حوصلہ ٹوٹ بھی تو سکتا ہے
آسماں روٹھ بھی تو سکتا ہے
مطمئن ہو کے چل رہے ہو میاں
رہنما لوٹ بھی تو سکتا ہے
کیوں تمھیں فکر ہو مقابل کی
آئینہ ٹوٹ بھی تو سکتا ہے
منحصر جس پہ زندگی ہے ندیم
ہاتھ وہ چھوٹ بھی تو سکتا ہے
خالد ندیم
سرگودھا پاکستان
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

