اردو زبان: فن تدریس/ محمد قمر سلیم – محمد اکرام
تدریس کے فن اور اس کے طریق کار پر بیشتر زبانوں میں کتابیں اور مضامین موجود ہیں۔ اردو میں بھی فن تدریس پرکتابیں لکھی گئی ہیں جن میں تدریس اردو (ڈاکٹر فرمان فتح پوری)، اردو تدریس : جدید طریقے اور تقاضے (ڈاکٹر ریاض احمد)، اردو زبان کی تدریس (معین الدین)، اردوکی درس و تدریس کے مسائل (ڈاکٹر ہارون ایوب )،اردو زبان کی تدریس و فہم (ڈاکٹر تلمیذ فاطمہ نقوی اور ڈاکٹر آفاق ندیم خاں)، اردو کی تدریس اور نصابی کتابوں کے مسائل ( ڈاکٹراطہر مسعود خاں ) قابل ذکر ہیں۔ اسی سلسلے کی کتاب ہے ‘اردو زبان: فن تدریس‘ جس کے مصنف ڈاکٹر محمد قمر سلیم ہیں۔ اس موضوع پر یہ اہم اور کارآمد کتاب ہے۔چونکہ آپ خود تدریس جیسے باوقار پیشے سے وابستہ ہیں، یہ دور جدیدتکنا لوجی کا ہے، جس کے ذریعے ہر فیلڈ میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ اسی لیے آپ نے طلبا کو عہد حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ان کے اندر دلچسپی پیدا کرنے کی خاطر ہی ‘اردو زبان: فن تدریس’ جیسی کتاب لکھنے کی ضرورت محسوس کی۔ دوران ِ تدریس اپنے طویل تجربے کی بنا پر آپ نے جو مشاہدہ کیا ہے اسی کے پیش نظر اس کتاب میں تدریس کے مختلف تکنیک اور کچھ نئے وضع کردہ اصطلاحات کی روشنی میں مفصل اور جامع بحث کی ہے۔
ڈاکٹر محمد قمر سلیم کی کتاب’اردو زبان: فن تدریس‘ میں تدریس کیا ہے، اس کے طریقے، تدریس کے بنیادی نکات، ماہرین تعلیم کے رہنما اور کارآمد تعلیمی فلسفے، طلبا اور اساتذہ کے درمیان باہمی رشتے، دوران تعلیم آنے والی مشکلات کا حل، متن کی تفہیم میں آنے والی دشواریاں اور ان کا تدارک وغیرہ وغیرہ جیسے اہم نکات سے بحث کی گئی ہے۔ صاحب کتاب نے ابتدا میں ’فن تدریس‘ کے تحت آج کے بچوں میں انگریزی زبان سے قربت اور اس کے اثرات، اردو زبان سے دوری اور اس کے نقصانات کا ذکر بھی کیا ہے اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر اردو زبان کو زندہ رکھنا ہے تو بنیادی سطح پر تدریس اردو کی جڑوں کو مضبوط کرنا ہوگا، اسکولوں میں اس زبان کو صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی زبان بنانا ہوگا اور اس زبان کو تمام تعصبات یعنی کسی خاص مذہب، طبقے اور ذات پات سے بھی پاک رکھنا ہوگا، تبھی یہ زبان دوسری پیشہ ورانہ زبان سے مقابلہ کرپائے گی۔ یہاں بنیادی سطح کی تعلیم سے مراد پرائمری اور ثانوی سطح کی تعلیم ہے جس پر مصنف کا خاص زور ہے۔ مصنف نے تعلیم کے حوالے سے بہت ہی مبسوط اور مربوط گفتگو کی ہے۔ مصنف نے لفظ شناسی، تلفظ اور املا کے مسائل پر بھی بحث کی ہے اور ان کے حل کا طریقہ سبق کی بلند خوانی بتایا گیا ہے۔ میرے حساب سے یہ طریقہ زیادہ کارآمد نہیں ہے۔ کچھ سالوں قبل گاؤں میں جگہ جگہ مکاتب قائم تھے جہاں بنیادی سطح پر چھوٹے چھوٹے بچوں کو اساتذہ لفظ شناسی، تلفظ اور املا کی مشق کراتے تھے جس کی بنا پر ان بچوں میں تلفظ اور املے کی غلطیاں بہت کم ہوتی تھیں۔ مگر اب صورت حال قدرے تبدیل ہوگئی ہے۔ مکاتب تقریباً بندہوچکے ہیں، جس کا منفی اثر یہ پڑا ہے کہ ماڈرن پبلک اسکول اور کالجز کے طلبا کے تلفظ اور املا میں بے تحاشا غلطیاںدیکھنے کو ملتی ہیں۔ اگر مصنف اس کتاب میں ان مکاتب کے فوائد اور ان کے دوبارہ قیام پر زور دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا اور اس کے بہتر نتائج بھی دیکھنے کو ملتے۔ جب بنیاد مضبوط ہوتی ہے تو اس پر مستحکم اور پایہ دار عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے، اس مثال کے ـذریعے مصنف نے یہ سمجھایا ہے کہ فن تدریس میں بنیادی سطحوں کو مضبوط کرنے کے لیے ڈی ایڈ اور بی ایڈ سے تربیت یافتہ اساتذہ کی کتنی اشد ضرورت ہے۔ اساتذہ کے لیے طلبا کی نفسیات کو پڑھنا بھی طریق تدریس کے لیے کارآمد بتایا گیا ہے۔ قمر سلیم نے معیار سے زیادہ ڈگری کے حصول کے خواہاں طلبا اور ان اداروں کی سرزنش کی ہے جو ایسے طلبا کو ڈگریاں فراہم کراتے ہیں۔مصنف کا اردو کے ذریعے ڈی ایڈ، بی ایڈ اور ایم ایڈ کرنے والے طلبا کے لیے اردو میں کتابوں کی عدم دستیابی کا شکوہ بھی بجا ہے لیکن اس ضمن میں این سی ای آر ٹی نے حال میں جو پہل کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔
کتاب کا پہلا باب ‘تدریس اور متن ہے’ جس کے تحت زبان کی تدریس، تدریس میں بنیادی عناصر کی اہمیت، متن کا تدریسیاتی تجزیہ جیسے مضامین شامل ہیں۔ پہلا مضمون ‘تدریس اور متن ہے’ اس مضمون میں اردو اساتذہ کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ طلبا کو درس دیتے وقت اردو زبان کو محض مضمون نہیں بلکہ زبان کی حیثیت سے پڑھائیں اور کسی موضوع پر درس سے پہلے تمہید ضرور باندھیں تاکہ طلبا ذہنی طور پر پڑھنے کیے لیے تیار ہوجائیں۔ دوسرا مضمون ‘تدریس میں بنیادی عناصر کی اہمیت’ یہ موضوع اس لیے بھی اہم ہے کہ طلبا کی دلچسپی کی خاطر پہلی قومی تعلیمی پالیسی میں 10 اہم اور بنیادی عناصر کی طرف نشان دہی کی گئی تھی جس کا جاننا ہر ہندوستانی کے لیے ضروری قرار دیا گیا تھا۔ مصنف کے بقول ان عناصر کا ذکر اس سے پہلے اردو تدریس کی کسی بھی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ تعلیمی اصلاحات کے ضمن میں 10 بنیادی عناصر میں ہندوستان کی تحریک آزادی کی تاریخ، آئینی پابندیاں، قومی پہچان کی تعلیم کے لیے ضروری متن، ہندوستان کی عام ثقافتی میراث، مساواتیت، جمہوریت اور سیکولرازم، جنسی مساوات، ماحول کی حفاظت، سماجی رکاوٹوں کو دور کرنا، چھوٹے خاندان کے اصولوں پر چلنا، سائنسی رجحانات کی شمولیت شامل ہیں۔ ان نکات کی طرف مصنف نے طلبا اور اساتذہ دونوں کو دھیان دینے کی ترغیب دلائی ہے۔
دوسرا باب ‘نظریات اور تکنیکیں’ ہے جس کے تحت زبان کی تدریس اور آموزش سے متعلق نظریات اور تنقیدی نقطۂ نظر، تدریس بذریعہ نقالی، تکثیری ذہانت اور زبان، بچوں کی نفسیات اور کھیلوں کے ذریعے تعلیم، تعمیریت اور زبان کی تدریس، تصور کی نقشہ بندی، زبان کا ہمہ جہت نظریہ جیسے مضامین شامل ہیں۔ یہ باب غالباً بچوں کی نفسیات کو دھیان میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ ‘بچوں کی نفسیات کھیلوں کے ذریعے تعلیم’ یہ مضمون خاص طور پر بچوں کو پڑھنے کی طرف راغب کرے گا۔ بچوں کی دلچسپی کے لیے اس باب میں نقشوں کا استعمال لائق ستائش ہے۔
تیسرا باب ‘عکس تدریس و آموزش’ ہے جس کے ضمن میں دو مضامین ‘جریدۂ عکس’ اور ‘تدارکی تدریس’ شامل ہیں۔ پہلے مضمون میں طلبا اور اساتذہ دونوں کو اس جانب توجہ دلائی گئی ہے کہ وہ آموزش اور تدریس کا عکس خود دیکھیں اور اپنے اندر کی خامیوں کو خوبیوں میں تبدیل کریں۔ دوسرے مضمون میں تدارکی تدریس کی اہمیت و افادیت پر زور ہے اور ان کی مثال اس ڈاکٹر سے دی گئی ہے جو اپنے مریض کی بیماری کی تشخیص کے بعد ہی اس کا علاج کرتا ہے اور یہی طریقہ دونوں کے لیے مناسب اور سودمند ہے۔
چوتھا باب ‘فلسفہ اور تدریس ہے’ جس کے تحت پاؤلر فریری اور مکالمے کی تکنیک، ڈی بونو اور چھ مفکرانہ ٹوپیاں، روسو اور طفل مرکوز تعلیم، ٹیگور: متعلم، آزادی اور خود مختار، گاندھی: فلسفہ، بنیادی تعلیم اور تعمیری کام جیسے مضامین شامل ہیں۔ اس باب کے عناوین دیکھ کر اردو کے قارئین یہ بات ضرور سوچیں گے کہ مصنف کی آخر کیا مجبوری تھی کہ انھوں نے عام اساتذہ یا اردو کے مصنف/ مولف کے طریق تدریس کے بجائے پاؤلر فریری، ڈی بونو اور روسو جیسے فلسفیوں کے حالات زندگی اور طریق تدریس کو رقم کیا ہے۔ اس کی وجہ صاحب کتاب یہ بیان کرتے ہیں کہ ان فلسفیوں نے تدریسیات کو ایک نیا رخ دیا ہے اور انھوں نے عام روش سے ہٹ کر بچوں کی نفسیات اور تدریس کے نئے طریق کار پر مفید اور کارآمد نکات پیش کیے ہیں۔ تدریسیات کے باب میں ان افادی پہلوؤںپر عمل ناگزیر ہے۔ اس باب کے پہلے مضمون ’فریری کے مکالمے کی تکنیک‘ میں تکنیک کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ڈرامے کے عمل میں مکالموں کی کیا اہمیت ہے۔ فریری نے اس ضمن میں مکالموں کو ڈراموں کا نہیں بلکہ روزمرہ کی زندگی کا اٹوٹ حصہ بتایا ہے۔ دوسرا مضمون ‘ڈی بونو کی چھ مفکرانہ ٹوپیوں’ ہے۔ اس مضمون میں ڈی بونو نے انتظامیہ کی تربیت کی خاطر مختلف اقسام کے رنگ برنگی ٹوپیوں کا استعمال کیا ہے۔اس نظریے کو اردو کی تدریس کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔ تیسرا عنوان ہے ‘روسو اور طفل مرکوز تعلیم’ اس مضمون میں روسو کے اس فلسفے کا ذکر ہے جس نے عام ڈگر سے ہٹ کا تعلیم کا مرکز معلم کے بجائے بچے کو بنایا ہے۔
پانچواں باب ہے ‘جائزہ اور مسائل’ اس میں دو مضامین شامل ہیں : ‘مسرت آمیز آموزش اور جائزہ’ اور ’متن، طلبا اور معلم سے متعلق مسائل’۔ اس باب میں اساتذہ کے تعلق سے یہ بات کہی گئی ہے کہ وہ خوشگوار ماحول میں تدریس کا فریضہ انجام دیں۔ اگر طلبا سے پڑھائے گئے سبق کے بارے میں جائزہ لینا ہو تو مسرت اور طمانیت بخش ماحول ہی بہتر ہے۔ اس باب میں نئی ٹیکنالوجی اور متن کے درپیش مسائل سے نجات حاصل کرنے کی سبیل بتائی گئی ہے۔
چھٹا باب ‘6عام ملفوظات’ کے تحت تدریس کے عام و خاص مقاصد، اسباب کی قسمیں، طریقہ کار اور سبق کے مراحل، اردو بہ حیثیت مضمون، ذریعۂ تعلیم، بچہ، زبان اور تدریس جیسے مضامین شامل ہیں۔اس باب میں تدریس کے افادی امور کی طرف اشارے کیے گئے ہیں۔ مثلاً نثرو نظم اور قواعد و انشا کے مقاصد بیان کرتے وقت کن باتوں پر دھیان رکھیں اور ان کے کیا ممکنہ مقاصد ہوں۔ پہلے مضمون ‘تدریس کے عام و خاص مقاصد’ میں ایک اچھے استاد کی خصوصیات پر گفتگو کی گئی ہے۔ استاد کے لیے کسی موضوع پر درس دینے سے پہلے اس موضوع پربھرپور مطالعے کو ضروری بتایا گیا ہے تاکہ بچوں کو اس موضوع سے متعلق کسی تشنگی کا احساس نہ ہو۔ اسی باب میں ایک مضمون ‘اردو بہ حیثیت مضمون اور ذریعہ تعلیم’ میں اردو زبان کی حیثیت، اہمیت اور افادیت پر بھرپور روشنی ڈالی گئی ہے۔ آخری مضمون ’بچہ، زبان اور تدریس‘ ہے جس میں بچے کی نشو و نما میں زبان کی اہمیت، ذہنی نشو و نما ، جذباتی نشو و نما، سماجی نشو و نما، زبان سیکھنے کی نفسیات، تدریس زبان کے اصول، تدریس زبان کے گر، ارتباط یا باہمی ربط وغیرہ وغیرہ جیسے نکات سے بحث کی گئی ہے۔ آخر میں بچوں کی مشق کے لیے نمونۂ اسباق دیے گئے ہیں جس کے ذریعے بچے اپنی یادداشت مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ نمونۂ سبق کے بعد اردو اصطلاحات کے انگریزی متباد ل دیے گئے ہیں تاکہ اگر کسی بچے کو اردو کی اچھی سمجھ نہیں ہے تو وہ انگلش اصطلاح کے ذریعے سمجھ سکے۔
ڈاکٹر قمر سلیم کی یہ کتاب ‘اردو زبان: فنِ تدریس’ کا مطالعہ اساتذہ اور طلبا دونوں کے لیے کارآمد ہے۔ تدریس کے طریقے میں بہتری لانے کے لیے جن امور اور نکات کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہے اس پر عمل کرکے تدریس کے مروجہ طریق میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ کتاب کا سرِورق قابل تحسین ہے جہاں ایک چھوٹی سی بچی کو اردو لکھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ آج کے بچوں کو اردو زبان سیکھنے کی طرف مائل کرنے کا یہ بہت بہتر طریقہ ہے۔ جس بچی کی تصویر ٹائٹل پر دی گئی ہے وہ ڈاکٹر قمر سلیم کی بھتیجی ہے جو امریکہ میں اپنے والدین کے ساتھ مقیم ہے مگر اپنی مادری زبان اردو سے اسے بے پناہ محبت ہے۔
مجھے امید ہے کہ یہ کتاب اساتذہ اور طلبہ کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی۔
٭٭٭
٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

