اس دن تو میں ڈر کے مارے رات بھر لحاف میں دبکی رہی۔ خدا خیر کرے.. جیسے تیسے صبح ہوئی اور میں نے گھر جانے کی ضد پکڑی۔ بیگم جان نے بڑی کوشش کی کہ میں کچھ دن اور رک جاؤں۔ لیکن میں ٹھہری ضدی…کھانا پینا چھوڑ منھ پھلا کر بیٹھ رہی۔
تھک ہار کر بیگم جان نے امی کو فون کیا۔ آپ کی لاڈلی گھر جانے کی ضد کر رہی ہیں۔ کسی طرح ماننے کو تیار نہیں۔ امی تو اچھی طرح جانتی تھیں ایک بار ضد پکڑ لے تو کم عقل کسی کی سنتی ہی کہاں ہے۔ امی نے بھائی کو بھیج کر مجھے آگرہ بلوا لیا۔
اس طرح میں بیگم جان کے گھر سے امی کے پاس آ گئی۔ لیکن لحاف کی قلابازیاں سالوں سال میرے ذہن سے نہ اتر پائیں۔ اٹھتے بیٹھتے بیگم جان کی عطر صندل اور حنا کی خوشبو میرے دل و دماغ پر چھائی رہتی۔
خدا خدا کرکے بیگم جان کا گھر چھٹا تھا۔ میں ہاسٹل میں رہنے لگی۔ لیکن کمبخت لحاف نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا۔ سردیاں شروع ہوئیں اور امی نے ایک بوری میں باندھ کر ابا کے ہاتھوں لحاف بھجوا دیا۔
میں بارہا امی کو سمجھاتی رہی …! ” امی..یہاں ساری لڑکیاں کمبل اوڑھتی ہیں۔ لحاف کسی کے پاس نہیں ہے۔” لیکن امی کہاں سننے والی تھیں۔ لگیں گنوانے لحاف کے فائدے..
” ارے پاگل ہے رے تو.. نگوڑے کمبل میں کیا ہے۔ دو پرتیں کپڑے کی اوپر نیچے لگا دیں ، اس سے تو نومبر کی سردی نہ بھگائی جائے، دسمبر،جنوری کی ٹھٹھرن بھری سردیاں کیا خاک بھگائے گا۔ اب لحاف کو ہی لے لو کپاس کی پانچ کلو روئی ڈلوائی ہے۔ جاڑا تو کیا برف بھی گر جائے، مجال ہے کہ یہ دغا دے۔ جو کمبل اوڑھتا ہے اسے اوڑھنے دے..تو بس لحاف ہی اوڑھے گی۔” یہ آخری جملہ اس قدر زور دے کر کہا کہ میں دل مسوس کر رہ گئی۔
مرتی کیا نہ کرتی… بے من سے بوری کھول کر لحاف نکالا اور بیڈ پر رکھ لیا ۔جانے کیوں مجھے لحاف اوڑھنے میں شرمندگی محسوس ہوتی ہے ۔ میرے کج فہم دماغ میں یہ بات گھر کئے ہوئے ہے کہ لحاف کے مقابلے کمبل اوڑھنے والوں کا اسٹیٹس اونچا ہوتا ہے۔ امی کی ہدایت کے باوجود میں نے لحاف میں دھوپ نہیں لگائی۔
یوں تو ہاسٹل کے سارے روم تھری سیٹر تھے، اور نیچے قریب قریب سارے ہی روم بھر چکے تھے۔ لیکن میرے روم کی دو لڑکیاں ابھی چند روز پہلے ہی چھوڑ کر جا چکی تھیں اس لئے میں اس وقت روم میں اکیلی تھی۔ مجھے اب اپنی نئی روم میٹ کا انتظار تھا۔
کل اتوار ہے اس لئے شام کو ہی میں نے اپنے ہفتے بھر کے کپڑے بالٹی میں بھگو دئیے۔ میرا یہی معمول تھا پورے ہفتے کے کپڑے میں اکٹھے کر کے ایک ساتھ اتوار کو ہی دھلتی تھی۔ اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ کالج میں صبح نو بجے سے لے کر شام چار بجے تک کلاسیز چلتی تھی۔ میں صبح جلدی میں نہاکر چلی جاتی تھی۔ کپڑے دھونے کا وقت ہی نہیں ملتا۔
اس لئے اتوار کا پورا دن کپڑوں کی صفائی سے لے کر کمرے کی صفائی میں ہی گزرتا تھا۔
صبح ہوئی میں ناشتہ کرکے کپڑے دھلنے بیٹھ گئی۔ ابھی تقریباً نو بجا ہوگا کہ میرے روم کا دروازہ کھلا اور زرینہ آنٹی دو لڑکیوں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔۔
رابی آج سے یہ دونوں تمہارے روم میں رہیں گی۔۔۔ تمہاری نئی روم میٹ۔۔۔۔
میں نے اوپر سے نیچے تک دونوں کا بغور جائزہ لیا۔۔ اوسط درجہ کے نین نقش کی دونوں لڑکیاں جس میں ایک کا رنگ صاف تھا۔۔۔جبکہ دوسری سانولے رنگ کی مسکرا کر میری طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔میں نے زبردستی مسکرا کر کہا۔۔۔۔ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔۔جانے کیوں مجھے دونوں ہی لڑکیاں پسند نہیں آئیں۔۔۔۔خاص کر سانولے رنگ کی لڑکی۔۔۔۔لمبی تڑنگی۔۔۔چہرے پر پمپلز کے نشان ، کرتی اور جینس میں ملبوس کھجور کے کھردرے درخت کی مانند لگ رہی تھی۔۔۔۔
میں ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ دونوں کا سامان آنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ایک ایک کر بڑے بڑے تین چار بیگ۔۔ کئی سارے جھولے۔۔۔۔ یا اللہ۔۔۔ پورا گھر ہی اٹھا لائی ہیں کیا۔۔۔۔میں من ہی من بدبدائی۔۔۔اور اپنا سامان جو پورے روم میں پھیلا رکھا تھا۔۔۔سمیٹنے لگی۔۔۔۔تبھی مالی انکل ایک ہاتھ میں کمبل کا جھولا لٹکائے اور دوسرے ہاتھ سے ڈوری سے کس کر باندھا ہوا لحاف پیٹھ پر ڈالے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے ۔۔۔۔اور بیڈ پر رکھ کر چلے گئے۔۔۔۔
میں عجب پس و پیش کے عالم میں تھی کہ لحاف کو دیکھ کر خوش ہوں کہ چلو خیر کوئی میرا ساتھ دینے والا تو آ گیا۔۔۔۔یا پھر ان لڑکیوں کے آجانے سے روم کے بھر جانے کا دکھ مناؤں۔۔۔۔
وہ پورا دن تو دونوں کا روم کی سیٹنگ میں ہی گزر گیا۔۔۔۔دونوں نے مل کر اپنا سامان کورڈ سے لے کر روم کی دیگر الماریوں تک سجا لیا۔۔۔۔اور دونوں بیڈ کھسکا کر ایک ساتھ ملاکر اس پر ڈبل بیڈ کی خوبصورت سی چادر بچھا دی۔۔۔۔
اب میرا بیڈ ایک کونے میں آچکا تھا۔۔۔۔مجھے رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا۔ اچھا خاصا پورے کمرے میں پھیل کر رہتی تھی۔۔۔ جانے کہاں سے دونوں منحوس آ گئیں۔۔۔۔اسی کمرے میں آنا تھا۔۔۔۔تھرڈ فلور پورا خالی پڑا ہے۔۔۔۔وہاں مرنے کیوں نہیں گئیں۔۔۔۔بڑی موٹی سی گالی میری زبان تک آئی۔۔اور کچھ سوچ کر واپس چلی گئی۔۔۔۔
سارا دن مصروف رہنے کے باعث ابھی تک میری ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔اب جب دونوں فری ہوئیں تو چئیر میرے بیڈ کے قریب کھسکا کر بیٹھ گئیں۔
تمہارا نام کیا ہے۔۔۔؟ صاف رنگ والی لڑکی نے سوال کیا۔۔۔
رابعہ۔۔۔۔میں نے زبردستی مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
بہت پیارا نام ہے۔۔۔۔میرا نام حسنہ ہے۔۔۔۔۔ اور میرا نام شفق۔۔۔سانولی والی لڑکی جو ابھی تک چپ بیٹھی تھی۔۔۔ہمک کر بول پڑی۔۔۔
ہممم۔۔۔ پوچھا کس نے تھا۔۔۔تمہارا نام۔۔۔میں نے اپنی گول گول آنکھیں گھماتے ہوئے من ہی من سوچا۔۔۔
تم کرتی کیا ہو۔۔؟ حسنہ نے دوسرا سوال کیا۔۔۔۔
میں گریجویشن کر رہی ہوں۔۔۔اور آپ۔۔۔۔نہ چاہ کر بھی مجھے پوچھنا پڑا۔۔۔۔۔
میرا ایم بی اے پہلا سال ہے۔۔۔۔اور شفق بی ایڈ کر چکی ہے۔۔۔ایم ایڈ کی تیاری کرے گی۔۔۔۔
ماشاءاللہ۔۔۔ آپ تو میری سینئر ہوئیں، میں آپ کو آپی بلا سکتی ہوں۔۔۔ تھوڑی سی گفتگو کے بعد ہی مجھے ان کی باتوں میں دلچسپی محسوس ہوئی ۔۔۔۔چہرے مہرے سے نہ صحیح لیکن گفتگو سے مجھے دونوں خوش مزاج لگیں۔۔۔۔
بہت جلد ہم آپس میں گھل مل گئے۔۔۔ میں صبح اٹھ کر کالج چلی جاتی اور چار بجے واپس آتی۔ حسنہ کی کلاسیز ہفتے میں دو دن ہی تھیں۔۔۔اور شفق کوچنگ کے علاوہ پورا دن روم پر ہی اپنی پڑھائی کرتی۔۔۔ اب مجھے اپنے روم کی کوئی فکر نہیں تھی۔۔۔ دونوں مل کر صفائی کر لیا کرتیں۔۔۔۔۔میں واپس آتی مجھے روم صاف ستھرا پوچھا لگا ہوا۔۔۔۔ برتن سلیقے سے رکھے ہوئے ملتے۔۔۔۔مجھے بہت خوشی ہوتی۔۔۔۔دونوں میرا بڑا خیال رکھتیں۔۔۔۔اب مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوتا کہ جب دونوں آئیں تھی میں نے ان کے بارے میں کتنا غلط سوچا تھا۔۔۔۔جو انسان جیسا دکھ رہا ہے ضروری نہیں ویسا ہی ہو۔
ہمیں ساتھ رہتے ہوئے دو مہینے ہو چکے تھے۔۔۔ میں نے ان دونوں کو کبھی کہیں جاتے ہوئے نہیں دیکھا سارا دن روم پر ہی رہتیں۔۔۔۔ کسی سے زیادہ ملنا جلنا نہیں۔۔۔۔بس کھانے کے لئے میس تک جانا اور واپس روم میں آکر پڑھائی یا پھر فون چلاتے رہنا۔۔۔۔۔کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے شفق لوگوں سے ملنے میں کتراتی ہے۔۔۔۔۔لیکن کیوں۔۔۔۔کتنی خوش مزاج ہیں دونوں۔۔۔۔اب شفق مجھے ایسی کوئی بدصورت بھی نہیں لگتی ۔۔۔پھر بھی۔۔۔۔پتہ نہیں کیوں۔۔۔۔لوگوں سے ملنے میں اسے ہچکچاہٹ محسوس ہوتی۔۔۔۔
آج میری طبیعت کچھ ناساز تھی میں کالج سے ذرا جلدی لوٹ آئی روم کا دروازہ اندر سے بند تھا۔۔۔ میں نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کھلا نہیں۔۔۔۔اندر سے کوئی آواز بھی نہیں آئی ۔۔۔۔مجھے کھڑے ہوئے پانچ منٹ ہو چکے تھے۔۔۔۔۔ میں نے حسنہ آپی کا فون لگایا۔۔۔۔
بس رابی ابھی کھولتی ہوں۔۔۔۔۔دو منٹ رک جاؤ۔۔۔۔۔
دو منٹ کے بعد دروازہ کھلا۔۔۔۔حسنہ آپی ہنستی ہوئی کہنے لگیں۔۔۔ سوری رابی وہ شفق کو ویکس کر رہی تھی۔۔۔۔اس لئے ذرا لیٹ ہو گیا۔۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔میں مسکرا دی۔۔۔۔
آج تم اتنی جلدی کیسے آ گئیں۔۔۔۔
آپی میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔۔۔وہ پریشان ہو گئیں۔۔۔۔
کچھ نہیں بس ہلکا سا بخار لگ رہا ہے۔۔۔۔ کوئی نہیں تم فریش ہوکر آؤ ۔۔۔۔کچھ کھا لو۔۔۔۔ پھر دوائی لے لو
جی کہہ کر میں واش روم چلی گئی۔۔۔۔واپس لوٹی تو شفق اپنے ویکس ہوئے ہاتھوں پر کولڈ کریم لگانے میں مگن تھی۔۔۔ پہلی بار میں نے شفق کو ہاف لوور اور ٹی شرٹ میں دیکھا تھا۔۔۔۔کتنی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔موٹی موٹی کلائیاں۔۔۔۔۔ بھری بھری رانیں۔۔۔۔چوڑی چکلی کمر ۔۔۔۔ دل میں عجیب سے خیالات آنے لگے۔۔۔۔۔مجھے بیگم جان کا لحاف یاد آ گیا۔۔۔۔۔
شفق جو اب تک اپنے ہاتھوں پیروں کی مالش میں لگی ہوئی تھی۔۔۔ اب کپڑے بدلنے کے لئے بالکونی میں جا چکی تھی۔۔۔۔میں اپنے بیڈ پر لیٹی ہوئی خیالات کو دوسری سمت لے جانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
آج کی رات میرے لئے عذاب تھی۔۔۔۔میرے ذہن میں بار بار بیگم جان کا لحاف اچھل کود مچا رہا تھا۔۔۔۔میں نے کروٹ لی دونوں اپنے اپنے بستر پر لیٹی فون چلا رہی تھیں۔۔۔پیروں کے پاس ہی ادھ کھلا لحاف رکھا ہوا تھا۔۔۔۔ میں نے اٹھ کر لائٹ بند کی اور لحاف کو کھینچ کر چہرہ ڈھک لیا۔۔۔جانے کب مجھے نیند آ گئی۔۔۔۔
رات کے دوسرے پہر میری آنکھ کھلی، عجیب و غریب قسم کی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔میں نے لحاف سے منھ نکال کر کان آواز کی طرف لگا دئیے۔۔۔۔
افففف حسنہ۔۔۔۔تم کتنی خوبصورت ہو۔۔۔۔۔شفق کی سانسیں تیز رفتار سے اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔۔۔
کاش شفق تم مرد اور عورت کے درمیان کی کڑی نہ ہوکر پوری طرح مرد ہوتیں۔۔۔۔۔۔حسنہ نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
میرا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔۔۔۔میں لحاف پھینک کر اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔نائٹ بلب کی روشنی میں لحاف اوپر کو اٹھا۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔ اٹھ کر نیچے گر گیا۔۔۔۔۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

