خاموش اور سہمی ہوئی رات کی تاریکی میں۔۔۔ ایک اکیلا ستارہ۔۔۔جو دور افق پر چمک رہا تھا۔۔۔گویا کوئی خوبصورت آنکھ، محبت سے ٹکٹکی باندھی ہوئی ہو۔۔۔ اور۔۔۔ وہ ستاروں کے جھرمٹ کو غور سے دیکھتے ہوئے نجانے۔۔۔ کب گہری نیند میں کھو گیا۔۔۔۔گرمی کے موسم میں ستارے کو دیکھتے ہوئے ایک معصوم بیٹے نے ماں سے پوچھا!
اماں!بابا کیا کام کرتے تھے؟
ماں مسکراتے ہوئے بولی ”بیٹا وہ بیوپاری تھے اورساری زندگی قسمت آزماتے رہے۔۔۔
”اماں میں بھی بڑا ہو کر قسمت آزماؤں گا۔۔۔“ بیٹا فورا بولا
یہ سنتے ہی ماں خاموش ہوگئی۔
اماں!آپ چپ کیوں ہو گئی ؟
بیٹا!قسمت ضرور آزمانا لیکن محنت اور کوشش کے بغیر کوئی چیز حاصل نہ کرنا۔ جب تم کوشش کرو گے توتمھیں تمھارے نصیب کا ضرور ملے گا۔کیونکہ محنت اور کوشش کے بغیر قسمت بھی ساتھ نہیں دیتی۔یاد رکھو، اپنے حصہ کا کام کرواور نتیجہ خدا پر چھوڑ دو۔۔۔ یہ انسان کی عظمت ہے۔
وقت گزرتا گیا۔اب وہ بڑا ہو گیا۔ایک دن دریاکے کنارے اس کا گزرہوا۔جہاں ایک بوڑھاجوگی آواز لگا رہا تھا، قسمت آزما لو،۔۔۔نصیب سنوارلو،۔۔۔۔ قسمت آزما لو،۔۔۔نصیب سنوارلو۔
نجانے اس کے ذہن میں کیا آیا،فوراً جوگی سے پوچھا قسمت کیسے آزماتے ہیں؟
بیٹا! دریامیں تم اپنی قسمت آزما سکتے ہو؟
اس میں کیا نکلے گا؟
معلوم نہیں“جوگی نے جواب دیا۔”اس میں کچھ بھی نکل سکتاہے،اگر تمھاری قسمت اچھی ہوئی تو تمھیں وہ سب کچھ مل سکتا ہے جس کے تم خواہش مند ہو اوریہ بھی ممکن ہے کہ تمھیں کچھ نہ ملے اور تم اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھو۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔تھوڑی دیر بعد وہ دریا سے چار ڈبے لے کر باہر آیا۔جوگی نے کہا بیٹا!تم بڑے نصیب والے ہو کہ تمھیں یہ ڈبے ملے ہیں۔لواب انہیں تسلی سے گھر جا کر کھولنا اور ہاں لالچ مت کرنا۔
نوجوان ان ڈبوں کو گھرلے آیااور چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا گیا۔ بوڑھے جوگی کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ بے چینی جب بڑھ گئی تو اس نے ایک ڈبا کھولا، تو اس میں ایک سانپ نکل آیا۔ پہلے پہل تووہ ڈر گیا۔ لیکن سانپ نے کہا:”ڈرو نہیں میں تمھارا خیر خواہ ہوں۔میں ایک مدت سے اس ڈبے میں بند تھا،تم نے مجھ پر احسان کیا۔ اب بتاؤ میں تمھارے کس کام آ سکتا ہوں؟ ہمارے ہاں احسان کرنے والوں کی بہت قدرکی جاتی ہے۔جوہم پراحسان کرے اسے سات پشتوں تک یاد رکھتے ہیں۔ بتاؤ تمھاری کوئی خواہش جو میں پوری کر سکوں۔
یہ سن کر جب نوجوان کا ڈر دور ہوگیا تو اس نے کہا: ”یار مجھے تو کچھ نہیں پتا،بس میری خواہش ہے کہ میں دنیا کا خوش قسمت انسان بن جاؤں۔تم ہی مجھے کچھ بتاؤ؟“
سانپ نے تھوڑاسوچ کر کہاکہ ٹھیک ہے۔میں تمھیں اپنے سردارکے پاس لے چلتا ہوں۔تم ان سے قیمتی انگوٹھی مانگنا۔ وہ انگوٹھی ایسی ہے جس سے تم اپنی ہر خواہش پوری کرسکتے ہو۔جب تک یہ انگوٹھی تمھارے پاس رہے گی،تمھیں وہ سب کچھ ملتا رہے گا جس کے تم طلبگار ہو۔بس تم میرے ساتھ چلو۔
سانپ نوجوان کو اپنے سردارکے پاس لے گیا۔جہاں سانپ ہی سانپ تھے۔یوں لگ رہا تھا جیسے سانپوں کا کوئی میلہ لگا ہو اہو۔۔۔نوجوان گھبرا یا،اس قبیلے کے باقی سانپ اسے دیکھ کر خوش آمدید کہنے لگے،البتہ آدم زاد کو دیکھ کر انہیں ناگواری کا احساس ہوا۔لیکن سانپ نے انہیں بتایا کہ یہ میرا محسن ہے اوروہ اسے اپنے سردار سے ملوانے لے گیا۔جب وہ سردار کے پاس گیا تو وہ اسے دیکھ کرخوش ہوا،سانپ نے سردار کو ساری کہانی سنائی!۔اس نے کہا اے آدم زاد مانگو کیا مانگنا چاہتے ہو
یہ سن کر جوان خوش ہوکر سردار سے بولا کہ۔۔۔۔۔جو میں مانگو ں کیا آپ مجھے دیں گے؟
کیوں نہیں۔۔۔ہم انسان تھوڑی ہیں جو اپنی زبان سے پھر جائیں۔ہم تو شیش ناگ ہیں، ناگوں کے سردار ہیں ،ہم زبان کے پکے ہیں۔
"سردار تو مجھے وہ انگوٹھی دے دیں جس سے میں اپنی خواہشات کو پورا کر سکوں۔۔”
سردار نے ہنستے ہوئے سانپ کی طرف دیکھا۔اور مسکرا کر کہا،یہ تمھیں کس نے بتایا ہے؟نوجوان خاموش رہا،البتہ سانپ نے جواب دیا،ہاں سردار اس نے مجھ سے مشورہ مانگا تھا، تو میں نے اسے انگوٹھی کے بارے میں بتا یا ہے۔ مشورہ تو امانت ہوتا ہے اور یہ ہمارا دستورہے۔شاباش!سردار نے انگوٹھی دیتے ہوئے کہا۔
نوجوان! ایک بات یاد رکھنا،کبھی خواہشات کا غلام مت بننا،ورنہ تم ہمیشہ خالی ہاتھ رہو گے کیونکہ حرص ایک ایسی چیز ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ یہ لو انگوٹھی۔۔۔۔
اس کے ساتھ ہی سردار نے کہا جاؤ! مہمان کو رخصت کرو۔انگوٹھی لے کر نوجوان کمرے میں آیا اور خواہش کرنے سے پہلے اپنی قسمت پر ناز کرنے لگااور دل ہی دل میں اس نے آنکھیں بند کرکے خواہش کی،کہ ایک خوبصورت جگہ پر عالی شان محل بن جائے۔جہاں ضروریات ِزندگی کی تمام چیزیں موجود ہوں۔ تھوڑی دیر بعدنوجوان شاندارمحل دیکھ کر حیران ہو گیا۔ اندر جاکر دیکھتا ہے تو محل کے اندروہ سب کچھ تھا جو اس کی خواہش تھی۔محل سے آ کر اپنی ماں کو سارا ماجرہ سنایا۔اس کی خوشی دیدنی تھی۔ماں اس کو خوش دیکھ خوش ہوگئی۔اس نے ماں سے کہا کہ اماں آپ بھی محل میں چلیں۔نہیں بیٹا!میں یہیں خوش ہوں۔ تمھیں تمھارا محل مبارک۔۔۔
ماں سے اجازت لے کر وہ اس محل میں جاکررہنا شروع کر دیتا ہے اور ایک ایک کر کے اپنی تمام خواہشات پوری کرتا چلا جاتا ہے۔ شکار کے لیے اعلیٰ نسل کا گھوڑا،مختلف انواع کی تمام نعمتیں میسر تھیں۔اسی دوران وہ اپنی شادی کی خواہش بھی پوری کر لیتا ہے۔اس کی بیوی کی شکل و صورت پریوں جیسی تھی۔خوبصورت آنکھیں اور سنہرے بال جیسے قدرت نے خاص فرصت سے بنایا ہو۔غرض اس جیسی دوسری کوئی لڑکی نہیں تھی۔اب اسے جو خواہش در پیش ہوتی،وہ پوری ہو جاتی۔ایک دن اسے خیال آیا کیوں نہ باقی ڈبوں کو بھی کھولاجائے لیکن سردار کی بات یاد آئی،فوراًرک گیا۔گزر اوقات کے لیے اب وہ کوشش کرنے لگا، وقت گزرتا گیا،ایک دن کنگھی کرتے ہوئے اس کی بیوی کے بال ٹوٹ کر دریا میں بہہ گئے،جسے مچھلی نگل گئی وہ مچھلی دریا پر ایک مچھیرے کے ہاتھ لگی، تو وہ اسے بادشاہ کو پیش کرنے چلا گیا۔تاکہ بادشاہ اسے انعام واکرام سے نوازے۔بادشاہ نے جب دیکھا تو مچھلی واقعی نایاب تھی اور اس کے حلق اور جسم پر سنہری بال لپٹے ہوئے تھے۔ادھر بادشاہ کے بیٹے نے جو دیکھا تو فوراًکہنے لگا کہ یہ توکسی لڑکی کے سنہری بال ہیں۔اس نے کہا کہ میں تو اس لڑکی سے شادی کروں گا جس کے بال سنہری ہوں گے۔ اگر میری بات نہ مانی گئی تو میں اپنی جان دے دوں گا۔ بادشاہ نے اپنے بیٹا کی ضد کے آگے بے بس ہو کر اعلان کرایا کہ جو شخص شہزادے کی خواہش پوری کرے گا،میں اسے منہ مانگا انعام دوں گا۔
اعلان سنتے ہی ایک چالاک بڑھیا بادشاہ سے کہنے لگی کہ میں شہزادے کی خواہش پوری کروں گی،بس مجھے کچھ مال و اسباب چاہیے۔تاکہ میں اس لڑکی کو لے آؤں۔بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔۔۔۔اسی دریا کے کنارے سفر کرتے کرتے بڑھیا کئی دن کی مسافت کے بعدایسی جگہ پہنچ گئی، جہاں اسے خوبصورت محل دکھائیدیا۔ اسے یقین ہوگیا کہ وہ لڑکی اسی محل میں ہوگی کیونکہ یہ محل اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد تھا۔وہ اس محل تک پہنچ گئی جہاں نوجوان اوراس کی بیوی رہتے تھے۔اس نے اپنے ساتھوں سے کہاکہ جب تک میں تمھیں نہ بلاؤ ں تم نے یہیں چھپے رہنا ہے۔بڑھیا دروازے پر دستک دیتے ہوئے، کوئی ہے جو میری مد د کرے!دروازہ جیسے کھلتا ہے تو وہ حیران ہو جاتی ہے کہ یہ تو وہی لڑکی ہے جس کی اسے تلاش تھی۔شاطرانہ طریقے سے بڑھیا کہنے لگیکہ بیٹی!میرا بیٹا شکار کرتے کرتے کہیں بھٹک گیا ہے،ابھی تک واپس نہیں آیا،کیا میں تمھارے پاس کچھ وقت گزار سکتی ہوں؟شام کو میرا بیٹا آئے گا تومیں چلی جاؤں گی۔لڑکی نے رحمدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ٹھہرنے کی اجازت دے دی۔بڑھیا گھر کا جائزہ لینے لگی۔شام کو جب اس کے شوہر بڑھیا کو دیکھاتواس نے بیوی سے کہا کہ مجھے یہ بڑھیاٹھیک نہیں لگ رہی۔ یہ سن کر بیوی نے کہا ۔۔نہیں یہ بچاری اپنے بیٹے کی وجہ سے پریشان ہے۔
رات کا کھانا کھاتے ہوئے بڑھیاحیران ہوگئی کیونکہ اس طرح کا لذید کھانا اس نے اپنی پوری زندگی میں نہیں کھایا تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے بڑھیانے پوچھا کہیہ کہاں سے آیا ہے؟ بیٹی؟
لڑکی نے کہا کہ میرے شوہر کے پاس ایک انگوٹھی ہے، وہ یہ کھانااس کے ذریعے منگواتے ہیں۔۔اگلی صبح اس کا شوہر شکار کے لئے چلا گیا تو بڑھیا نے موقع غنیمت جانا اور کہا کہ تم وہ انگوٹھی اپنے شوہر لے کر اپنے پاس رکھاکرو!نہیں خالہ!مجھے اس کی ضرورت نہیں۔بڑھیاشاطرانہ چال چلتی ہے اور کہتی ہے کہ مجھے تو لگتاہے کہ جیسے تمھارے شوہر کو تم پر اعتبار نہیں۔اس لیے وہ انگوٹھی تمھیں نہیں دیتا۔یہ سن کر وہ کہنے لگی کہ،نہیں ایسی کوئی بات نہیں،وہ میرا بہت خیال رکھتے ہیں۔
لیکن اس بات نے لڑکی کے دل میں شک کی جگہ بنا لی۔ رات کو اسے بڑھیا کی بات یاد آگئی،وہ اپنے شوہر سے کہنے لگی کہ آپ مجھ سے کتنی محبت کرتے ہیں؟اس نے کہا،کیا تمھیں مجھ پر یقین نہیں! نہیں وہ اس لیے کہ آپ نے کبھی یہ انگوٹھی مجھے نہیں دی۔ شوہر نے کہا کہ اچھا یہ تم رکھ لو،اب تو خوش!اگلی صبح وہ جب شکار کے لیے چلاگیا تو اس کی بیوی نے بڑھیا کوبتایا کہ،خالہ! یہ دیکھو،میرے شوہر نے انگوٹھی مجھے دے دی۔بڑھیا دل ہی دل میں خوش ہوگئی اور اسے کہنے لگی کہ بیٹی کبھی تم گھر سے باہر نکلی ہو! اس نے کہا،خالہ مجھے کبھی ضرورت ہی پیش نہیں آئی!بڑھیا مکاری سے اسے بہلا پھسلا کر گھر سے باہر لے گئی۔ باتوں باتوں میں وہ اس جگہ پہنچے جہاں اس کے آدمی کھڑے تھے۔وہ اسے اغوا کرکے کشتی میں ڈال کر لے گئے۔
شام کو جب اس کا شوہر گھر لوٹا تو گھر خالی دیکھ کر پریشان ہوگیا۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھاکہ اب وہ کیا کرے۔۔۔ادھر چالاک بڑھیا لڑکی کو لے کر بادشاہ کے پاس پہنچگئی اور اسے اپنا وعدہ یاددلایا۔ بادشاہنے اسے انعام و اکرام سے نوازا اور شہزادہ سنہرے بالوں والی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر خوش ہوگیا۔ انعام و اکرام لینے کے بعد بڑھیا نے کہا کہ اس لڑکی کے پاس ایک قیمتی انگوٹھی بھی ہے۔شہزادے نے اس سے انگوٹھی چھین کر اپنے ہاتھ میں پہنی۔۔۔اور کہا کہ تم اب ہماری قید میں ہو۔۔۔لڑکی روتے بلکتے اپنی رہاہی کا کہتی رہی کہ مجھے جانے دو۔۔۔میرا شوہر بہت پریشان ہو گا۔۔۔
لیکن شہزادہ کے دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔۔ اور محل میں جشن کاسماں باندھتے ہوئے ان دونوں کی شادی کا اعلان ہوجاتا ہے۔
ادھر اس کا شوہر پریشان کہ اب وہ کیا کرے! پریشانی کے عالم میں اس کی نظر ان ڈبوں پرپڑی، ۔۔۔وہ ان میں سے ایک ڈبا کھولتا ہے تو اس میں خوبصورت قسم کا طوطا نکل آتاہے۔طوطا کہتا ہے کہ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ اس نے کہا کہ ایک بڑھیا میری بیوی کو انگوٹھی سمیت لے گئی ہے۔ کیا تم اس سلسلے میں میری مدد کرسکتے ہو؟طوطے نے کہا جی ہاں!میں پتا کر کے آتا ہوں کہ آپ کی بیوی کہاں ہے؟وہ اڑتے اڑ تے اپنے دوسرے پرندوں کی مددسے بڑھیا کے بارے میں پوچھتا چلا گیا۔
پرندے اسے بتاتے ہیں کہ بڑھیا کو دریا کے کنارے اس رستے پر جاتے ہوئے دیکھاتھا۔وہ دریا کی طرف سفر کرتا چلاگیا۔۔۔۔کچھ دوراسے کچھ اور پرندے نظر ۔۔۔آتے ہیں۔۔۔۔وہ ان سے کشتی اور بڑھیا کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ بتاتے ہیں کہ کشتی فلاں بادشاہ کی ہے۔آخر کارطوطا اس محل تک جا پہنچتا ہے۔
محل کے اردگرد چکر لگاتے ہوئے طوطاروشن دان سے مالک کی بیوی کوپہچانلیتا ہے۔۔۔وہ روشن دان سے داخل ہوکراس سے انگوٹھی کے بارے میں پوچھتا ہے اور بتاتا ہے کہ مالک آپ کی وجہ سے پریشا ن ہے۔ وہ غم زدہ ہو کرکہنے لگی کہ انگوٹھی شہزادے کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔طوطا مالک کے پاس جاکر اسے ساری کہانی سناتا ہے۔ پریشانی کے عالم اب وہ تیسرا ڈبا کھولتا ہے۔ تو اس میں چوہا نکل آتا ہے۔ وہ اسے کہتا کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟اس نے کہا!کیا تم محل سے میری انگوٹھی لا سکتے ہو؟چوہا کہتا ہے کیوں نہیں!یہ تو کوئی مشکل کام نہیں۔طوطا اسے محل تک لے جاتاہے جہاں سخت پہرہ ہوتا ہے۔طوطا چوہے کو بتا تا ہے کہ انگوٹھی شہزادے کے ہاتھ میں ہے اوررات کو سو نے سے پہلے انگوٹھی اپنے تکیے کے نیچے رکھ لیتاہے۔بس تم نے وہ انگوٹھی لے کر آنی ہے۔
چوہا ہوشیاری سے محل میں داخل ہوکر شہزادے کے کمرے تک پہنچ جاتاہے۔ جب وہ سو تا ہے تو چوہااپنی دم اسکی ناک میں مارتا ہے جس سے اسے چھینک آتی ہے اور کروٹ بدل کر وہ دوبارہ سو جاتا ہے۔چوہاتکیے کے نیچے سے انگو ٹھی لے کر طوطے کے پاس چلا جاتا ہے۔ صبح شہزادہ انگوٹھی کو تلاش کرتا ہے مگر اسے نہیں ملتی۔ملازموں اور خدمت گزاروں کو عتاب کا نشانہ بناتا ہے۔مگرپھر بھی انگوٹھی نہیں ملتی۔ادھر طوطا چوہے کو لے کر جار ہا ہوتا ہے تو راستے میں چوہے سے وہ انگوٹھی ندی میں گر جاتی ہے۔ ۔۔طوطا اور چوہا دونوں پریشان ہوتے ہیں کہ اب کیا کریں۔طوطا چوہے کو اس جگہ پر ٹھہرا کر واپس مالک کے پاس آتا ہے اور اسے بتا تا ہے کہ چوہے نے وہ انگوٹھی ایک ندی میں گر ا دی۔ نوجوان اب اپنا آخری ڈبا کھولتا ہے تو اس میں ایک مینڈک نکل آتاہے، تو وہ اسے کہتا ہے کہ میری انگوٹھی ندی میں گر گئی ہے۔کیاتم اسے لانے میں میری مدد کرسکتی ہو؟وہ کہتیہے کیوں نہیں! یہ تو کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ طوطا مینڈک کواس ندی پر لے جاتاہے۔جہاں اس نے چوہے کوٹھہرا یاہواتھا۔مینڈک ندی پر پہنچ کر پانی میں چلی جاتی ہے اور اپنے دوستوں سے انگوٹھی لے کر طوطے کودے دیتی ہے اور خود وہیں پر رہ جاتی ہے۔طوطا چوہے کوبھی آزاد کر دیتا ہے۔اب وہ انگوٹھی لے کر مالک کے پاس آجاتا ہے۔مالک طوطے کا شکریہ ادا کرتاہے اور اسے کہتا ہے کہ تم اب آزاد ہو جہاں جانا چاہو جاؤ۔۔۔طوطا کہتا ہے کہ مالک میں تو آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔مالک اسے خوشی خوشی اپنے پاسں رکھ لیتا ہے۔
ادھر بادشاہ کے ہاں شادی کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔نوجوان انگوٹھی پہن کر خواہش کرتا ہے کہ اس کی اپنی بیوی واپس آ جائے۔تھوڑی دیر میں اس کی بیوی سامنے ہوتی ہے۔وہ اسے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ بیوی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو کر شوہر سے معافی مانگتی ہے۔اُدھر خدمت گزاربادشاہ کو بتاتے ہیں کہ لڑکی محل میں نہیں ہے ۔۔۔بادشاہ نے شہزادے کو سمجھایا کہ خواہشات کے پیچھے بھاگتے رہنے سے انسا ن کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔بہتر یہ ہے کہ تم سلطنت کے امور پر توجہ دو۔اب اس بات کا احساس شہزادے کو بھی ہو گیا تھا۔۔۔ادھر نوجوان نے دل میں ارادہ کر لیا تھا کہ وہ واپس اپنی ماں کے پاس چلا جائے گا۔چنانچہ وہ اپنی بیوی اور طوطے کو لے کر اپنے پرانے گھر چل پڑتا ہے۔راستے میں اسے وہی دریا نظر آتا ہے جہاں سے اسے چارڈبے ملے تھے۔ وہ انگو ٹھی اتار کر دریا میں پھینک دیتا ہے۔
گھر پہنچ کر دستک دینے سے پہلے ہی ماں دروازہ کھول دیتی ہے اور بیٹے کو دیکھ کر خوش ہوجاتی ہے۔۔وہ بیٹے اور بہو کو گلے لگا کر اندر لے جاتی ہے ۔۔۔ماں کی آواز جو نہی بیٹے کے کانوں سے ٹکرائی ۔تو وہ ہڑبڑا کر بستر سے اٹھ بیٹھا۔ تو چاروں طرف اجالا پھیلا ہوا تھا۔۔۔ ماں اس کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔اوراس کے چہرے پر پر سکون مسکراہٹ پھیل گئی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

