شعبہ اردوکے پریم چند سیمینار ہال میں’بزم اردو‘ کے تحت پروگرام کا انعقاد
(پریس رلیز)
میرٹھ 04 ؍ دسمبر2021ء
تعلیم کے ساتھ تربیت شخصیت کو بہتر بناتی ہے۔ ادبی محفلوں سے طالب علم جہاں سلیقہ ، روایت کا احترام اور نت نئے ڈھنگ سیکھتا ہے، وہیں اس کے اندر بردباری آتی ہے۔یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری کے جنہیں وہ شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد’ بزم اردو ‘ کے تحت ہونے و الے پروگرام میں ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے سبھی طلباء و طالبات کی حوصلہ افضائی کرتے ہوئے مفید مشوروں سے بھی نوازا اور آئندہ بہترتخلیقات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ڈاکٹرآصف علی نے طلبا و طالبات کو تعلیم کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ طلبہ ملک قوم اورملت کا سرمایہ اور مستقبل کے ضامن ہیں اس لیے ضروری ہے کہ انہیں معلومات فراہم کرانے کے ساتھ ان کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں کیوں کہ آج معاشرے میں علم کی ترقی کے باوجود برائیوں کی جو تعداد بڑھ رہی ہے وہ تربیت سے عدم توجہی کا تنیجہ ہے۔ طلبا و طالبات کے بہتر مستقبل کے لیے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں تعلیم کے میدان میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے محنت کرنے والوں کے لیے کامیابی کے میدان ان کا انتظار کرتے ہیں۔ہمیں اپنے آپ پر اعتمادرکھتے ہوئے بہتر سے بہتر مستقبل کو سنوارنے کی فکر کرنی چاہیے۔
پروگرام کا آغاز ایم ۔اے سال اول کی طالبہ رضیہ سلطانہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔بعدازاںایم ۔اے کی طالبہ عظمیٰ پروین نے نعت، ثمانہ نے مقبول شاعرہ شبینہ ادیب کی غزل شاہ نور علی نے پروفیسر وسیم بریلوی کی غزل شفاء نے اقبال کے اشعارپیش کیے ،جبکہ سعید احمد سہارنپوری نے اپنی منفرد آواز میں غزل پیش کرسامعین کا دل جیت لیا۔اس موقع پر ، ایم سال اول و دوم کے تمام طلبا و طالبات شریک رہے ۔
٭٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

