حیات کس کو پیاری نہیں ہوتی،خوابوں کی تعبیریں کون نہیں چاہتا مگر آسماں کے فیصلے انسانی فہم سے بھی بالا تر ہوتے ہیں اور دسترس سے بھی۔غموں کی کال کوٹھری میں سسکیوں کا ابھرنا حیران کن نہیں مگر قہقہوں کا پھوٹنا حیران کن ضرور ہے۔ایک شاعر، غموں سے نڈھال شاعر،بیماری جس کی رفیق رہی،دوا اور دعا جس کا مقدر رہی جو ہر سانس کی قیمت چکاتا رہا ہو ، اس نے غموں پر تو فتح پائی مگر زیست کی بساط پر اپنے مہرے رکھے ہوئے ہار جیت کے فیصلے کے بغیر کہیں وقت کی دھند میں کھو گیا اور ایسا کھویا کہ پھر لوٹ کر نہیں آیا۔ہاں وہ شاعر ہی تو تھا کہ جب ساون کی شام اپنی زلف کھولے ہواؤں کو معطر کر رہی تھی وہ حسن کا دلبر بڑا بے وفا نکلا اس نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا اسے لوٹ کے آنا تھا وہ نہ آیا بڑا بے وفا تھا۔ہم نے عبث اس کی سحر انگیز باتوں کا یقین کر لیا،لیکن کرتے بھی کیا اس نے ساری قسمیں تو زندگی کا ہاتھ پکڑ کر ہی کھائی تھیں اور اس زندگی کو ہی بیچ سفر میں چھوڑ گیا۔
خلش امتیازی کو شاعری کی امتیازی خصوصیت پیدائشی ملی تھی۔ابتدائ دنوں سے چنچل طبیعت واقع ہوئے ہیں۔ امتیاز حسین مرحوم المعروف چنچل غازی پوری کے آنگن میں 3/جولای 1955ء کو بمقام جگتدل 24 پرگنہ میں پیدا ہوئے۔والد محترم کو شاعری سے گہرا شغف تھا اور باضابطہ شاعری کیا کرتے تھے۔گھر والوں نے خورشید عالم کہہ کر پکارا مگر شعر و ادب کی دنیا میں خلش امتیازی کے نام سے امتیازی شان حاصل کی۔علاقے کے ایک اسکول جگتدل شمس اردو جونئیر ہای اسکول میں بحیثیت ہیڈ ماسٹر تا دم حیات رہے۔بطور معلم اپنی انفرادی مقام رکھتے تھے۔طالب علموں کے درمیان اتنے مقبول تھے کہ دوسرے جماعت کے طلباء بھی ان کا کلاس جوائن کرتے تھے۔بلا کی صلاحیت رکھتے تھے پل میں غمگین ماحول کو اپنی حاضر جوابی سے زعفران زار بنا دیتے تھے۔ظرافت کا مادہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔وثوق کےساتھ یہ کہی جاسکتی ہے کہ خلش امتیازی جیسا شاعر جگتدل کی سر زمین سے اب تک پیدا نہیں ہوا۔ایسا محسوس ہوتا تھا وہ شاعری کیلئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ان کا وجدان انکی شاعری کے لئے کافی تھا۔ابتدائ دور میں کچھ کلام پر والد محترم سے اصلاح لی اور چند کلام پر استاد شاعر ارمان شام نگری سے استفادہ حاصل کیا۔جس نے انہیں بچشم خود دیکھا ہے ان میں سے ایک میں بھی ہوں ،وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ انہیں دیکھ کر ہی ایک بڑا شاعر کا احساس جاگتا تھا اور بلاشبہ وہ ایک بڑے شاعر تھے، لیکن انہوں نے اپنا رشتہ ہمیشہ زمین سے رکھا۔ان کی شاعری کے حوالے سے یہ بات سب سے اہم ہے کہ ان کی شاعری دیکھئے پھر انہیں دیکھئے پھر ان کی شاعری دیکھئے ہو بہو ان کی اپنی تصویر ان کی شاعری ہے۔انہوں نے شاعری کو اپنی ذات کا ترجمان بنا کر پیش کیا۔ان کی شاعری کے علاوہ بےشمار ایسی خوبیاں تھی جس نے انہیں شان امتیاز بخشا اس میں ایک شانِ خطابت تھی جب خلش امتیازی محو گفتگو ہوتے تو سننے والے پر عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی اور دم بخود ہو کر ان کو سنتا رہتا۔بلا کا خطیب تھے،نظامت کرتے تو لوگ شاعر کو نہیں ان کو سننا چاہتے کچھ تو ان کو تکتے رہ جاتے کچھ ان کے منہ کو دیکھا کرتے کہ کوئی بول رہا ہے یا الفاظ خود بخود نکل رہے ہیں۔اللہ کسی کسی کو ایسی خوبیوں کا مالک بناتا ہے۔
زندگی کے نشیب و فراز پر یکسوئی قائم رکھی اور زندگی گزاری نہیں زندگی جیا،موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کا جیا،قہقہہ لگا کر جیا،جبکہ زندگی کی ستم ظریفی نے وجود کی اینٹیں ایک ایک کر کے کھسکانی شروع کر دی تھی انہیں لرزشوں کا احساس بھی تھا پر اس احساس کو غالب نہیں ہونے دیتے،تیز مسکراہٹوں میں چھپا دیتے اور یہ کہتے
خوشیوں کی آرزو سے تو پژمردگی ملی
لیکن غموں کی دھوپ سے چہرہ نکھر گیا
خلش امتیازی نے زندگی کا بڑا عمیق مطالعہ کیا تھا انہیں دنیا کی حقیقت معلوم تھی۔شاعر تو احساس کا سفر تو کرتا ہی ہے اور اس سفر کے دوران اپنے مشاہدے،تجربات کو شعری پیرہن عطا کرتا ہے۔خلش امتیازی نے بھی اپنے تجربات کو ہی پیش کیا مگر اس میں آفاقیت پیدا کردی اور انتباہ کرتے ہوئے کہا
یہ نکتہ ذہن میں رکھو ،زوال سب کو ہے
تمہیں بھی کوئی کسی دن تباہ کر دے گا
موصوف کی شاعری میں جدت پائی جاتی ہے۔ عصر حاضر کی شاعری میں نئ بات مشکل سے ہی ملتی ہے موصوف کے ہاں کچھ ایسے اشعار ملتے ہیں جن کے پڑھنے کے بعد گھنٹوں تک زبان کا ذائقہ نہیں بدلتا ہے۔خیال کا اچھوتا پن اور طرز اظہار پر دل کا کھل اٹھنا لازمی ہو جاتا ہے۔
کس شکل میں یہ زندگی اس شخص سے ملی
جو زندگی کے خوف سے گھبرا کے مر گیا
زرد پھولوں سے باغ روشن ہیں
یا ہوا کے چراغ روشن ہیں
"زندگی کے خوف سے گھبرا کے مرنا” اور "ہوا کے چراغ کا روشن ہونا ” غضب کی دلکشی پیدا کرتا ہے۔خلش امتیازی نے بھی ثقیل الفاظ سے اجتناب برتا ہے اور سہل زبان میں دیر اثر شاعری کی ہے۔شاعری شعریت کا تقاضہ کرتی ہے دخیل الفاظ کی ہنر کاری نہیں۔یہ سچ ہے کہ جیسے بات مشکل سے بات ہوتی ہے اسی طرح شعر مشکل سے شعر ہوتا ہے۔اردو شاعری ہو یا کسی زبان کی شاعری اگر شعر گوئی کا حاصل مقصد اپنے جذبات کی ترسیل ہو تو وہی شاعری خاص و عام میں مقبول ہوتی ہے جو سہل ہو اور نئ لطافت سے پر ہو۔
ڈوب کر آج تک نہیں ابھرا
تیری آنکھوں میں یا سمندر میں
اک سر سری نگاہ نے کیا کیا کیا کمال
دل بھی گیا،دماغ گیا اور جگر گیا
تیری نظروں کا تقدس ہی بیان کرتا ہوں
شاعری میری عبادت کے سوا کچھ بھی نہیں
شاعر بیدار ذہن ہوتا ہے وہ زمانے کے بدلتے روئے سے خوب آشنا ہوتا ہے۔ وہ انسانی زندگی میں پیدا ہونے والے تبدیلیوں کا خیر مقدم کرتا ہے وہ ان بدلاؤ کا منکر نہیں ہوتا جو انسانی تہذیب کا کارواں کو آگے بڑھاتا ہے مگر انسانیت کے زوال پزیر فسانے پر وہ کف افسوس ملتا دکھائ دیتا ہے۔تیزی سے بدلتے زمانے میں ہر نظام بدل چکا ہے حق و انصاف کی باتیں،سچ اور جھوٹ کا فرق آج کوئی اہمیت نہیں رکھتا انصاف کی دہائی دینے والا انصاف کا گلا گھونٹ رہا ہے۔موصوف نے بدلتے اس نظام کو یوں پیش کیا ہے۔
دستِ قاتل ہے، دستِ منصف میں
اور سارے سراغ روشن ہیں
خلش امتیازی کی شعری کائنات روشنی سے معمور ہے۔بلند لب و لہجہ کے اس شاعر کے ہاں نئ فکر کے ساتھ حوصلے اور ہمت،غم کو زیر پا کرکے مسکرانے کی بات ملتی ہے۔
جلاؤ اپنے بزرگوں کی طرح پھر کشتی
ظفر نواز خدا رزم گاہ کر دے کا
موج ہاتھوں سے نہ نکلے نہ کنارا جائے
آؤ طوفان کو کشتی میں اتارا جائے
فاختے کی چونچ میں شاہین رکھنے والا ایک محبت بھرا دل بھی رکھتا تھا اور میر کی طرح وفا کا پاس رکھتا تھا۔موصوف کو بھی وفا میں وہی ہاتھ لگا جو اگلے شعراء کو ہاتھ لگی تھی۔
مجرمِ شوق ہیں الزام وفا ہے ہم پر
کتنے بدنام ہوئے ہم بھی غزل خواں ہو کر
غزل میں بیشک بیہترے موضوعات کو پیش کیا جاتا ہے اور پیش بھی کیا جانا چاہئے زمانے کے بدلتے تیور اور وقت کے تقاضے کے عین مطابق اردو شعرا نے اپنی شاعری کا رخ موڑا ہے اور نئے موضوعات کے ساتھ نئے رحجانات کی عکاسی اپنی غزلیہ شاعری میں بہت خوب کیا ہے۔جو صنف وقت کے مزاج سے نابلد ہو اس کے پنپنے کی امیدیں بہت کم ہوتی ہے لیکن غزل اس لحاظ سے کافی چاک و چوبند رہی۔غزل کے مختلف موضوعات میں تزکرہ حسن و عشق ایک اہم موضوع ہے۔حسن کا اسیر ہونا شاعر کا فطری وصف ہوتا ہے۔شاعر نے محبوب کی نگاہوں کو کیا خوب پیش کیا ہے۔لطف اٹھائے۔
ڈوب کر آج تک نہیں ابھرا
تیری آنکھوں میں یا سمندر میں
تیری آنکھیں تو ہیں کشمیر کی جھیلوں کی طرح
تیری آنکھوں سے کہاں دل کا شکارا جائے
فاختہ کی چونچ میں شاہین کے تصور کو صفحۂ قرطاس پر ابھارنے والے شاعر کا انداز بیاں غالب کی طرح اپنے ہم عصروں میں یقیناً امتیازی تھا اس بات کا اظہار کرتے ہوئے وہ گویا ہیں۔
امتیازی ہے خلش میرا بھی انداز بیاں
گرچہ بدنام نہیں غالبِ دوراں ہوکر
خلش امتیازی نے نثر نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر بکھیرے اور کئ خوبصورت افسانے رقم کئے۔افسانہ نگاری ان کے پسندیدہ اصناف میں سے تھی۔ان کا ایک افسانہ ” لباس” کو انشاء(کلکتہ) کے عالمی افسانہ نمبر میں جگہ ملی تھی جو بہت بڑی بات تھی۔ظرافت کا پہلو ان میں تھا ہی لہذا چند مزاحیہ مضامین بھی لکھے لیکن ان کو مقبولیت بحیثیت شاعر ملی۔اردو ادب کا یہ افسانوی کردار اپنے افسانے کے اختتام سے پہلے،بہت پہلے رو پوش ہوگیا۔زمینی زندگی سے جڑا جس کو شہرت بہت ملی،مرتبہ ملا،منفرد پہچان ملی مگر ان چیزوں کو انہوں نے لمحاتی اہمیت دی اور اپنے روز و شب میں بس ایک حقیقت شناس شاعر رہیں۔
وہ شاعر ہاں وہی شاعر جو ہار نہیں مانتا تھا زندگی سے پنجہ آزمائی میں ہمیشہ فاتح ہوتا وہی شاعر جانے کیا سوچ کر زندگی کا داؤ ہار گیا۔اب بھی ذہن میں اسکی تصویر ابھرتی ہے،وہ اب بھی مسکراتا ہے،وہ اب بھی گنگناتا ہے۔ 28/ میں 1998ء کو وہ ایسے سفر پر چلا گیا جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آتا۔
موصوف کا ایک شعر آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جس میں انہوں نے اپنی حیات کی کہانی سمو دی ہے۔
میری تو صرف اتنی سوانح حیات تھی
اک آیینہ تھا ٹوٹ گیا اور بکھر گیا
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت بہت عمدہ۔۔۔۔۔لاجواب۔۔۔اللّٰہ سلامت رکھے آپکو۔