شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں ’’ عالمی یوم مادری زبان‘‘ پروگرام کا انعقاد
میرٹھ21؍ فروری2022
مادری زبان کی اہمیت و افادیت کو ہمیشہ ہر زمانے اور ہر خطۂ ارض نے تسلیم کیا ہے اور اسے رائج کر نے کے لیے ہمیشہ کو ششیں ہوتی رہی ہیں۔خود ہندوستان اور اس کے نظام تعلیم میں اس کو سنجیدی سے اہمیت دی جاتی رہی ہے اور2020سے لاگو ہونے والی نئی قومی تعلیمی پالیسی میں تو اسے مزید مستحکم کر نے کا منصو بہ بنایا گیا ہے۔در اصل زبانیں تہذیب و ثقافت کی بقا اور تہذیب و ثقافت نسل انسانی کی بقا کی ضا من ہیں۔اس لیے مادری زبان کا فروغ نہایت اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔یہ الفاظ تھے صدر شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ کے پروفیسر اسلم جمشید پوری کے جو شعبۂ اردو اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقدہ’’عالمی یوم مادری زبان‘‘کے موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ مادری زبان کی اہمیت پر زور دینے کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری زبانوں کی اہمیت کم ہے یا ان کا سیکھنا ضروری نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ زبانوں کا جاننا بے شک تابناک مستقبل کی ضمانت ہے ۔اس لیے ہمیں زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے حفیظ میرٹھی کی غزل سنا کر کیا۔بعد ازاں مقررین مادری زبان کے تعلق سے اپنے خیالات کا اظہارکیا۔نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم محمد شمشاد نے ادا کی۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے شعبے کے استاد ڈا کٹر آصف عل نے کہا کہ مادری زبان کی اہمیت یوں تو ہمیشہ رہی ہے لیکن فی زمانہ اس کی اہمیت اس لیے زیادہ ضروری ہو گئی ہے کہ نئی نسل بہتر مستقبل کی تلاش میں مادری زبان سے دور ہوتی جارہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ خود ہندوستان میں پچھلے پجاس برسوں میں تقریباً220ہندوستانی زبانیں ختم اور تقریباً 200 مزید زبانیں ختم ہونے کی کگار پر ہیں۔اس پر ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔مادری زبانوں کو فروغ دینے کے لیے ہمیں سر پرستوں، استادوں اور حکومتوں تینوں سطحوں پر منصو بہ بند کوششیں کرنی ہوں گی۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی اس سلسلے میں حکو متی سطح پر اٹھائے جانے والا ایک اچھا قدم ہے۔
ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ آج بہت سی علاقائی زبانیں معدوم ہو تی جا رہی ہیں جو ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ہم سبھی کو اس کے عوامل پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے مادری زبان کی بقائ کے لیے حتی الامکان کوشش کر نی ہو گی تبھی ہم اپنی تہذیبی وراثت کو باقی رکھ پائیں گے۔
پروگرام میں طلبہ و طالبات موجود رہے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

