دعوت اسلام کے لئے دنیا میں انبیاء اور رسولوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔ پیغمبر آتے رہے اور دین کی دعوت دیتے رہے-آپﷺ اس سلسلہ کی آخری کڑی ہے اسلئے انھیں خاتم النبین کہا جاتا ہے
دین کی دعوت کے لئے کردار ہی موثر زریعہ ہے آپﷺ کے کردار پر غور کیا جاۓ تو پیدائش سے لیکر نبوت تک اور نبوت کے بعد بھی آپ کا اخلاق بہت موثر رہا ۔ جس کی وجہ سے کافر بھی مسلمان ہوگئے آپ نے 23 سال کے مختصر عرصے میں کسی ایک خاندان کی نہیں کسی ایک فرد کی نہیں کسی ایک شہر یا گاؤں کی نہیں بلکہ پورے جزیرۂ عرب کی کایا پلٹ دی اتنے کم وقت میں انھوں نے وحشیوں کو انسان بنادیا۔ جو لوگ ایکدوسرے کے خون کے پیاسے تھے وہ ایک جان دو قالب بن گئے۔اس تبدیلی کے پیچھےآپ ﷺ کی وہ دعوتی تڑپ ہے جس کی گواہی قرآن ان الفاظ میں دیتا ہے
ترجمہ: اے نبیﷺشاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو ۔ اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائیں (سورہ الکہف:آیت نمبر 6)
آپﷺ اپنی کیفیت کو اسطرح بیان کرتے ہیں کہ "جسطرح انجام سے بے خبرپتنگے آگ کے گڈھے میں باوجود روکنے کے گرے پڑتے ہیں "اسی طرح میں تمہیں کمر سے پکڑ پکڑکر آگ میں گرنےسےروک رہا ہوں اور تم ہو کے گرے پڑرہے ہو۔ آپ کے کردار کی عظمت دیکھۓ کہ جب آپ دین کی تبلیغ کے لۓ طائف پہنچے تو طائف والوں نے نہ صرف آپ کی بات ماننے سے انکار کردیا بلکہ آپ کو تکلیف پہنچائی اور پتھر مار کر آپ کو لہولہان کردیا۔ تو پہاڑ کے فرشتے نے کہا کہ اے نبیﷺ اگر آپ حکم دیں تو ان پہاڑوں کے درمیا ن قوم کو پیس دیں ؟ آپﷺ نے فرمایا میں دنیا کے لۓ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں "کیا ہوا گر یہ ایمان نہ لاۓ لیکن ان کی آنے والی نسل ضرور ایمان لاۓ گی”
حضرت عائشہ رضی فرماتی ہےکہ آپﷺبرائی کےبدلےبرائی نہ کرتے بلکہ عفو درگز سے کام لیتے
فتح مکہ کے بعد آپﷺنے تمام قصورواروں کو معاف کردیا۔آپ چاہتے تو ہر ایک سے بدلہ لیتے لیکن آپ نے عام معافی کا اعلان کیا آپﷺ نے فرمایا”آج تم پر کوئی کوئی ملامت نہیں جاؤ تم سب آزاد ہو”
یمامہ کےبنو حنیفہ کا رئیس ثمامہ بن اثال اسلام کے بد ترین دشمنوں میں سے تھا ۔ ایک لڑائی میں وہ پکڑا گیا۔ستون سے باندھا گیا تین دن مسلسل آپ سے رحم کی اپیل کی۔ آپ نے اسے آزاد کردیا۔ ثمامہ اس غیر متوقع عفو سے اسقدر متاثر ہوا۔ کہ رہائی کے بعد غسل کرکے رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔
دعوت دین میں عفو و در گزر آپﷺ کے کردار کا اہم پہلو ہے۔ جس سے متاثر ہو کر کافر مسلمان ہوگۓ
سرمایہ حیات ہے سیرت رسول کی
فلاح کائنات ہے سیرت رسول کی
بنجر دلوں کو آپ نے سیراب کردیا
ایک چشمہ صفات ہے سیرت رسول کی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

