سرزمین ہند تمام ادوار میں علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے۔ اردو شاعری کے بین الاقوامی شہرت یافتہ کہنہ مشق شاعر ملک الشعراء، خاقانی ہند شیخ محمد ابراہیم ذوق کی ولادت 22/اگست 1790ء میں گہوارہ علم و ادب دلّی(دہلی) میں ہوئی۔والد ماجد کا نام محمد رمضان ہے۔ذوق کے والد بزرگوار ایک غریب سپاہی تھے۔ذوق کا پورا نام شیخ محمد ابراہیم تھا۔ذوق آپ کا تخلص تھا۔
تعلیم و تربیت:
ذوق نے ابتدائی تعلیم حافظ غلام رسول سے حاصل کی۔ذوق کے نامور شاگرد مولانا آزاد لکھتے ہیں’’ ذوق جب پڑھنے کے قابل ہوئے تو حافظ غلام رسول نامی ایک شخص بادشاہی حافظ تھے۔ ان کے گھر کے پاس رہتے تھے۔ محلے کے اکثر لڑکے انہیں کے پاس پڑھتے تھے۔ انہیں بھی وہیں بیٹھا دیا گیا۔ حافظ غلام رسول شاعر بھی تھے اور شوق تخلص کرتے تھے‘‘۔( ذوق نے اپنے استاد کے نام کے وزن پر ہی اپنا تخلص ذوق رکھا۔)(آب حیات،ص:۳۷۷)
حافظ غلام رسول کے بعد ذوق نے شاہ نصیر کی شاگردی اختیار کی۔ لیکن شاہ نصیر نے ذوق کے معاملے میں بے توجہی اور لاپرواہی سے کام لیا، جس سے ذوق کو بڑا رنج ہوا۔ مولانا آزاد لکھتے ہیں ’’ بعض موقعوں پر ایسا ہوا کہ شاہ صاحب نے ان کی غزلوں کو بے اصلاح پھیر دیا اور کہا طبیعت پر زور ڈال کر کہو۔ کبھی کہ دیا کچھ نہیں ہے، پھر سوچ کر کہو۔ بعض غزلوں کو جو اصلاح دی اس میں بھی بے پروائی پائی گئی۔ چنانچہ ایسا کئی دفعہ ہوا کہ غزلیں پھیر دیں۔ بہت سے شعر کٹ گئے‘‘۔
رفتہ رفتہ مشق سخن اور اپنی ذہانت کے باعث کم عمری میں استادی کے مرتبے کو پہنچ گئے۔بہادر شاہ ظفر کی استادی کا بھی فخر حاصل ہوااور خاقانی ہند، ملک الشعراء کے خطاب سے سرفراز کیے گئے۔
پہلی دفعہ مشاعرے میں شرکت:
ذوق ایک غریب سپاہی کے بیٹے تھے،اس وجہ سے نہ ان کا کوئی دوست تھا نہ کوئی ہمدرد اور اوپر سے استاذ کی بے توجہی نے ذوق کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ ایک دن ذوق بہت ہی غمگین اور رنجیدہ بیٹھے تھے۔ان دنوں دلی میں مشاعرے خوب ہوا کرتے تھے۔ میر کلو حقیر نامی ایک بزرگ شخص نے ذوق کو اس طرح بیٹھا دیکھ اپنے پاس بلایا اور کہا میاں ابراہیم آج کچھ مکدر معلوم ہوتے ہو خیر ہے؟ میر کلو شعر و شاعری سے اچھی واقفیت رکھتے تھے۔ پرانے استاذ تھے۔ ذوق نے اپنے دل کے غبار کو میر صاحب کے سامنے نکال دیا۔ میر صاحب نے کہا بھلا غزلیں سناؤ۔ انہوں نے غزلیں سنائی۔ میر صاحب کو ذوق کی حالت پر بڑا ترس آیا۔ کہا جاؤ بلا تامل غزلیں پڑھ دو۔ کوئ اعتراض کرے تو ذمہ داری ہماری ہے۔ ذوق نے مشاعرے میں شرکت کی اور مندرجہ ذیل غزلیں پڑھی:
رکھتا بہر قدم وہ یہ ہوش نقش پا
ہو خاک عاشقاں نہ ہم آغوش نقش پا
افتادگاں کو بے سرو ساماں نہ جانیو
دامان خاک ہوتا ہے رو پوش نقش پا
اعجاز پا سے تیرے عجب کیا کہ راہ میں
بول اٹھے منہ سے ہر لب خاموش نقش پا
اس رہ گزر میں کس کو ہوئی فرصت مقام
بیٹھے ہیں نقش پا بہ سر دوش نقش پا
جسم نزار خاک نشیناں کوئے عشق
یوں ہے بے زمیں پر جیسے تن و توش نقش پا
یا بوس درکنار کہ اپنی تو خاک بھی
پہنچی نہ ذوق اس کے یہ آغوش نقش پا
اس دن سے ذوق جرأت مندی اور ہمت سے اپنی غزلیں مشاعروں میں پڑھنے لگے۔ ذوق شفقت و محبت کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے۔ رفتہ رفتہ چہار سو ذوق کا شہرہ ہر طرف ہونے لگا۔
مرزا ابوظفر بہادر کےدربار تک رسائی
میر کاظم حسین کے توسط سے ذوق کی رسائی مرزا ابوظفر بہادر کےشاہی دربار تک ہوگئی۔ مرزا ابوظفر پہلے شاہ نصیر سے اصلاح کرایا کرتے تھے اور اپنی غزلیں انہیں دکھاتے تھے۔ اب ذوق سے مشورہ سخن کرنے لگے۔ رفتہ رفتہ اکبر شاہ ثانی کے دربار تک ذوق کی رسائی ہوگئی۔ قلعے کے اندر باہر ہر جگہ ذوق کی شہرت کا ڈنکا بجنے لگا۔ ذوق نے بے شمار قصیدے اکبر شاہ ثانی کی شان میں کہے۔ انہیں کی طرف سے ذوق کو خاقانیٔ ہند کا خطاب عطا کیا گیا۔
مولانا آزاد لکھتے ہیں ’’ چند سال بعد ذوق نے ایک قصیدہ اکبر شاہ کے دربار میں سنایا کہ جس کے مختلف شعروں میں انواع و اقسام کے صنائع و بدائع استعمال کئے تھے۔ اس کے علاوہ ایک ایک زبان میں ایک شعر تھا اور ان کی تعداد ۱۸ تھی۔ مطلع اس کا یہ ہے:
جب کا سرطان و اسد مہر کا ٹھرے مسکن
آب و ایلولہ ہوئے نشو ونمائے گلشن
اس پر اکبر شاہ ثانی نے خاقانیٔ ہند کا خطاب عطا کیا۔ اس وقت شیخ مرحوم(ذوق) کی عمر ۱۹ برس تھی‘‘۔(آب حیات،ص:۳۹۰)
ذوق کے کارنامے:
ذوق کے تمام کے تما قصائد اکبر شاہ ثانی اور بہادر شاہ ظفر کی مدح میں ہے، سوائے ایک قصیدے کے جو عاشق نہال چشتی نامی بزرگ کی مدح میں ہے۔ ذوق نے قصیدے کے علاوہ جملہ اصناف ِسخن عزل، قطعہ، مثلث، رباعی، مخمس، مسدس، مثنوی، واسوخت، نظم، تاریخ، وغیرہ پر بھی طبع آزمائی کی۔ ذوق علم نجوم، علم ہیئت، علم طب، علم منطق، علم فلسفہ، علم فقہ، علم تصوف، علم تفسیر، علم حدیث، علم تاریخ، علم موسیقی وغیرہ سے بھی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ذوق کے قصیدوں کی کل تعداد ۳۰ کے قریب بتائی جاتی ہیں۔
ذوق کے شاگرد:
ذوق کے مشہور تلامذہ میں ظہیر دہلوی، مولانا محمد حسین آزاد،انور دہلوی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
ذوق کا انتقال:
ذوق ۱۷ دن بیمار رہنے کے بعد ۲۴ صفر ۱۲۷۱ھ مطابق ۱۸۵۴ء جمعرات کے دن اس دارفانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کر گئے۔ مرنے سے تین گھنٹہ پہلے ذوق کی زبان سے یہ شعر نکلا:
کہتے ہیں آج ذوق جہاں سے گزر گیا
کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے
شیخ ابراہیم ذوق کی آخری آرام گاہ، شمالی دہلی کے واقع پہاڑ گنج میں ہے۔
اسلم رحمانی
متعلم:بی اے اردو،سال اول نیتیشور کالج، مظفرپور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

