روز ازل سے روز حاضر تک تاریخ کی آنکھوں نے بے شمار واقعات کو دیکھا ہے مگر ایک بھی واقعہ انسانی تہذیب میں بربریت اور ظلم کا ایسا نہیں ملتا جیسا کہ تپتے صحرا میں اہل بیت کے ساتھ واقع ہوا۔انسانی تہذیب میں ایسا کوئی واقعہ نہیں جس نے مجموعی طور پر ذات،مذہب اور عقائد کی سرحدوں کو لانگھ کر ایک عالم کو متاثر کیا ہو اور ایک عالم اس ظلم اور بربریت پر آنسو بہاتا رہے۔دنیا کی تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ دکھ،غم اور ماتم خواہ کسی چیز کا بھی ہو ایک معین مدت تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے پھر وقت ان دکھوں کو بھلا دیتا ہے مگر سانحہِ کربلا ایک ایسا سانحہ ہے جس کی یاد وقت گزرنے کے ساتھ آج بھی اسی طرح دلوں میں آباد ہے جیسے یہ کل کی بات ہو۔دوسری زمینوں سے ذیادہ ، سرزمین ہند کو یہ افتخار حاصل ہے کہ اس نے اپنی محبت اہل بیت سے رکھی ۔پورے ہندستان کے ساتھ دنیا کے مختلف ملکوں میں بسنے والے لوگوں کے دلوں میں اہل بیت کی محبت پانی جاتی ہے۔جوش نے اس لئے برجستہ کہا ہے.
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
کاروانِ عاشقانِ اہل بیت اپنی محبت کا اظہار مختلف طریقے سے کرتے ہیں پر ان تمام طریقوں میں ایک مماثلت ہے اور وہ ہے محبت۔محبت کا جذبہ جہاں کار فرما ہوتا ہے وہاں عقل و خرد کی حیثیت محض تماشائی کی ہوتی ہے۔
جب اس کاروانِ محبت کا گزر کلکتہ جیسے انقلابی شہر سے ہوتا ہے تو انقلاب کی علامت،صبر و رضا کی علامت حسین ابن علی کا ذکر لازم ہو جاتا ہے۔
شہر کلکتہ،ایک ایسا شہر جس کے دل میں محبت کا ایک سمندر بہتا ہے جو پوری دنیا میں ایک ایسا شہر مانا جاتا ہے جہاں زندگی کے ہر روپ کو دیکھا جاسکتا ہے،زندگی کے ہر خانے کی ترجمان، کلکتہ نے اپنی ادب و ثقافت کو بڑی اہمیت دی ہے۔اسی سر زمین سے قلم کا ایک سپاہی قلم برداشتہ رثائی ادب پر اپنی عقیدتوں کی آنکھوں کا سلام بھیجتا ہوا کہتا ہے”بہہ رہی ہے فرات آنکھوں سے”
رثائی ادب اردو ادب کا ایک اہم حصہ ہے اس کے تحت مرثیہ اور اس قبیل کے دوسرے اصناف شامل ہیں جن میں سلام، منقبت، نوحے،ماتم وغیرہ اہم ہیں۔
"بہہ رہی ہے فرات آنکھوں سے” اعزاز افضل کا رثائی کلام کا مجموعہ ہے جسے نعیم انیس نے ترتیب دی ہے۔اعزاز افضل کے اس مجموعے میں سلام،قصائد،نوحے،ماتم،قطعات کے علاوہ چند متفرق اشعار شامل ہیں۔مجموعہ دراصل عقیدت کا ایک گلدستہ ہے جس میں شاعر نے اہل بیت سے اپنی عقیدت و محبت کا برملا اظہار کیا ہے۔قول نبی ہے کہ "حسین مجھ سے ہیں میں حسین سے ہوں” اس قول کی روشنی میں محبت اہل بیت کی اہمیت واضح ہو جاتی ہے۔اعزاز افضل کی شخصیت اردو ادب میں غزل کے حوالے سے ایک معتبر شخصیت ہے۔موصوف نے مختلف اصناف سخن میں اپنے کمالات کے جوہر دکھائے ہیں۔غزل میں ان کا منفرد انداز اپنی مثال آپ ہے۔ان کے قطعات قابل رشک ہیں۔موصوف کی رثائی نگارشات مطالعے سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس بات سے قطعئ انکار کی گنجائش نہیں کہ ہمارے نبی سا دوعالم میں کوئی نہیں،ان کی مدحت نہ کوئی زبان کرسکتا ہے اور نہ کسی زبان میں ممکن ہے۔یہ کام انسانی حدوں سے پرے ہے۔ ایک عاشق رسول بس اپنی بساط تک محبت کا، عقیدت کا اظہار کرتا ہے اور کرے گا وہی جس کی زباں سے رب چاہے۔انسانی فکر کے،بیان کے،اظہار کے دائرے اتنے ہی تنگ ہیں جتنا انسان کی زندگی،یہ بہت بڑی بات ہے کہ کسی قلم سے نبی کی شان میں چند الفاظ نکل جائے ،یقیناً یہ مرضئ رب پر منحصر ہے۔موصوف
سرکار دوعالم کی مدح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
مدح سرکار میں لب کشائی،اتنی بندوں میں جرأت کہاں ہے
وہ کرے نعت گوئی کا دعویٰ جس کے منہ میں خدا کی زباں ہے۔
خوبصورت اور منفرد لب و لہجہ کے شاعر اعزاز افضل نے اہل بیت کی شان اقدس میں شاندار ا ور پر وقار اشعار کہے ہیں۔مناصب اور مراتب کا خاص خیال رکھا ہے۔قاسم ولایت،حضرت علی کی شان میں رقم طراز ہیں۔
شان رسول خالقِ اکبر سے پوچھئے
شان علی جناب پیمبر سے پوچھئے
کہتے ہیں یا علی تو لرزتے ہیں تخت و تاج
کیا دبدبہ ہے حاکم خود سر سے پوچھئے
نبی کے دل کا چین، شاہ کربل حضرت امام حسین کی شان اقدس میں عقیدت و محبت کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
سوار دوش نبی کا مقام کیا کہئے
زمیں پہ عرش معلیٰ دکھائی دیتا ہے
حضرت امام حسین دنیا کی تاریخ کی وہ عظیم الشان شخصیت ہیں جس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔صبر و رضا کے پیکر ابن علی نے دین حق کی عظمت کو بچانے کی خاطر جو قربانی پیش کی تا قیامت ایسی قربانی کسی اور سے نہیں ہونی ہے۔حضرت امام حسین نے عشق کا وہ امتحان دیا کہ کسی عقل نے کبھی ایسا نہ سوچا ہوگا،حرمت دین کی خاطر اپنی جان دینا تو الگ، ہر عمر کے لوگوں کو جو ان کے عزیز تھے ایک ایک کر کے راہ حق میں قربان کردیا۔گلشن زہرا اجڑا،ششماہی کی حلق میں تیر ترازو بنا،قاسم کے کلیجے کے ٹکڑے ہوئے،اکبر کے سینۂ پاک میں برچھی دھنسی،عباس کے بازوں کٹے،عابد بیمار کے جسم اطہر پر کیلوں کی کنگھی چلی،پیاسی سکینہ نے قید خانے میں دم توڑا،خیمے جلے،لاش اطہر پر گھوڑے چلیں تب بھی حسین میدان میں ڈٹے رہیں۔ایسی ہمت پر ایسے حوصلے پر زمین و آسمان کا سلام۔شاعر میدان کربلا میں حسینی لشکر کی منظر نگاری کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
ادھر حسن کے ستارے ادھر حسین کے چاند
فلک زمین پہ بکھرا دکھائی دیتا ہے
ہمارے دل میں ہے روشن حسینیت کا چراغ
ہمیں اندھیرے میں رستہ دکھائی دیتا ہے۔
غم حسین بھی عجیب کیفیت رکھتا ہے۔اس غم کو منانا باعث افتخار سمجھا جاتا ہے اور ہو بھی کیوں نہ غم حسین ہی واحد غم ہے جو غموں سے نجات دلاتا ہے۔غم حسین کا اہتمام کرنا شاعر کے نزدیک کار خیر ہے اور توشہ آخرت بھی ہے۔وہ اپنی شناخت کو حسینی ہونا کافی سمجھتے ہیں اور کوئی پہچان ضروری نہیں کیونکہ جو حسینی ہوتا ہے اس میں انسانی اعلیٰ اخلاق و اوصاف پائے جاتے ہیں۔مذہب اسلام نے اخلاق کو بڑی اہمیت دی ہے۔اسلام انسانیت کا پیغام دیتا ہے اور حسینی ذہن رکھنے والے انسانیت کے پر چارک ہوتے ہیں۔حضرت امام حسین کی محبت سرحدوں کی قید سے آزاد ہے۔غم حسین کو سینے میں بسانے والا شاعر بہ بانگ دہل کہہ اٹھتا ہے۔
شناخت کے لئے ماتم کے زخم کافی ہیں
حسینیوں کو ضرورت نہیں حوالوں کی
یزید کی سلطنت،حکومت،طاقت،دولت،شہرت مظلوم حسین سے لڑ کر غارت ہوئی۔حق سے ٹکرانے کا انجام یہی ہوتا ہے دیر لگتی ہے مگر انجام برا ہوکر ہی رہتا ہے۔حق ہمیشہ نیزے پر چڑھ کر اپنی فتح کا اعلان کرتا ہے اور باطل قتل کرکے شکست زدہ ہوتا ہے۔شاعر نے یزید کی چند روزہ حکومت کا زوال یوں بیان کیا ہے۔
پلک جھپکتے ہی گل تھا یزیدیت کا چراغ
یہی بساط ہے مانگے ہوئے اجالوں کی
حضرت علی اکبر ابن حسین کی خوبصورتی کا تذکرہ کرتے ہوئے شاعر کا قلم بول اٹھتا ہے۔
ماہ کنعاں تھے حضرت یوسف
ماہ ایماں حسین کا جانی
باب الحوائض،ہاشمی قمر ،پیکر وفااور کربلا کے حیدر کی عقیدت میں یوں الفاظ کے گوہر لٹاتے ہیں۔
سرنگوں کیوں ہو مذہب اسلام
ہیں اٹھائے ہوئے علم عباس
سر زمین کربلا کو سلام پیش کرتے ہوئے شاعر اس دلدوز منظر کو بیان کرتا ہے جب خیموں میں اہل بیت پیاسے تھے اور کچھ دور پر فرات بہہ رہی تھی۔ہائے رے قسمت فرات! کہ تیری قسمت میں اہل بیت کی ضیافت نہیں تھی اب صدیوں فرات دیدار اہل بیت کی پیاس لئے بہتی رہے گی۔
پیاس کے خیموں سے کتنی دور ہے نہر فرات
آج طے ہوتا نہیں کیوں فاصلہ اے کربلا
لشکر حسینی میں ششماہی علی اصغر نے بھی میدان جنگ میں شجاعت حیدری دکھائی اور درندہ صفت ظالموں کو دیکھ پیاس کی شدت میں ایسا مسکرایا کہ یزیدی فوج چاروں خانے چت ہوگئ گویا ان کی مسکراہٹ اس بات کی یاد دہانی تھی کہ ظالموں کیا تمہیں فاتح خیبر یاد نہیں ؟ یہ کنبہ اسی فاتح خیبر کا ہے۔انہوں نے اپنے حلقوم پہ تیر کھاکر بتادیا کہ ہم ساقی کوثر ہیں تم ہمیں پانی دکھاتے ہو۔حضرت علی اصغر کے حلق کا تیر شکست یزید کی داستان لکھ گیا۔
لگا جو تیر تو بے ساختہ ہنسی آئی
جواب دے دئے اصغر نے سب سوالوں کے
حضرت علی اصغر کی شہادت کی خبر ملتے ہی ان کی والدہ حضرت بانو زار و قطار رونے لگیں ۔شاعر ایک ماں کے جذبات کو کس خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔
بولی بانو کیسی نیند آئی کے اصغر سوگئے
گود میں جاگا کئے،جلتی زمیں پر سو گئے
حضرت قاسم کی زوجۂ حضرت کبری کو جب اپنے شوہر کی شہادت کی خبر ملی تو ان کے دل پر غم کا پہاڑ ٹوٹ گیا شاعر نے انکی دلی کیفیت کو کتنا پر غم پیش کیا ہے۔
بولیں کبری مرے دولہا کا یہ بستر تو نہیں
دشت پر خار سے کیوں بوئے حنا آتی ہے
اعزاز افضل کے رثائی کلاموں میں خوبصورت قصائد ملتے ہیں جو اہل بیت کی شان میں رقم کئے گئے ہیں۔
بنت نبی، خیرانساء سیدہ حضرت فاطمہ کی شان اقدس میں عقیدت کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
پردہ دارِ عصمت آل عبا ہیں فاطمہ
دھوپ میں اسلام کے سر کی ردا ہیں فاطمہ
اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کوئی عزو شرف
زوجۂ حیدر ہیں بنت مصطفے ہیں فاطمہ
حضرت امام حسین کی شان میں عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
روشن رہیں گے چودہ طبق جس کے نور سے
ہیں بارہ چاند تاروں کا وہ سلسلہ حسین
سر بلندی اسے خالق نے عنایت کی ہے
جس نے شمشیر کے سائے میں عبادت کی ہے
ایام محرم میں مختلف مقامات پر اعزاداری کی محفل منعقد کی جاتی ہے اور اہل بیت سے محبت رکھنے والے بلا تفریق مذہب و ملت اپنی عقیدت مختلف طریقے سے پیش کرکے شہدائے کربلا کو یاد کرتے ہیں۔شہدائے کربلا کی یادآوری کے طور پر ماتمی مجالس،محفل ذکر حسین،تبرکات کی تقسیم،جلوس تعزیہ کا اہتمام ہوتا ہے۔ان مواقع پر نوحہ پڑھا جاتا ہے اور مصائب اہل بیت بیان کی جاتی ہے۔اعزاز افضل کے رثائی تخلیقات میں قلیل تعداد میں ہی مگر پر اثر نوحے ملتے ہیں۔یہ نوحے اشکوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔نوحے کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
ہیں غنی کون غلامان علی سے بڑھ کر
مال و زر لیتے نہیں جان دیا کرتے ہیں
کبھی ہنسے نہیں اہل حرم حسین کے بعد
بہائے آل پیمبر نے عمر بھر آنسو
تھا گلشن زہرا کی طہارت کا تقاضہ
مقتل میں نہایا گل تر اپنے لہو سے
مجلس اعزاداری میں ماتم کو اہمیت حاصل ہے۔ایام محرم میں کثرت سے ماتم مجلسوں میں پیش کئے جاتے ہیں۔موصوف صنف ماتم میں بھی اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ان ماتمی کلاموں میں میدان کربلا کے واقعات پر درد انداز میں ایک جذبے کے ساتھ پیش کئے جاتے ہیں جنہیں سن کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور آہ و بکا میں اس غم کا عزادار اظہار کرتے ہیں۔مظلوموں کے غموں کو یاد کرکے آنسوں بہائے جاتے ہیں۔میدان کربلا میں لشکر حسینی نے جس عزم کا مظاہرہ کیا تھا جو جواں مردی دکھائی تھی اور جن مصائب کو جھیلتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا اس کا ذکر رقت آمیز لہجے میں ملتا ہے۔
اتر کے نہر میں بھی تشنہ لب رہا عباس
زمانہ دیکھ لے کتنا ہے با وفا عباس
دلاسے دیتی ہیں زینب یہ کہہ کے بچوں کو
کہ پانی لےکے ابھی آئے گا مرا عباس
کوئی بچی در خیمہ پہ کھڑی ہو جیسے
آج بھی دشت سے رونے کی صدا آتی ہے
ہے تین دن سے قیامت کی پیاس یا عباس
نہ ٹوٹ جائے سکینہ کی آس یا عباس
یاد آ رہی ہے سینۂ اکبر کی برچھیاں
ہر قلب ایک درد مجسم ہے آج بھی
دشت غربت میں نہ راس آئی جوانی کی بہار
جاگنے کا وقت جب آیا تو اکبر سو گئے
حضرت قاسم حضرت امام حسن کے صاحبزادے تھے اور میدان کربلا میں اپنے چچا حضرت امام حسین کے ہمراہ تھے۔حضرت قاسم دولہا بنے تھے مگر یہ سہرا خون میں سنا تھا۔میدان کربلا میں اپنے تمام عزیزوں کے ساتھ انہوں نے بھی جام شہادت نوش فرمایا اور ان کے سہرے کا پھول مرجھانے سے قبل وہ راہ حق میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کردئے۔موصوف نے اس ہولناک منظر کو کتنے پر درد انداز میں پیش کیا ہے ملاحظہ فرمائیں۔
کیا تر و تازہ بنے قاسم کا چہرا ہوگیا
قطرہ قطرہ خون ٹپکا اور سہرا ہوگیا
ابن حسین حضرت علی اکبر بلا کے خوبصورت نوجوان تھے۔حضرت قاسم نبی کی ہو بہو تصویر تھے۔حضرت حسین اپنے بیٹے حضرت قاسم میں اپنے نانا کی زیارت کیا کرتے تھے۔ دوسرے لوگوں کے ساتھ اہل ستم بھی اس بات سے آگاہ تھے۔جب میدان جنگ میں حضرت قاسم جلوہ افروز ہوئے تو سب نے ایک زبان کہا لو نبی کا دیدار کرو۔ظلم کی انتہا ہوگئ کہ شبیہ پیمبر کے سینۂ اطہر میں برچھی اتار دی گئ۔شاعر نے حضرت علی اکبر کی رن میں آمد کو یوں بیان کیا ہے۔
رن میں جب آئے علی اکبر تو دنیا نےکہا
لو! نبی کو دیکھنے کا خواب پورا ہوگیا
حضرت زینب جو میدان جنگ میں اپنے بھائی حسین کے ہم قدم رہی انہوں نے اپنے دو بیٹے عون ومحمد کو راہ حق میں خوشی خوشی قربان کردیا۔حضرت زینب کربلا کی وہ شخصیت ہیں جس میں حیدر و حسین بیک وقت موجود تھے۔انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا پورا گھر اجڑتے دیکھا،اپنے بھائی حسین کو خاک و خون میں تڑپتے دیکھا،پیاسوں کو دم توڑتے دیکھا،خیمے جلتے دیکھے،سجاد کو ستم اٹھاتے دیکھا گرچہ وہ کون سا دکھ نہیں جو انہوں نے نہ سہا۔میدان کربلا کے باہر حضرت زینب نے وہی کام انجام دیا جو میدان جنگ میں ان کے بھائی نے دیا۔دربار یزید میں جب اسیران مصیبت کا کارواں پہنچا وہاں حضرت زینب کے حیدری خطبے نے یزید کی سلطنت ڈھا دی۔شاعر حضرت زینب کی حالت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔
زینب ہیں بے سہارا اب آئے خدارا
عباس ہیں نہ اکبر فریاد یا محمد
لہجے کی دھار کہتی تھی میں ذوالفقار ہوں
بنت علی کا جوہر تقریر دیکھئے
عباس علمدار کی حالت کو بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں۔
پیاسوں کا غم الگ ہے،فکر علم الگ ہے
مشکل میں ہے دلاور فریاد یا محمد
عقیدت کے اس گلدستے میں خوبصورت قطعات بھی شامل ہیں۔دو قطعات آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔
پھر وہی کربلا،وہی خیبر
سینکڑوں شمر،سینکڑوں عنتر
یا الٰہی ہمیں ودیعت کر
عزم شبیر و قوت حیدر
آب و غذا بھی بند ہے راہ اماں بھی بند
یارب ہمیں عطا ہو قناعت حسین کی
دنیا کو لے نہ ڈوبے سیاسی یزیدیت
اس کربلا کو پھر ہے ضرورت حسین کی
اعزاز افضل ایک قادرالکلام شاعر تھے انہوں نے جس صنف سخن کو چھوا اس میں اپنا ہنر بخوبی دکھایا۔
رثائی کلاموں میں انہوں نے اپنا نظریہ اپنی فکر کا برملا اظہار کیا ہے اور بہت واضح طور پر اظہار کیا ہے۔ان کے رثائی کلام ادب میں ایک گرانقدر اضافے کی حیثیت رکھتا ہے ۔
وہ اپنی شاعری کے بارے میں خود رقمطراز ہیں۔
خدائے پنجتن پاک کی ہے دین افضل
ہوئی نصیب جو پاکیزگی خیالوں کی
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
بہت بہت عمدہ مضمون۔۔۔۔