ڈاکٹر شمع افروز زیدی کی کتاب “جنہیں میں نے دیکھا جنہیں میں نے جانا” – حقانی القاسمی
(28 نومبر کو انڈیا اسلامک کلچر سینٹر لودھی روڈ نئی دہلی میں اجرا کی ایک تقریب میں ڈاکٹر شمع افروز زیدی کی کتاب جنہیں میں نے دیکھا جنہیں میں نے جانا پر پیش کی گئی ایک تحریر)
ندا فاضلی کا ایک مشہور شعر ہے:
نقشہ اٹھا کے نیا شہر ڈھونڈئیے
اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہوگئی
کتاب بھی شہر کے نقشہ کی طرح ہوتی ہے۔ کتابوں میں ایک پوٹینشیل قاری، موضوعاتی تکرار،اعادہ اور یکسانیت سے بچنے کے لئے انجان چہرے، اجنبی کردار نئے زاویے اور نئے امکانات تلاش کرتا ہے۔ شمع افروز زیدی کی کتاب کی فہرست پر میں نے نظر ڈالی تو اس کتاب سے میری قرأت کا سلسلہ یوں جڑ گیا کہ اس میں بہت کچھ میرے لئے نیا تھا۔ اس کتاب کا عنوان بھی بہت معنی خیز ہے ’جنہیں میں نے دیکھا جنہیں میں نے جانا‘ جاننا بھی دشوار ہے اور دیکھنا بھی کچھ آسان نہیں۔ میر تقی میر نے کہا تھا:
مدتوں بعد یہ جانا کہ کچھ نہ جانا میر
جاننا ایک طویل مدتی عمل ہے جس میں بہت مشکل مرحلوں سے گزرنا ہوتا ہے۔ تب کہیں جا کر ایک ادنیٰ سی چیز کی حقیقت و ماہیت معلوم ہوتی ہے۔ اور دیکھنا بھی آسان نہیں کہ بقول ندا فاضلی:
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
آدمی کے باطن تک رسائی بہت مشکل ہوتی ہے کیوں کہ آج کے نفاق زدہ معاشرے میں آدمیت کی پہچان آسان نہیں۔ اسی لئے بیدار ذہنوں کو اس طرح کا احساس ہوتا رہا ہے کہ :
ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب
یہ کس خرابے میں دنیا نے لاکے چھوڑ دیا
بشیر بدر کا بھی ایک شعر ہے:
گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا
ایک مشہور صوفی بھی آدمی کی تلاش میں نکلے تھے تو بھرے پرے بازار میںدور دور تک کوئی آدمی یا انسان نظر نہیں آیا۔ ہمارے عہد میں بھی آدمیت کا بڑا بحران ہے۔ شمع افروز زیدی کی آنکھیں خوش نصیب ہیں کہ انہوں نے آدمیت ،خلوص و محبت کے پیکر ادب کی اُن شخصیات کو دیکھا ہے جن سے ادب میں تحرک، توانائی اور تابندگی رہی ہے۔ فراق گورکھپوری نے یونہی نہیں کہا تھا:
آنے والی نسلیں تم پہ فخر کریں گی ہم عصرو
جب بھی ان کو دھیان آئے گاتم نے فراق کو دیکھا ہے
ہماری نسل کی ٹریجڈی یہ ہے کہ وہ ان دنوں وہ دیکھ رہی ہے جو انہیں بالکل دیکھنا ہی نہیں چاہئے۔ سچ کہوں تو ہماری آنکھیں بدنصیب ہیں کہ ہم نے اُن اکابرِ ادب کو نہیں دیکھا جن سے ادب کائنات میں روشنی تھی، رنگ تھا۔ اس کتاب میں تقریباً 35 شخصیات پر تنقیدی اور تاثراتی تحریریں ہیں۔ اپنے مطالعاتی زاویے سے میرے لئے انہیں تین زمرے میں تقسیم کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ایک وہ جنہیں میں نے دیکھا اور جانا ہے۔ دوسرا وہ جنہیں رسائل اور کتابوں کے حوالے سے جاننے کا اتفاق ہوا۔ تیسرا وہ جنہیں میں بالکل ہی نہیں جانتا۔ دراصل یہی تیسری شق ہے جو ڈاکٹر شمع افروز زیدی کی کتاب سے مطالعاتی ربط کا اصل محرک بنی۔ زبان و ادب سے جڑی ہوئی شخصیات کو نہ جاننا نارسائی، عدم آگہی اور عصری ادب سے بے خبری کا بین ثبوت ہے۔ یہ میرے مطالعاتی دائرے کو بھی منفی زون میں لے جاتا ہے۔یہ ایک باخبر قاری کے لئے سوالیہ نشان بھی ہے۔
کتاب میں شامل جن شخصیات سے میری بھی ملاقاتیں رہی ہیں ان میں مظفر حنفی، اظہار اثر، کیول دھیر، مناظر عاشق ہرگانوی، عظیم اختر، شاہد پرویز، رونق جمال، رئیس صدیقی اور دیپک بدکی کے نام لئے جا سکتے ہیں ۔ان ملاقاتوں میں ان عظیم ہستیوں کے بہت سے شخصی اور فنی زاویے بھی روشن ہوئے ہیں اور ان کی عظمتوں کا نقش ذہن اور دل پر بھی قائم ہوا ہے۔ جن شخصیات کو میں رسائل اور کتابوں کے حوالے سے جانتا ہوں ان میں کشمیری لال ذاکر، نور شاہ، قاضی مشتاق، ظفر گورکھپوری، نعیم کوثر، علی باقر، نریش، فراز حامدی، وحشی سعید، آنند لہر، گلشن کھنہ، شوکت پردیسی، حسن چشتی، مظفر الدین فاروقی، کرشن بیتاب، سعید فریدی،رحمن نیر، منیر نیازی اور فکر تونسوی کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جن سے ادب کا باشعور قاری اچھی طرح واقف ہے۔ ان کے فنی ،فکری میلانات اور ادب پر ان کے احسانات سے بھی واقفیت ہے۔ ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جن کے فکر و فن پر مجھے بھی خامہ فرسائی کا شرف حاصل رہا ہے۔ جن شخصیات کو میں بالکل ہی نہیں جانتا ان میں دلشاد علی خان، زین العابدین خاں، منیرالزماں منیر، خلش دہلوی، شمشیر سنگھ شیر،شریف حسین دلوی اور شبیر احمد شاد شامل ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ شخصیتیں ادبی رسائل و جرائد سے دور رہتی ہوں لیکن یہ میری نارسائی ہے کہ ان شخصیات سے واقف نہ ہو سکا اور شمع افروز زیدی کی اس کتاب کے ذریعے ان جواہر کے فنی اور فکری کمالات سے روبرو ہونے کا موقع ملا۔
شمع افروز زیدی نے ان تمام شخصیات کو اپنی اس کتاب میں سمیٹا ہے۔ یہ کتاب دراصل ان کی یادوں کا ایک سفر ہے جسے ہم یادوں کی اوڈیسی بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ایک بہترین اوڈی تاژ ہے جس میں بہت سے ادیب اپنے پورے شخصی اور فنی خد و خال کے ساتھ ان کی یادوںکی مسافت میں شامل ہیں۔ان میں سے بیشتر شخصیتیں زوال کی علامتیں نہیں بلکہ ارتقاء کے استعارے ہیں۔ شمع افروز زیدی نے یاد کے گھر کو آباد رکھا۔ یہ بہت بڑی بات ہے ورنہ اس عہد فراموش کاری میں یاد کرنے کی بھی فرصت کہاں ہے۔ صحیح اور سچی بات وہی ہے جو جون ایلیا نے کہی تھی:
سب سے پُر امن واقعہ یہ ہے
آدمی آدمی کو بھول گیا
اور ساحر لدھیانوی نے بھی کہا تھا
کل کوئی مجھ کو یاد کرے کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے
مصروفِ زمانہ میرے لئے کیوں وقت اپنا برباد کرے
آج جب کہ نہ دیارِ دل رہے، نہ بزمِ دوستاں رہی تو ایسے میں شمع افروز زیدی نے جو یادوں کا چراغ جلایا ہے۔ وہ ہمیں اس اندھیرے میں بہت دور تک روشنی دکھاتے رہیں گے اور یہی روشنی دراصل اس کتاب کا جوہر اور اس کی اصل قیمت ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں نفی پسند نقادوں جیسا رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ کلیشے اور جارگن سے پاک مثبت اور تعمیری ذہن کے ساتھ شخصیات کا ذکر کیا ہے۔ شمع افروز کی یہ یادیں بہت خوبصورت ہیں اس لئے زبان میں بھی اس خوبصورتی کا عکس محسوس کیا جاسکتا ہے۔ زبان میں بڑی جاذبیت ہے۔ اس میں ٹھنڈ سے کانپتے الفاظ نہیں ہیں بلکہ یہ آتش کدہ دل کے وہ لفظ ہیں جو جذبے اور احساس کو حرارت اور حدت عطا کرتے ہیں۔ خاص طور پر روبی اور بیسویں صدی کے مدیر اور اپنے شریک حیات رحمن نیر پر لکھی ہوئی ان کی ہر سطر گرم گرم آنسوؤں اور سوز و گداز میںڈوبی ہے۔ یہ سینۂ پرسوز سے نکلے ہوئے جملے ہیں۔ ہر لفظ میں خلش اور تپش ہے۔ شمع افروز زیدی نے رحمن نیر کے مسکراتے چہرے کو بھی نم آنکھوں سے بیان کیا ہے۔ شمع کے چشم تصور میں راحت جاں کے نہ جانے کتنے خوبصورت پل اور کتنی حسین یادیں محفوظ ہیں۔ اب یہی یاد عذاب جاں بھی ہے۔ ایک بیوی کا وہ تودد نامہ ہے جسے پڑھ کر کسی کی بھی آنکھیں نم ہو سکتی ہیں۔
شمع افروز زیدی نے شخصی زاویوں کے ساتھ فنی جہات پر بھی گفتگو کی ہے۔ مگر ان کی پوری گفتگو منفیت کی کثافت سے پاک ہے۔ ایک مثبت طرز احساس اور طرز فکر ہے جو پوری کتاب میں نمایاں ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس سے جہانِ اردو ادب کی وسعت کا بھی احساس ہوتا ہے ورنہ ہمارے نام نہاد نقادوں نے تو اردو زبان و ادب کو چند مخصوص ناموں میں محدود ، محصور اور مقید کر دیا ہے۔ اس کتاب میں بہت سے نام وہ ہیں جو اردو کی کسی بھی ادبی تاریخ کا شاید ہی کبھی حصہ بنیں۔ اس لئے مجھے بے حد مسرت ہے کہ شمع افروز زیدی نے اُن شخصیات کو بھی اپنے قلمِ گوہر بار کی رعنائی اور زیبائی عطا کی ہے اور انہیں بھی ہمارے ذہنوں میں زندہ کیا ہے۔ اس کتاب میں کچھ ایسی شخصیتیں بھی ہیں جن کا اردو سے شعبہ جاتی یا عہدہ جاتی تعلق نہیں ہے ۔ ایسی شخصیتوں میں نور شاہ، مظفرالدین فاروقی، دیپک بدکی، خلش دہلوی، قاضی مشتاق وغیرہ کے نام لئے جا سکتے ہیں کہ نور شاہ ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز رہے۔ مظفر الدین فاروقی جو ایک اہم کہانی کار ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی اور شعبۂ کیمسٹری میں لکچر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کے بعد سائنٹفک افسر کے عہدے پر رہے۔دیپک بدکی بھی اعلیٰ سرکاری عہدے پر پوسٹل سروسز سے وابستہ رہے ہیں۔ شاید ان کا تعلق بھی سائنس سے ہے۔ اسی طرح خلش دہلوی پیشہ کے اعتبار سے انجینئر ہیں اور سائنس کے طالب علم رہے ہیں۔ قاضی مشتاق بھی بڑے سرکاری عہدے پر فائز رہے۔ یہ سارے افراد اردو کے آؤٹ سائڈر کہلاتے ہیں۔ مگر اردو زبان کو ان جیسی شخصیتوں نے ہی وسعتوں سے ہمکنار کیا ہے۔ میں نے اپنے مضمون بعنوان اردو سے غیر پیشہ وارانہ طور پر وابستہ افراد کی اردو خدمات مطبوعہ ماہنامہ یوجنا،فروری، 2021میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ اردو سے ناوابستہ افراد نے مختلف اصناف ادب میں امتیازی نقوش مرتسم کئے ہیں۔ خاص طور پر تنقید ،فکشن، شاعری، اقبالیات اور غالبیات میںجو اہم نام ہیں ان کا تعلق اردو کے شعبوں سے نہیں ہے۔ مالک رام، قاضی عبدالودود، مختارالدین احمد، رشید حسن خان، عبدالرحمن بجنوری، کلیم الدین احمد، دیوندر اسر، وارث علوی، باقر مہدی، فضیل جعفری، اسلوب احمد انصاری، عبدالمغنی، شمس الرحمن فاروقی وغیرہ کے نام لئے جا سکتے ہیں۔
یہ وہ افراد ہیں جنہوں نے اردو زبان و ادب میں نیا روزن کھولا ہے اور امکانات کے نئے در وا کئے ہیں اور شاید اردو کی سانسوں کو تازہ آکسیجن دینے میں ان لوگوں کا بھی بہت اہم کردار ہے۔ ہمیں ان کے اعتراف علم و ہنر میں بخل سے کام نہیں لینا چاہئے کیوں کہ اردو کسی ادارے یا شعبہ کی وجہ سے زندہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے شیدائیانِ اردو کے جذبہ اور جنون کی وجہ سے زندہ ہے۔
شمع افروز زیدی کی اس کتاب کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی خاتون شامل نہیں ہے۔ یہ واقعی میرے لئے حیرت کی بات ہے۔ اب میں دھرم سنکٹ میں ہوں کہ عورت کو صنفِ مخالف کہوں تو کیسے کہوں۔ ایک عورت کی لکھی اس کتاب میں تو سارے کے سارے مرد ہیں۔ شمع افروز زیدی صاحبہ کو خواتین سے بھی اپنی ملاقاتوں کی داستان لکھنی چاہئے تھی۔ صنفی جانبداری کے میں سخت خلاف ہوں مگر خواتین قلم کاروں کے لئے جانب داری کو ضروری سمجھتا ہوں کیوں کہ ان کی تنقیدی، تخلیقی صلاحیتوں کو ایک زمانہ تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ ایک عہد میں ناموں کو چھپائے رکھنے کی بھی ایک روایت رہی ہے۔ پہلے زمانے میں والدۂ افضل علی کے نام سے ناول چھپتے تھے اور ہمشیرہ فلاں کے نام سے تخلیقات شائع ہوتی تھیں۔ اگر خواتین ہی عورتوں کو نظر انداز کریں گی پھر تو رقیہ سخاوت حسین کی سلطانہ کا خواب پورا ہونے سے رہا۔ رقیہ نے ایک ایسے جزیرے کا خواب دیکھا تھا جہاں کوئی مرد نہ ہو اور طبقۂ نسواں سے تعلق رکھنے والی شمع افروز زیدی کے اس کتاب جزیرے میں اس کے بالکل الٹ معاملہ ہے کہ یہاں کوئی عورت ہی نہیں ہے۔
بجنور جیسی مردُم خیز سرزمین سے تعلق رکھنے والی شمع افروز زیدی ایک تعمیری ذہن رکھنے والی ادیبہ اور افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اردو ادب کو اردو ناول میں طنز و مزاح، فکر تونسوی حیات کارنامے، اردو ادب اور جدیدیت، اردو صحافت کا نیر تاباں، تنقیدی دریچے، ظفر احمد نظامی کے خاکے جیسی کتابیں دی ہیں اور اردو کی مقبول عام بیسویں صدی جیسی میگزین کی ادارت کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ان کے تنقیدی اعمال نامہ کی ایک لمبی فہرست ہے۔ ذکر چھڑے گا تو بات بہت دیر تلک جائے گی اس لئے شمع افروز زیدی صاحبہ کو اس کتاب کے لئے مبارکبادی کے ساتھ بات ختم کرنا زیادہ مناسب ہوگا کہ حضرت سودا نے اس موبائل ایج سے بہت پہلے یہ کہا تھا:
سودا خدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں
میں نہیں چاہتا کہ اس قصے کو اور زیادہ طول دوں کہ کہیں نیند کے ساتھ ساتھ ہمارے وہ سارے خواب بھی نہ اڑ جائیں جو شمع افروز زیدی کی اس کتاب کے حوالے سے ہمارے ذہن میں روشن ہوئے ہیں۔ شکریہ خدا حافظ
٭٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

