، اس میں سے ذرہ برابربھی کمی نہ ہوگی اوروہ مال تیرا خادم اورتو اپنے مولیٰ تبارک وتعالیٰ کا خادم ہوگا۔چناںچہ دنیامیں تونازونعم کی زندگی گزارےگا اور آخرت میں بھی ہمیشہ کے لیے جنت اوراعزازی طورپر صدیقین، شہدا اَور صالحین کی رفاقت حاصل رہے گی۔ (ایضاً، مقالہ:12)
القصہ!مال وزر کی ہوس نے انسان کو اِس قدر اندھابنادیاہے کہ مقدس رشتوں کی پامالی اور اِنسانی برادری کاقتل آج عام بات ہوگئی ہے۔ساتھ ہی مال وزر کی چاہت و طلب نے لوگوں اِتنابدحواس کردیاہے کہ لوگ یہ بھی بھول بیٹھے ہیں کہ ایک عظیم ترین ہستی بھی ہے جس نے ساری چیزوں کوپیدا کیاہے اور اُس عظیم ہستی کی مرضی کے بغیر ایک پرندہ بھی پر نہیں مارسکتاہے۔لہٰذامال وزر اَوردولت وثروت کی ہوس رکھنے والوں کے لیے بڑے پیر صاحب کا یہ فرمان تازیانۂ عبرت ہے کہ مال ودولت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مذہبی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو بھی ملحوظ رکھیں۔یہ وہ قیمتی باتیں ہیں جنھیں اپناکر انسانی برادری ہرعہد اَورہرز,مانے کامیابی حاصل کرجاسکتی ہے ۔
(ایڈیٹر ماہنامہ خضرراہ،الہ آباد)
مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

