کیسے بھلا رہے گا وفا کے بغیر بھی
زندہ ہے جو جہاں میں انا کے بغیر بھی
کرتے ہیں ظلم ہم پہ جو ہنس ہنس کے دیکھئے
دیتے ہیں دل کو زخم جفا کے بغیر بھی
مصروف اس قدر کے نمازوں سے دور ہیں
دن کٹ رہا ہے میرا ثنا کے بغیر بھی
خود کو سمجھ رہا ہے معزز وہ دوستوں
پھرتی ہے جن کی بیٹی ردا کے بغیر بھی
بس ماں کی ہے یہ ایسی عدالت نہ پوچھئے
مل جاتی ہے رہائی سزا کے بغیر بھی
سچ بولنے کا لاڈلہ انجام یہ ہوا
ملتی رہی سزا ہی خطا کے بغیر بھی
میم عین لاڈلہ جگتدل

