نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کوئی قصہ کہانی نہیں،وہ محض ایک فرد کی داستان بھی نہیں بلکہ وہ فی الحقیقت ایک ایسے عظیم اور پاکیزہ انقلاب کی داستان ہںے جس کی کوئی مثال تاریخی انسانی میں نہیں ملتی اس انقلاب کی رواداد کا مرکزی کردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہںے۔قران کی توضیحات کے مطابق آپ کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ خدا پرستانہ حکمت اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کرکے آپ ایک ایسی جماعت کھڑی کریں جو آپ کی قیادت میں بھرپور جدوجہد کرکے دین بر حق کو ہر دوسرے نظریے اور فلسفے اور مذہںب کے مقابلے میں پوری انسانی زندگی پر غالب کردے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ میں حکمت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا،حکمت کے یوں تو بہت معانی بیان ہوئے ہیں مگر ابو حیان الاندلسی (صاحب السجر المحیط)کی یہ تعبیر عام طور پر قبول کی جاتی ہںے کہ حکمت سے مراد ایسا کلام یا سلوک جس میں اکراہ و زبردستی کا پہلو موجود نہ ہو اور طبع انسانی اسے فوراً قبول کرے،حکمت اس درست کلام اور موثر طرز ابلاغ کا نام ہںے جو انسان کے دل میں اتر جائے اور مخاطب کو مسحور کر دے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو اختصاص و امتیاز حاصل تھا اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہںے کہ عرب کے مشہور خطیب خمادالازدی رضی اللہ عنہ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اثر انگیز خطبہ سنا تو اعتراف کیا کہ ایسا کلام تو کسی کا نہیں اور فوراً اسلام قبول کر لیا،کم عرصے میں وسیع پیمانہ پر پھیلنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکیمانہ طرز تخاطب اور حکیمانہ طرز معاشرت کا نمایاں کردار رہا ہںے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کا مزاج ان کی افتاد طبع اور موقع محل کے مطابق ان سے کلام فرماتے تھے،حالات و طبائع میں فرق کے ساتھ آپ کے طریقئہ تبلیغ میں تبدیلی آجاتی تھی آپ نے ہر شخص سے وہی سلوک کیا جس کا وہ حقدار تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شخص سے کامل بشاشت وفور مسرت اور مسکراتے چہرے کے ساتھ پیش آتے جس سے لوگوں کے دل خوش ہوجاتے اور مخاطب ترش روئی سے پیش آتا تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم قطعاً برا نہ مانتے بلکہ تحمل فرماتے۔
محمدی انقلاب کی اساس کلمئہ طیبہ پر تھی یعنی اس کائنات کا اور تمام نوع انسانی کا ایک ہی الہ ہںے,اور وہ اللہ تعالیٰ ہںےجس نے آپ کے پیغام کو قبول کیا اس کی ساری ہستی بدل گئی،اس انقلاب کی روح محبت انسانیت تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی شفقت سے مکہ میں١٣ سال اور مدینہ میں١٥سال تک کام کیا،محمدی انقلاب کی رحمت و برکت کے سامنے دوسرے انقلابی نظریں محض باطل کے مختلف روپ ہیں۔آج امت مسلمہ کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہونی چاہیے کہ ہم اسلامی انقلاب برپا کرنے کے اس طریقے کو سمجھ لیں جو پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طریقے سے اسلامی انقلاب برپا کیا تھا۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

