عہد ساز شخصیت: سرسید احمد خاں- اقبال حسین، دہلی
پنددرہویں صدی میں نشاۃ ثانیہ نے یورپ میں صنعت و حرفت،فلسفہ و الٰہیات، سیاسیات و سماجیات،سا ئنس اور ٹکنالوجی، آئین اور قانون کے میدان میں ایسا عظیم انقلاب برپا کیا کہ معاصر اسلامی دنیاجواب تو کیا دیتی اسے سمجھنے سے بھی قاصر تھی۔ اٹھارہویں صدی سے پسپائی شروع ہوئی اور انیسویں صدی کے آخری عشرے تک پورا اسلامی ایشیا اور افریقہ مغربی استعمار کے سمندر میں غرق آب تھا۔ اس مسئلے کے علاج کی غرض سے کئی احیائی تحریکوں نے جنم لیا جن کے نزدیک سارا مسئلہ قرون اولیٰ کے اسلام سے انحراف کا نتیجہ تھااور تاریخ کے پہیے کو الٹی سمت میں موڑنا علاج تجویز کی گئی۔واپسی تاریخ کی روایت کے شایان شان نہیں ہے۔احیاء پسندوں کے پاس نیا کچھ بھی نہیں تھا، حقیقی منزل قدیم اخلاقی روح کے بر خلاف قدیم روایت کا احیاء تھی۔ایسے میں گرہ بھنور کی کھلے تو کیونکر بھنور ہے تقدیر کا بہانہ۔ مغربی استعماریت اور استحصالیت میں پستی امت مسلمہ کی نجات دہندہ بھیجنے کی دعاؤں کے بارآورہونے کا وقت آیا تو 17 اکتوبر 1817 میں ایک اعلیٰ ترین ذہین شخصیت نے جنم لیا جسے تاریخ سید احمد خاں کے نام سے جانتی ہے۔
انگریزوں نے 1857 کی جنگ آزادی کے ناکام ہوتے ہی صہبائی اور مولوی باقر جیسے با حوصلہ مسلم علماء و دانشوران کی کثیر تعداد کو انتقاماً قتل کروا دیا تھا، بہتوں کو قید و بند میں ڈال دیا تھا اور بہتوں کو تو ملک بدربھی کردیاتھا۔ غالب جیسا دانشور شاعرگوشہ نشیں ہو کر’دستنبو‘ تحریر کرنے لگا تھا۔ سر سید نے اس پرآشوب دور میں انگریزوں سے ٹکر لینے کی بجائے مصالحت میں ہی قوم کی بھلائی سمجھا اوررسالہ’اسباب بغاوت ہند‘ تحریر کر نے کی ہمت کرکے مسلمانوں کے تئیں پہلی بار انگریزوں کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنے پر مائل کیا۔ دریں اثناء اسی مرد در ویش نے ہندوستانی مسلمانوں کو پسپائی کے صدمے سے نکلنے کے لئے ایک حاذق حکیم کی طرح جدید تعلیم کے کڑوے گھونٹ کو نگلنے کی تحریک بھی دلایا یہ نسخہ آگے چل کر ان کے لئے سود مند اور بار آور ثابت ہوا۔
جدید تعلیم کے محرک اور جدید نثر کے موجدکی حیات اور کارناموں سے متعلق اب تک بیسیوں زبانوں میں ہزارہا کتب اور مضامین صفحہئ قرطاس کی زینت بن چکے ہیں۔ حالی، شبلی اور سید عبداللٰہ سے لیکرڈیوڈلیلی ویلڈ، مشیرالحسن اور راما چندرا گوہا جیسے معروف دانشوران اور مؤرخین نے اس شخصیت کے ذکرخیر سے اپنے قلم کی تخلیقی صلاحیت کوجلا بخشا ہے۔ 2017 میں سید احمد خاں کی ولادت کی دوسری صدسالہ سال گرہ کے موقع سے دنیا بھر میں سیکڑوں مضامین اور کئی کتابیں شائع ہوئیں۔اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے معروف محقق و ناقد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے صدر شعبۂ اردو پروفیسر شہزاد انجم نے ’عہد ساز شخصیت: سرسید احمد خاں‘ نامی کتاب کی ترتیب و تزئین کے کام کو مکمل کیا ہے۔ 784 صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب نومبر2019 میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔
اس کتاب میں سید احمد خاں کی ہمہ جہت شخصیت کے مد نظر 50 نثری مضامین کو سات عنوانات کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ اور 18 منظوم تخلیقات کوایک علیحدہ باب میں جگہ دی گئی ہے۔ مضامین و منظومات کی ترتیب میں منطقی معروضیت کا خیال رکھا گیا ہے۔ مضامین کے انتخاب میں قدیم و جدید دانشوران کے علمی سرمائے سے خوشاچینی کی گئی ہے۔الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی،اسماعیل پانی پتی،جواہر لعل نہرو،سید عبداللٰہ،غلام رسول مہر،خلیق انجم، احتشام حسین،محمد مجیب، سید عابد حسین، رشید احمد صدیقی اور خلیق احمد نظامی کے علاوہ بہت سے اہل علم کے علمی و تحقیقی مضامین شامل کتاب ہیں۔ منظوم حصے میں محمد اقبال،الطاف حسین حالی، اسرارالحق مجاز،اکبرالٰہ آبادی، ظفر علی خاں، وحیدالدین سلیم، اور دوسرے صاحب فن شعراء کی تخلیقات کوکتاب کی زینت بنایاگیا ہے۔ کتاب پر علمی و تحقیقی نوعیت کا ایک بہت ہی وقیع اور تفصیلی مقدمہ تحریر کیا گیا ہے، جس میں سید احمد خاں کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ان کے کارناموں جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ سید احمد خاں پراب تک اردو میں شائع ہوئے ہزاروں مضامین میں سے شامل کتاب ان 50 مضامین کے انتخاب کے عمل اوران کی منطقی اور معروضی ترتیب سے متعلق خاطر خواہ وضاحت بھی مقدمہ میں موجود ہے۔کتاب میں شامل زیادہ تر مضامین پرقابل لحاظ حد تک علمی مباحثہ پیش کرتے ہوئے مزید مباحث کی گنجائش کا خیال بھی رکھا ہے۔ مؤلف کتاب اس کی ترتیب و تزئین اور اشاعت کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:”اس کتاب کے ذریعہ میری کوشش یہ ہے کہ سر سید کی زندگی کے گوناگوں پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے اور نئی نسل کو ان کی خدمات سے واقف بھی کرایا جائے۔۔۔اسی جذبے کے تحت اس کتاب کی ترتیب اور اشاعت کا بیڑا میں نے اٹھایا ہے“۔
سید احمد خاں نہ صرف ہندوستانیوں کے رویے اور طرز احساس میں انقلابی تبدیلی کے باعث بنے بلکہ وہ ان میں سائنسی، معروضی اور منطقی طرز فکرکے فروغ کے محرک بھی بنے۔ ان کی تحریک نے شعراء اور نثر نگاروں کی ایک کثیر تعداد کو متأثرکیا اور عقلیت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں ان کے تعاون کو سراہا۔لہٰذا اردو میں اپنی نوعیت کی اس منفرد کتاب کا مطالعہ سر سید کی شخصیت اور کارناموں سے روشناش ہونے میں بہت حد تک معاون ثابت ہوگا۔

