قطب مشتری / ڈاکٹر حمیرا جلیلی – راحت علی صدیقی
زیر تبصرہ کتاب قطب مشتری ملا وجہی کی مشہور مثنوی ہے، جس کو جنوبی ہند کی پہلی طبع زاد مثنوی ہونے کا شرف حاصل،اس کو ڈاکٹر حمیرا جلیلی نے مرتب کیا ہے، ترتیب کے اس اہم کام کو انہوں نے پوری محنت و دیانت سے انجام دیا ہے، کتاب کا مطالعہ اس کے بھرپور دلائل فراہم کرتا ہے، قطب مشتری کو ترتیب دینے میں انہوں نے اس مثنوی کے چار قدیم نسخوں کو سامنے رکھا، اور ان کی روشنی میں قطب مشتری کے متن کو قارئین کی عدالت میں پیش کیا ہے، چاروں نسخوں کے اختلافات کو بھی علامات کے ذریعے حاشیہ میں واضح کیا گیا ہے، جس کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے،مولوی عبدالحق کا شامل کردہ ضمیمہ انہوں نے اپنی ترتیب میں شامل نہیں کیا ہے، اور اس کے لئے انہوں نے مضبوط دلائل بھی پیش کئے ہیں، جن کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ یہ اشعار قطب مشتری کا حصہ نہیں ہیں۔
کتاب کے شروع میں وقیع اور علمی مقدمہ شامل ہے، جس میں قطب مشتری کے خصوصیات و امتیازات پر روشنی ڈالی گئی ہے، قطب مشتری کے مرتب اول مولوی عبدالحق اس مثنوی کی اہمیت اور بلند مقام کے قائل نہیں ہیں، ان کے دعوے کو مدلل انداز میں مسترد کیا گیا ہے، اور مثنوی قطب مشتری کی خوبیاں و خصائص مثالوں کی روشنی میں واضح کی گئی ہے، ’’درشرح شعر گوید‘‘ کے حوالے سے ملا وجہی کے تنقیدی افکار و نظریات اور ان کی معنویت کو بخوبی بیان کیا گیا ہے ، مشہور ناقدین کے افکار اور وجہی کے نظریات کی مماثلت کو بھی عیاں کیا گیا ہے، جس سے وجہی کی فکری بلندی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،وجہی اشعار پر نقد کے سلسلے کی ابتداکرنے والے ہیں، اس لئے بھی ان کی اہمیت مسلم ہے،جس کو بخوبی واضح کیا گیا ہے،مثنوی قطب مشتری کی زبان و بیان کی دلکشی و خوبصورتی کو واضح کیا گیا ہے، تشبیہات و تمثیلات اور استعارات و محاورات کے دلکش استعمال پر گفتگو کی گئی ہے، منظر نگاری کردار نگاری واقعہ نگاری سراپا نگاری وغیرہ مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے، اور دلائل کی روشنی میں ان کا معیار و مقام بھی واضح کیا گیا ہے،منظر نگاری اورمعنی آفرینی میں غواصی سے تقابل بھی کیا گیا ہے، اور غواصی کے مقابلے میں وجہی کے کلام میں فکر ، تخیل اور پیکر کی خوبصورتی کو واضح کیا گیا ہے، قطب مشتری کی کمزوریاں بھی مقدمہ میں بخوبی واضح کی گئی ہیں، تلمیحات کی مثالیں پیش کی گئی ہیں،جس میں اسلامی اور ہندوستانی تلمیحات شامل ہیں،پلاٹ کی سطحیت کرداروں کی تعریف میں مبالغہ آرائی وغیرہ کو استدلالی انداز میں بیان کیا گیا ہے، کرداروں کے حوالے سے دلچسپ گفتگو کی گئی ہے، کرداروں کے اوصاف پر روشنی ڈالی گئی ہے، وجہی نے کرداروں کے اوصاف بیان کئے ہیں، البتہ تمام اوصاف پر دلائل پیش نہیں کئے گئے، اس حقیقت کو بخوبی واضح کیا گیا ہے جس کی روشنی میں وجہی کے مرکزی کردار عطارد سے معمولی نظرآتے ہیں ۔
قطب مشتری کا لسانی تجزیہ کیا گیا ہے، قطب مشتری میں استعمال شدہ اسمائ افعال حروف اور تراکیب وغیرہ کے استعمال کے طریقوں کو واضح کیا گیا ہے، سب رس سے تقابل بھی کیا گیا ہے، جس کی روشنی میں قطب مشتری اور سب رس کی لسانی خصوصیات واضح ہوجاتی ہیں، اور قطب مشتری سے سب رس تک ملا وجہی کے زبان و بیان کی ارتقائی کیفیت بھی واضح ہوجاتی ہے، اس حصے نے کتاب کے میعار اور ترتیب کے وقار کو مزید بلند کردیا ہے، لسانیات کے جس ضابطے اور قاعدہ کوبیان کیا گیا ہے، قطب مشتری سے اس کی مثالیں بھی پیش کی گئی ہیں، مثلاً قطب مشتری میں اسمائے کیفیت کیسے بنائے گئے ہیں، قاعدہ ذکر کیا گیا ہے، اور سب رس میں اسمائے کیفیت بنانے کا کیا طریقہ اختیار کیا گیا ہے ، اس کو بھی بیان کیا گیا ہے،اس طرح مختلف اسمائ و افعال حروف اور ضمائر وغیرہ کے حوالے سے گفتگو کی گئی ہے، اور قطب مشتری کے اشعار بطور مثال پیش کئے گئے ہیں، کتاب کا یہ حصہ قطب مشتری کی لسانی خصوصیات کو بخوبی بیان کرتا ہے۔
اس کے بعد قطب مشتری کا متن پیش کیا گیا ہے،جس میں قطب اور مشتری کے قصہ سے پہلے مختلف ذیلی عناوین کے تحت اشعار پیش کئے گئے ہیں، جس کی ابتدا حمد سے کی گئی ہے، حمد میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے اوصاف عالیہ اور قدرت کاملہ اور عظیم تخلیقات کا بخوبی تذکرہ کیا گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظمت و رفعت کا منھ بولتا ثبوت ہیں، مناجات باری تعالیٰ میں اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگی گئی ہیں،نور خدا سے قلب کو منور کرنے کی درخواست کی گئی ہے،دنیا کی پریشانیوں و تکالیف سے نجات طلب کی گئی ہے،دنیا کی صورت حال کا نقشہ کھینچا گیا ہے، غفلت سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے، حرص و ہوس سے بچنے کو بڑا مرتبہ حاصل کرنے کا سبب قرار دیا گیا ہے، ایمان کے تحفظ اور اچھے اعمال کرنے کی تلقین کی گئی ہے، زندگی کی حقیقت کو آشکار کیا گیا ہے، محبت کے مقام و مرتبہ پر روشنی ڈالی گئی ہے، نعت میں نبی کریم ﷺکے مقام و مرتبہ اور خصوصیات کو بخوبی پیش کیا گیا ہے، اوصاف حمیدہ کا تذکرہ کیا گیا ہے، معراج کا تذکرہ خوب انداز میں کیا گیا ہے،منقبت میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام و مرتبہ اور خصوصیات پر روشنی ڈالی گئی ہے، نعت اور ذکر معراج میں بھی حضرت علیؓ کی عظمت کا تذکرہ ہے، جس کی روشنی میں ملا وجہی کے مذہبی افکار بخوبی عیاں ہوتے ہیں، در صفت عشق گوید کے عنوان سے عشق کی عظمت پر روشنی ڈالی گئی ہے،عشق زندہ جاوید کرتا ہے، اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے، در شرح شعر گوید جس میں اشعار کے محاسن اور خوبیوں کو عیاں کیا گیا ہے، مختصر سلیس اور مربوط کلام کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، شاعری کی عظمت کے لئے الفاظ اور معانی کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے، کلام کے وقیع اور اہم ہونے کے اصول و ضوابط پر روشنی ڈالی گئی ہے،یہ باب ۷۰؍ سے زائد اشعار پر مشتمل ہے،جس سے وجہی کی تنقیدی بصیرت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے، وجہی کی شاعری کا خصوصی پہلو سلاست اور ترسیل ہے، جس پر انہوں نے وجہی تعریف شعر گوید میں گفتگو کی ہے اوراپنے اشعار کی خصوصیت کو واضح کیا ہے، اور قطب مشتری کے تا قیامت یادگار رہنے کا اعلان کیا ہے۔
اس کے بعد باضابطہ قصہ کا آغاز بادشاہ ابراہیم قطب شاہ کی تعریف و ستائیش سے کیا گیا ہے، بیٹے کی ولادت کی حسرت و خواہش کا اظہار کیا گیا ہے،بیٹے کی ولادت اور اس کے حسن و جمال کی تعریف کی گئی ہے، مشتری کے حسن و خوبصورتی کو دلکش پیرائے اور تشبیہات میں پیش کیا گیا ہے، جس سے مثنوی کی دلکشی اور خوبصورتی عیاں ہوتی ہے،مشتری سے عشق کا سبب ہی حسن کو قرار دیا گیا ہے، قطب شاہ عشق میں بے چین اور پراگندہ حال ہوتا ہے، اس کی کیفیت کو بخوبی بیان کیا گیا ہے، بادشاہ کو اس صورت حال کی خبر ہوتی ہے، تو وہ دنیا کی حسیناؤں کے ذریعے شہزادہ کے دل مضطر کا علاج کرنا چاہتا ہے، لیکن ناکامی اس کے ہاتھ لگتی ہے، اور حسینائیں شہزادہ کی توجہ اپنی طرف کھینچنے میں ناکام ثابت ہوتی ہیں، اس کے بعد شہزادہ کے درددل کا مداوا تلاش کیا جاتا ہے، اور اس مثنوی کے سب سے اہم کردار عطارد کو متعارف کرایا جاتا ہے، اس کی ذہانت و ذکاوت کا تذکرہ کیا جاتا ہے، اس کی خوبیاں و خصوصیات بیان کی جاتی ہیں، بادشاہ اس سے مشورہ کرتا ہے اور قطب شاہ کے مرض عشق کی دوا تجویز کی جاتی ہے، یہ ساری تفصیلات بہت دلکش اور خوبصورت پیرائے میں پیش کی گئی ہے۔
اس کے بعد قطب شاہ کا مشتری تک پہنچنے اور اس کو حاصل کرنے کا سفر شروع ہوتا ہے ، جس کے لئے بادشاہ بمشکل اجازت دیتا ہے،جس میں تکالیف و پریشانیاں ہیں، مسائل و مصائب ہیں، جن سے عطارد شہزادہ کو آگاہ کرتا ہے،لیکن عشق میں ڈوبا ہوا شہزادہ تمام پریشانیوں سے نبردآزما ہونے پر آمادہ ہوجاتا ہے،مثنوی اس روداد کو بخوبی پیش کرتی ہے،عشق کی راہ میں پیش آمدہ پریشانیوں کا تذکرہ کرتی ہے،جن کے حل کے لئے قطب شاہ قرآنی آیات کا سہارا لیتا ہے،عطارد کے مشورے کام آتے ہیں،یہاں عطارد کی خصوصیات اور اس کی عظمت کے نمونے بخوبی ملتے ہیں،اور عطارد کا کردار قطب مشتری کے تمام کرداروں پر اپنی برتری ثابت کرتا ہوا نظر آتا ہے،مثنوی میں تلمیحات کی مثالیں بھی خوب ملتی ہیں، جس میں جن دیو پری راکشس کا بخوبی تذکرہ کیا گیا ہے، اور ان کے ذریعے قصہ کی دلچسپی میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے،مشتری کی قلبی کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے، اس کے عشقیہ جذبات کو الفاظ کا پیکر عطا کیا گیا ہے، قطب کا مشتری تک پہونچنے کا سفر اس مثنوی کا سب اہم اور دلچسپ پہلو ہے، جس کو بخوبی پیش کیا گیا ہے، مختلف مواقع پر مختلف کرداروں کی زبانی غزلیں کہلوائی گئی ہیں، جس سے مثنوی کی دلکشی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، اور وجہی کا تخلیقی جوہر مزید نکھر آیا ہے، مثنوی کا طرز بیان اشعار میں استعمال شدہ اداتِ بلاغت اس کا حسن ہیں، اور قاری کو اس کے ساتھ باندھے رکھنے میں کامیاب نظرآتے ہیں، مثنوی کی زبان دکنی ہے، جس کو سمجھنے میں جابجا دشواریاںپیش آتی ہیں، اور قاری کی ان تک رسائی آسان نہیں ہے، لیکن مرتبہ ڈاکٹر حمیرا جلیلی نے اس دشواری کو کسی حدتک حل کردیا ہے، جس کے باعث مثنوی کے اصل متن اور وجہی کے تخلیقی جواہر سے بھی لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے، اور الفاظ کے معانی و مفاہیم کو بھی بآسانی سمجھا جاسکتا ہے، اس کے لئے مرتبہ نے آخر میں فرہنگ پیش کی ہے، جس میں مشکل الفاظ کے معانی حروف تہجی کی ترتیب سے درج کئے گئے ہیں، آخر میں ان کتابوں اور رسائل کا تذکرہ کیا گیا ہے، جن سے مرتبہ نے استفادہ کیا ہے، کتاب کا مطالعہ مرتبہ کی محنت اور ترتیب متن کی صلاحیتوں اور وجہی کی تخلیقی صلاحیتوں سے بخوبی واقف کراتا ہے، قطب مشتری کلاسیکی ادب میں اہمیت کی حامل ہے، اس کا قصہ اگر چہ اعلیٰ معیار پر مشتمل نا ہو لیکن وجہی کی تخلیقی صلاحیتوں نے اس کو معیاری مقام پر فائز کردیا ہے۔
نام کتاب : قطب مشتری
مرتبہ : ڈاکٹر حمیرا جلیلی
صفحات : 247
قیمت : 130روپئے
ناشر : قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

