احمد کا تعلق ایک امیر گھرانے سے تھا۔ اسکے والد شہر کے بہت بڑے رئیس تھے۔ وہ بہت نیک اور خدا پرست آدمی تھے۔ انہیں ہمیشہ احمد کی تعلیم اور تربیت کی فکر رہتی تھی۔ احمد کی ماں کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ احمد بہت محنتی اور فرمانبردار لڑکا تھا۔ وہ اپنے والد کی ہر بات مانتا اور انکی بہت عزت و احترام کرتا تھا۔ احمد کے دوست بھی بہت اچھے اخلاق والے تھے۔
احمد نے جب نئ کالج میں داخلہ لیا تو اسکا رابطہ اپنے پرانے دوستوں سے آہستہ آہستہ کم ہونے لگا ۔ اور اس نئے کالج میں اسکے نئے دوست بن گئے۔ یہ نئے دوست دین سے دور اور برے اخلاق والے تھے۔ احمد کو اس بات کا احساس نہیں تھا۔ اور وہ انکی ہر بات ماننے لگا۔ ہر وقت انے ساتھ رہنے لگا۔ اس بری صحبت کا اثر یہ ہوا کہ احمد نماز، قرآن سے دور بس موبائل یا انٹرنیٹ میں مصروف رہنے لگا۔ اسے اپنے والد کی بھی فکر نہیں تھی۔ اور وہ ہمیشہ پیسے لیکر اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے اور عیاشی میں مگن رہتا۔ اسے اپنے دوستوں کے علاوہ کسی کی بھی پرواہ نہیں تھی۔ اسکے والد نے اسے طرح طرح سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن اسے اپنے دوستوں کے علاوہ کوئی بھی اپنا نہیں لگتا تھا۔ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہر طرح کے برے کاموں میں مصروف رہنے لگا ۔ نماز اور نیک کاموں سے دور ہونے لگا۔ اسکے پرانے دوستوں نے جب اسے دین سے دور دیکھا تو اسے ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن احمد نے انکی بھی نہ سنی۔ اور اسی طرح برے اور غلط کام کرتا رہا۔
ایک دن وہ اپنے دوستوں کی ساتھ گھومنے کے لیے شہر سے باہر چلا گیا، ادھر اسکے والدکی طبیعت بہت خراب ہوگئ۔ انہیں دل کا دورہ پڑا تھا۔ اور وہ احمد کو اپنے پاس بلانا چاہتے تھے۔لیکن کئ بار فون کرنے کے باوجود احمد نے فون نہیں اٹھایا کیونکہ وہ پارٹی میں مگن تھا۔ ادھر احمد کے والد کی طبیعت مزید بگڑ گئی اور انکا انتقال ہوگیا۔ آخری وقت تک بھی وہ احمد کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک دن بعد احمد اور اسکے دوست شہر واپس آرہے تھے ۔ احمد کار بہت تیز رفتار سے چلا رہا تھا، اس تیزی سے کار چلانے کی اجازت نہیں تھی، اور اس سے پہلے کے اسے اس بات کا احساس ہوتا اسکی کار سے راہ چلتے بزرگ آدمی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔ اور پولیس نے احمد اور اسکے دوستوں کو گرفتار کرلیا۔ احمد کو اس مشکل وقت میں اپنے والد یاد آئے۔ اور اسنے جب انہیں فون کیا تو انکے دوست نے فون اٹھا کر بتایا کے اسکے والد کا ایک دن پہلے انتقال ہوگیا ہے۔ یہ سن کر احمد بے ہوش ہوگیا۔ جب اسے ہوش آیا تو اسکے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ اپنے والد کو یاد کرکے بہت رویا اور وہ ان سے معا فی مانگنا چاہتا تھا۔ لیکن اب چاہ کرکے بھی اسکی یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی تھی۔ احمد کو اب اپنی غلطیوں کا احساس ہوگیا تھا۔ اور اسنے اللہ سے معافی مانگ لی تھی ۔ اس نے جیل سے رہا ہونے کے بعد ان برے دوستوں سے رشتہ ختم کیا اور واپس اپنے پرانے اور نیک دوستوں سے تعلق قائم کیا۔ اور ہمیشہ اپنے والد کی دی گئ نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزاری۔
بچوں اس کہانی سے ہمیں کئ سبق حاصل ہوتے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ اپنے والدین کی بات ماننی چاہیے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ ہمارا بھلا چاہتے ہیں اور ہم سے زیادہ تجربہ کار ہوتے ہیں۔ ہمیں برے لوگ اور انکی صحبت سے دور رہنا ہے۔ ہمیشہ اچھے لوگوں سے دوستی کرنی ہے۔ کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے "آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے "۔ (سنن ترمذی)۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ نیک لوگوں کی صحبت میں رہنا چاہیے۔ اسی طرح ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف اور احساس کرنا چاہیے۔ اور اللہ سے معافی مانگ کر آئندہ گناہ سے بچنا چاہئے۔
اللہ ہم تمام کی برے اور گناہ کے کام سے حفاظت کرے۔ آمین۔
Tasneem Fatima
Sharjah. UAE
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

