بیٹھی فرصت میں ، میں جب
تو یہ خیال آیا
خیال آیا تو سہی ،مگر
اس پر ملال آیا
کہ کیسی دنیا میں یہ آج
ہلچل سی مچی ہے
کیا یہ تاریخ کا بدلنا
کچھ اپنا کمال لایا…
کیا شور و غل کا یہ طریقہ ہے
رب کی نعمت کے شکر کا
یا یہ انداز ہیں ان کے
جن کا راستہ ہے ، کفر کا…
کیا جینے کے لیے سانسیں
یہ نیا سال لایا ہے
یا یہ جاکر ،سورج کی کرنیں
کچھ اور بڑھا آیا ہے…
کیا اس کے آنے سے پہلے
نہیں چلتی تھی ہوایں
یا رب کریم نے پہلے
رحمت کے بادل نہیں برساے…
کیا یہ کھلتے ہوئے پھول
پہلے نہیں مہکتے تھے
یا یہ اڑتے ہوئے پرندے
پہلے نہیں چہکتے تھے…
کیا ہر روز طلوع ہوتا سورج
نئ امیدیں نہیں لاتا ہے
یا بس نۓ سال میں ہنگامہ ہی
نئ زندگی کا احساس دلاتا ہے…
کیا صرف یہی دن ہے ،جو
واپس نہیں آئے گا
اور باقی گزرے دنوں کو
کوئی بار بار لوٹاۓ گا…
کیا صرف تاریخ کا بدلنا
مردہ دل میں جان لاۓ گا
اور بنا کوشش کۓ بھی یہ
ہمیں نیک انسان بناۓ گا…
کیا اسے منانے سے ہی
زندگی کا معیار ہوگا
اور نا منانے والا مردوں میں شمار ہوگا…
سن ، اے آنے والے سال
ترا کچھ بھی ، کمال نہیں ہے
کیونکہ ،ہر لمحہ ہی نیا ہے
صرف تو ہی نیا سال نہیں ہے …
ثنا شمیم
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

