میرٹھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ’’سفرنامہ‘‘ پرآن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ20؍ جنوری2022ء
سفر دنیا کی تخلیق کا سبب،علم،ظفر یابی اور فتح یابی کا ذریعہ ہے ۔ان کے ذریعے دور بینی اور جہاں بینی کا ہنر آتا ہے۔ بر طانوی قوم اس کی عمدہ مثال ہے کہ اس قوم نے اسفار کے ذریعے ہی دنیا بھر میں حکومت کی۔یہ قوم سفر کے ذریعے ہی تاجر بنی،تاجر سے سیاسی اور سیاسی سے سلطان بن گئی۔یہ الفاظ تھے سابق ڈائریکٹرNCPULاور جواہر لال نہرو یو نیورسٹی ،نئی دہلی کے پرو فیسرخواجہ اکرام الدین کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’سفر نامہ‘‘ موضوع پرخصوصی مقرر کی حیثیت سے آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسفار ہی ہماری تہذیبی، ثقافتی،سیاسی ، سماجی،معاشی معاشرتی تاریخ کا سب سے مستند حوا لہ ہیں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی نے فرمائی اور صدارت کے فرائض سابق صدر شعبۂ اردو،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی کے پروفیسر خالد محمود نے انجام دیے ۔
مقالہ نگار کے بطور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ،حیدر آبادکے لکھنؤ کیمپس سے ڈاکٹر عشرت ناہید نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف علی اور شکریے کی رسم ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے ادا کی۔
اس مو قع پر محترمہ عشرت معین سیمانے اپنے سفر نامے کے تجربات اور مختلف ممالک میں سفر کے دوران لکھے گئے سفرناموں کی اہمیت کو واضح کیا۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر عشرت ناہید نے کہا کہ بیسویں صدی میں خواتین کے سفر ناموں کی رفتار سست نظرآتی ہے لیکن کچھ خواتین کے سفر ناموں پر محققین اور ناقدین نے خاطر خواہ نظر ڈالی ہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ خواتین نے بھی اس صنف میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے اور گذشہ بیس برسوں میںتقریباً50سفر نامے اس صنف کو دیے ہیں۔یہ صدی نہ صرف افسانے کے لیے بلکہ سفر ناموں کے لیے بھی یا د رکھی جائے گی۔
صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے پروگرام کے مقا صد کے علاوہ’’ سفر ناموں کے بدلتے رنگ اور اکیسویں صدی کے سفر نامے‘‘عنوان سے پر مغز مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ صدیوں کے سفر ناموں میں واقعات و حالات کے ساتھ ساتھ مصنف کی شخصیت بھی نما یاں طور پر شامل رہتی تھی مگر اکیسویں صدی کے سفر ناموں میں سفر نامہ نگار کی شخصیت معدوم سی ہوگئی ہے اور اسلوب کے اعتبار سے اس پر افسانویت کا غلبہ ہونے لگا ہے جو سفر ناموں کے لیے نیک فال نہیں ہے۔کیونکہ سفر ناموں پر بڑھتے افسانوی رنگ نے ان کی حقیقت پسندی کو نقصان پہنچایا ہے۔
عارف نقوی نے صنف سفر نامہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سفر ناموں میں مطالعہ و مشاہدہ اور زبان و اسلوب دونوں کی اہمیت مسلم ہے۔ اگر مطالعہ و مشاہدہ ناقص ہے یا زبان و اسلوب پر مضبوط گرفت نہیں ہے تو سفر نامے کے خا طر خواہ نتا ئج بر آ مد نہیں ہوگے۔یوں تو حقیقت نگاری ادب کی تمام اصناف کی بنیاد کہی جاسکتی ہے لیکن سفر نامے میں اس کی اہمیت کہیں زیادہوتی ہے۔ کیونکہ یہ صنف ہماری تہذیبی و ثقا فتی، سیاسی و سماجی اور معاشی و معاشرتی تاریخ کو متاثر کر نے کی بے پناہ قوت رکھتی ہے۔حقیقت سے پرے یا افسانوی رنگ میں بیان کردہ واقعات پڑھنے میں تو دلچسپ مگر سماج کو گمراہ کرنے کا سبب ہو سکتے ہیں۔
اپنی صدارتی تقریر میں پروفیسر خالد محمود نے سفر ناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سفر نامہ کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ سفر بغرض سیاحت اور سفر بغرض مقصد۔ اول الذکر کو اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ اس میں کوئی تجارتی، علمی یا کو ئی دوسرا مقصد پیش نظر نہیں ہو تا بلکہ اس کی پو ری توجہ وہاں کے حالات و واقعات پر مرکوز رہتی ہے جب کہ ثا نی الذکر میں مقصد اولیت پر رہتا ہے۔ سیاحت زندگی کا ایک ضروری حصہ ہے حتیٰ کہ مذہب نے بھی اس کی اہمیت کا اعراف کیا ہے اور نماز کوبھی قصر کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس مو قع پرسیدہ مریم الٰہی،محمد شمشاد،عظمیٰ پروین ،فیضان ظفر،محمد شمشاد، شاہانہ پروین،وغیرہ آن لائن موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

