” ارے !!! واہ یہ محل تو بہت عالیشان اور وسیع ہے۔ کاش !! مَیں اس کا مالک ہوتا؟ تو شہر میں میری بہت عزت ہوتی۔ میری زندگی پرسکون اور مسرت بخش گزرتی۔ ” ضمیر محل دیکھ کر تمنا کرنے لگا۔ وہ اسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ اس کے سامنے کسی نے محل کی چابیاں پھینک دی اور کہا۔ ” آج سے تو اس خوبصورت محل کا مالک ہے۔” ضمیر خوشی خوشی محل میں داخل ہوگیا۔ کچھ عرصے بعد اسے محل کے باہر سے شور وغل سنائی دیا۔ جس سے وہ بیدار ہوگیا۔ اس نے جھروکے ہٹاتے ہوئے باہر دیکھنے پر پتہ چلا کہ باہر کوئی بڑا سیاستدان آیا ہوا ہے۔ اور بے شمار لوگ اسکی شان میں ڈھول تاشے ، ڈی جے بجاتے ہوئے اسکی تعریفیں کررہے ہیں۔ سب ہی اسکی واہ واہ کررہے ہیں۔ وہ بڑے ہی آن بان آورشان سے بیٹھا ہواہے۔ اس منظر نے اس کے دل میں چاہت پیدا کی۔ وہ سوچنے لگا کہ ” یہ نیتا جی بہت خوش قسمت ہے۔ لوگوں میں انکی بہت عزت ہے۔ کاش !! مَیں ایسا بڑا نیتا ہوتا تو زندگی کا مزه آ جاتا۔ میری حیات بخوشی گزرتی۔”
کسی نے اسکی یہ خواہش پوری کرتے ہوئے اسے باہر اس سیاستدان کی جگہ دے دی۔ اب لوگ ضمیر کی تعریف و توصیف کررہے تھے۔ اب ضمیر خود کو سب سے ذیادہ طاقت ور اور دولت مند سمجھنے لگا تھا۔ وہ بہت خوش تھا۔ لیکن وقت کی گردش نے اسکی یہ مسرت ذیادہ عرصے تک نہیں رہنے دی۔ اسے باہر کی کڑکتی دھوٗپ نے چکراکر نیچے گرا دیا۔ جب اسے ہوش آیا تو پتہ چلا کہ میرا گمان غلط تھا۔ یہ بے جان سورج مجھ سے ذیادہ طاقتور ہے۔ مَیں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ اسنے سورج بننے کی تمنا ظاہرکی۔ اسکی تمنا فوراً پوری ہوئی اور اب سورج بن کر اتراتے ہوئے دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا۔ اور سوچنے لگا کہ اب مَیں کسی کو بھی شکست دے سکتا ہوں۔ وہ اس خوشی پر بھی قائم نہیں رہا۔ جب ایک بڑا سا بادل اسکے سامنے آیا اور اسے چھُپا دیا۔ وہ بہت ناراض ہوا۔ اسے غصہ بھی آیا۔ اسی جھنجھلاہٹ میں اسنے بادل بننے کی ڈھان لی۔ اسے کسی نے فوراً بادل بنا دیا تھا۔ اب وہ سب سے بلند مقام پر بیٹھا۔ خوش ہورہا تھا۔ لیکن کچھ عرصے بعد ہوا کے جھونکوں نے اس سے کھیلنا شروع کردیا۔ وہ بادل کو اِدھر سے اُدھر،یہاں سے وہاں ڈھکیلنے لگے۔ یہ دیکھ کر اسے کمتری کا احساس ہوا۔ اب وہ سمجھ گیا کہ اصلی طاقتور یہ "ہَوا” ہے۔ مَیں کچھ بھی نہیں ہوں۔ شاید اسی میں مجھے سکون و اطمینان کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ملے گی۔ مجھے ہَوا بننا ہوگا۔ تب ہی میں خوشی سے زندگی بسر کر سکوں گا۔ ضمیر کو اسکی خواہش کے مطابق یہ بھی عنایت کردیا گیا۔ اب وہ ہرکسی کواپنی طاقت دِکھاکرخوش ہونے لگا۔ ضمیر ہَوا کے رٗوپ میں بڑے زوروں سے چیزوں کو انکی جگہ سے اُڑانے لگا۔ اب وہ فوراً ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتا۔ اسکے راستے میں جو بھی چیز آتی وہ اسے ڈھکیل دیتا تھا۔ اور آگے نکل جاتا تھا۔ ایک دفعہ اسکے راستے میں ایک ایسی چیزآئی جو اپنی جگہ سے ہٹا نہیں رہی تھی۔ اس پر ضمیر کی ہوائی طاقت کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ اس بات نے اسے اداس کردیا۔ اسکے ہوش اُڑ گئے۔ کہ اب مجھ سے ذیادہ طاقتور یہ کونسی چیزآگئی ہے۔ گرد غبار کے رکنے پر معلوم ہوا کہ یہ ایک پہاڑ ہے۔ اس وسیع پہاڑ کو دیکھ ضمیر کا دل للچایا۔ اس نے ہر بار کی طرح اس بار بھی طاقتور پہاڑ بننے کی تمنا کا اظہار کیا۔ اس کی یہ تمنا بھی پوری ہوئی۔ اگلے ہی وقفہ میں ضمیر پہاڑ بن گیا۔ اب اسے اطمینان ہوا کہ وہ ایک خوش قسمت اور پر سکون زندگی گزارنے والا دنیا کا ایک مضبوط پہاڑ ہے۔ اب اسے کسی سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ اپنی اس خوش فہمی میں مست تھا۔ کہ اسے ٹَک ۔۔۔۔ ٹَک ۔۔۔۔۔ ٹَک۔۔۔۔ کی لگاتار آوازوں نے حیران و پریشان کردیا۔
اس نے غصے سے سر جھٹکتے ہوئے اوپر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک آدمی اسے چَھننی ہتھوڑے سے توڑ رہا ہے۔ اس کا نشہ پل بھر میں اتر گیا۔ وہ ششدر ہوکر اس شخص کو تکنے لگا۔ اسے خیال آیا کہ مَیں کچھ نہیں ہوں۔ حقیقت میں یہ آدمی سب سے ذیادہ قیمتی اور طاقتور ہے۔ جو ایک مضبوط بلند و بالا پہاڑ کو توڑ رہا ہے۔ اے کاش!!!۔۔۔۔۔۔ مَیں اسکی جگہ پر ہوتا؟ یہ سوچ کر وہ انتظار کرنے لگا کہ اب میں اس آدمی کی جگہ لے لونگا۔ لیکن کافی عرصہ گزرجانے کے بعد بھی وہ اس آدمی کی جگہ نہیں لے سکا۔ تو ضمیر ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگا۔ اسکی پیشانی پر پسینہ آگیا۔ وہ زور زور سے چیخ چیخ کر کہنے لگا۔ کہ مجھے وہ آدمی بنادو۔ جو حقیقت میں بے بہا ، بیش قیمت اور طاقتور ہے۔ یہ کہتے ہوئے اسکی نیند بیدار ہوئی اسے آئینے میں وہی شخص نظرآیا۔ جو پہاڑ کو توڑ رہا تھا۔ وہ خود کی صورت دیکھکر خوش ہوا۔ اب اس نے خود کو پہچانا۔ اب ضمیر خود کی قابلیت ، صلاحیت اور اہمیت کو جان کربہت خوش تھا۔
ازقلم
حسین قریشی
بلڈانہ مہاراشٹر
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
ادبی میراث کا دلی شکریہ