گرچہ ترے بغیر گزارا نہ کر سکے
پر عشق بھی کسی سے دوبارہ نہ کر سکے
اک تو کہ مہر و ماہ تصرف میں ہیں ترے
اک ہم کہ اپنے نام ستارہ نہ کر سکے
منظر وہ تھے کہ دیکھتے رہتے ہزار بار
لیکن ترے بغیر گوارہ نہ کر سکے
اَک آرزو ہے ، جس کی کبھی جستجو نہ کی
اَک آرزو تھی ، جس سے کنارہ نہ کر سکے
گفتار کی تو بات الگ ہے مرے ندیم!
پلکوں سے بھی ہم اُن کو اشارہ نہ کر سکے
خالد ندیم
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

