آج ثناءاردو پرائمری اسکول کی جماعت پنجم کی طالبات بے انتہا خوش تھیں۔ خوش کیوں نہ ہوتیں۔ ۔؟یوم جمہوریہ( 26 جنوری )کی مناسبت سے سالانہ کھیل کے مقابلے جو تھے۔سونے پہ سہاگہ اسکول کی نہایت شفیق اور ہر دل عزیز صدر معلمہ معراج النساء صاحبہ جماعت پنجم کی طالبات کے کھیل کے معاءنے کے لئے خود میدان میں تشریف لائیں تھیں۔
سفید یونیفارم میں ملبوس لڑکیوں نے انہیں گھیر لیا اور استقبالیہ ترانہ ترنم کے ساتھ گانے لگیں ۔۔
اس بزم مسرت میں مہمان جو آئے ہیں
ہم ان کی عنایت پر پھولوں نہ سماے ہیں۔
اور دوران ترانہ کچھ شوخ لڑکیوں نے سرخ گلابوں سے مہکتا بڑا سا ہار صدر معلمہ کے گلے میں پہنا دیا ۔اور ان کے نہ نہ کرنے کے باوجود ان کے ساتھ گروپ فوٹو کھینچوائی ۔یہ سب طالبات نے اتنی تیزی سے کیا کہ معلمات تک حیران رہ گئیں۔ لیکن کم عمر طالبات کی یہ پلانینگ سب کو پسند آئی ، اور انہوں نے طالبات کے لیے توصیفی تالیاں بجائیں ۔
ہاں تو پھر مقابلہ کی گھڑی آ گئی جس کا سب کو انتظار تھا
اسکول کا طویل و عریض میدان ۔۔۔میدان میں ہلکی گیروی مٹی ۔۔۔اس پر سفید پاؤڈر سے کی گئی مارکنگ۔سب کچھ بہت خوبصورت دکھائی دے رہا تھا ۔کلاس ٹیچر صاحبہ نے مایک ہاتھ میں تھاما اور دوڑ کے مقابلے میں حصہ لینے والی طالبات کے نام پکارے۔تمام طالبات تیزی سے مارکنگ لائن پر اپنی اپنی جگہ پر کھڑی ہوگیں۔ ہمیشہ کی طرح کلاس کی تیزوطرار صغریٰ نے عین وسط کی جگہ لی۔ صغریٰ کو اپنے آپ پر کچھ زیادہ ہی زعم تھا کیونکہ دوڑ کے مقابلے کا اس کا اپنا ریکارڈ قائم تھا ۔دوسری طرف فوزیہ تھی جس کا اپنا تعلیمی ریکارڈ تھا لیکن کھیل کے مقابلے میں وہ صغریٰ سے پیچھے رہ جاتی تھی ۔یہی بات دونوں میں فاصلہ کئے ہوئے تھی ۔ فوزیہ دل ہی دل میں اپنے رب سے مخاطب تھی۔۔”اللہ میاں !آج کے مقابلے کے لیے میں نے بہت پریکٹس Practice کی ہے ۔آپ میری مدد فرمانا ۔بس بازی میں جیت جاؤں ۔”
ہر ایک طالبہ امید ویقین کی ملی جلی کیفیت میں تھی ۔اتنے میں انسٹر کٹر صاحبہ نے کچھ ہدایت کیں اور سیٹی بجائی۔دوڑ کا مقابلہ شروع ہوا ۔لڑکیاں اپنی پوری قوت کے ساتھ دوڑ نے لگیں۔ دونوں جانب اسکول کی طالبات محو ےمقابلہ تھیں۔حسب توقع صغری سب سے پہلے مارکنگ لائن کو ٹچ کر کے واپس پلٹی تھی ۔ہر طرف سے صغریٰ صغریٰ کی پکار گونجنے لگی ۔ صغری واپسی کا آدھا راستہ طے کر چکی تھی ۔تبھی سب کو حیرانی ہوئی کہ فوزیہ بھی بڑی تیزی سے مارکنگ لائن کو ٹچ کیا اور بلکل صغریٰ کی قریب قریب پہنچ گئی ۔ ناظرین کے دو گروپ بن چکے تھے کچھ آواز یں فوزیہ فوزیہ کی رٹ سنا رہی تھیں تو کچھ صغری کو اپنی رفتار بڑھانے کے لئے اکسا رہی تھیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دونوں لڑکیاں برابر ہوگیں۔ اب مقابلہ سسپنس بڑھا رہا تھا منزل دونوں کی بالکل قریب تھی طالبات و معلمات صرف دونوں پر نظر یں ٹکا ے ہوئی تھیں۔ دیکھنا تھا اول کون آتا ہے ۔لیکن اچانک دیکھتے ہی دیکھتے صغری لڑکھڑا کرگر گئی ۔اس کی ہتھیلیاں اور گھٹنے زخمی ہوگئے وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔مگر اس کو اٹھنا مشکل ہونے لگا ۔اس دوران فوزیہ آگے بڑھ چکی تھی اور بس دو قدم پر جیت اس کا مقدر تھی۔چیخ کی آواز پر اس نے گردن گھما کر دیکھا تو صغری بری طرح گری ہوئی تھی۔ بڑی تیزی سے فوزیہ کے دل وہ دماغ کا مقابلہ شروع ہوا ۔دماغ نے تیزی سے دو قدم آگے بڑھنے کا حکم دیا ۔جبکہ دل نے اسے آگے بڑھنے سے منع کردیا ۔لمحے کے ہزارویں حصہ میں فوزیہ فیصلہ کر چکی تھی ۔فوزیہ نے دو قدم پیچھے ہٹ کرصغری کو اٹھایا اور سائیڈ میں لے گئی ۔صغری کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔اسے مار سے زیادہ مقابلے میں ہارنے کی تکلیف ہو رہی تھی ۔فوزیہ نے صغریٰ کو کرسی پر بٹھایا اس کی کپڑوں سے مٹی صاف کی ۔صغریٰ اور فوزیہ مقابلہ سے خارج ہو گئی تھیں۔
خلاف توقع نیہاں کے لیے میدان صاف ہو گیا تھا۔نیہاں نے اپنی رفتار بڑھائی۔ اور لائن کراس کر لی ۔حسب روایت اول آنے والی طالبہ کو صدرمعلمہ نے گلے میں میڈل پہنایا اور ٹرافی دی۔ یہ سب کچھ حیران کن تھا ۔
دوسرے ہی لمحے صدر معلمہ صاحبہ بڑی تیزی سے فوزیہ کے قریب پہنچیں اور انہوں نے فوزیہ کے پیشانی کو بوسہ دیا ، اور سرخ گلابوں کا ہار بہت محبت سے اس کے گلے میں پہنایا ۔صغریٰ کا سارا غرور ٹوٹ چکا تھا ۔صغری نے آگے بڑھ کر فوزیہ کو اپنے گلے لگا لیا ۔
اسکول کا سارا گراؤنڈ فوزیہ کیلئے تالیوں سے گونج اٹھا ۔
بچو اس کہانی سے ہمیں کیا سبق ملا ۔۔؟
یہی کہ۔ ۔
1۔فوزیہ ہار کر بھی بازی جیت چکی تھی ۔
2۔صغریٰ کا زعم کچھ کام نہ آیا ۔
3۔ صغریٰ اور فوزیہ کے درمیان کے فاصلے ختم ہو چکے تھے۔ فوزیہ کے حسن سلوک نے صغریٰ کو اس کا دوست بنا دیا تھا ۔
تم دیکھو گے کہ تمہارے حسن سلوک سے تمہارے دشمن جگری دوست بن جائیں گے ۔(سورہ حم سجدہ )
تحسین عامر ناندیڑ۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

