Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

اکبر الہ آبادی کی شخصیت اور فن – آبیناز جان علی

by adbimiras دسمبر 1, 2021
by adbimiras دسمبر 1, 2021 0 comment

اکبر الہ آبادی کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔انیسویں صدی کے مشہور اردو شاعر ،  اکبرؔ اپنے زمانے کی پہچان بن گئے ہیں۔ ان کی پیدائش ۱۶ نومبر ۱۸۴۶میں بارہ ضلع الہ آباد میں ہوئی اور ۱۹۲۱ میں الہ آباد میں ہی وفات پائی۔  ان کا اصل نام سید اکبر حسین رضوی تھا اور اکبر ہی تخلص کرتے تھے۔  ان کے والدکا نام تفضل حسین تھا۔  اکبرؔ نے گھر پر اپنے والد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔  انہوں نے مکتب میں اور جمنا مشن اسکول میں بھی داخلہ لیا لیکن مالی دشواریوں کی وجہ سے اسکول چھوڑ کر پندرہ سال کی عمر میں ہی ملازمت تلاش کرنا پڑی۔ ۱۸۶۹ میں مختاری کا امتحان پاس کر کے نائب تحصیلدار ہوئے۔    ۱۸۷۳ میں وکالت کا امتحان پاس کیا ۔  ۱۸۸۰ سے وکالت کے پیشہ سے وابستہ رہے ۔  بعد میں سب جج اور سیشن جج مقرر ہوئے۔ ۱۹۰۵ میں ملازمت سے سبق دوش ہوئے۔   ۱۹۰۷ میں انہیں خان بہادر کا خطاب ملا۔

اکبرؔ کا شمار اردو کے نامور شعرائ میں ہوتا ہے۔  اکبرؔ کی غزلوں کو نامور فنکاروں نے موسیقی میں سجایا ہے۔ ان کے ہم عصروں میں اردو ادب کے مایہ ناز ادیب اور شعرائ موجود تھے جیسے عبد الحلیم شرر، پنڈت رتن ناتھ سرشار اور برج نرائن چکبست۔اکبرؔ کی کلیات کئی حصّوں میں منقسم ہے۔  ان کے کلام میں تمام اصناف سخن موجود ہیں۔  غزل، نظم ، ربائی، قطعہ، مسدس اور مخمس وغیرہ۔اکبرؔ کی شہرت اور عروج کا زمانہ بیسویں صدی کی دوسری دہائی ہے لیکن ان کی اصلاحی شاعری کی بنیاد انیسویں صدی کی آخری چوراہی دور میں پڑ چکی تھی۔  ان کی شاعری امتیازی اور انفرادی خصوصیات کی حامل ہیں اور ان کی مقبولیت کا دارومدار ان کی طنزیہ اور ظریفانی شاعری ہے۔  اکبرؔ کی مشہور نظموں میں برقِ کلیسا، فرضی لطیفہ، نئی تہذیب، جلوئہ دربار دہلی، مدرسہ علی گڑھ شامل ہیں۔

اکبرؔ کو بچپن سے شاعری کا شوق تھا۔  حسب دستور انہوں نے غزل گوئی سے ۱۱ سال کی عمر میں شاعری کی ابتدائ کی۔  شروع سے الہ آباد میں استاد وحید کی شاگردی میں اکبرؔ کے کلام میں جذباتی رنگ آیا اور اپنے استاد کی طرح غزل میں زورِ طبع آزمائی کی۔ شروع میںان کی شاعری میں سنجیدگی تھی ۔  ان کی شاعری کو دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔  ابتدائی دور کی غزلوں میں غیر روایتی اور غیر ادبی موضوع ملتے ہیں۔ اکبرؔ کے ابتدائی دور میں جذبات و احساسات کا ذکر کیا گیاہے جو ان کے دلی جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے ابتدائی دور میں غزل کے روایتی لب و لہجہ میں محبوب کے ہجر و وصال کا بیان کیا ہے۔  ابتدائی سے تصوف ان کی غزل کا موضوع رہا ہے۔

ہم نے مخلوق میں خالق کی تجلی پائی

دیکھ لی آئینہ میں آئینہ گر کی صورت

بہت جلداکبرؔ نے ایک منفرد رنگ منتخب کرلیا۔  وقت کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری کا رنگ بدلنے لگا۔  اکبرؔ کو احساس ہوا کہ غزل صرف اپنے جذبات کو آسودہ کرنے کا ذریعہ نہیں ہے۔  اسی لئے اکبرؔ فرماتے ہیں:

کرو اب دوسرے کوچے میں اے اکبرؔگزر اپنا

اکبرؔ نے اپنا جداگانہ رنگ بنا دیا اور نئے اسلوب بنا دئے۔  جلد ہی انہوں نے ایک پیامی شاعر کا منصب اختیار کیا۔  انگریز جو اپنے ساتھ تہذیب لائے تھے وہ اکبر کو سخت ناپسند تھی۔  چنانچہ انہوں نے اپنی شاعری میں قدیم زمانے سے وابستہ تہذیب کی حمایت کی اور عمر بھر جدید تہذیب کی مخالفت کی۔

ان کا انداز مزاحیہ تھا اورانہوں نے طنز و مزاح کو اردو ادب میں بہت آگے بڑھایا۔وہ اسی رنگ میںاپنی غزلیں لکھتے گئے۔انہوں نے قدیم اور جدید اصلاحی باتوں کو طنز و مزاح کے روپ میں پیش کیا ہے۔  ان کا نشانہ مغربی طرز کی قبولیت کے رجحانات اور مشرقیت سے نسل کی دوری سے وابستہ رجحانات ہیں۔  اکبرؔ نے طنز و مزاح کو اصلاحِ قوم کے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔  انہوں نے انگریزی تعلیم کے منفی اثرات اور انگریزی تہذیب کی اندھی تقلید پر بھرپور وار کئے۔

بت کدہ میں شور ہے اکبرؔ مسلماں ہوگیا

بے وفاؤں سے کوئی کہہ دے کہ ہاں ہاں ہوگیا

اکبرؔ کے زمانے میں ہندوستانی معاشرے میں ہر قسم کی تبدیلیاں بہت تیزی سے رونما ہو رہی تھیں۔  ایک تہذیب کی بساط اٹھ رہی تھی تو دوسری تہذیب اپنا رنگ جما رہی تھی۔  وقت کے ساتھ ادب و شاعری کا تصور بھی بدل رہا تھا۔  ایک طرف تو حکمراں قوم کے ظلم و ستم، جبر و استحصال پر اکبرؔ کو غم و غصّہ تھا۔  دوسرے معاشرے میں ان کو افرا تفری نظر آرہی تھی۔ اکبرؔ نے اپنی شاعری کے ذریعہ معاشرے کی غلط رسم و رواج کو طنز و مزاح کا نشانہ بنایا۔انہوں نے بطورِ خاص نئی تہذیب، حکومتِ وقت اور سیاسی تحریکوں کو ہدف تنقید بنایا ۔  انہوں نے ترقی و تہذیب کے غلط تصور پر وار کیا ہے۔  نئی تہذیب کے فروغ میں چونکہ سرسید پیش پیش تھے اکبرؔ الہ آبادی نے علی گڑھ تحریک کو بھی اپنے طنز کا نشانہ بنایا۔

یورپ نے دکھا کر رنگ اپنا سید کو مرید بنا ہی لیا

سب پیروں سے یہ بچ نکلے اس پیر کے آگے کچھ نہ چلی

رشید احمد صدیقی نے کہا ہے: ’’حالی ماضی کے اکبر ؔ  حال کے اور اقبال مستقبل کے شاعر قرار دئے جاسکتے ہیں۔‘‘   اس قول سے اکبرؔ کی انفرادیت کا اندازہ ہوتا ہے۔انہیں کا ایک شعر جو ان کی شاعرانہ انفرادیت کا مظہر ہے سماعت فرمائیں:

لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو

مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

اکبر ایک نہایت بے خوف فرد تھے۔  انہوں نے اپنی بے باکی سے ایک زمانے کو اپنے خلاف کیا۔  سرکاری ملازم ہونے کے باوجود انگریزی تہذیب و تمدن پر سخت تنقید کرتے رہے۔ اکبرؔ نے انگریز حکمرانوں، ان کی پالیسیوں، ہندو اور مسلمان سیاستدانوں اور ان کے نظریات پر زبردست تنقید کی ہے۔ان کی شاعری کا مقصد قوم کی اصلاح تھی۔  اپنی نظموں میں مغربی تہذیب کی بے راروی کو طنز کا موضوع بنایا ہے۔  اکبرؔ کی نظموں میں جد یدیت اور سیاست کا رنگ بہت زیادہ نظر آتا ہے۔  ان کی نظموں سے وہ کام لیا جاسکتا ہے جو بڑی بڑی تقریروں سے نہیں لیا جاسکتا۔ انہوں نے اپنے دکھ درد کو تنظزیہ اور مزاحیہ اشعار کی شکل میں پیش کیا۔  وہ ایک فنا ہونے والی تہذیب کے علم بردار تھے۔  انگریزوں کی تہذیب جیسے جیسے پروان چڑھتی گئی ہندوستانی تہذیب اپنی آخری سانسیں لینے لگیں۔  ان کی شاعری ہندوستانی اقدار کا علم بردار تھی۔

شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں

میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں

یہ تو بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔ

دل میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں

طنز و ظرافت کے انداز اور اسلوب سے اکبرؔ نے ایسی عالمگیر شہرت اختیار کی کہ آج بھی لوگ انہیں’ لسان العصر‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔  اکبرؔ نے اپنی شاعری میں ظرافت کے لئے بدھو، جمن اور شیخ جیسے الفاظ استعمال کئے۔  اکبرؔ کو انگریزی، عربی اور فارسی زبانوں پر بھی مہارت تھی۔    اکبرؔ کے کلام میںراگنی اور شوخی ہے۔  ان کی شاعری میں فطری جذبات کا بیان ہے۔  ان کے اشعار میں لطافت اور دردمندی ہے۔ اکبرؔ نے ایک نیا رنگ غزل کے حقیقی ادراک اور اپنے مخصوص طرز بیان کے ذریعے ہی حاصل کیا ہے۔  اس میں خاص لفظیات کا بڑا دخل ہے۔  اکبرؔ کا خاص انداز و اسلوب اور لفظیات کی سطح پر غیر معمولی جدت پسندی نے ان غزلوں کو بالکل نئے رنگ و آہنگ سے ہمکنار کر دیا ہے۔  اکبرؔ کی غزلوں میں ایک پہلو شوخی و ظرافت اور خوش طبعی کا لہجہ بھی ہے۔  چھیڑ چھاڑ اور ہنسنے کا انداز نمایاں ہے۔

اکبر دبے نہیں کسی سلطاں کی فوج سے

لیکن شہید ہوگئے بیوی کی نوج سے

اکبرؔ کی شاعری کی زبان اور بیان فطر ی ہے۔  اس انداز سے کوئی تلخ بات کہہ جاتے ہیں کہ محسوس نہیں ہوتی۔  کلام میں روانی ہے ۔ وہ اپنی شاعری سے نشتر چلاتے تھے۔  ان کی شاعری بوجھل نہیں ہے ۔  ان کا کلام آدمی کو لطف دیتا ہے۔  رعایتِ لفظی، قافیہ اور زبان و بیان کی تمام خوبیاں موجود ہیں۔  اکبرؔ نبض شناش تھے۔  اکبرؔ کا انداز قلندرانہ تھا۔  وہ جدت پسند اور انقلابی شاعر تھے۔  خواص و عام دونوں ان کو اپنا شاعر سمجھتے تھے۔اکبرؔ نے مذہبی اور تہذیبی روایات سے نئی نسل کی بے گانگی اور نوجوانوں کی بے راہ روی کو خاص طور پر عام بول چال کے لفظوں میں نہایت دل آویز اور فن کارانہ انداز میں استعمال کیا۔  ہندی اورانگریزی الفاظ جیسے وہسکی ، پائپ، ٹائپ اور کیمپ سے بھی خاطر خواہ فائدہ اٹھایا ہے۔  انگریزی کے ثقیل الفاظ کو سلیس زبان دے کر پیکرِ جمال میں ڈھال دیتے ہیں ۔:

ان کا طوطی بولتا ہے عرش پر

ان کی مرغی بولتی ہے کیمپ میں

اکبرؔ کے کلام میں طنز و مزاح اسلوب کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔  ان کا ایک نہایت مقبول شعر اس بات کی اچھی مثال ہے:

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

نئے زمانے کے تقاضوں سے متاثر ہو کر آزادی ئ نسواں کا مسئلہ بھی اٹھا۔  اکبرؔ عورتوں کی تعلیم کے خلاف تھے۔  وہ اپنی شاعری میں عورتوں کی تعلیم و ترقی اور آزادی کے موضوعات کو زیرِ بحث لائے۔اکبرؔ اس کو مغربی تہذیب کا حصّہ مانتے تھے۔  ان کا خیال تھا کہ ہندستانی عورت کو اگر مغربی طرز پر تعلیم دی گئی اور اس کو ویسی آزادی ملی تو وہ اپنی مشرقیت کھو دے گی۔  عصمت و عفت کی حفاظت نہ کر سکے گی۔

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں

اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا

پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

جب اکبرؔ نے دیکھا کہ وہ رنگ جہاں کو بدل نہیں سکتے ، وہ آہستہ آہستہ اس بات سے متفق نظر آتے ہیں کہ عورتوں کوتعلیم دینی چاہئے مگر ایسی تعلیم جو گھر کو چلانے میں اس کے کام آسکے۔ ایسی تعلیم جو بچوں کی تربیت اور خاندان کی دیکھ بھال میں مددگار ثابت ہوسکے۔  اس لئے فرماتے ہیں:

تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے مگر

خاتونِ خانہ ہو وہ سبھا کی پری نہ ہوں

اکبرؔ وضاحت کرتے ہیں کہ عورت کو کس قسم کی تعلیم ملنی چاہئے۔  کہتے ہیں کہ:

مشرق کی چال ڈھال کا معمول اور ہے

مغرب کے ناز و رقص کا اسکول اور ہے

اکبرؔ کی طنزیہ مزاحیہ شاعری اس زمانے کی سیاست کا آئینہ دار ہے۔  اکبرؔ نے اردو میں پالیٹکل سٹائر کی روایت کو آگے بڑھایا اور اس کا ایک معیار قائم کیا۔  انگریز حکومت کی چیرہ دستیاں، لڑائو اور حکومت کرو کی پالیسی، کانگریس اور مسلم لیگ کی سیاست کے اتار چڑھائو، گاندھی جی تحریک، عدم تعاون، زبان کا جھگڑا، جلیان والا باغ کا حادثہ اور خلافت تحریک، اکبر نے ان سب کو اپنی تحریروں کاموضوع بنایا۔  اکبرؔ نے حکومت وقت پر کھل کر تنقید کی اور برٹش سامراج کے ہر پہلو پر طنز کیا۔  اکبرؔ نے اردو شاعری میں طنز و مزاح کی روایت کو آگے بڑھایا۔  ان کی شاعری اپنے دور کی تہذیبی تصادم اور سماجی تندیلیوں کا بہترین ترجمان ہے۔ ملک میں برپا ہنگامی اور انقلابی سلسلے مختلف النوع مذہبی و سیاسی تحریکات، عقائد و اصول کے تصادمات نے ان کے دل و دماغ کے و ہ دربارکر دئے تھے جس سے انہوں نے ایسے نتائج اخذ کئے جو ان کی شعری کائنات کا حصّہ بن گئے۔

عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے

کھا کے لندن کی ہوا عہد و وفا بھول گئے

پہنچے ہوٹل تو پھر عید کی پروا نہ رہی

کیک کو چکھ کے سوئیوں کا مزا بھول گئے

اکبرؔ اچھے نثر نگار بھی تھے۔  انہوں نے ترجمے بھی کئے ہیں۔  ان کے خطوط بھی موجود ہیں۔  اکبرؔ کے خطوط اور چھوٹے بڑے مزاحیہ اور سنجیدہ مضامین رسالہ اودھ پنج میں شائع ہوئے ہیں۔  اکبرؔ کے خطوط کے مجموعوں میں زیادہ تر اس زمانے کے خطوط ہیں جب وہ بوڑھے ہوگئے تھے۔ نوعمر بیٹے کے انتقال کا صدمہ ان پر پڑا تھا۔ اس لئے وہ اپنے خطوط میں ایک افسردہ دل اور زندگی سے بے زار انسان معلوم ہوتے ہیں۔  اکبرؔ کے خطوط میں سادگی اور بے ساختگی موجود ہے۔  ان کے خطوط دلچسپ اور مختصر بھی ہیں۔ تصنع کہیں نہیں ہے۔ ان خطوط میں راست بازی اور صداقت بیانی کی خوشبو موجود ہے۔  ان خطوط کے ذریعہ ان کے کلام کی تاریخوں کے بارے میں بڑی مدد ملتی ہے۔  کہیں کہیں زبان و بیان اور شعر و ادب کے مسائل پر بحث کی گئی ہے۔ خطوط میں وہ اپنے اشعار کا پس منظر اور علامتوں کی تشریح کرتے ہیں۔   اپنے خطوط میں وہ موسم ، وقت اور ماحول کی عکاسی بھی بے فطری انداز سے کرتے ہیں۔ وہ اپنے اشعار، قطعات اور نظمیں بھی لکھتے ہیں۔اکبرؔ کے خطوط ان کی شخصیت اور ان کی شاعری کو سمجھنے میں بڑی مد د دیتے ہیں۔  ان کے خطوط کے توسط سے قدر و تہذیب کی اور مضبوط روایتوں کی تاریخ مرتب کی جاسکتی ہے۔

ان کے مکتوب الیہ کثیر التعداد تھے۔  خط و کتابت کا سلسلہ برابر جاری رہا۔  خواجہ حسن نظامی، مرزا ہادی عزیز لکھنوی، عبدالماجد دریا آبادی، منشی دیا نرائن نگم، حبیب الرحمٰن شروانی، مرزا سلطان احمد، پنڈت پدم سنگھ شرما، سید سلیمان ندوی، شیخ عبد القادر وغیرہ کے نام خط لکھے گئے

ہیں۔ اکبرؔ کے بیشتر خطوط چھپ گئے ہیں جو نہایت دلچسپ، لطیف، فصیح و بلیغ عالمانہ بصارت رکھتے ہیں۔  یہ خطوط وقت کا آئینہ بھی ہیں اور حال سے ماضی تک پہنچنے کا وسیلہ بھی ہیں۔ خطوط کے درمیان اردو اور فارسی اشعارشامل ہیں۔

اکبر نے مختلف لوگوں کی کتابوں پر دیباچے بھی لکھے جو مختلف رسالوں اور کتابوں میں موجود ہیں۔  اودھ پنج میں جو مضامین شائع ہوئے وہ زیادہ تر مزاحیہ یا طنزیہ انداز میں ہیں۔  اکبرؔ قدامت پسند مسلمانوںکا مذاق اڑاتے ہیں۔ اکبرؔ کی نثر کو نثر وجود اور نثرقدیم کا امتزاج کہا جاسکتا ہے۔اکبرؔ کی شاعری کی طرح ان کی نثرمیں بھی شخصی بصیرت اور شاعرانہ تعمق نمایاں ہوتی ہے۔  اکبرؔ کی نثری تصانیف کم ہیں مگر جو ہیں ان میں تنوع اور اچھی نثر کا نمونہ ہیں۔   انہوں نے مغربی تہذیب کی شدید مخالفت کی کیونکہ ان کے خیال سے یہ مشرقی عقائد و روایات کے لئے ضرر رساں تھا۔  لیکن نئی نسل ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ بیرونی قدر و تہذیب کی گرفت میں آگئی۔

جہاں تک غزل کا تعلق ہے اکبرؔ اس حقیقت سے خوب واقف تھے کہ غزل کے موضوعات کی دنیا بہت وسیع و عریض ہے۔  چنانچہ انہوں نے غزل میں ایسے مضامین پر مبنی اشعا روافر تعداد میں کہے ہیں جنہیں عام طور سے لوگ غزل سے باہر کے مضامین کہیں گے۔

اکبرؔ کے یہاں نظیرؔ کا سا رنگ ہے۔  نظیرؔ کی طرح اکبرؔ کے یہاں بھی انسانوں کی کیفیات بیان کی گئی ہیں۔  خواص وعام اکبرؔ کو اپنا شاعر سمجھتے تھے۔  اکبر ؔنے عام الفاظ کو علامت کے طور پر استعمال کیا ہے جس کی وجہ سے اکبرؔ کا لب و لہجہ دلکش اور دلپزیر بن گیا۔

کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے

کوئی پارہا ہے کوئی کھو رہا ہے

کوئی تاک میں ہے کسی کو ہے غفلت

کوئی جاگتا ہے کوئی سورہا ہے

کہیں ناامیدی نے بجلی گرائی

کوئی بیج امید کے ہو رہا ہے

اکبرؔ نے اردو شاعری سے جیتنی بے تکلفی برتی ہے ان سے پہلے شاید ہی کسی نے برتی ہے۔  انہوں نے جو موضوع چاہا اختیار کرلیا۔  انہوں نے کبھی ثقافت کی زبان اختیار کی ، کبھی عوام کی زبان، کبھی صوبوں کی زبان، کبھی صوفیوں کی زبان اور کبھی شخص کی زبان اختیار کی ہے۔  ان کے طنز و مزاح کا اصل مقصد قوم کی اصلاح تھا۔  اکبرؔ نے مسلمانوں میں پائی جانے والی برائیوں کی نشاندہی کی ہے۔  مسلمانوں نے انگریزی تہذیب اپنانا شروع کردیا تھا۔  اسلامی تہذیب جب انگریزی تہذیب سے متصادم ہوئی تو مسلمانوں میں نئی نئی تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔  مسلمان کے بچے جوپہلے مسجدوں اور مدرسوں میں قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرتے تھے، اب اسکولوں اور کالجوں میں داخل ہونے لگے۔  اس پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

چھوڑلٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا

شیخ ومسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا

انگریزی تعلیم کا مقصد صرف روزی کمانا تھا۔  انگریزی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان ملازمت حاصل کرنے اور دفتروں کی خاک چھانتے پھرتے ہیں۔  اکبر ان کی حالتِ زار پر افسوس کرتے ہیں۔  انگریزی تہذیب کے تحت ہوٹلوں اور کلبوں میں عورتوں اور مردوں کے آزادانہ میل ملاپ پر طنز کرتے ہیں۔  مسلمانوں کے انداز ترقی پر طنز کرتے ہیں۔

ترقی کی نئی راہیں جو زیرِ آسمان نکلیں

میاں مسجد سے نکلے اور حرم سے بیویاں نکلیں

انگریزی تہذیب اختیار کرنے کے باعث جو تبدیلیاں پیدا ہوئیں اکبرؔ ان کے خلاف تھے۔  اکبرؔ کا خیال تھا جب قوم اپنی تہذیب کو ترک کر کے نئی تہذیب اپناتی ہے تو وہ اپنے حقائق کو بھول جاتی ہیں۔  انگریزی تہذیب اختیار کر کے مسلمانوں میں انگریزی تہذیب کی برائیاں بھی شامل ہوگئی ہیں۔انگریزی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان مادیت اور دہریت کا شکار ہوتے چلے جارہے ہیں۔ انگریزی تعلیم میں مذہب کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔  اکبرؔ کے مطابق قوم کی تشکیل میں مذہب ایک لازمی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔

اکبرؔ ایسی تعلیم کو نا پسند کرتے تھے جو انسان کو ملکی و قومی مفاد سے بے تعلق کردے اور جس کا بنیادی مقصد محض نوکری کا حصول ہی ہو۔  وہ ایسی نظام تعلیم کی بھی مذمت کرتے ہیں جس سے عورت اپنی مشرقیت کھو بیٹھے، پردے کو ترک کردے اور چراغِ خانہ کی بجائے شمعِ محفل بننے کو ترجیع دے۔

فرضی لطیفہ سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر!

مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس

یہ عاشقِ شاہدِ مقصود کے ہیں

نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس

اس میں دو رائے نہیں کہ اکبرؔ مشرقی تہذیب کے دلدادا تھے اور مغربی تہذیب کے مخالف تھے۔  اکبرؔ نے پڑھنے والے کے ذہن کو اصلاح کی طرف مائل کیا۔  اس نقطئہ نظر کی پیش کشی کے لئے انہوں نے خاص اصطلاحیں اور علامتیں بنا رکھی ہیں جن میں سید، اونٹ، کالج، گائے، کلیسا، برہمن، جمن، بدھو میاں شامل ہیں۔  وہ اپنی شاعری سے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔  اپنی جرأت مندانہ طبیعت اور اپنی شاعری سے طنز و مزاح کے لطیف پیرائے سے ظلم و بربریت کو نشانہ بناتے رہے۔  اکبرؔ کی ذہنیت توحید کے تصور سے متاثر تھی اور ان پر وحدانیت کا بڑا گہرا اثر تھا۔  وہ آدمی اور اس کے ماحول کو وہی آزادی دینا چاہتے تھے جو خود فطرت نے عطاکی تھی۔  اکبرؔ کی شاعری کا مقصد بلند اور اس کی ہمدردی ہر طبقے اور ہر جماعت سے وابستہ ہے۔  آج بھی اکبرؔ اپنی شاعرانہ فکر کے ساتھ زندہ ہیں۔  ادب کا گراں قدر حصّہ ہیں:

وہ باتیں جن سے قومیں ہو رہی ہیں نامور سیکھو

اٹھو تہذیب سیکھو، صنعتیں سیکھو، ہنر سیکھو

بڑھائو تجربے اطراف دنیا میں سفر سیکھو

خواصِ خشک و تر سیکھو، علوم بحر و بر سیکھو

شاعری کی ہر صنف میں ان کا طنز اور ان کی ظرافت کی کلکاریاں پڑھنے والوں کے دلوں پر اثر کرنے والی ہوتی ہیں۔   معیار کی برقراری، سوقیانہ پن اور آمد بہ جنگ کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی۔  ان کا طنز کسی کو لڑنے پر آمادہ نہیں کرتا۔ان کے طنز و مزاح میں ایک درمیانی راستہ برابر موجود ہے جو اثر آفرینی بھی رکھتا ہے اور پسندیدگی بھی۔ اکبرؔ کے کلام کو سن کر لطف آتا ہے۔  غیر مانوس الفاظ کلام میں شوخی پیدا کرتے ہیں اور کلام بلاغت کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔

اکبرؔ کی غزلوں میں موجود اصلاح کا نقطہ دلوں کو جھنجھوڑتی ہے اور ذہن کو لمحئہ فکر عطا کرتی ہے۔  ضمیر کے دروازوں پر دستک دیتی ہے۔  لیکن لوگوں کی انا کو تکلیف نہیں پہنچتی اور وہ اپنا محاسبہ کرنے کے لئے مجبور ہوجاتے تھے۔ ان کی شاعری زندگی کی اصلاح و تنقید کا لبِ لباب تھی۔  وہ قوم کو بتانا چاہتے تھے کہ انگریزوں کی نوکری سے ترقی نہیں ملے گی۔دومصروعوں میں اپنے طنز کے تیر اور ظرافت کی چاشنی اسی کما ل کے ساتھ شامل کر دیتے ہیں۔  ان کی غزلوں میں کئی رنگ ملتے ہیں۔  عشق و عاشقی کا بیان، رودادِ قلب اور مشرق و مغرب کے تہذیبی افکار بھی شامل ہیں۔  اکبرؔ نے شاعری میں چست بندشوں اور روزمرہ کا استعمال کیا ہے۔  کلام میں روانی، بے ساختگی، شگفتہ بیانی، اعلیٰ تخیل اور عمدہ تشبیہات و استعارات جیسے عناصر نے مل کر ان کی غزلیات کو جاندار بنا دیا ہے۔  تغزل اور تصوف کے مضامین بھی ان کے یہاں بہت پائے جاتے ہیں۔  اکبرؔ نے غزل کی روایتی مزاح کی پاسداری بھی کی ہے اور اپنے طبع مزاج پسند کے تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے۔

دنیا میں ہوں، دنیا کا طلب گار نہیں ہوں

بازار سے گذرا ہوں، خریدار نہیںہوں

حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھے

آج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی

اکبرؔکی شاعری میں چار عناصر اصلاح، تنقید، طنز اور مزاح بنیادی ستون کے طور پر نظر آتے ہیں۔  یہ چار عناصر بڑی وسعت اور روانی کے ساتھ کھل کر سامنے آتے ہیں۔  طنز ان کی نظموں میں نئی نئی کروتیں لیتا ہے اور ظرافت ہزار پہلو بدل بدل کر اپنے رنگ جمانے لگتی ہیں۔  طوالت کے باوجود اثر آفرینی ذرا متاثر نہیں ہوتی۔  یہ اکبرؔ کے فن کا کمال ہے۔  ان کی شاعری کا بڑا حصّہ اس زمانے کی سیاست کا آئینہ دار ہے۔  انہوں نے سیاسی طنزیہ کو اردو ادب میں معیاری طور سے متعارف کرایا اور اسے عمدہ طور پر نبھایا بھی ہے۔

ہوتی تھی تاکید لندن جائو انگریزی پڑھو

قوم انگلش سے ملو، سیکھو وہی وضع تراش

جگمگاتے ہوٹلوں کا جاکے نظارہ کرو

سوپ و کری کے مزے لو چھوڑ کر یخنی و آش

اپنی رباعیات میںاکبرؔ نے طنز و ظرافت کے تسلسل کو قائم رکھا ہے۔  رباعیات میں اپنے  وہی افکار دہرائے ہیں۔  اکبرؔ نے رباعی کو موضوعاتی اعتبار سے وسیع کردیا ہے اور رباعی کے مزاج کو غزل سے قریب کردیا ہے۔  اکبر ؔ کا  سیدھاسادہ لہجہ اثر رکھتا ہے۔  بات دل پر اثر کرنے والی ہے۔  انداز بیان میں سلاست اور معنی و خیال کی کوئی پیچیدگی نہیں پائی جاتی۔ تصوف یا اخلاقیات کے مضامین کا عمل دخل ہے۔

غفلت کی ہنسی سے آہ بھرنا اچھا

افعال مضر سے کچھ نہ کرنا اچھا

اکبرؔ نے سنا ہے اہلِ غیرت سے یہی

جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا

اکبرؔ ایک باریک ذہن رکھتے تھے۔  ان کا تخیل بلند تھا۔  ان کی طبیعت میں شرارت اور شوخی تھی۔  اکبرؔ تندیلی کو منفی تصور کرتے تھے۔

اکبرؔ کی شاعری کا سلسلہ علامہ اقبال کی شاعری سے جا ملتا ہے۔  اقبال نے اکبرؔ کو اپنا استادِ معنوی کہا ہے۔  اپنے اشعارمیں اکبرؔ کا ذکر کیا ہے اور اکبرؔ سے متاثرہو کر ان کے رنگ میں ابتدائی دور میں مزاحیہ شاعری بھی کی ہے۔  اقبالؔ اور اکبرؔ کے موضوعات میں مماثلتیں ہیں۔

اکبرؔ کے بارے میں قول مشہور ہے کہ وہ روایتی ہوتے ہوئے باغی تھے اور باغی ہوتے ہوئے اصلاحی تھے۔

اکبرؔ کی شاعری شعری ادب کا ایسا اثاثہ ہے جنہیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔  جذباتی طور پر انہیں جو کچھ محسوس ہوا انہیں رقم کردیا گیا۔  وہ تعلیم پر اپنا نظریہ رکھتے تھے۔  اس معتبر شاعر نے معاشرے کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  اپنی شاعری کے ذریعہ ہندوستان کی ڈوبتی ہوئی تہذیب کو بچانے کی کوشش کی۔  یہ مضبوط اور دلیر شاعر تعمیری تنقید کیا کرتے تھے۔  اکبرؔ صفِ اول کے نظم نگار تھے۔  ان کے کلام میں آج بھی اتنی طاقت ہے کہ ان کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے ظریفانہ شاعری کوسماجی اصلاح کے لئے موثر ہتھیار

کے طور پر استعمال کیا ہے۔  ان کی انفرادیت ان کی شاعری میں نظر آتی ہے۔  یہ انفرادیت ان کی دائمی شہرت کا باعث بنی ہے۔ تنقید کے ساتھ ساتھ انہوں نے نصیحت دے کر زمانے کے ضمیر کو دعوتِ معرکہ آرائی دی۔  اکبرؔ اپنی شاعری میں دکھ اور سکھ کے حسین سنگم میں سرگرداں رہتے ہیں۔  وہ آدمی کو گدگداتے بھی ہیں اور دماغ کے تاروں کو چھیرتے بھی ہیں تاکہ عوام قہقہوں کے ساتھ زندگی جینے کا سلیقہ سیکھ جائے۔

شعر اکبرؔ میں کوئی کشف و کرامات نہیں

دل پہ گذری ہوئی ہے اور کوئی بات نہیں

 

حوالہ جات

۱۔       ساحل احمد، ’’اردو خطوں کا مطالعہ‘‘، الہ آباد،  تاج آفسٹ ، لٹریری بک سنٹر چک، ۱۹۹۸، ص۲۷۔۳۴

۲۔      ’’اکبر الہ آبادی کی شاعری میں طنز و مزاح‘‘  EFLU EMMRC Youtube Channel، ۲۰۱۹

 

آبیناز جان علی

مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ

موریشس

 

٭٭

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
چہار بیت، اردوکی عوامی تہذیب کاخوب صورت اظہار ہے۔ پروفیسرشہپر رسول
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں