Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

مصر میں فروغِ اردو کے لیے پروفیسر حسن الاعظمی کی جدوجہد – عبدالعلیم قاسمی بن عبدالعظیم اصلاحی

by adbimiras دسمبر 7, 2021
by adbimiras دسمبر 7, 2021 0 comment

ہند و پاک میں وجود پذیر زبان "اردو” چند دہائیوں ہی میں مقامی سرحدوں کو عبور کرکے متعدد ملکوں میں داخل ہوئی ، آج دنیا کے کم و بیش اکثر ممالک کی یونیورسٹیوں اور جامعات  میں”  اردو "کو بحثیت زبان پڑھایا جاتا ہے ، بہت سی یونیورسٹیوں اور جامعات میں اردو کے علاحدہ  شعبے بھی قائم ہیں ، اردو اب محض مسلمانوں یا ہند و پاک کی زبان نہیں رہی ہے ؛ بلکہ یہ ایک عالمی زبان کا درجہ رکھتی ہے ، اردو کو فروغ دینے کے لیے ، اس کو متعدد ملکوں میں متعارف کرانے کے لیے عاشقانِ زبانِ اردو کی لازوال قربانیاں اور انتہک محنت و جدوجہد رہی ہے ۔

پروفیسر حسن الاعظمی دنیا کی متعدد زبانوں پر مہارت رکھتے تھے، اردو ، فارسی ، عربی ، انگریزی اور ترکی پر یکساں مہارت تھی ، آپ کی کوششوں اور جد و جہد سے مصر میں اردو کے فروغ ملا ، جامعہ مصریہ اور مصر کی دیگر یونیورسٹیوں میں اردو کا شعبہ قائم ہوا ، مصر میں اردو کے فروغ کے بعد اہل شام ، بغداد اور ترکی بھی اپنے ملکوں میں اردو کے شعبے قائم کئے جو کہ حسن الاعظمی ہی کی جد و جہد کے ثمرات تھے ۔

حسن الاعظمی 25/ دسمبر 1918 کو مبارک پور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے ، مدرسۃ التعلیم اور جامعہ احیاء العلوم مبارک پور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ، اس کے بعد 1930ء میں جامعہ سیفیہ سورت تشریف لائے ، یہاں آپ نے ملا رحمت مبارک پوری کی نگرانی میں اسلامی فرقوں کی بنیادی کتب اور ادیان عالم کا مطالعہ کیا ، مزید علمی تشنگی بجھانے کے لیے عالم اسلام کے عظیم ادارہ  "جامعہ ازہر” مصر میں داخلہ لیا ، یہاں چند سال تعلیم حاصل کرکے  سند فراغت حاصل کی ، فراغت کے بعد جامعہ ازہر ہی میں پروفیسر منتخب ہوئے ، مصر اور عالم اسلام میں علامہ اقبال کے فلسفہ کو متعارف کرانا ، ان کے اشعار کو عربی میں پیش کرکے عالم عرب کو فکر اقبال سے روشناس کرانا اور مصر میں اردو کو فروغ دینا ،جلی حروف سے لکھنے کے لائق آپ کے کارہائے جلیلہ ہیں ۔

پروفیسر حسن الاعظمی کا شمار کثیر التصانیف مصنفین میں ہوتا ہے ، آپ نے اردو اور عربی میں سو سے زائد کتابیں لکھی ہیں ، "المعجم الاعظم ” کے نام سے چار جلدوں میں عربی اردو لغت اور پانچ جلدوں میں اردو عربی لغت لکھی ہے ، آپ نے ہند و پاک اور مصر کو ایک دوسرے سے روشناس کرانے کے لیے مصر کے حالات ، وہاں کی تاریخی ، ثقافتی اور تہذیبی نقوش پر مشتمل متعدد کتابیں بنام "آزاد مصد ” ، "آج کا مصر” ، "انقلابی مصر "اور عظیم مصر ”  وغیرہ اردو میں لکھی ،  اسی طرح ہندو پاک پر عربی میں کتابیں لکھی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں ۔

(1)فتی الہند و باکستان (2)الثقافۃ الاسلامیۃ فی الھند و باکستان (3) کشمیر جنۃ الارض

قاضی اطہر مبارک پوری اہل مبارک پور کے تصنیفی کارناموں کے ضمن میں لکھتے ہیں :

*استاذ محمد حسن الاعظمی مبارک پوری ازہری کی بہت سی عربی تصانیف قاہرہ اور بیروت سے شائع ہوئی ہیں ، 1939ء میں حکومت مصر نے "جامع ازہر” کے ہزار سالہ جشن کے موقع پر مشہور فاطمی حاکم امیر تمیم کا دیوان شائع کیا ، جسے استاذ موصوف نے مرتب کیا ، پھر 1954ء میں مصر سے شائع ہوا ۔ ان ہی کی جدوجہد سے شاہ فاروق کے دور میں جامع ازہر میں پہلی بار اردو زبان کی تعلیم جاری ہوئی ، اور وہی اس کے پہلے معلم ہوئے ، استاذ محمد حسن ازہری نے اپنی سینکڑوں عربی اردو تصانیف و توالیف  کے ذریعہ اسماعیلی مذہب کو ستر سے ظہور میں لاکھڑا کیا ۔ ان کی سینکڑوں تصانیف میں "المعجم الاعظم” عربی اردو لغت اہم ترین کتاب ہے* ۔ ”  (1)

پروفیسر حسن الاعظمی کے کارہائے جلیلہ میں سب سے بڑا کارنامہ مصر میں اردو کو فروغ دینا اور جامعہ مصریہ(موجودہ نام جامعہ قاھرہ) اور جامع ازہر میں اردو کے شعبہ کا قیام ہے ، جامعہ مصریہ میں شروع میں آپ کے مطالبہ پر اردو کو ایک اختیاری مضمون کی حیثیت سے نصاب میں داخل کیا ، لیکن اس کے نمبرات شمار نہیں کئے جاتے تھے ، اس کے علاوہ آپ ہر پنج شنبہ کو "اقبالیات ” پر لکچر دیتے تھے،جس کی وجہ سے علامہ اقبال کو براہ راست سمجھنے کے لیے مصریوں کے اندر اردو سیکھنے کا جذبہ پیدا ہوا ، بعد میں آپ نے جامعہ مصریہ میں اردو کو دیگر زبانوں کی طرح نصاب میں مستقل طور داخل کرنے کی درخواست کی ، اس جدوجہد کی روداد حسن الاعظمی ہی کی قلم سے ملاحظہ فرمائیں ، لکھتے ہیں :

*”1937ء میں جب میں نے دیکھا کہ جامع مصریہ میں باقی تمام اہم مشرقی زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے، لیکن اردو کونظرانداز کر دیاگیا ہے تو کلیة الآداب کے پرنسپل ڈاکٹر طہ حسین سے ملاقات کی اور ان سے درخواست کی کہ اردو تعلیم کا بھی بندوبست ہونا چاہیے۔ بہت مشکل سے یہ فیصلہ ہوا کہ اردو ایک اختیاری مضمون کی طرح پڑھی جائے۔*

*یعنی اس کے نمبر نہ شمار ہوں گے ۔ ڈیڑھ سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ میں نے اس عرصہ میں 20/ طلبہ کو اردو پڑھائی۔ شرط یہ تھی کہ اردو صرف وہی طلبہ پڑھ سکتے ہیں، جو فارسی اور عربي دونوں زبانوں سے واقف ہوں۔ چناں چہ میں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ طلبہ کو پہلے اسیی اردو پڑھائی جس میں عربی و فارسی کے کافی الفاظ موجود تھے، اس طرح طلبہ بہتر اردو لکھنا پڑھنا سیکھ گئے، پھر انھیں آہستہ آہستہ آسان لفظ استعمال کرنے کی مشق کرائی ۔* *غرض عرب طلبہ کو اردو تعلیم کے لیے یہاں سے الٹا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے، مثلا پہلے اردو چوتھی، پھر تیسری، پھر دوسری پھر پہلی ۔ جو اردو یہاں آسان کہی جاسکتی ہے وہاں مشکل ہوگی۔ اس لیے کہ ہندی الفاظ زیادہ ہوتے ہیں، اور جو مشکل کہی جاتی ہے وہ وہاں آسان ہوگی ۔ اور اس طرح ہندوؤں کی متوقع اردو کا ہندوستان سے باہر رائج ہونا نا ممکن ہے ۔*

*اس دوران میں نے یہ پروپیگنڈہ جاری رکھا کہ اردو کو دیگر زبانوں کا رتبہ دیا جائے اور اس کے نمبر دوسرے نمبروں میں شمار ہوں۔ آخر میری محنت بارآور ہوئی اور 7/ مارچ 1939ء کو پارلیمنٹ نے یہ تجویز منظور کرلی۔”* (2)

پروفیسر حسن الاعظمی کی درخواست پر جامعہ مصریہ کے نصاب میں اردو داخل کی گئی ، اس وقت کے مصر کے فرماں رواں شاہ فاروق نے ایک خاص فرمان کے ذریعہ اس کی اجازت دی ، چونکہ یہ فرمان اردو کی تاریخ میں خاص اہمیت و افادیت رکھتا ہے ، اس لیے ہم یہاں اس طویل فرمان کے بعض اہم نکات  درج کرتے ہیں :

*”ہم فاروق اول شاہ مصر ، بابت لائحہ اساسیہ برائے کلیہ آداب و بربناء تصفیہ مجلس جامعہ (یونیورسٹی بورڈ) مورخہ 7/ مارچ 1939ء کو بربناء عریضہ وزیرِ تعلیمات عامہ و بمطابق رائے مجلس وزراء ذیل کا قانون درج کرتے ہیں ۔*

*(1) کلیہ آداب (آرٹ کالج ) میں ایک معہد (ٹرینگ کالج ) کھولا جائے، جس کا نام ” معہد اللغات الشرقیہ و آدابھا ” رکھا جائے ، اس کی غرض و غایت امم اسلامیہ کی زبانوں اور قدیم و جدید عربی لہجوں میں امتیاز پیدا کرنا ہے۔*

*(2) معہد حسب ذیل شعبوں پر مشتمل ہوگا ۔*

*(1)  شعبہ زبانِ امم اسلامیہ*

*(2) شعبہ لہجاتِ عربیہ زبان امم اسلامیہ میں حسب ذیل زبانوں کی تعلیم دی جائے گی ، فارسی ترکی اور اردو (ہندوستانی ) مزید برآں قدیم اور زندہ مشرقی زبانوں کا اضافہ کیا جائے گا ، کلیہ میں طالب علم کی شرکت کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ عربی ادب کا بی اے (B.A) ہو یا کوئی اور ڈگری رکھتا ہو ، جو طیلسانین کے مساوی ہو جسے کالج بورڈ کی رائے کی بناء پر یونیورسٹی بورڈ معتبر سمجھے۔”* (3)

جامعہ مصریہ میں اردو کے قیام کے بعد اس شعبہ میں کسی ماہر استاذ کے لیے ہندوستان سے کسی موزوں شخص کے تقرر کے لیے خطوط لکھے گئے ، چونکہ ذریعہ تعلیم عربی تھی ، اور طلباء کے لیے اردو دانی کا ذوق عربی تفہیم و تدریس کے بغیر دشوار تھا ، نیز پروفیسر حسن الاعظمی ایک عرصے سے اردو خدمات انجام دے رہے تھے ، اور عربی میں بھی کافی مہارت حاصل کرلی تھی ، اور آپ نے جامع ازہر سے آخری ڈگری امتیاز کے ساتھ حاصل کی تھی ، اسی لیے بالآخر آپ ہی کو شعبہ اردو کا پروفیسر منتخب کیا گیا ۔

 

مولانا عبدالحلیم ظہوری مصر میں اردو کے اولین نقوش اور اردو کے فروغ  کے لیے مصر میں کی جانے والی سعی و جہد اورکوششوں کا تذکرہ "مصر میں اردو ” نامی کتاب میں کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

*” ادھر ایک عرصہ سے ہندوستان میں اردو زبان کو کل ہند زبان بنانے کا مسئلہ درپیش ہے ، تمام ممکن ذرائع اس کی نشر و اشاعت اور ترویج و توسیع کے لیے استعمال کئے جارہے ہیں، اس کو تمام ہندوستان کی قومی و ملکی زبان قرار دینے کے لیے کبھی اس کی ساخت ، اس کی ہییت ترکیبی اور اس کی لچک سے حجت کی جارہی ہے ، اور کبھی اس کے عالم گیر زبان ہونے کے دعوے میں یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ دنیا کے ہر گوشہ میں وہ بولی اور سمجھی جاتی ہے ، لیکن تحقیقات کی دنیا میں یہ امر حیرت افزا ہے کہ بیرون ہند میں اس کی ترویج و اشاعت کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ، سرزمین مصر میں جو اس وقت عالم اسلام کی تہذیب و ثقافت کا مرکز اور اسلامی علوم و فنون کا سرچشمہ ہے، اردو زبان کی نشر و اشاعت کے ذریعہ اس کے ادبیات و معارف اس کے علمی جواہر ریزوں اور یہاں کے بہترین دماغی شاہکار سے روشناس کرانے کے لیے کہاں تک اقدامی سعی اور عملی جدو جہد کی گئی ہے ۔ پروفیسر حسن الاعظمی دنیائے اردو ادب میں لائق صد تحسین اور مبارک آباد ہیں کہ آپ نے اردو زبان کی ترقی و احیاء کے لیے جدوجہد شروع کی ، 1938ء میں موصوف نے ڈاکٹر طہ حسین پرنسپل "کلیۃ الآداب” جامعہ مصریہ سے درخواست کی کہ اردو زبان کی تعلیم کا انتظام کلیہ میں کیا جائے ۔*

*اس درخواست کو منظور کرلیا گیا ، اور ڈاکٹر صاحب نے عارضی طور پر ایک سال کے لیے حسن الاعظمی صاحب کو "اردو ادب اور شاعری” پر لکچر دینے کے لیے مقرر کردیا۔ اس شعبہ میں ایم ، اے کے تقریبا  20/ طلباء نے شرکت کی ، ان دروس میں زیادہ تر علامہ اقبال کے فلسفہ کی تشریح اور اردو زبان کے دیگر بعض شعراء مثلا غالب ، حالی ، اکبر اور امجد حیدرآبادی وغیرہ سے تعارف کرایا گیا۔ جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ۔*

*1939ء میں مذکورہ طلباء نے حکومت مصریہ میں ایک عریضہ پیش کیا کہ اردو کو بطور ایک علمی زبان کے فارسی و ترکی زبان کے ساتھ ساتھ کلیہ آداب میں داخل کیا جائے ۔  اسی اثناء میں ڈاکٹر عبدالوہاب بک عزام نے جو اس وقت کلیہ آداب میں ” شعبہ السنہ مشرقیہ "اور علامہ اقبال سے ان کا تعارف لندن میں ہوچکا تھا ، اقبالیات کو سمجھنے کے لیے پروفیسر حسن الاعظمی سے  اردو زبان سیکھی ، ڈاکٹر صاحب ترکی ، انگریزی فارسی ، جرمن اور دیگر کئی مغربی زبانوں کے ماہر ہیں ، آپ نے بھی اقبالیات کا ترجمہ عربی میں کیا اور اردو کو نصاب میں شریک کرنے میں بڑی مدد کی ۔ مصری پارلیامنٹ اور اردو شاہ مصر فاروق اول کے فرمان کے ذریعہ جامعہ مصریہ میں اردو کو شامل کیا گیا ، پروفیسر حسن الاعظمی کی ہی درخواست پر جامع ازہر وغیرہ میں بھی اردو شعبے کھلے ، مصر میں  اردو زبان کی خدمات اور اس کی نشر و  اشاعت کا یہ مختصر اولین خاکہ ہے۔* "(4)

جامعہ مصریہ میں اردو کے قیام کے بعد نصاب کا مسئلہ پیش آیا کہ اس شعبہ میں کون سی کتابیں پڑھائی جائے ، کیسا نصاب منتخب کیا جائے ،پروفیسر حسن الاعظمی نے اردو زبان کے اپنے ایک شاگرد ڈاکٹر عبدالوہاب بک عزام کے ساتھ مل کر اس شعبہ کے نصاب کو مرتب کیا ، جس کے ذریعہ مصر کے اساطین علم و ادب نے پروفیسر حسن الاعظمی سے اردو زبان سیکھی ، جن میں مصری ادیب محمد حسن زیات ، ڈاکٹر طہ حسین شیخ صاوی شعلان قابل ذکر ہیں ۔ پروفیسر حسن الاعظمی اپنی کتاب "عظیم مصر ” میں لکھتے ہیں کہ :

*” تین سال کا نصاب مقرر ہوا اور فیصلہ ہوا کہ پہلے اور تیسرے سال امتحان ہوں ، ڈاکٹر عزام کی مدد سے میں نے عربی اور فارسی جاننے والوں کو اردو پڑھانے کا ایک خاص نصاب تیار کرلیا تھا، اس سے پہلے میں زیادہ تر طلبہ کو اقبال اور غالب کی نظم اور بعض ملکی نثر نگاروں کے چیدہ چیدہ شاہ کار پڑھاتا تھا۔”* (5)

مارچ 1939ء میں جامع مصر میں باقاعدہ اردو زبان و ادب کی تعلیم شروع ہونے کے بعد اعظمی صاحب نے جامع ازہر مصر کے وائس چانسلر علامہ شیخ محمد مصطفى المراغی کی خدمت میں ایک مراسلہ روانہ کیا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جامعہ ازہر میں اردو تعلیم کو باقاعدہ شریکِ نصاب کیا جائے ۔ شیخ مراغی نے آپ سے وعدہ کیا کہ اگر کوئی موزوں شخص تعلیم دینے کے لیے مل جائے توکل ہی سے اس کا انتظام کیا جاسکتا ہے، اور یہاں تک کہا کہ اگر تم جامع مصر کو چھوڑ کر ازہر میں آنے کے لیے تیار ہو جاؤ تو ابھی تقرری کے احکام نافذ کیے جاسکتے ہیں۔

چناں چہ فروغِ اردو کے لیے آپ نے جامع مصریہ سے استعفی دے کر جامعہ ازہر میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا۔ آپ کے بعد جامعہ مصریہ میں بہت سے اساتذہ نے اردو کی تعلیم دی ۔ ان میں سے ایک پروفیسر ڈاکٹر محمد یوسف علیگ بھوپالی شاگرد علامہ عبد العزی میمن بھی تھے۔(6)

ڈاکٹر شباب الدین صاحب  پروفیسر حسن الاعظمی کی زریں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں  :

*”اس علمی گہوارہ کا ایک فرزند جلیل حسن الاعظمی بھی ہے جو بیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں آسمانِ علم و ادب پرطلوع ہوا، ابتدائی تعلیم مبارک پور ہی میں حاصل کی، مگر طلبِ علم کے شوق نے اس کو سورت، حیدر آباد، لاہور اور کراچی کے ساتھ ساتھ مصر کی خاک چھاننے پر مجبور کر دیا، فراغت کے بعد قاہرہ یونیورسٹی میں پروفیسری کے منصب پر فائز ہوئے ، ان کی علمی و تصنیفی و  تعلیمی خدمات اور ادارتی سرگرمیوں کا دائرہ خاصا وسیع ہے ۔  ہمارے نزدیک ان کا سب سے حیرت انگیز کارنامہ مصر میں اردو زبان و ادب کے متعلق ان کی خدمات اور عالم عرب بالخصوص مصر میں علامہ اقبال کو متعارف کرانا ہے۔ مبارک پور کے اس فرزند نے اردو کی نشوونما اور ترقی کے لیے بڑی قابل فخر خدمت انجام دیں، عربوں کے لیے آسان اردو نصاب تیار کیا اور قاہرہ یونیورسٹی میں انھیں کی کوششوں سے باقاعدہ شعبہ اردو قائم ہوا اور آج بھی یہ  شعبہ پوری آب و تاب کے ساتھ سرگرم ہے۔اس کے موجودہ صدر پروفیسر جلال الحفناوی صاحب نے علامہ شبلی کی سیرت النبی پانی ، الفاروق ، علم الکلام، الکلام اور المامون وغیرہ کا عربی ترجمہ محض اردو زبان کے مصر میں فروغ کے مقصد سے کیا،  ان تمام سرگرمیوں کے پیچھے اگریہ کہا جائے کہ مولانا حسن الاعظمی کی کوششوں کا دخل ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ان کے عرب علما عطاء الرحیم، محمد رزق المصری اور ڈاکٹر عبد الوہاب عزام وغیرہ سے بڑے گہرے مراسم تھے۔”*(7)

 

1980ء میں "عین شمش یونیورسٹی "قاہرہ میں اردو کا آغاز ہوا ،ہا ہے۔ اب تو مصر كى جامعات، بطور خاص جامعہ ازہر، جامعہ عين شمس، جامعہ مصریہ  اور جامعہ قاهره وغیرہ ميں بھى ايم اے اور پى ايچ ڈى كى سطح پر ریسرچ و تحقيق كا کام ہورہا ہے

ديگر جامعات ميں مثلا منصوره ، اسكندريہ ، وغيره بھى اردو كى تعليم اور تحقيقى كام ہورہا ہے ۔بعض دیگر جگہوں پر بھى اردو كورسز بھى ہوتے ہيں، 1996ء سے  جامعہ ازہر سے سالانہ اردو مجلہ” اردیات "شائع ہورہا ہے ۔ یقینا یہ سب پروفیسر حسن الاعظمی کی کوششوں ہی کے ثمرات ہے کہ آج مصر میں اردو کی ترویج و اشاعت ہورہی ہے ۔

 

مصادر و مراجع

(1)قاضی اطہر مبارک پوری ، تذکرہ علماء مبارک پور، مکتبہ الفہیم مئو ، 2010ء ص: 96/97

(2)حسن الاعظمی ، عظیم مصر ، مکتبۃ الاعظمیہ کراچی ، اپریل 1981ء ، ص: 329/330

(3)حسن الاعظمی ، حیاۃ والممات فی فلسفۃ اقبال ، بزم اقبال حیدرآباد ، 1975، ص: 220/221

(4)مولانا عبدالحلیم ظہوری ، مصر میں اردو ، ادارہ معارف اسلامیہ حیدرآباد ، ص: 14/ 16

(5)عظیم مصر ، ص: 330

(6)مہتاب پیامی ،بابائے عربی حسن الاعظمی ، اقبال ایجوکیشنل مبارک پور ، دسمبر 2013ء ، ص: 25

(7)مصدر سابق ،عظمت رفتہ از ڈاکٹر شباب الدین ص: 9

 

٭٭

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں