شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں ادبی محفل کا انعقاد
میرٹھ2؍ دسمبر2021ء
احمد حسنین نے اپنے افسانوں اور ناولوں کے ذریعے ماحولیات کی بہترین عکاسی کی ہے۔ احمد حسنین اردو کے ان معدودے چند فکشن نگاروں میں سے ہیں جنہوں نے ما حولیات اور شکاریات جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ ان کا ایک افسا نوی مجمو عہ’’ شکا ری اور شکاریات‘‘ ہے جس میں انہوں نے نہ صرف شکار اور اس کی جزئیات کے تعلق سے تفصیلی معلومات فرا ہم کرا ئی ہیں بلکہ اس مجمو عے کی کہانیوں کے ذریعے انہوں نے جنگلات اور اس میں پائے جانے والے حیوانات کی حفاظت پر زور دیا ہے۔یہ الفاظ تھے پرو فیسر اسلم جمشید پوری کے جو شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد ایک ادبی محفل میں اپنے صدارتی خطبے کے دوران ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ان کا ناول’’اندھیروں کا مسافر‘‘ اور’’منزل منزل ‘‘بھی ما حولیات کے تعلق سے انتہائی اہم ہے۔ اگر چہ اس میں ڈاکوؤں کی زندگی کو قلم بند کیا گیا ہے لیکن اس کی مرکزی کردار علوزہ ما حولیات کو آلو دگی سے بچا نے کے لیے جن تا لا بوں کی کھدائی اور شجر کاری کا اہتمام کراتی ہے وہ لائق صد تحسین ہے۔احمد حسنین نے ماحولیات اور شکاریات جیسے مو ضو عات پر قلم اٹھا کر لائق تحسین اور قابل تقلید کام کیا ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز محمد عمران نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعد ازاں عظمیٰ پروین نے نعت پاک پیش کی۔پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے معروف فکشن نگار محترم حسنین احمد(الہ آباد)نے شر کت کی جب کہ مہمان ذی وقار کے بطورایم جی ایم،کالج سنبھل کے سابق پرنسپل اور صدر شعبۂ اردو ڈا کٹر عا بد حسین حیدری شریک ہوئے۔۔مہمانوں کا تعارف ڈا کٹر آ صف علی، استقبالیہ کلمات ڈا کٹر ارشاد سیانوی،نظا مت ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم سیدہ مریم الٰہی نے ادا کی۔اس مو قع پر پر احمد حسنین نے اپنی معروف کہانی’’ لاک ان لاک‘‘ کی قرأت کی جسے سامعین نے خوب پسند فر مایا۔
اس مو قع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈا کٹر عا بد حسین حیدری نے کہا کہ اکیسویں صدی کا ناول برق رفتاری کے ساتھ رواں دواں ہے لیکن اس سفر میں انقطاع و اجتہاد کی بہت سی گنجائش ہے۔ انہوں نے شمس الرحمن فاروقی، عبد الصمد، سید محمد اشرف، انیس اشفاق اور شموئل احمد کے ساتھ ساتھ مشرف عالم ذوقی کے ناولوں پر تبصرے کے ساتھ نئی نسل کے رحمن عباس، ممتاز عالم رضوی اور سلمان عبد الصمد کے نا ولوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آج کا ناول نگار بھی اپنے فرائض کو بخو بی انجام دے رہا ہے۔ انہوں نے سید احمد حسنین کے ناولوں’’ اندھیروں کے مسافر‘‘ اور ’’منزل منزل‘‘ کو موجو دہ سماجی کینوس پر محیط بتاتے ہوئے نئے ناول نگاروں اور قاری کے درمیان کا خوبصورت رابطہ قرار دیا اور کہا کہ ان کے ناول کا فی حد تک فنی اقدار کو اپنے اندر سموئے ہو ئے ہے۔
اس مو قع پر سعید احمد سہارنپوری، محمد شمشاد، شہا ب الدین، حفصہ، سمعیہ اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

