شعبۂ اردو سمیت مختلف شعبہ جات کا کیا معائنہ،شام کو نیتا جی سبھاش چند بوس آڈیٹوریم میں تہذیبی و ثقافتی پروگراموں کا انعقاد
میرٹھ4؍ مارچ2023ء
آج یہاں نیک پیئر ٹیم نے چودھری چرن سنگھ یو نیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا تعلیمی، فزیکلی اور دیگر اکٹویٹیز کا معائنہ شروع کردیا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے سخت حفاظتی انتظامات کا بھی بندو بست کیا گیا تھا تاکہ شرارتی عناصر کسی طرح کی بد نظمی پیدا نہ کردیں۔
نیک ٹیم کے صدرپروفیسر ارون دواکر ناتھ واجپئی، ممبر اور کنوینر پروفیسر سدھانشو رنجن مہاپاترا، پروفیسر بسواراج پدماشلی، ممبر،پروفیسر سنجیو کمار مہاجن، ممبر، پروفیسر انوپما شرما،ممبر اور پروفیسر چندر شیکھرن کلیانی تھیور کا استقبال این سی سی کیڈٹس نے کیا۔ سب سے پہلے یونیورسٹی کی شیخ الجامعہ پروفیسر سنگیتا شکلا نے اپنا پرزینٹیشن پیش کیا جس میں انہوں نے یونیورسٹی کی گذشتہ پانچ سالہ کار کردگی،اچیومنٹ،کورسز، یونیورسٹی کا تعلیمی سفر ،یونیورسٹی کی سماجی خدمات جیسے مختلف پہلو ئوں پر تفصیلی روشنی ڈا لی۔
نیک پیئر ٹیم دو حصوں پر مشتمل رہی ۔ٹیم اے میں پروفیسر بسواراج پدماشلی،پروفیسر سدھانشو رنجن مہاپاترا اور پروفیسر چندر شیکھرن کلیانی تھیورجب کہ ٹیم بی میں پروفیسر ارون دواکر ناتھ واجپئی،پروفیسر سنجیو کمار مہاجن اور پروفیسر انوپما شرما شریک تھیں۔
دوپہر بعد ٹیم اے کے ممبران پروفیسر بسواراج پدماشلی کی قیادت میں شعبۂ اردو کا معائنہ کرنے پہنچے۔ٹیم کا پرجوش استقبال شعبۂ اردو کے اساتذہ ڈاکٹر آ صف علی،ڈاکٹر شاداب علیم،ڈاکٹر الکا وششٹھ اور ڈاکٹرارشاد علی نے کیا۔ سب سے پہلے ٹیم نے صحن میں ڈسپلے کیا گیا شعبے کی پانچ سالہ کار کردگی کو جن میں سبھی اساتذہ کے ریسرچ پیپر،کتابیں ، ریڈیو ٹاک ،شعبے سے نکلنے والی میگزین ’’ہماری آواز‘‘ کے شمارے،ان پانچ سالوں میں آئی طلبا کی کتب اور ان پانچ سالوں میں مختلف اخبار و رسائل میں چھپنے والی خبروں کو دیکھا۔ بعد ازاں ٹیم کوگذشتہ پانچ سالوں میں منعقد کیے گئے مختلف پروگراموں مثلاً پانچ روزہ بین الاقوامی سیمینار،2022ء چار روزہ بین الاقوامی سیمینار،2018ء،دوروزہ بین الاقوامی داستان گوئی اور کہانی ورک شاپ2018ء، چار روزہ بین الاقوامی ویبینار2020ء کے علاوہ،ہر سال منعقد ہونے والا جشن سر سید،اسماعیل میرٹھی خطبہ، ایوارڈز فنکشن ،،شام غزل ،مشاعرہ،اجراء کتب، آرٹ گیلری،کتب میلہ ،المنائی میٹ ،شجر کاری ، پرسنالٹی ڈیولپمنٹ،روزہ افطار، ہولی ملن، دیوالی پارٹی، عید ملن،یوم اساتذہ،یوم ہندی وغیرہ کے بینرس دکھائے گئے جن سے ٹیم متاثر نظر آئی۔
بعد ازاں منشی پریم چند سیمینار ہال میں صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پور ی نے ٹیم کا استقبال کرتے ہوئے پرزینٹیشن پیش کیا ۔انہوں نے شعبے کی پانچ سالہ کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ شعبے کا قیام2002ء میں عمل میں آ یا تھا۔شعبے میں پی۔ایچ۔ڈی،ایم ۔اے،بی۔اے،ڈپلومہ ان اردو پروفسینسی اور خواتین کے لیے سرٹیفکٹ ان اردو کمپوزنگ، سرٹفیکٹ ان اسکرپٹ رائٹنگ جیسے کورس چلائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ شعبے میں حفیظ میرٹھی لائبریری ہے جس میں 5156کتابیں اور تقریبا2000رسائل موجود ہیں۔ ساتھ ہی شعبے میں پانچ روز نامے اردو اور ہندی کے آتے ہیں۔اس کے علاوہ شعبے میں اسمارٹ بورڈ، ایل سی ڈی پروجیکٹر، ا سکینر،کلر پرنٹر، پریم چند ہال، کلاس روم ،ٹیچرس روم وغیرہ کی سہولیات دستیاب ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گذشتہ پانچ سالو میں اساتذہ کی58کتب، 69 نیشنل سیمینار،18انٹر نیشنل سیمینار،28 بک ریویو،23ریڈیو ٹاک15انٹر ویو،27ایوارڈز،21لیکچرس،20ٹی وی پروگرام اور 2پروجیکٹ شامل ہیں۔علاوہ ازیں ان پانچ سالوں میں12پی ایچ۔ڈی،20ایم ۔فل،50ایم۔ اے،2جے آر ایف اور7طالب علم نیٹ کرچکے ہیں۔ساتھ ہی اس دوران18طالب علموں کی ملازمت لگ چکی ہے۔ طلبہ کی32 کتابیں بھی اس دوران آ چکی ہیں جن میں12کتابوں کو ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے اور جن میں پانچ کتابیں ایسی بھی ہیں جو یو پی کے سابق وزیر اعلیٰ محترم اکھلیش یادو کے ذریعے دیے گئے ہیں۔شعبۂ اردو کے40طلبہ اچھی ملازمت پر ہیں جن میں شمع کوثر یزدانی(اسسٹنٹ ڈائریکٹر این سی پی یو ایل)،ڈاکٹر صابر گودڑ(سابق ڈائریکڑ، گاندھی انسٹی ٹیوٹ، ماریشس) ڈاکٹر پنکج کانت راجن( ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈا کٹر ذاکر حسین کالج، دہلی)، ڈاکٹر رضیہ بیگم( آڈیٹر جی ڈی اے، غازی آ باد)ڈاکٹر عبد الرزاق(اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج، جموں)،ڈاکٹر ظفر گلزار (آفس انچارج مانو،حیدر آباد)،ڈاکٹر فرمان چودھری(دور درشن اردو)، نوازش مہدی(دور درشن اردو)،عابد علی کامل (دور درشن کسان،دہلی) وغیرہ۔شعبہ اردو ان پانچ سالوں میں6بین الاقوامی سیمینار،9قومی سیمینار4لوکل سیمینار، 3انٹرنیشنل ویبینار،4نیشنل ویبینار،1انٹر نیشنل ورک شاپ،2نیشنل ورک شاپ کے علاوہ شام غزل، مشاعرہ،تعزیتی جلسے، آرٹ گیلری، ڈراما، میجک شو جیسے42پرو گرام بھی منعقد کر چکا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ شعبہ اردو نے3 جولائی 2020ء کو بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن کا قیام عمل میں آیا تھا جو ایک انٹر نیشنل پلیٹ فارم ہے۔ہر ہفتے مختلف موضو عات پر پرو گرام کیے جاتے ہیں اب تک اس کے تحت10 قومی و بین الاقوامی سیمینار کے علاوہ مختلف موضوعات پر67پروگرام منعقد کرچکا ہے۔شعبے کی میگزین’’ ہماری آ واز‘‘ کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری آواز ISSNنمبر کے ساتھ یو جی کیئر لسٹ میں بھی شامل ہے اور اس کے اہم نمبرات میں کملیشور، بشیر بدر، آزادی نمبر، بھارت بھوشن، امتیاز علی خاں عرشی، انتظار حسین، غالبؔ نمبر اور دبستان میرٹھ جیسے اہم شمارے آچکے ہیں اور اگر اہم شخصیات کی بات کی جائے تو شعبۂ اردو میںملک وبیرون ممالک سے بہت سی اہم شخصیات آتی رہی ہیں جن میں انتظار حسین(پاکستان)عارف نقوی(جرمنی)،پروفیسر یوسف عامر(سابق شیخ الجامعہ الازہر،مصر)،پروفیسر غلام ربانی(ڈھاکہ یونیورسٹی، بنگلہ دیش)،ڈاکٹر ولا جمال العسیلی(عین شمس یونیورسٹی،مصر)،ڈاکٹر تقی عابدی(معروف ماہر غالبیات ،کناڈا)، جاویددانش(معروف داستان گو،کناڈا)،سردار علی(امریکہ)ارینا میکسیکو(روس)،پروفیسر جہانگیر وارثی(امریکہ)،ڈاکٹر صابر گودڑ(ماریشس)،عتیق انظر،مقصود انور(قطر) کورینا آر سینڈرس(امریکہ)،صابر عثمانی (یوکے) اور دیگر مہمانان اسی طرح ملک بھرسے محترم عزیز قریشی(سابق گورنریوپی و اتراکھنڈ) پروفیسر شمس الرحمن فاروقی،پروفیسر شمیم حنفی،پروفیسر اختر الواسع، سید محمد اشرف،خواجہ شاہد، پروفیسر زماں آزردہ،پروفیسر آر۔ایل ہانگلو، اجے روہیلا(معروف اداکار)،روی کشن(معروف اداکار)،ایم کے رینا(معروف اداکار)،منور رانا اور ڈاکٹر نواز دیوبندی وغیرہ شامل ہیں۔پروفیسر اسلم جمشید پوری نے مزید بتایا کہ شعبۂ اردو سو شل میڈیا پر بھی فعال رہتا ہے جیسے فیس بک، یو ٹیوب چینل، انسٹا گرام۔
نیک پیئر ٹیم کو صدر شعبۂ اردو نے فیو چر پلان کے بارے میں بھی بتایا کہ شعبۂ اردو مستقبل میں رائٹرز آرکائز، مولانا آزاد چیئر، ڈپلو ما ان اسپو کن عربک، انٹر نیشنل ریسرچ اسکالرز سیمینار، اردو رائٹرز ایسو سی ایشن کا خواہش مند ہے اور ساتھ ہی وہ مستقبل میں جامعہ ازہر، مصر اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے ایم او یو بھی کرنے کا خواہش مند ہے۔
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

