Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
نظم فہمی

اکیسویں صدی میں اردو نظم – حقانی القاسمی

by adbimiras دسمبر 16, 2021
by adbimiras دسمبر 16, 2021 0 comment

اکیسویں صدی کا نظمیہ منظرنامہ ،بیسویں صدی سے زیادہ مختلف نہیں ہے، کیوں کہ ان نظموں کا ذہنی سلسلہ اسی پرانی صدی سے جڑاہوا ہے، جس صدی نے نئی نظم کو نئے امکانات اور آفاق عطا کیے تھے۔ میراجی،ن م راشد اوراخترالایمان جیسی مشعلیں روشن تھیں۔ فیض،مخدوم،مجیدامجد، خلیل الرحمن اعظمی اور عمیق حنفی جیسے سنگ نشاں موجود تھے،جنھوں نے نظم کو نئی وسعتوں سے ہم کنار کیا۔ان کے بعد جو نسل آئی اس نے ذرا اپنا رنگ و آہنگ بدلا اور نئی نظم کی شہرت اوراستحکام عطا کیا۔

نظمیہ شاعری پرمحیط کئی انتخاب بھی سامنے آئے،جن میں 1967  میں شمس الرحمن فاروقی اور حامدحسین حامد کامرتب کردہ ’نئے نام‘1972میں خلیل الرحمن اعظمی کا مرتبہ انتخاب ’نئی نظم کا سفر‘، سیداحمد شمیم اور شمس فریدی کاگلوب اورزبیررضوی کا ’نئی نظم‘(2007)قابل ذکر ہیں۔

’سوغات‘ بنگلورکے نظم نمبر سے نظمیہ مباحث کے درکھلے۔ نظم کی ہیئت اورتکنیک کی سطح پر بھی نئی بحثوں کاآغازہوامگریہ ساری بحثیں کسی منطقی انجام تک پہنچنے میں ناکام رہیں۔ جدیدنظم کی شعریات وضع کرنے کی کوشش کی گئی۔ پروفیسرگوپی چندنارنگ نے ’جدیدنظم کی شعریات اوربیانیہ‘ کے عنوان سے ایک معرکۃ الآرا مضمون لکھا، جس میں انھوں نے واضح کیا کہ اردو میں یہ غیرملکی اثرات سے آیا یعنی جدید نظم ہماری چیزنہیں ہے،ہماری اصل اصناف غزل،قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ ہیں۔ اردو میں غزل کے علاوہ جتنی بھی اصناف شاعری ہیں، وہ سب نظم میں داخل ہیں۔ جدیدنظم کے لیے جس طرح موضوع کی کوئی قید نہیں، ہیئت کی بھی کوئی پابندی نہیں۔ اردو میں غزل اورمثنوی کی ہیئت میں بھی جدید نظمیں لکھی گئی ہیں اور مختلف بندوں پرمشتمل نظمیں بھی اور آزاد معریٰ نظمیں بھی۔ گویانظمیں پابند بھی لکھی جاتی ہیں، آزاد بھی اور معریٰ بھی۔اس میں نثری نظم کواورشامل کرلیں جو اگرچہ نثر اورشاعری کے حدفاصل کو مٹاتی ہے، لیکن شمار اس کا بھی شاعری کے تحت یعنی بطورنظم ہوتاہے۔ ‘پروفیسرنارنگ نے تمام نظم کو بیانیہ قرار دیا کہ نظم میں کوئی خیال یاموضوع کا مسلسل بیان ہوتا ہے۔

نظم کی کئی شاخیں وجود میں آئیں مگر وہ شاخیں ردوقبول کی منزل میں ہیں، خاص طور پر نثری نظم زیادہ موضوع بحث رہی۔کسی ناقد نے اسے مستقبل کی شاعری قراردیا،توکسی ناقد نے اسے یکسر مسترد کردیا۔نثری نظم کی حمایت اورمخالفت میں رسائل میں بحثوں کے سلسلے دراز ہوئے مگر ساری بحثیں بے نتیجہ ہوئیں۔ مگریہ نثرلطیف یانثم کے عنوان سے رسائل میں شائع بھی ہوتی رہیں۔ ان تمام تنازعات اور اختلافات کے باوجود نظم نے جملہ شاخوں سمیت شکست تسلیم نہیں کی اورنظم کا ارتقائی سفرجاری رہا۔ نظم لکھنے والوں کی منطق یہ تھی کہ نظم کا مسئلہ آہنگ سے جڑاہواہے۔کہتے ہیں کہ فطرت کے ہر ذرّے میں آہنگ ہے۔ایک ممتازناقد اورشاعر نے یہ خیال ظاہرکیا کہ روشنی کابھی آہنگ ہے اورفطرت کابھی، بلکہ ایک کائناتی آہنگ بھی ہے،جس کی تال پریہ سارا عالم ہیئت دھڑکتاہے۔ لوگوں نے یہ بھی دلیل پیش کی کہ ہر فرد کے اندر ایک داخلی آہنگ ہوتا ہے اوریہی آہنگ اس کے نظامِ حیات کو اس کے مزاج اور کردار کے مطابق ترتیب میں ڈھالتاہے۔ زندگی سے یہ آہنگ غائب ہوجائے توپھرانسانی وجود کا توازن بگڑ جاتاہے۔ نظم کے بارے میں یہ بھی کہاگیا کہ یہ تخالف نثر بھی ہے اورتخالف شعربھی۔نثری نظم کے حامیوں نے اس کا رشتہ زبان کے نامیاتی آہنگ سے جوڑدیا اوریہ کہا کہ آہنگ کا ایک نامیاتی تصور ہے اورایک عروضی آہنگ کا تصور ہے۔نظم کا آہنگ نامیاتی ہے۔ یہ ساری بحثیں نظم کے حوالے سے چلتی رہیںجو شعر اور نثر کے مابین تفریق اورامتیاز کے قائل تھے، ان کا خیال تھا کہ ہرصنف اپنے تکوینی اورتشکیلی عناصر کے ساتھ خوبصورت لگتی ہے۔ اس کا التزام نہ ہو توشعر اورنثر کے مابین فرق نہیں رہ جائے گا۔ان تمام بحثوں کے درمیان نظم نے اپنے وجود کومستحکم کیا اور آج اکیسویں صدی میں نظم خودمختاراورآزادصنف کے طور پر نہ صرف موجود ہے بلکہ غزل کی بہ نسبت نظم نگاروں کا قابلہ بڑھتا جارہاہے اور ا س کی کہکشاں میں بہت سے معتبر نام بھی شامل ہوتے جارہے ہیں۔ خاص طور پر غزل گوشعرابھی نظمیہ شاعری کے میدان میں طبع آزمائی کررہے ہیں اور نظم اپنی تمام تر کیفیات کے ساتھ طلسم کے نئے دروازے کھول رہی ہے۔

اکیسویں صدی میں ہیئتی سطح پر توکوئی شکست وریخت نہیں ہوئی ہے لیکن کچھ حاشیائی موضوعات کو ضرور مرکزیت حاصل ہوگئی ہے۔ ان موضوعات ومسائل کاتعلق ہمارے سیاسی اورسماجی نظم سے ہے۔ سیاست اورسماج دونوں کی قدریں اور ترجیحات وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں اور اس تبدیلی کا تعلق اقتداری نظام اوراس سے جڑے ہوئے ذہنوں کی بدلتی ساخت اورفعلیت سے ہوتا ہے۔

اکیسویں صدی میں صارفی معاشرت اور سوشل میڈیا کی فعالیت نے ہمارے طرزِ احساس کو مکمل طورپربدل دیاہے۔ گلوبلائزیشن کی وجہ سے ایک ایسا ذہنی نظام وجود میں آیاہے جو مکمل طور پر معاش کے تابع ہے۔ اس سے قطع نظر کہ عالم کاری کے کتنے منفی اورکتنے مثبت اثرات ہمارے ذہنوں پرپڑے ہیں۔اتناطے ہے کہ اس کی وجہ سے وہ تمام کھڑکیاں اور دروازے کھل گئے ہیں جن سے کچھ زہریلی ہوائیں ہمارے ذہنوں تک پہنچ رہی ہیں اور ہمارے مابعدطبیعاتی تخلیقی عمل کو متاثر،مفلوج اورمعطل کررہی ہیں۔ لیکن اس عالم کاری کاایک مثبت پہلو یہ ہے کہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے اور ہم سب ایک عالمی معاشرے کافردبن گئے ہیں۔ اب انسانی ذات اوروجود سے جڑاہوا مقامی مسئلہ بھی عالمی سطح پر فلیش ہوجاتاہے اوراس میں عالمی برادری کی شرکت مسئلے کی نوعیت کو شدت عطا کردیتی ہے۔ آزادیٔ نسواں اور دلتوں کے استحصال کو موجودہ منظرنامے میں مرکزیت اس لیے مل گئی ہے کہ ان مسائل سے غیرمتعلق طبقات بھی وابستہ ہوگئے ہیں اور یہ دونوں مسئلے دانشورانہ ڈسکورس سے جڑ گئے ہیں۔

اردو کی نظمیہ شاعری میں بھی فیمنزم ایک مرکزی مسئلے کی حیثیت اختیار کرگیاہے۔ اکیسویں صدی میں تانثیت سے جڑی ہوئی تخلیق کار نہ صرف اپنے شدیدجذباتی ردعمل کااظہار کررہی ہیں بلکہ ممنوعہ سرحدوں میں داخل ہوتے ہوئے بھی وہ خوف محسوس نہیں کررہی ہیں۔ وہ بڑی جرأت اور جسارت کے ساتھ اپنے جذبات اورخیالات کااظہار کرتی ہیں۔ ان کی سوچ یہ ہے کہ اب انٹرنیٹ کے دور میں کوئی بھی چیز چھپی ہوئی نہیں رہ گئی۔ اب اسے اپنی بات کہنے کے لیے نہ معاشرے کی اجازت کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی ایسے ذریعے ترسیل کی جس میں اسے کسی قسم کی رکاوٹ ہو۔ وہ آزادانہ طور پر اپنی ذہنی جذباتی اور نفسیاتی کیفیات کااظہار کرسکتی ہے۔ سوشل میڈیا اس کے لیے ایک مضبوط اور موثر پلیٹ فارم ہے۔ اظہار کی سطح پر یہ آزادی اکیسویں صدی کی دین ہے۔ اکیسویں صدی کی عورت ’سیکس ٹوائے‘ اور ’مردانے‘ جیسی نظمیں لکھ کر تکیے کے نیچے نہیں رکھتی یا معاشرے کی نگاہوں سے چھپاتی نہیں پھرتی بلکہ اسے مجمع عام میں شیئر کرتی ہے:

مردانے

سنو

امراؤجان

وہ وقت اچھے تھے

کہ جب لوگوں میں

کچھ تہذیب تھی

کچھ شرم وغیرت تھی

کہ جب دنیا کویہ معلوم ہوتاتھا

کہ اس بازار میں جو عورتیں بیٹھی ہیں

وہ اس مردجاتی کے

گناہوں کو

غلاظت کو

ہوس کو

بھوک کو

اپنے بدن پہ سمیٹے

ان کی عزت وناموس کو ڈھانپے ہوئے ہیں

انھیں سارے طوائف کہہ کے

ان کی اگلی پچھلی سات پشتوں پہ ملامت کرکے دامن

جھاڑ لیتے تھے

مگراب وقت

پچھل پیریوں کے دوغلے

چہروں کی کالک بن کے بیٹھا ہے

نہ اب بازار میں کوٹھے ہیں

نہ لعنت ملامت ہے

نہ اب عورت طوائف ہے

اب اپنے جسم پرخوشبولگائے

سوٹ پہنے چمچماتے مرد ہیں

جوکاماسوترا کے سب سبق ازبرکرکے

اونچے مکانوں میں

محلوں میں

بڑی شوکت سے رہتے ہیں

وہ اپنی دلالی آپ کرتے ہیں

وہ خودبازار بھی ہیں اور وہ خود ہی طوائف ہیں

سنوامراؤ

میں ساری زبانوں پہ

ناراض ہوں،غصہ ہوں

اس سے سخت نالاں ہوں

کہ ان کے پاس

مردانے طوائف کے لیے

نہ لفظ ہے نا ہی کوئی حرفِ ملامت ہے

تو کیاتہذیبوں کی صورت

زبانیں بھی

سبھی مردوں کے تابع ہیں

مردوں کے بنائے ہوئے تہذیبی اورلسانی نظام پر یہ نظم ایک گہرے طنز کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک عورت کا شدیدردعمل ہے۔ ثمینہ تبسم کی اس احتجاج بھری نظم کے علاوہ ایک اورنظم بھی ’سیکس ٹوائے‘ ہے، جو اس بات کا مظہرہے کہ اکیسویں صدی کی آزاد عورت اب اپنی جنسی گھٹن سے باہر نکل کر اپنے جذبات کا اسی طرح اظہار کرسکتی ہے جس طرح مردحضرات کرتے ہیں۔

میرے اندر

چھپی بیٹھی

زبیدہ

کھلکھلا کے زور سے ہنستی ہے

اس کے سرخ چہرے پہ

کھلی آنکھوں میں ایسی شرارت ہے

 

جو مجھ کو چھیڑتی ہے

اورسچ یہ ہے

میں اپنے آپ سے شرمارہی ہوں

بہت دن سے

میں جب بازارجاتی تھی

سوالوں سے بھری آنکھیں لیے

میں اس چمکتے بورڈ کوپڑھتی

جھجکتی

اورگھبراتی

وہاں سے بھاگ جاتی تھی

میری ہمت نہیں تھی کہ

میں ان رنگین دروازوں کے اندرجھانک کے دیکھوں

وہاں یہ کیا ہے

آخرکیاہے جو شوکیس میں رکھانہیں جاتا

بالآخر

میں نے اپنے آپ میں ہمت جمع کی

اور اس دنیا میں داخل ہوکے پہلے

ہاؤہو کے شور میں

ہنستی ہنساتی عورتوں مردوں کوحدغور سے دیکھا

اوراس کے بعد

دیواروں پہ لٹکے

اورشوکیسوں میں اپنی چھپ دکھاتے

ان کھلونوں پہ نظر کی

جن کے بارے میں رسالوں میں پڑھا

فلموں میں دیکھا تھا

میری پلکوں پہ بے حدبوجھ تھا

مجھ کوپسینے آرہے تھے

میں اپنے آپ سے نظریں چراتی تھی

میرے اندر

چھپی بیٹھی

زبیدہ مجھ پہ ہنستی تھی

یہ نسائی آگہی اورادراک کا نیازاویہ ہے جو اس نظم میں روشن ہواہے۔اس نوع کی اور بھی نظمیں ہیں جس میں مردحاوی معاشرے کے خلاف بغاوت اوراحتجاج ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے اس احتجاج کواور وسعت دی ہے اوراسی کا اثر ہے کہ آج تانیثیت سے وابستہ کچھ شعلہ بار خواتین خرمن مرداں کو خش وخاشاک کرنے پرتلی ہوئی ہیں۔ اقلیمہ کا کردارخلق کرکے مرد معاشرے کے خلاف خدا کی ذات کو بھی مطعون کرتی ہیں۔مگراسی معاشرے میں ایسی خواتین بھی ہیں جس کے احساس میں جرأت کے بجائے نزاکت اورجسارت کے بجائے لطافت ہے،جو یہ جانتی ہیں کہ عورتوں کے معاشی، جنسی،جسمانی استحصال اوران کے خلاف جنگ میں مرد معاشرے کاایک معتدبہ حصہ بھی شریک ہے۔ یہ نہ ہوتاتو جدید نظمیہ شاعری کاایک روشن نام جینت پرمار فیمنزم جیسی نظم نہ لکھتا۔

نورا نے محسوس کیاتھا

مرد کی وہ کٹھ پتلی نہیں ہے

کب تک اس کی انگلیوں پہ ناچتی رہتی

وجود کاآئینہ ٹوٹتے دیکھتی رہی

دل کشکول میں

احساسات کی لاشیں تھیں

لفظوں کے پھولوں کی لاشیں

جن پھولوں میں باس نہیں تھی

اینٹ اورپتھر کے گھر کی دیواروں میں

اس کی سانسیں گھٹنے لگتی تھیں

اک دن اس نے

اپنے ہی گھر کا دروازہ

لات مار کر اتنی زور سے بند کیاتھا

آج بھی اس دروازے کی

آوازیں گونجتی رہتی ہیں

کئی گھروں کے دروازوں میں

اورنعمان شوق جیسے معتبرشاعر’لڑکیاں‘ جیسی نظم تخلیق نہ کرتے:

یہ لڑکیاں ہیں

شرم کے برقعے میں لپٹی ہوئی

بدن کی خواہشوں سے

ہوس کے اشتہاروں تک

ترقی کی منزلیں طے کرتی ہوئی

اپنی ازلی تنہائی کے سنہرے ریگستاں میں

گڑیوں کابیاہ رچاتی لڑکیاں

جواں ہوناچاہتی ہیں

رات کی تاریک گپھا میں چھپ کر

باپ کی نظروں سے بچتی ہوئی

جوباپ بعد میں بنتا ہے۔۔۔مردپہلے

یہ لڑکیاں ہیں

جنھیں چاندنی راتوں میں نظر آتی ہی

اپنی کوکھ میں تیرتی وحشی پرچھائیاں

اور وہ بندکرلیتی ہیں آنکھیں

ڈرجاتی ہیں پورے چاند اکیلی رات میں

ہماری رات کے ٹوٹے ہوئے چاک پر

گڑھا جارہاہے

ایک بے حد ڈراؤنا خواب

بناجارہاہے ایک ایسا آسماں

جو پرندوں سے خالی

اوردھوئیںسے بھراہے

کل جب لڑکیاں نہیں ہوں گی

اوزون کی پرت میں بنے کسی سورج سے

پیداہوں گے بچے

ہمارے لہو سے

سنچے گی پیٹر کی سوکھی شاخ پر

گائے گی کوئی چڑیا ایک اداس گیت

اورلوگ سمجھیں گے

صبح ہوگئی!

ان دونوں نظموں کاتعلق اسی عورت کے وجود سے ہے جودرداور عذاب کی زندگی سے گزرتی ہے۔ مرد نے اس درد کو محسوس کیاہے اور اسے نظم کے پیکرمیں ڈھالاہے۔

اردو کی نظمیہ شاعری میںجہاں تانیثی مزاحمت کی جلی عنوان کشورناہید، فہمیدہ ریاض، عذرا عباس جیسی خواتین ہیں، تووہیں ایسی بھی شاعرات ہیں جوتانیثیت یا فیمنزم کو فریب نظر کے سوا کچھ نہیں سمجھتیں۔ رفیعہ شبنم عابدی بھی نظمیہ شاعری کا ایک اہم نام ہے، جن کی نظموں کا مجموعہ ’نئی گھٹائیں اتر رہی ہیں‘2010 میں شائع ہوا ہے۔ جنھوں نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ میری نگاہ میں یہ ایک فریب محض ہے۔ جبر کاذمہ دار پورے طبقہ ذکور کو یاکل مرداساس معاشرے کو نہیں ٹھہرایاجاسکتا۔ بلکہ یہ anti woman dominatedطبقہ ہے جس نے صدیوں سے عورت کی سانسوں پہ پہرے بیٹھا رکھے ہیں۔لطف تویہ ہے کہ خودنامور اوردانشورتانیثی ادیبائیں بھی اپنے موقف میں الجھن کا شکار رہی ہیں۔ مرد کی سب سے بڑی دشمن طبقہ ذکور کی زبردست مخالف اور تاثنیت کی علم بردار مشہور فرانسیسی ادیبہ سیمون دی بواربھی ذاتی زندگی میں اپنے نظریات کے برعکس عمل پیرادکھائی دیتی ہے۔ عمر بھر مردوں کو برا بھلا کہنے والی سمون آخر ایک مرد یعنی مشہور امریکی ادیب نیلسن کی خدمت کو عین زندگی سمجھ بیٹھی اور اس کا اعتراف نیلسن کے نام اکتوبر1947ئ میںتحریرکردہ ایک خط میں اس طرح کیا:

’مجھے خوشی ہوگی جب میں تمہارے برتن صاف کروں گی۔ فرش چمکاؤں گی اور تمہارے لیے انڈے اورکیک لینے باہرجاؤں گی، تانیثی تحریک کی پہلی قائد بیٹی فرائیڈن جس نے اپنی پہلی تصنیف Feminine Mystiqueمیں آزادیٔ نسواں کا باغیانہ نعرہ لگایا اپنی دوسری تصنف The Second Sageمیں اس کا لہجہ بالکل بالکل بدلاہوا اوراس کے برعکس ملتا ہے، جب وہ کہتی ہے کہ ’آزادیٔ نسواں کے بنیادی مطالبات کی شدت کے باوجود،مردوں اور بچوں کے بغیرزندہ رہنا ممکن نہیں ہے، ہمیں کچھ اور سوچناہوگا۔‘(یعنی بھرپورازدواجی زندگی کی مسرتیں ہی نسوانیت کاعین مقصد)

ان کی نظمیہ شاعری میں بھی مردمعاشرے سے گلے شکوے ہیں، مگر وہ احتجاج بغاوت نہیں جو تانیثیت سے مختص ہے۔ ان ہی کی نظم ’اشتراک‘ہے،جس میں جدائی سے وصال اورشکوے سے سپردگی تک کا سفر بہت ہی خوبصورتی سے طے ہواہے۔نظم یوں ہے:

سنا ہے، اب تمھیں بھی نیند راتوں کو نہیں آتی

کسی کی یاد میں تم صبح تک کروٹ بدلتے ہو

کبھی گھبراکے اُٹھ جاتے ہو، کمرے میں ٹہلتے ہو

کبھی کھڑکی میں آتے ہو، کبھی چھت پر نکلتے ہو

کبھی خاموش رہتے ہو، سلگتے ہو، سسکتے ہو

کبھی بے وجہ سارے شہر میں تنہا بھٹکتے ہو

تم ہنسنا چاہتے ہو اور ہنسی آتی نہیں تم کو

سنا ہے، اب تو کوئی چیز بھی بھاتی نہیں تم کو

 

کتابوں میں کوئی چہرہ دکھائی دینے لگتا ہے

فضاؤں میں کوئی نغمہ سنائی دینے لگتا ہے

بڑے بے چین رہتے ہو،  بڑے بیزار رہتے ہو

ذرا سی بات ہو،آمادئہ پیکار رہتے ہو

 

سنا ہے، اب کسی سے بھی تمہارا دل نہیں ملتا

گھرے ہو ایک طوفاں میں تمھیں ساحل نہیں ملتا

وفا، الفت، محبت، سب تمھیں بھی ڈھونگ لگتے ہیں

قسم،وعدہ، مروّت، سب تمھیں بھی ڈھونگ لگتے ہیں

زمانے سے تمہارا اٹھ گیا ہے اعتبار اب تو

تمھیں بھی شہرِ دل لگتا ہے اک اُجڑا دیار اب تو

وہ غم، جوایک پل بھی چین سے جینے نہیں دیتا

چلو اس غم سے تم بھی ہوگئے اب منسلک جاناں

تمہارا اور میرا درد اب ہے مشترک جاناں!

 

خدا کاشکر تم کو بھی ہوا احساس فرقت کا

مری تنہائی کا، بے اعتنائی کی شکایت کا

چلو، چل کر منائیں جشن ہم درد محبت کا

سر اپنا رکھ کے کاندھوں پر تمہارے میں بھی کچھ رولوں

مرے آنچل میں منہ اپناچھپا کر تم بھی کچھ رو لو

لگا ہے شہر میں بازار جذبوں کی تجارت کا

بچی ہیں چندسانسیں، وہ بھی اب جائیں نہ بک، جاناں

تمہار ااورمیرا درد اب ہے مشترک جاناں!

رفیعہ شبنم عابدی کی اس نظم میں تسلسل اورروانی ہے۔احساس اورآہنگ میں گہرا ربط ہے۔ خیال کی اکائیاں بھی مربوط ہیں اور احساس اورخیال کے واحدے نے کل کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اسی تانیثی احساس کی ایک نظم ’میراث‘ بھی ہے۔ شائستہ یوسف کی اس نظم میں سماجی،مذہبی ناانصافی کے خلاف احتجاج کی ہے۔ مگراس نظم کا اختتام ایک رجائی نکتے پر ہوتاہے۔ جہاں انھوںنے ایک محرومی کو ایک مژدے میں تبدیل کردیاہے اورنظم کے کلیدی لفظ ’میراث‘ کو ایک نیازاویہ دیاہے۔

میں میراث کے

آٹھویں حصے کی حق دار ہوں

آموں کے میٹھے کھیت تمہارے رہے

اورنیم کے کڑوے مرے

تم نے کوٹھیاں بنوائیں

میں نے نیم سے

رستے زخموں کودھویا

تم نے کہیں باپ بن کر

چوتھا حصہ دیا

اورکہیں شوہربن کر

سب کچھ چھین لیا

تم نے مجھے باربار دفن کیا

میں نے باربارجنم لیا

میری تمام ملکیت کے ساتھ

ناانصافی ہوئی

لیکن حسن، میرے صبر،میری حکمت اور محبت

کی میراث

قیامت تک چاندنی کی طرح روشن

اورلوح محفوظ پرثبت رہے گی

یہ نظم ایک مثبت احساس لیے ہوئے ہے جس میں سماجی ناانصافی کے خلاف احتجاج تو ہے مگر ناانصافی کے تدارک کی ایک اچھی سبیل نکال لی گئی ہے۔ اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعری میں تانیثی احساس کی متضاد سطحیں نظر آتی ہیں۔کہیں جارحیت اور شدت پسندی ہے توکہیں نرمی اورملائمت ۔ترنم ریاض بھی نظم کی معتبرشاعرہ ہیں۔ مگران کااحساس مخالفت کے بجائے مفاہمت کا ہے۔ وہ عورت کی جبلت سے انحراف نہیں کرتیں بلکہ اسی میں اپنے درد کا مداوا تلاش کرتی ہیں۔ ان کی نظم ہے ’حدوفاسے آگے‘

وہ جس نے مجھ سے ساری عمر

چھینا ہے سکوں میرا

میری ہرشام کوتنہا کیاہے

وہ جس نے پھولوں کے معطرسیج کے بدلے

یہ بسترمرگ کا سوپاہواہے

میں اس کی گود میں دم توڑ دینا چاہتی ہوں

کچھ اسی طرح کے احساس کو شبنم عشائی نے بھی اپنی نظموں کا محوربنایاہے۔ وہ اپنی ایک نظم میں کہتی ہیں:

میں کسی آنکھ میں

ٹھکانہ نہیں

تمہاری کھوئی ہوئی نیندیں ڈھونڈناچاہتی ہوں

گھر کی چھت سے

رہائی نہیں

اس فرار میں جینا چاہتی ہوں

جس میں تیری زندگی ہے

ایک دوسری نظم ہے:

کھونانہیں

جیناچاہتی تھی

تمہاری

بانہوں کے چھوٹے سے حصارمیں

٭٭

تجھے

دیکھ کے

یوں لگتا ہے

جیسے چانداتراہو

مری زندگی کی

سیہ راہوں میں

جس کی شفاف خنک کرنوں سے

روشن ہواجاتاہے

تو

میری روح کا نغمہ

تیری ذات سے آباد

میراوجود

اس نظم میں کہیں بھی شعلگی نہیں بلکہ ایک شبنمی کیفیت ہے۔

اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعری کا ایک اہم موضوع حاشیائی اقلیت بھی ہے۔ خاص طور پر دلت طبقے کی مظلومی،محرومی اکیسویں صدی کا ایک اہم موضوع ہے۔مابعدجدید نے اس موضوع کو اور  بھی زیادہ اہم بنادیاہے۔ اردومیں دلتوں کے استحصال کے تعلق سے افسانے توبہت لکھے گئے مگر شاعری نہیں ہوئی۔اس تعلق سے جینت پرمار ایک اہم دلت شاعر کی حیثیت سے آج کی نظمیہ شاعری کا ایک معتبر کرداربن چکا ہے۔ انھوں نے دلت طبقے پر مظالم کے خلاف اپنی شاعری کو ہتھیاربنایاہے۔ سماج کی غیرمنصفانہ تقسیم، برترطبقے کے جارحانہ ظالمانہ رویے کے خلاف احتجاج کی آواز بلند کی ہے۔ جینت پرمار وہ اولین دلت شاعر ہیں جس نے دلت حسیت کو نظمیہ پیکر میں ڈھالاہے۔ دلت ڈسکورس ان کی شاعری کا ایک حاوی عنصر ہے۔ وہ اپنی ایک نظم میں لکھتے ہیں:

اچھوت ہوں میں

مرے سائے سے بھی تم کتراتے ہو

میرے حصے میں تو ملاہے

اپنے لوگوں کا ایمان

اورنفرت کی آگ

مری جنگ اس کے خلاف

جو روٹی سے بڑھ کر ہے

میری جنگ روٹی کی نہیں

ایک دوسری نظم میں اسی دلت شعورکو اس طرح نظمیہ پیکرعطا کرتے ہیں:

مرے اجدادنے

لہو رستے ہاتھوں سے رکھی تھی بنیاد اسکول کی

اسکول کی ایک اک اینٹ میں

ہے ان ہی کے لہو کی سگندھ

وہ تھے ان پڑھ گنوار

مجھ کو داخل کیا تھا اس اسکول میں

تاکہ پڑھ لکھ سکوں

مگرمیرے ٹیچر نے

داخل نہ ہونے دیا کلاس باہرکردیا،دھوپ میں

جانوروں کی طرح مجھ سے برتاؤ ہوا

میں اندر ہی اندر یوں گھٹتارہا

خواب کاایک ایک پھول مرجھاگیا

بہت غصہ آیا

میری ذات پرکھردرے ہاتھ پر

اسکول کی ایک اک اینٹ پر

ہے میرے ہی لہو کی سگندھ

ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ جینت پرمارنے اردو میں دلت مسائل کو بڑی بے باکی کے ساتھ پیش کیاہے۔ان کی شاعری کی بنیاد دلتوں کے مسائل پر ہی ہے۔ ان کے بارے میں پروفیسر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں:

’اردو یوں بھی اقلیت کی آواز ہے۔ مگرجینت پرمار تواقلیت کے اندراقلیت ہے۔ یہ سب الٹرن کے اندر یعنی صحیح معنوں میں حاشیائی روح کی آواز ہے۔‘

حاشیائی روح کی یہی آواز چندربھان خیال کی نظموں میں بھی سنائی دیتی ہے کہ خود ان کا تعلق درج فہرست ذات سے ہے۔ انھوں نے اس طبقہ کی محرومی اور مظلومی کے درد کو اپنی نظموں کو موضوع بنایاہے مگران کی نظموں کا دائرہ لامحدود ہے۔ ان کی نظموںمیں عالمی،آفاقی مسائل بھی ہیں۔ اقلیت کے خوف،عدم تحفظ سے جڑے ہوئے مسئلے بھی فرقہ وارانہ تشدداورتعصب کے خلاف آواز بھی ان کی نظموں میں ہے ’تیسری دنیا کادرد‘، ’آہ بھوپال‘ ان کی بہت مشہور نظمیں ہیں۔اکیسویںصدی میں ان کی شاہکار نظم ’لولاک‘ شائع ہوئی کہ وہ مکمل طورپر حضورؐ کی سیرت پرمبنی ہے تووہیں ’صبح مشرق کی اذاں‘بھی اکیسویں صدی ہی کا ثمرہ ہے۔چندربھان خیال نظم کے فنی لوازمات اورلطافتوں کاخیال رکھتے ہوئے نظمیں کہتے ہیں۔ ان کی شاعری میں جبرواستحصال کے خلاف انکاربھی ہے۔ترسیلیت اوررنگارنگی پران کا یقین ہے۔ ان کی ایک نظم ’ہاں وے مسلمان ہیں‘ اقلیت کے درد کی آواز ہے۔ یہ نظم دیوی پرشادمشرا کی نظم ’مسلمان‘ کے ردعمل کے طورپرلکھی گئی تھی۔ چندربھان خیال ساہتیہ اکادمی ایوارڈیافتہ شاعر ہیں۔ انھوںنے بھی اپنی نظموں میں حاشیائی کرداروں اور اقلیتوں کو اپناموضوع بنایاہے۔ بہت سی نظمیں مثال کے طورپر پیش کی جاسکتی ہیں۔

عورت اوراقلیت ہی اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعری کے موضوعات نہیں ہیں۔بلکہ استحصال، تشدد،تعصب،فسادات،بے چہرگی،خوف، عدم تحفظ، شکست خواب، کرپشن، بدعنوانی، غربت، تہذیبی اقدار کازوال اورجدیدانسان کابحران جیسے موضوعات ہیں۔ خاص طور پر عالمی وقوعات، واردات اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعری کا اہم موضوع رہے ہیں۔ جن میں سانحہ بغداد، افغانستان،شام، فلسطین عراق اور پیرس بھی شامل ہیں۔بابری مسجد،بوسینیااوربیت المقدس پربھی تخلیق کاروں کا ذہن مرکوز رہا ہے۔ ملالہ بھی نظمیہ شاعری کا ایک محبوب مسئلہ رہاہے۔معاشرے کے شب وروز میں جوبھی مسائل شامل ہیں، ان تمام مسائل سے اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعری کابہت گہرارابطہ ہے۔ یہ تمام سماجی جدلیات، نظم نگاروں کے موضوعی متن کا حصہ بنتے رہے ہیں۔

عالمی سطح پر رونماہونے والے حالیہ واردات اورسانحات پربھی نظم نگاروںنے اپنے ردعمل کااظہار کیا ہے۔سانحہ پیرس اوررخسانہ مرگئی۔ یہ چنددنوں پہلے رونماہونے والی وارداتوں پر تخلیقی رد عمل ہے۔ ثمینہ تبسم کی نظم ’سانحہ پیرس‘کاآغازیوں ہوتاہے:

وہ ہم سے مختلف تھے

پھربھی وہ انسان تھے

ماں باپ تھے

بھائی بہن تھے

نسل آدم تھے

وہ مذہب کے شکنجے میں پھنسے

تاریک ذہنوں کی عقوبت گاہ میں

اپنی مردہ آنکھیں

مرگئے ہاتھوں پہ رکھے

بین کرتے ہیں

وہ کہتے ہیں

کہ زندہ بچ گئے لوگو

ذراہوشیارہوجاؤ

سیاست کے میدان جنگ میں

طاقت کے بھوکے بھیڑیے

تم کو چبانے آرہے ہیں

ان ہی کی ایک نظم ہے’اوررخسانہ مرگئی‘ رخسانہ کابل کا ایک ایسا مظلوم کردار ہے،جسے جرمِ محبت کی سزاسنگ ساری کی شکل میں ملی۔ نظم یوں شروع ہوتی ہے:

مری بچی

میں تیری ماں ہوں

عورت ہوں

زمانہ چاند سے آگے ستاروں پہ کمندیں ڈالتا ہے

اور ہم دونوں

ابھی تک جاہلوں کے دیس میں

مرغی یا بکری سے زیادہ کچھ نہیں ہیں

ہماراجرم یہ ہے کہ

ہمارے دل ابھی زندہ ہیں

آنکھوں میں سنہرے خواب

ہاتھوں میں کتابیں ہیں

ہمیں سنگ سار کردینے کی باتیں

آج بھی وہ لوگ کرتے ہیں

جو مجرم ہیں

انھوںنے ہاتھ میں تھامے ہوئے پتھر

خوداپنی غلط کاری کوچھپانے کے لیے پھینکے

وہ تیری چیخ سن کے تیری بدکاری پہ روتے تھے

خدا کے نام پہ

بدوی قبائل کی شریعت کا لبادہ اوڑھ کے پھرتے ہوئے وحشی

یہ بالکل بھول بیٹھے ہیں

کہ دھرتی ماں کے سینے میں

جواں بچوں کے مرنے پر

جووحشت ناک لاوا پک رہاہے

ایک دن وہ آگ بن کے ان پر برسے گا

میری بچی

میں تیری ماں

تیرے مرنے پہ خودبھی مرگئی ہوں

اعظم شاہد کی نظم ’سوال ‘ کاتناظربھی یہی تشدد زدہ ذہنیت ہے:

نفرتوںکومحبتوں سے

کدورتوںکوچاہتوں سے

تنگ نظری کو بصیرتوں کی وسعت سے

بدلنے کاعمل ہی درسِ ایماں ہے

پھرکون کس کا گھرجلارہاہے

عالمی سیاست کی شعبدہ بازیاں بھی اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعری کا موضوع ہے۔ ندا فاضلی کی ایک نظم ہے:

خدا ہے چپ آسماں میں

لیکن وہ سانپ

آدم کو جس کے کارن

خدانے جنت بدرکیاتھا

زمیں پہ تالی بجارہاہے

یہ سانپ کون ہے،اس سے آج کی سیاست اچھی طرح واقف ہے۔ ندا فاضلی نے سانپ کی علامت کے ذریعہ پورے سامراجی نظام کوآشکارکردیاہے،جس کے شکنجے میں آج انسانیت سسک رہی ہے۔ اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعری میں صنعتی معاشرے اور مشینی زندگی کے مسائل بھی ہیں۔ حب الوطنی اور وطن دوستی کا جذبہ بھی آج کی نوجوان نسل کے خواب کا بیان بھی ہے۔ روشنی میں چھپی تاریکی کا المیہ بھی ہے۔ شکیل اعظمی کی ایک نظم ہے ’روشنی کا سفر‘

شام کا ہلکا سادھندلکاہے

ایک لڑکی سیاہ اسکرٹ میں

اپنی مستی میں چلتی جاتی ہے

پنڈلیوں میں چراغ جلتے ہیں

ایک لڑکااسی اجالے میں

اپنی منزل کا خواب دیکھتاہے

اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعری ایک طرح سے نکتہ رخصت ہے جس میں نظم نے انفرادیت سے اجتماعیت،خلوت سے جلوت کاسفر کیا۔ ادعائیت سے آزادی اورجبریت سے نجات ملی۔ اکیسویں صدی کی نظمیہ شاعر ی کو مابعدجدیدیت نے ادراک واظہار کا نیازاویہ دیا۔تجریدیت،علامتیت، ابہام واہمال کے تمام اشکال کو مسترد کیا اورنظم کو تبدیل ہوتی سماجی ثقافتی صورت حال سے ہم آہنگ کیا۔اکیسویں صدی میں ادب اورمعاشرے کے زندہ رشتوں کی جستجو ہوئی اورتخلیق کی ذات میں کائنات کی شرکت یقینی ہوگئی۔اکیسویں صدی کا نظم نگارادب اورمعاشرے کے زندہ رشتوں پریقین رکھتا ہے  وہ اپنی ذات کے خول میں قیدنہیں ہے۔ وہ مقامی اورعالمی تناظر سے باخبر ہے وہ ہراس منظر سے آگاہ ہے جو عالمی اورمقامی سطح پروقوع پذیر ہوتاہے۔ اکیسویں صدی کے نظم نگاروں نے یہ بھی واضح کیا کہ ان کے لیے تکنیک سے کہیں زیادہ اہمیت ترسیلی قوت کی ہے کہ تکنیک میں الجھی ہوئی نظم ان مطالب مفیدہ کے حصول میں ناکام رہتی ہے جس کے لیے انجمن پنجاب نے جدیدنظم کی داغ بیل ڈالی تھی۔ غزل جن موضوعات کی متحمل نہیں ہوسکتی، ان موضوعات کو نظم سنبھالتی ہے۔ اسی لیے غالب نے کہا تھا:

بقدر شوق نہیں ظرف تنگ نائے غزل

کچھ اورچاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

نظمیہ شاعری نہ ہوتی توغالب کی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوپاتی۔

ہمارا عہد مسائل کا ہے اورمسائل کے بیان کے لیے غزل سے کہیں زیادہ ضرورت نظم کی ہے۔ غزل بارِنشاط اٹھاسکتی ہے، مسائل کا انبار نہیں۔ غزل ردیف وقافیے میں قید رہتی ہے اسی لیے تنگیٔ داماں کی شکایت ہے جبکہ نظم کے لیے صحرا کی سی وسعت چاہیے۔ جب زندگی کے مسائل بیکراں ہوں تو اس کے بیان کے لیے ایک وسیع تربیانیہ چاہیے اورنظم سے بہتربیانیہ مل نہیں سکتاکہ نظم نے حیات وکائنات کے تمام مسائل کو اپنے دامن میں سمیٹ لیاہے۔

¡¡¡

 

Cel.: 9891726444

Email.: haqqanialqasmi@gmail.com

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
-1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اردو میں مکتوب نگاری: آغاز و ارتقا اور زوال – پروفیسر اسلم جمشید پوری
اگلی پوسٹ
اقبال کی اردو نثر، تدوین کا ابتدائی خاکہ – ڈاکٹر خالد ندیم

یہ بھی پڑھیں

آزادی کے بعدکی نظمیہ شاعری کا اسلوب –...

نومبر 19, 2024

جدید نظم : حالی سے میراجی تک (مقدمہ)...

ستمبر 29, 2024

الطاف حسین حالؔی کی "مولود شریف "پر ایک...

اگست 27, 2024

نظم کیا ہے؟ – شمس الرحمن فاروقی

جولائی 23, 2024

ساحر کی نظمیں: سماجی اور تہذیبی تناظر –...

جولائی 9, 2024

فیض کا جمالیاتی احساس اور معنیاتی نظام –...

جون 2, 2024

طویل نظم سن ساٹھ کے بعد – پروفیسر...

جون 2, 2024

نظم ’’ابو لہب کی شادی ‘‘ایک تجزیاتی مطالعہ...

فروری 11, 2024

ساحر لدھیانوی کی منتخب نظموں میں امن کا...

جنوری 28, 2024

اخترالایمان کی نظموں میں رومانی عناصر – نہاں

اکتوبر 30, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (599)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (202)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (143)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,050)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (19)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,136)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (899)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں