جنگل میں آج غیر معمولی گہما گہمی ہے
جنگل کے مکینوں نے آج اپنا تہوار منایا ہے
شام کے وقت تہوار کی رسم کے مطابق جنگل کے تمام باسی ایک میدان میں جمع ہے گفتگو کا مرکز نہ جانے کیسے انسان بن گیا ہر ذی روح سواے انسان اس موضوع میں ہمیشہ کی طرح دلچسپی لے رہا ہے
ان کی گفتگو کچھ یوں ہے
حضرت انسان دن دگنی رات چوگنی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے آئے دن کوئی نیا انکشاف اور کوئی انوکھی ایجاد ہوتی ہے
انسان انسان کے کس قدر قریب آچکا ہے کہ اس کا دماغ اس کی سوچیں تک جان رہا ہے
اشرف المخلوقات کی یہ ذہانت اور کرامت دیکھ کر کئی چرند اور پرند انگشت بدندان ہیں
کئی حیرت کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں
بزرگوں کا گروہ طنزیہ اور رنجیدگی کا تاثر ظاہر کر رہا ہے
نوجوان سنجیدہ ہیں اور حیران ہیں
معتبر بزرگ انسان کی روداد سناتے جا رہے ہیں کہ
یہ ننھی مخلوق جسے ہم تمام مخلوق پر فضیلت حاصل ہے یہ کس قدر غریب ہے یہ کس قدر اپنے ہم جنسوں سے دور ہے یہ کس قدر احساس سے عاری ہے
کیا ان کے پاس دل نہیں جس کی دھڑکنوں کی آواز سے ان میں رحم کرنے کی کوئی تحریک پیدا ہو
یہ ہم پر حکومت کرنے والا ہمیں تسخیر کرنے کی طاقت رکھنے والا زمین کو چھوڑ کر اب دوسرے سیاروں پر برا جمان ہونے کے منصوبے بنانے والا کس قدر نادان ہے یہ
اسے کسی تکلیف کا احساس نہیں
اس کے پاس کسی رنج کی دوا نہیں
یہ کسی درد کا درماں نہیں
یہ کتنا بے بس مجبور اور لاچار ہے
یہ خود کو عقل کل اور حرف آخر سمجھنے والا
جذبات کو سمجھنے میں لاچار ہے
یہ زمہریر احساسات کا مالک
غریب سی ایک مخلوق ہے
بے کلی اور بے سکونی ازل سے جس کا مقدر ہے
چند شریر نوجوان یہ روداد سن کر بے اختیار قہقہے لگانے لگے
جنھیں سنجیدہ اور معتبر بزرگوں نے ڈپٹ کر خاموش کرا دیا
اور انسان بننے سے ڈرایا
لیکن اپنی مسکراہٹوں پر بھی قابو نہ پاسکے۔
کلثوم مہر
یکم دسمبر 2021ء
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

