نغموں کا انسانی زندگی سے گہرا رشتہ رہا ہے اور ان سے انسانی ذہن متاثر بھی ہوتے ہیں۔ یہ نغمے انسانوں کے علاوہ دیگر جانداروں پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں ۔شعرا حضرات تو کافی پہلے سے ہی فطرت کے مختلف عناصر پر پڑنے والے نغموں کے اثرات کی نشاندہی اپنے مختلف کلام کے ذریعے کرتے رہے ہیں۔ان کے ان کلاموں میں بہت ممکن ہے تخیلات کی بھی کار فرمائی رہی ہو لیکن موجودہ سا ئنس کی تحقیق بھی اس بات کی دلالت پیش کرتی ہے کہ نغمے انسانوں کے ساتھ ساتھ فطرت کے مختلف عناصر پر الگ الگ طریقے سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس کو مزید سمجھنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں فطرت کے مختلف عناصر کو سمجھنا ہوگا۔
’فطرت ‘ ایک ایسا مبہم سا لفظ ہے جس کے معنی محتلف مفکرین ‘ محققین اور شعرا ء حضرات نے الگ الگ انداز میں پیش کئے ہیں۔مجموعی طور پر فطرت کو دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتاہے۔ایک داخلی فطرت اور دوسری خارجی فطرت۔ خارجی فطرت کے تحت کارخانئہ قدرت کی وہ تمام تخلیقات آتی ہیں جسے خالق کائنات نے اپنے ہاتھوں سے سجایا اور سنوارا ہے اور جو اپنی تمام تررعناعیوں کے ساتھ اس کرئہ ارض پر ہمیں جلوہ افروز دیکھائی دیتی ہیں۔دوسرے قسم کی فطرت ‘ داخلی فطرت ہوتی ہے جسے خالق نے ہر ذی روح کے اندر پیوست کر دیا ہے۔اس طرح سے فطرت کے اندر دونوں کائنات خواو وہ داخلی ہو یا خارجی ‘ سما جاتی ہے۔
امریکن میوزیکو لوجیکل سوسائٹی کے Co-Founderاور چیر پرسنAnnatte- heerنے فطرت کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے :
Nature is a fairy tale, nature is comodity,nature is a domain of natural sciences, nature belong to us,Nature belong to us? Really,or do we belong to nature?nature is shock, nature is comfort,nature is calming,nature is ruthless,can the continual whisper of art and music make an impact on nature and the global discourse.
اردو شعراء نے فطرت کو ایک ہی نقطئہ نظر سے نہیں دیکھا ہے بلکہ اس کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے ۔ مختلف زاوئہ نگاہ سے اس کا مطالعہ کیا ہے ۔مثلاـ کبھی اسے فطرت خوش و خرّم نظر آتی ہے اور کبھی غمگین ۔کبھی فطرت ہمدرد نظر آتی ہے تو کبھی وہ اسے ظالم قرار دیتا ہے۔کبھی اسے فطرت میں خدا کا جلوہ دیکھائی دیتا ہے تو کبھی انسانی نغمے سے فطرت متاثر ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ۔
سائنسی اور تحقیقی نقطہ نگاہ سے بھی یہ ثابت ہے کہ انسانی نغمے فطرت کے مختلف افراد کو مختلف طریقے سے اثر اندازکرتے ہیں۔مختلف تجربات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نغمے مختلف طریقے سے فطرت کے مددگار و معاون ثابت ہوئے ہیں :
آکسفورڈ کے جان ریڈکلف اسپتال میں کئے گئے ایک تجربے کے مطابقLocal Anesthesia دے کر مریض کا آپریشن کرتے وقت میوزک چلا کر دیکھا گیا تو مریض کا stress Level دیگر مریضوں کے مقابلے ۲۰ فیصد کم ہو گیا۔اس سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ نغموں میں اسٹریس کم کرنے اور موڈ کو بہتر کرنے کی بے پناہ صلاحیت پائی جاتی ہے۔
موجودہ دور میں مختلف ذہنی و جسمانی امراض میں مبتلا انسان کو میوزک تھراپی دی جاتی ہے جو ان کی صحت یابی میں معاون و مددگار ثابت ہوتی ہیں۔تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ میوزک سنانے سے گائیں زیادہ دودھ دیتی ہیں نیز پودوں کی افزا ئش میں بھی نغمے مثبت اثر ڈالتے ہیں۔
’’اس امر کا ذکر قرآن کے حوالے سے بھی کیا جاتا ہے کہ جب حضرت دائو دؑ لئے کے ساتھ زبور پڑھتے تھے تو فطرت کے مختلف افراد وجد میں آجاتے تھے۔‘‘
(اردو شاعری میں منظر نگاری۔ڈاکٹر سلام سندیلوی۔ص۶۹)
چونکہ انسان بھی فطرت کے افراد میں سے ایک اہم فرد ہے اس لئے اگر جسم کی ساخت اور اس کی حرکات و سکنات پر غور کیا جائے تو یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس کے اندر بھی ایک لئے اور نغمگی ہے۔دل کا ایک منٹ میں ۷۲ بار دھڑکنا ‘ نبض کا ایک متعین بار چلنا‘ کاربن ڈائی آکسائڈ و آکسیجن کی جسم کے اندر آمدو رفت‘ دماغ کا پورے جسم پر کمانڈ کرنالئے اور نغمگی کی بہترین مثالیں ہیں۔انسانی جسم اور اس کے اندر پائی جانے والی زندگی کی علامت و نغمگی کو چکبستؔ نے بڑے ہی خوبصورت پیرائے میں یوں بیان کیا ہے ؎
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
اگر قدرت نے ہمارے جسم کو ایک ساز اور لئے سے آراستہ و پیراستہ کر رکھا ہے تو بھلا نغمے سے فطرت کیسے متاثر ہوئے بنا رہ سکتی ہے؟ کیونکہ نغمہ بھی تو انواع و اقسام کی لئے سے ہی وجود میں آتا ہے۔اگر ہم کارخا نۂ قدرت پر نگاہ ڈالیں تو ہمارا ایکو سسٹم جس منظم ڈھنگ سے چل رہا ہے اسے بھی لئے اور نغمگی کی ایک بہترین مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس کائنات میں پائے جانے والے جانور ‘ پرند اور چرند سبھی فطرت کے افراد میں شامل ہیںاور ان کے بھی نغمے سے متاثر ہونے کا ذکر مختلف حضرات نے کیا ہے۔مولوی امداد امام اثر ’’کاشف الحقائق‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں :
’’بہت سے پرندے ایسے ہیںجو موسیقی میں ماہر ہیں ۔شاما‘ پدا‘ کوئل ‘ مینا‘ بلبل وغیرہ کی نغمہ سنجی مشہور ہے۔بہت سے حیوانات ایسے ہیں جو خود گا نہیں سکتے مگر ان پر موسیقی کا اثر ہوتا ہے۔مثلا سانپ جب تک نغمے سے متاثر رہتے ہیںتب تک ایزا رسانی سے باز رہتے ہیں ۔اونٹ پر ہدی خوانی کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ہرن بھی نغمہ سن کر اپنی وحشت بھول جاتے ہیں ۔‘‘
(کاشف الحقائق ۔جلد اول‘ مولفہ سید امداد امام اثر‘ص22)
اردو شعراء نے بھی اس بات کو شدّت سے محسوس کیا کہ نغمے سے صرف انسان ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ فطرت کے مختلف افراد پر بھی نغموں کا اثر ہوتا ہے۔ اس موضوع پر بھی شعراء حضرات نے مختلف ادوار میں اپنے خیالات کا منظوم اظہار کیا ہے۔ممکن ہے ان شعرا ء کا بیان صد فی صد سہی نہ ہو لیکن ان کے کلام کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ تو لگایا ہی جا سکتا ہے کہ انہوں نے صداقت سے اس کو محسوس کیا ہے۔
ملا وجہی ؔ نے ’’قطب مشتری‘‘ میں اس راز کی نشاندہی کی ہے کہ جب محمد قلیؔ قطب شاہ جوان ہوا تو وہ بھی بزم عیش سجانے لگا۔اس نے ایک مجلس طرب میں نغمہ ریزی کی تو اس کے اثر سے زمین و آسمان گونج اٹھے ؎
لگے مطریاں گانے یوں ساز سوں
کہ دھرتی ہلی مست آواز سوں
کے تال سوں یوں لئے خوش ہوتاں
کہ سن کر سماں دیویں نو آسماں
یہ صحیح ہے کہ مطرب کے نغمے کی آواز آسمان تک نہیں پہونچ سکتی ہے لیکن شاعر نے ایسا ذاتی طور پر محسوس کیا جو اس کی داخلیت کا ثبوت ہے۔
اسی طرح غواصیؔ نے ’’سیف الملوک بدیع الجمال‘‘ میں لکھا ہے کہ جب شہزادہ سیف ا لملوک سراندیل میں مست ہوکر گانے لگا تو اس کا اثر فطرت پر بھی پڑا ؎
وہ عاشق سو معشوق کے دھیان سوں
تا ہو اپس میںخوش الحان سوں
جمیا خیال اس دھات گاتا اتھا
جو ہر دکھ کو حال آتا اتھا
پنکھی گم ہوئے تھے وہ الحان سن
بہتا نیر بہتا نہ تتھا مان سن
اس میں غواصیؔ نے بیان کیا ہے کہ سیف ا لملوک کے گانے سن کر درختوں کو حال آنے لگا‘ پرندے گیت سننے میں محو ہو گئے اور بہتا ہوا پانی ٹھہر گیا۔غواصی ؔ کے اس بیان سے اس بات پر اختلاف ہو سکتا ہے کہ بہتا ہوا پانی نہ رکا ہوگا لیکن جدید تحقیق سے یہ تو ثابت ہے کہ پرندوں پر نغموں کا اثر ہوتا ہے۔
میر حسنؔ نے ’’مثنوی سحر البیان ‘‘ میں نغمے کے اثرات فطرت پر دیکھائے ہیں ۔ بدر منیر کی محفل میں عیش بائی نے گانا شروع کیا تو فطرت وجد میں آگئی ؎
نہ انساں کا دل ہی ہوا اس میںبند
ہوئے محو سن کر چرند اور پرند
غرض جو کھڑے تھے کھڑے رہ گئے
اڑے جس جگہ تھے اڑے رہ گئے
جو پیچھے تھے آگے نہ وہ چل سکے
جو بیٹھے سو بیٹھے نہ وہ ہل سکے
لگی دیکھنے آنکھ نرگس اٹھا
گلوں نے دیے کان اودھر لگا
لگے ہلنے آ وجد میں سب درخت
کھرے ہو گئے سر و ہوکر کرخت
درختوں سے گرنے لگے جانور
بنے مثل آئینہ دیوار و در
ہوئیں قمریاں شوق سے نعرہ زن
بھرا اشک سے بلبلوں کے چمن
گئے نہر سے سنگ پائے پگھل
پرے سارے فوّارے اس کے اچھل
عجب راگ کو بھی دیا ہے اثر
کہ ہو جائے پتھر کا پانی جگر
یہ حقیقت ہے کہ گانا سنتے وقت بعض لوگوں پرمحویت کا عالم طاری ہو جاتا ہے ۔عیش بائی کے گانے سے چرند پرند سبھی پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔ کچھ لوگ اچھے شعر پر چونک پڑتے ہیں ۔اسی طرح نرگس بھی چونک پڑی۔ کچھ لوگ گانے کو بغور سنتے ہیں ۔اس محفل میں گُلوں نے بھی نغمے پر کان لگائے۔ کچھ لوگ قوالی سن کر جھومنے لگتے ہیں ۔بدر منیر کی محفل میں درخت وجد کرنے لگے۔کچھ لوگ نغمے سے متاثر ہوکر آبدیدہ ہو جاتے ہیں ۔اس محفل میں بلبل نغمہ سن کر رونے لگیں۔ کچھ لوگ اچھا شعر سن کر یکبارگی اچھل جاتے ہیں۔اس باغ میں عیش بائی کا نغمہ سن کر فوّارے اچھل پڑے۔یہ میر حسنؔ کے ذہن و ادراک کا کمال ہے کہ انہوں نے انسان کی ساری خصوصیات کو اپنے کلام کے ذریعہ فطرت میں منتقل کر دیا ہے۔
چونکہ انسان اور فطرت جدا جدا اکائیاں نہیں ہیںاس لئے ان کا ماننا ہے کہ اگر انسان نغمے سے متاثر ہو سکتا ہے تو فطرت کیوں نہیں ہو سکتی ہے۔بہر حال یہ میر حسن ؔ کا داخلی نقطئہ نظر ہے لیکن اس میں حقائق کا عنصر بھی شامل ہے۔
انسانی نغمے کے اثر کا اعتراف اختر ؔشیرانی نے بھی کیا ہے۔انہوں نے اپنی نظم’’ جوگن ‘‘ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نغمے سے فطرت پر مختلف قسم کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ؎
دیکھو وہ کوئی جوگن جنگل میں گا رہی ہے
موسیقی حزیں کے دریا بہا رہی ہے
سوئی ہوئی فضا کا شانہ ہلا رہی ہے
ہر جنبش زباں سے مردے ِجِلا رہی ہے
بیدار کر رہی ہے مدہوش گھاٹیوں کو
خوابیدہ ساحلوں کی نیندیں اڑا رہی ہے
فرش زمرّدیں پر کچھ پھول سو رہے ہیں
نغمہ کے پر کی جنبش جن کو جگا رہی ہے
جنگل ہمک رہا ہے کلیاں چٹک رہی ہیں
ہر تان میں الٰہی کیا گل کھلا رہی ہے
وادی میں موجزن ہے نغموں کی کیف ریزی
ہر پھول ہر کلی پر مستی سی چھا رہی ہے
جنگل کے جانور کچھ بیٹھے ہیں اس کے آگے
رو رو کے جن کو اپنی بپتا سنا رہی ہے
خونخوار شیر بھی ہیں وحشی غزال بھی ہیں
لیکن وہ سب کے دل پر سکّہ جما رہی ہے
کچھ سانپ جھومتے ہیں رہ رہ کے مست ہو کر
گویا ہر ایک پر میں بجلی سما رہی ہے
اختر ؔشیرانی کی نظم یہ ثابت کر رہی ہے کہ انسانی نغمات کے اثرات پھول ‘ پتّی ‘ پودے ‘ شیر ‘ ہرن ‘سانپ وغیرہ پر بھی طاری ہو جاتے ہیں اور یہ بات سائنس کے نقطہ نظر سے بھی بڑی حدتک ثابت ہے۔
مندرجہ بالا مباحث سے یہ بات واضح ہے کہ شعراء حضرات نے اپنی نگاہ بینا سے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا ہے انہیں ہی اشعار میں پیش کیا ہے جسے محققین حضرات نے اپنی تحقیق کے ذریعہ بہت حد تک صحیح ثابت بھی کیا ہے ۔اس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فطرت کو سمجھنے میں و انسانی زندگی کی ترقّی اور بقا میں جہاں سائنس کی نئی نئی تحقیقات نے کمال دکھائے ہیں وہیں شعرو ادب کی بھی کتنی اہم حصّہ داری ہے۔
۔۔۔ ڈاکٹر صبیحہ ناہید
email-snaheed3@gmail.com
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

