Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
اسلامیات

سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا پیغام – نازش احتشام اعظمی

by adbimiras جون 6, 2026
by adbimiras جون 6, 2026 0 comment

عیدالاضحیٰ کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو اس کی روشنی صرف گھروں، بازاروں اور گلیوں کو روشن نہیں کرتی بلکہ وہ دلوں کے اندر ایک ایسی روحانی کیفیت بھی پیدا کرتی ہے جو انسان کو اس کی اصل حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ یہ دن محض خوشی، لباس، گوشت اور تہوار کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی عظیم یاد دہانی ہے جو انسان کو اس کے رب کے سامنے جھکنے، اپنی خواہشات کو قربان کرنے اور اپنی پوری زندگی کو اللہ کی رضا کے تابع بنانے کا درس دیتی ہے۔ قربانی دراصل ایمان کی وہ زبان ہے جسے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چھری جب جانور کے گلے پر چلتی ہے تو حقیقت میں ایک مومن کے دل میں چھپی ہوئی سرکشی، خود پسندی، حرص، لالچ اور نفس پرستی کے خلاف اعلانِ جنگ بلند ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے قربانی کو صرف ایک ظاہری عبادت کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے روح کی تطہیر، ایمان کی پختگی اور انسان کی اخلاقی تعمیر کا ذریعہ قرار دیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی اطاعت، تسلیم و رضا اور عشقِ الٰہی کی ایک بے مثال داستان ہے۔ انہوں نے اپنے وطن کو چھوڑا، آگ میں ڈالے گئے، تنہائی برداشت کی، مگر اللہ کے حکم کے سامنے کبھی سرِ انکار بلند نہ کیا۔ پھر وہ لمحہ آیا جب انہیں اپنے سب سے محبوب بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا حکم ملا۔ یہ ایک باپ کے لیے صرف ایک آزمائش نہیں تھی بلکہ محبت، جذبات، وابستگی اور انسانیت کے تمام فطری تقاضوں کے خلاف ایک عظیم امتحان تھا۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ثابت کردیا کہ اللہ کی محبت جب دل میں جاگزیں ہوجاتی ہے تو دنیا کی ہر محبت اس کے سامنے ہیچ ہوجاتی ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر، رضا اور اطاعت کی ایسی مثال قائم کی جو قیامت تک آنے والے اہلِ ایمان کے لیے مینارۂ نور بنی رہے گی۔ قرآن نے اس منظر کو جس انداز میں بیان کیا ہے وہ آج بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔ ایک باپ اپنے بیٹے سے مشورہ کررہا ہے، اور بیٹا جواب دے رہا ہے: “اے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے انجام دیجیے، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔” یہ الفاظ محض ایک تاریخی جملہ نہیں بلکہ بندگی کی معراج ہیں۔

قربانی کا اصل مقصد یہی ہے کہ انسان اپنے اندر موجود ہر اُس شے کو اللہ کے لیے قربان کرنے کا حوصلہ پیدا کرے جو اسے اللہ سے دور کرتی ہے۔ اگر قربانی کے بعد بھی انسان کی زندگی ویسی ہی رہے، اس کی زبان ویسی ہی زہریلی، اس کا دل ویسا ہی سخت، اس کا رویہ ویسا ہی متکبر اور اس کی سوچ ویسی ہی مادہ پرستانہ ہو تو پھر اسے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ اس نے حقیقت میں قربانی کی بھی یا نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ اس کے حضور وہ تقویٰ پہنچتا ہے جو بندے کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ قربانی کی اصل روح اسی تقویٰ کا نام ہے۔

آج کا انسان عجیب اضطراب کا شکار ہے۔ اس کے پاس آسائشیں بڑھ گئی ہیں مگر سکون کم ہوگیا ہے۔ وسائل زیادہ ہیں مگر دل خالی ہیں۔ تعلقات ہیں مگر محبتیں نہیں۔ ترقی ہے مگر روحانی ویرانی بھی ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اس مادہ پرست دور میں قربانی انسان کو جھنجھوڑ کر یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دینے کا بھی نام ہے۔ انسان دنیا میں جتنا زیادہ اپنی خواہشات کا غلام بنتا جاتا ہے اتنا ہی اندر سے کھوکھلا ہوتا جاتا ہے۔ قربانی آکر اس غلامی کی زنجیروں کو توڑتی ہے اور انسان کو اس کے رب کی بندگی کی طرف بلاتی ہے۔

قربانی دراصل نفس کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے۔ نفس ہمیشہ آسانی، لذت، غرور اور خواہشات کی طرف کھینچتا ہے، جبکہ ایمان انسان کو صبر، ایثار، تواضع اور اطاعت کی طرف بلاتا ہے۔ یہی کشمکش انسانی زندگی کا اصل میدانِ جہاد ہے۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاد صرف میدانِ جنگ کا نام ہے، حالانکہ سب سے بڑا جہاد اپنے نفس کے خلاف لڑنا ہے۔ اپنے غصے کو قابو کرنا، حسد کو دل سے نکالنا، معاف کرنا، تکبر چھوڑ دینا، حق بات قبول کرلینا، اپنی غلطی تسلیم کرلینا — یہ سب قربانی کے حقیقی مظاہر ہیں۔ قربانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جس طرح ہم ایک جانور کو اللہ کے حکم پر قربان کرتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنی انا، ضد، خود پسندی اور گناہوں کو بھی اللہ کے حکم پر قربان کردینا چاہیے۔

یہ حقیقت نہایت افسوسناک ہے کہ بہت سے لوگ قربانی کو صرف ایک سماجی روایت بنا چکے ہیں۔ جانوروں کی قیمتیں، نسلیں، نمائش اور تفاخر گفتگو کا مرکز بن جاتے ہیں، جبکہ قربانی کی روح پس منظر میں چلی جاتی ہے۔ بعض لوگ قربانی کو عبادت سے زیادہ معاشرتی اسٹیٹس کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ حالانکہ قربانی کا مقصد دکھاوا نہیں بلکہ اخلاص ہے۔ اللہ کے یہاں جانور کی جسامت نہیں بلکہ دل کی کیفیت دیکھی جاتی ہے۔ ایک غریب انسان کا چھوٹا سا جانور اللہ کے نزدیک اس بڑے جانور سے کہیں زیادہ قیمتی ہوسکتا ہے جس کے پیچھے ریا، غرور اور نمود ہو۔

قربانی کے بعد ایک مومن کی زندگی میں واضح تبدیلی آنی چاہیے۔ اس کے اخلاق پہلے سے بہتر ہوجانے چاہییں۔ اس کی گفتگو نرم، اس کا دل رحم دل، اس کی نگاہ پاکیزہ اور اس کے معاملات زیادہ دیانت دار ہوجانے چاہییں۔ اگر قربانی کے بعد بھی انسان جھوٹ بول رہا ہے، غیبت کررہا ہے، لوگوں کے حقوق مار رہا ہے، حسد میں مبتلا ہے، رشتہ داروں سے قطع تعلق کیے ہوئے ہے اور غریبوں سے بے اعتنائی برت رہا ہے تو پھر اس کی قربانی محض ایک رسم بن کر رہ گئی۔ اسلام ظاہری عبادتوں کے ساتھ باطنی اصلاح پر بھی زور دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار دلوں کی پاکیزگی، تقویٰ اور اخلاقی اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی قربانی کی عملی تفسیر تھی۔ آپ ﷺ نے صرف جانور قربان نہیں کیے بلکہ اپنی خواہشات، آرام، نیند، وقت اور پوری زندگی اللہ کے دین کے لیے قربان کردی۔ آپ ﷺ نے پتھر کھائے مگر بددعا نہ دی، لہو بہایا مگر معاف کردیا، اختیار ملا مگر عاجزی اختیار کی۔ یہی قربانی کی حقیقی روح ہے۔ قربانی انسان کو سختی سے نرمی، خود غرضی سے ایثار اور نفرت سے محبت کی طرف لے جاتی ہے۔

معاشرتی اعتبار سے بھی قربانی ایک عظیم انقلاب کا پیغام رکھتی ہے۔ گوشت کی تقسیم محض کھانے کا انتظام نہیں بلکہ معاشرتی مساوات کا ایک عملی اعلان ہے۔ اسلام ایسا معاشرہ چاہتا ہے جہاں امیر و غریب کے درمیان نفرت کی دیواریں نہ ہوں بلکہ رحمت اور ہمدردی کے رشتے ہوں۔ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری خوشیاں صرف ہماری ذات تک محدود نہیں ہونی چاہییں بلکہ ان میں دوسروں کا حصہ بھی شامل ہونا چاہیے۔ ایک غریب خاندان جس کے گھر سال بھر گوشت نہ پکتا ہو، قربانی کے دنوں میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ ایک یتیم بچہ جب عزت کے ساتھ گوشت حاصل کرتا ہے تو اس کے دل میں احساسِ محرومی کم ہوتا ہے۔ یہی قربانی کا سماجی حسن ہے۔

لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں قربانی کا یہ پہلو بھی کمزور پڑتا جارہا ہے۔ بہت سے لوگ گوشت صرف اپنے رشتہ داروں اور دوستوں میں تقسیم کرتے ہیں جبکہ حقیقی مستحقین نظر انداز ہوجاتے ہیں۔ قربانی کا اصل پیغام یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے ان طبقات کو یاد رکھیں جو غربت، بھوک، محرومی اور بے بسی کا شکار ہیں۔ بیوائیں، یتیم، مزدور، بیمار اور بے سہارا لوگ ہماری توجہ کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ جب تک قربانی ہمارے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا نہ کرے تب تک اس کی روح مکمل طور پر بیدار نہیں ہوتی۔

قربانی دراصل انسان کو اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کراتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے۔ انسان جن چیزوں پر فخر کرتا ہے، جنہیں اپنی کامیابی سمجھتا ہے، ایک دن سب ختم ہوجائیں گی۔ دولت، شہرت، اقتدار اور دنیاوی آسائشیں قبر کے دروازے پر آکر رک جائیں گی۔ وہاں صرف اعمال ساتھ جائیں گے۔ قربانی انسان کے دل سے دنیا کی محبت کم کرکے آخرت کی فکر پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان قربانی کے بعد اپنی زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ کہیں ان کی زندگی صرف دنیا کمانے میں تو نہیں گزر رہی؟ کہیں وہ اپنے رب سے دور تو نہیں ہوگئے؟ کہیں ان کے دل سخت تو نہیں ہوگئے؟ قربانی انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کرتی ہے۔

روحانی اعتبار سے قربانی ایک بیداری کا پیغام ہے۔ یہ انسان کو یاد دلاتی ہے کہ وہ محض جسم نہیں بلکہ روح بھی رکھتا ہے، اور اس روح کی غذا اللہ کی یاد، اطاعت اور محبت ہے۔ جدید دنیا نے انسان کے جسم کو تو آسائش دی مگر روح کو تنہا چھوڑ دیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان باہر سے خوشحال اور اندر سے ویران ہوگیا ہے۔ قربانی اس ویرانی کو ختم کرنے آتی ہے۔ یہ انسان کو اس کے رب سے دوبارہ جوڑتی ہے۔ جب ایک مومن اللہ کے نام پر قربانی کرتا ہے تو وہ دراصل اپنے رب سے یہ عہد کررہا ہوتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اسی کی اطاعت میں گزارے گا۔

قربانی ہمیں صبر بھی سکھاتی ہے۔ زندگی میں بے شمار ایسے مواقع آتے ہیں جب انسان کو اپنی خواہشات چھوڑنی پڑتی ہیں، اپنے جذبات قربان کرنے پڑتے ہیں اور اللہ کی رضا کو ترجیح دینی پڑتی ہے۔ یہی اصل بندگی ہے۔ بندگی صرف نماز، روزہ اور عبادت کے چند اعمال کا نام نہیں بلکہ ہر حال میں اللہ کے حکم کو اپنی خواہش پر مقدم رکھنے کا نام ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہی کیا تھا، اور قربانی ہر سال ہمیں اسی سبق کی تجدید کراتی ہے۔

ایمان کا اصل حسن یہی ہے کہ انسان اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے۔ بعض اوقات انسان کی خواہش کچھ اور ہوتی ہے مگر اللہ کا فیصلہ کچھ اور ہوتا ہے۔ قربانی انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ حقیقی کامیابی اپنی مرضی منوانے میں نہیں بلکہ اللہ کی مرضی پر راضی ہوجانے میں ہے۔ جب بندہ اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے تو اس کے دل میں عجیب سکون پیدا ہوجاتا ہے۔ یہی سکون قربانی کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔

آج امتِ مسلمہ جن اخلاقی، روحانی اور معاشرتی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ان کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ عبادات کی روح کمزور پڑگئی ہے۔ ہم نے اعمال کو رسموں میں بدل دیا ہے۔ قربانی بھی انہی رسموں میں شامل ہوتی جارہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قربانی کے پیغام کو دوبارہ زندہ کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ قربانی صرف گوشت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان، اطاعت، ایثار اور انسانیت کا درس ہے۔ انہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا فلسفہ سکھانا ہوگا تاکہ ان کے دلوں میں اللہ کی محبت اور بندگی کا شعور پیدا ہو۔

قربانی کے بعد اہلِ ایمان سے سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو بدلیں۔ ان کے اندر عاجزی پیدا ہو، ان کے دل نرم ہوں، ان کی نگاہیں پاکیزہ ہوں، ان کے معاملات شفاف ہوں، ان کے گھروں میں محبت ہو، ان کی زبانوں پر سچائی ہو اور ان کے دلوں میں انسانیت کے لیے درد ہو۔ اگر قربانی کے بعد بھی ہماری زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو ہمیں اپنے ایمان اور اخلاص کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

آئیے، ایامِ قربانی کے گزر جانے کے بعد ہم یہ عہد کریں کہ ہم قربانی کو صرف تین دنوں کی عبادت نہیں بلکہ پوری زندگی کا ایک مستقل پیغام بنائیں گے۔ ہم اپنے نفس کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔ ہم اپنی انا کو توڑیں گے، اپنے غرور کو ختم کریں گے، لوگوں کو معاف کریں گے، غریبوں کا سہارا بنیں گے، اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں گے اور اپنی زندگیوں کو اس کی اطاعت کے لیے وقف کردیں گے۔ یہی قربانی کی حقیقی روح ہے۔ یہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کا اصل پیغام ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور یہی وہ قربانی ہے جو انسان کو ایک بہتر مومن، بہتر انسان اور بہتر معاشرہ بنانے میں مدد دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی حقیقی روح سمجھنے، اس کے تقاضوں پر عمل کرنے، اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور اپنی زندگیوں کو اخلاص، تقویٰ، محبت اور خدمتِ خلق سے آراستہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں    https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi miras
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی فوائد- حکیم نازش احتشام اعظمی

یہ بھی پڑھیں

آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی...

جون 6, 2026

قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی...

جون 6, 2026

قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!...

اپریل 11, 2026

قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف...

جون 16, 2024

احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل...

اپریل 7, 2024

رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و...

مارچ 31, 2024

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعدد...

ستمبر 23, 2023

حجاب: ایک امر شرعی : فرحان بارہ بنکوی

جون 27, 2023

پیغام عید قرباں : عصر حاضر کے تناظر...

جون 27, 2023

روزے کی طبی وسماجی جہتیں – مفتی محمد...

اپریل 15, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (478)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں