{ تعلیمی جد و جہد پر لکھی گئی دنیا کی ایک نایاب تحریر جو امریکی ماہر تعلیم بوکر۔ ٹی۔ واشنگٹن(1856-1915) کی خودنوشتUp From Slavery(1901) سے ماخوذ ہے ۔
یہ ان کی خود نوشت کے صرف بابِ سومThe struggle for an Education کا ترجمہ ہے }
ایک دن کی بات ہے جب میں کوئلے کے کان میں مزدور تھا۔میرے کان میں دو مزدوروں کی سر گوشی کی آواز آئی ۔وہ دونوں سیاہ فامیوں کے کسی عظیم الشان اسکول کے بارے میں گپ شپ کر رہے تھے جواسکول ورجینیا میں کہیں واقع تھا۔یہ پہلا واقعہ تھا جب میں نے کسی ایسے اسکول یا کالج کے تعلق سے کچھ سنا جو مجھے میرے اپنے شہر کے چھوٹے سیاہ فامی اسکول سے زیادہ عزیزاور اہم معلوم ہو ا۔
کوئلہ کان میں اندھیرا تھا۔میں چپکے چپکے رینگتے ہوئے ان دونوں کے بالکل قریب چلا گیا۔ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا کہ اس اسکول کا قیام نہ صرف میری نسل کے طلبا کے لیے ہوا ہے بلکہ غریب اور مستحق طلبا کو مواقع فراہم کر نابھی اس کے منشور میں داخل ہے۔جہاںانہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ صنعت و تجارت سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے۔
میں ان کی گفتگو سنتا رہا ۔جس سے میرے ذہن میں یہ تاثر قائم ہواکہ ضرور وہ جگہ زمین پربڑی مقدس ہوگی۔اس وقت مجھے ورجینیا کے’ہمپٹن نارمل اینڈ اگریکلچرل انسٹی ٹیوٹ ‘کے مقابلے جنت کی رعنائیاں بھی پھیکی نظر آنے لگی تھیں۔اس وقت مجھے اسکول کا پتہ معلوم تھا نہ اس کی مسافت۔اور نہ یہ کہ میں وہاں تک کیوں کر پہنچ سکتا ہوں ۔مگر میں نے اسی دم اپنے دل میں ٹھان لیا کہ مجھے اس اسکول میںداخلہ لینا ہے ۔ بس اتنا یاد ہے کہ ان ایام میں مجھے دن رات ایک ہی فکرلاحق تھی کہ بس کسی طرح ہمپٹن پہنچ جاؤں۔
ہمپٹن انسٹی ٹیوٹ کے بارے میں سننے کے بعد میں اگلے چند مہینے تک کوئلے کے کان کا مزدور رہا۔ ایک دن وہیں مزدوری کے دوران مجھے پتہ چلا کہ کوئلہ کان اور نمک بھٹّی کے مالک جینرل لیوس روفنر کے گھر ایک نوکر کی جگہ خالی ہے ۔جینرل روفنر کی بیگم ورمنٹ کی رہنے والی ایک امریکی عورت تھی۔اورنوکروں کے ساتھ سخت برتاؤ کے لیے پورے محلے میں بدنام تھیں۔بالخصوص لڑکوں کے ساتھ تو ان کا چھتیس کا آنکڑا تھا۔
کچھ لڑکے تو اس کے گھر دو تین ہفتے سے زیادہ بھی کام کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کر چکے تھے ۔ہاں ،مگر ان سب کو اس کے تیز و تند روییّ کی شکایت تھی۔میں نے سوچا کہ کوئلہ کان کی مزدوری سے بہتر ہے کہ روفنر صاحب کی بیگم کا نوکر بن جاؤں ۔خالی جگہ کے لیے میری ماں نے عرضی ڈال دی اور پھر پانچ ڈالر ماہانہ کی تنخواہ پر میں ان کے گھر کا نوکر قرار پایا۔
میں نے روفنر صاحبہ کی ترشی کا اتنا چرچا سنا تھا کہ مجھے ان سے نظر ملانے میں بھی خوف محسوس ہوتا تھا ۔اور ان کے سامنے حاضر ہوتے ہی کانپ اٹھتا تھا۔
ان کی شخصیت کو سمجھنے میں کچھ زیادہ ہفتے نہیں لگے۔میں نے بہت جلد ان کی اصل طبیعت کا اندازہ لگا لیا۔وہ اپنے تعلق سے سب کچھ صاف ستھرا چاہتی تھیں۔وہ چاہتی تھیں کہ ہر کام جلد از جلد اور اصول بند طریقے سے پورا ہو جائے۔وہ ہر چیز میں مکمل ایمان داری اور بے تکلفی تلاش کرتی تھیں ۔کسی بھی کام میں لاپروائی اور بے ترتیبی انہیں قطعا ـبرداشت نہ تھی۔وہ چاہتی تھی کہ گھردروازےکاکونہ کونہ صافستھرارہے۔
مجھے یاد نہیں کہ میں ہمپٹن جانے سے پہلے کتنے دنوں تک روفنر صاحبہ کے یہاں خادم کی حیثیت سے رہا ۔تاہم اتنا ضرور یاد ہے کہ وہ مدت ڈیڑھ سال سے کم کی نہ تھی۔
یہ بات میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ روفنر صاحبہ کے گھر میں نے جو کچھ سیکھا اس کی اہمیت میری نگاہ میں کسی تعلیم سے بالکل کم نہیں ۔
اسی کا نتیجہ ہے کہ آج بھی جب میں کسی گھر کے آس پاس یا گلی میں بکھرے ہوے کاغذات کے ٹکڑے دیکھتا ہوں تو دفعتا اسے اٹھا لینے کو دل چاہتا ہے ۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی صحن میں گندگی دیکھوں اور صفائی کی چاہت پیدا نہ ہو ۔کسی دیوار کو مائل بہ انہدام دیکھوں اور سہارا نہ دوں ۔کسی گھر کی پرانی دیوار دیکھوں اور ملمع سازی کی تڑپ نہ پیدا ہو ۔کسی کے کپڑے کا ٹوٹتا ہوا بٹن یا کسی کے دامن یا فرش پر بد نما دھبہ دیکھوں اور اس کی طرف توجہ نہ دلاؤں ۔
روفنر صاحبہ کے خوف نے کچھ ہی دنوں میں مجھے بہت کچھ سکھا دیا ۔اور میں اپنے کسی عزیز دوست کی طرح ان کا خیال رکھنے لگا ۔پھر انہوں نے مجھ پر شک کرنا چھوڑ دیا اور میرے تعلق سے مطمئن ہو گئیں ۔
ان کے یہاں ملازمت کے دوران دو تین سردیاں گزریں۔سردیوں میں وہ مجھے اسکول جا نے کے لیے ایک گھنٹہ کی مہلت بھی دے دیا کرتی تھیں ۔مگر میری زیادہ پڑھائی رات میں ہوتی تھی ۔کبھی تنہا اور کبھی پیسے کے بدلے پڑھانے والے ٹیچر کی نگرانی میں ۔
روفنر صاحبہ نے ہمیشہ میری ہمت افزائی کی ۔اور میری تعلیمی کوششوں میں ہمدردانہ رویہ اختیار کیا ۔جب میں ان کے گھر تھا تبھی میں نے اپنی پہلی لائبریری بنانا شروع کیا۔سامان کا ایک ڈبہ لیا ،ایک جانب پھاڑ کر اس کے اندر لکڑیوں کے ٹکڑے ڈالے اور پھر جو بھی کتاب ہاتھ لگتی گئی اس ڈبے میں رکھتا گیا ۔کتا بوں کے اسی ڈبے کو اپنی ’’لائبریری ـ‘‘کانامدیا۔
روفنرصاحبہ کی آزمائش میں کامیابی کے باوجود میں نے ہمپٹن انسٹی ٹیوٹ جانے کا ارادہ ترک نہیں کیا ۔
میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مجھے ہمپٹن کا ڈائریکشن معلوم تھا نہ کرایہ۔پھر بھی میں نے ۱۸۷۲کے آخر میں وہاں تک پہنچنے کا پختہ ارادہ بنا لیا ۔میرے اس مہم کے سلسلے میں میری ماں کے علاوہ کسی نے مکمل ہمدردی نہیں جتائی ۔تاہم انہیں بھی بے حد خوف تھا کہ میں ایک بے نتیجہ سفر شروع کرنے جا رہا ہوں ۔انہوں نے آدھے دل سے مجھے روانگی کی اجازت دے دی ۔میرے کمائے ہوئے کچھ پیسے میرے سوتیلے باپ نے اڑادیے اور کچھ پیسہ گھر کے راشن پانی میں کھرچ ہو گیا۔بچے کھچے چند ڈالر سے کپڑے خریدنے تھے اور اسی میں سفر کے لیے بھی بچانا تھا۔
میرے بھائی جون بھی کوئلے کان کی مزدوری میں کچھ زیادہ نہیں کماتے تھے ۔ان کی کمائی کا بیشتر حصہ گھر کی ضرورتوں میں صر ف ہو جاتا تھا۔تاہم انہوں نے اپنی حیثیت کے مطابق میری بھر پور مدد کی ۔مگر اتنے کم پیسوں سے میرا کیا ہونے والا تھا۔
ہمپٹن روانگی کے اس منصوبہ میں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ مسرت بخشی وہ میری نسل کے عمر رسیدہ لوگوں کی دلچسپی تھی جو انہوں نے میرے تئیں ظاہر کی ۔
ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ غلامی میں گزرا تھا ۔شاید کبھی انہوں نے یہ بھی امید رکھی ہو کہ وہ اپنے جیتے جی کسی سیاہ فامی لڑکے کو بورڈنگ اسکول کے لیے روانہ ہوتے دیکھیں گے ۔
(وقت رخصت ) ان بزرگوں میں سے کسی نے پانچ پیسے دیے تو کسی نے چار آنے ۔ اور کسی نے رومال۔
آخر کار وہ اہم دن آہی گیا جب میں نے ہمپٹن کا سفر شروع کیا ۔میرے پاس ایک معمولی سا تھیلہ تھا جس میں میرے کچھ کپڑے تھے۔میری ماں اس وقت نہایت نحیف و ناتواں ہو چکی تھیں ۔اس طرح میری روانگی کا لمحہ نہایت غمگین تھا۔تاہم ان معاملات میں انہوں نے اعلا ہمتی اور بلند حوصلے کا مظاہرہ کیا۔اس زمانے میں مشرقی اور مغربی ورجینیا کے بیچ ٹرینیں نہیں چلتی تھیں ۔ریل گاڑی کی سہولت کچھ ہی مسافت تک تھی۔باقی کا سفر منزل رساں گاڑیوں (stage-coaches)سے طے کرنا ہوتا تھا ۔
مالڈین سے ہمپٹن کی دوری لگ بھگ پانچ سو میل ہے ۔ابھی گھر سے نکلے کچھ زیادہ گھنٹے نہیں گزرے تھے کہ مجھے درد انگیز مفلسی کا احسا س ہونے لگا۔کیونکہ میرے پاس ہمپٹن تک کا کرایہ نہیں تھا ۔اس دوران ایک ایسابھی تجربہ ہوا جو مجھے بہت دنوں تک یاد رہے گا ۔میں ایک پرانی اور فرسودہ منزل رساں گاڑی پر سوار تھا۔دوپہر کے بعد گاڑی ورجینیا کی پہاڑیوں پر چلتی رہی۔دیر شام شب گزاری کے لیے گاڑی ایک پرانے ہوٹل کے قریب ٹھہری۔مسافرین میں میں ہی ایک تن ِتنہا سیاہ فام تھا باقی سب گورے تھے ۔میں اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ وہ ہوٹل منزل رساں گاڑی کے مسافرین کی سہولت کے لیے بنا یا گیا ہے۔میں نے اس تعلق سے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کسی کے جلد کی رنگت کیا معنی رکھتی ہے ۔اس ہوٹل میں میرے سوا سب کو ان کا کمرہ دکھا دیا گیا ۔اب وہ لوگ کھا نے کے لیے ریڈی ہو رہے تھے ۔میں لجا تے شرماتے ڈیسک پر بیٹھے شخص کے پاس گیا ۔یہ حقیقت ہے کہ میری جیب میں ایک کوڑی بھی نہ تھی جس سے میں کھانا اور کمرے کا معا وضہ پیش کرتا ۔لیکن ورجینیا کی پہاڑی پر اس سرد رات اور کھلی فضا میں میں کہاں رات گزارتا ؟اس لیے میں نے سوچ لیا تھا کہ مکان مالک سے کسی طرح منت و سماجت کرکے اندر ہی ٹھہرنے کی اجا زت لے لوں گا۔
یہ جانے بغیر کہ میرے پاس پیسے ہیں یا نہیں ،ڈیسک پر بیٹھے آدمی نے نہایت سختی سے مجھے کھانا اور کمرہ دینے سے انکار کر دیا ۔یہ میری زندگی کا پہلا واقعہ تھا جب مجھے اپنے سیاہ فام ہونے کا احساس ہوا ۔ خود کو گرم رکھنے کے لیے میں نے چہل قدمی کرتے ہوئے رات گزاری ۔میں ہمپٹن جانے کی چاہت میں اتنا مست تھا کہ مجھے اس ہوٹل چوکیدار کی بد اخلاقی کا ذرا بھی رنج نہیں ہو ا۔
کبھی پیدل، کبھی چھکروں اور کا روں میں لفٹ مانگتے ہوئے کچھ دنوں میں میں رچمنڈشہر (Richmond) تک پہنچ گیا جو ورجینیا میں واقع ہے اور وہاں سے ہمپٹن تقریبا بیاسی میل دور ہے ۔
جب میں دھول میں لت پت ، بھوکا پیاساوہاں پہنچا تب تک رات ہو چکی تھی ۔اس سے قبل میں نے کبھی کسی بڑے شہر کا منھ نہیں دیکھا تھا ۔اس بھولے پن نے میری پریشانی اور بڑھا دی ۔
رچمنڈ پہنچتے پہنچتے میں پورا کنگال ہو چکا تھا ۔شہر میں بالکل ان جان تھا اور راستوں کا بھی کچھ علم نہیں تھا ۔متعدد جگہوں پر میں نے رہائش کی درخواست کی مگر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہر جگہ مایوسی کا منھ دیکھنا پڑا۔اس سے بہتر کوشش کا کوئی اور طریقہ مجھے معلوم نہیں تھا اس لیے میں نے گلیوں میں ٹہلنا شروع کردیا۔اس درمیان میرا گزر کئی ہوٹلوں کے پاس سے ہوا جہاں مرغ مسلم اور سیب کے سموسوں کا انبار دیکھ کر میرے منھ میں پانی آ گیا ۔اس وقت مجھے لگا کہ مستقبل میں حاصل ہونے والی تمام دولت ان کے حوالے کر دینے کا وعدہ کر کے مرغے کی ایک ران یا ایک سموسہ لے لینا چاہیے ۔لیکن نہ مجھے ران ملی نہ کوئی اور چیز ۔
اسی مٹر گشتی میں آدھی رات سے زیادہ کا وقت گزر گیا ۔اس وقت میں اتنا تھک چکا تھا کہ میرے لیے ایک قدم بھی چلنا دشوار ہو رہا تھا ۔میں تھکا ماندہ تھا ،میں بھوکا تھا ، میں سب کچھ تھا مگر دل برداشتہ نہیں تھا ۔جب میںحد سے زیادہ تھک گیا تو گلی کے ایک کنا رے پگڈنڈی کے اٹھان پر جاکر کھڑا ہو گیا ۔چند منٹ میں میں نے اندازہ لگا لیا کہ وہاں مجھ پر کسی راہ گیر کی نگاہ نہیں پڑے گی ۔پھر میں اپنے کپڑے کے تھیلے کو سر کے نیچے دباکر وہیں زمین پر لیٹ گیا۔تقریبا ساری رات میرے سراہنے کے پاس چلنے والوں کے قدموں کی کھٹ پٹ سنائی دیتی رہی ۔
صبح مجھے ہلکی سی تازگی محسوس ہوئی مگر اس وقت تک میرے پیٹ میں بھوک سے چوہے کود رہے تھے ۔میں نے کئی دن سے پیٹ بھر کے نہیں کھا یا تھا ۔صبح اٹھ کر جب میں نے آس پاس کا معائنہ کیا تو مجھ پر آشکارا ہو اکہ میں ایک بندرگاہ کے قریب ہوں ۔وہاں ایک بڑا سا جہاز کھڑا تھا ۔جسے دیکھ کر اندازہ ہو اکہ اس میں لدا ہوا کچا لوہا خالی کرنا ہے۔میں اسی وقت جہاز کے کپتان کے پاس گیا اور درخواست کی کہ وہ مجھے جہاز کا مال اتارنے میں مزدوری کی اجازت دیں تاکہ میں کچھ پیسے کما سکوں اور اپنی بھوک مٹا سکوں ۔
کپتان گورے نسل کا تھا مگر رحم دل تھا۔اس نے میری درخواست قبول کر لی ۔میں نے خوب محنت کی تاکہ ناشتے کے لیے کچھ پیسے حاصل کر سکوں ۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ ناشتہ میری زندگی کا سب سے بہترین ناشتہ تھا ۔
میرے کام سے کپتان بہت خوش ہوا اور کہنے لگا کہ اگر میں چاہوں تو کام جاری رکھوں جس کے بدلے وہ مجھے ہر روز کچھ پیسے دے دیا کرے گا ۔میری خوشی بھی اسی میں تھی ۔میں کچھ روز تک اسی جہاز میں مزدوری کرتا رہا۔اس معمولی سی اجرت سے میں اپنا پیٹ بھرتا یا ہمپٹن کا کرایہ جمع کرتا ۔میں پیسے بچانے کی ہر ممکن تدبیر سے گزرنا چاہتا تھا ۔اس لیے ان دنوں میں اسی پگڈنڈی میں سوتا رہاجہاں میری پہلی شب گزری تھی ۔
برسوں بعد رچمنڈ کے سیاہ فامیوں نے نہایت خلوص کے ساتھ وہاں ایک مسافر خانہ تعمیر کروائی۔اس تقریب میں دو ہزار لوگوں نے شرکت کی ہوگی۔یہ مسافر خانہ اس پگڈنڈی سے دور تھا۔مجھے اس بات کے اعتراف میں کوئی تامل نہیں کہ پہلی شب میں پناہ دینے والی اس پگڈنڈی سے مجھے جتنی انسیت ہے اتنی اس مردم دوست مسافر خانہ سے نہیں ۔
جب میرے پاس ہمپٹن تک کا کرایہ جمع ہو گیا تب میں نے جہاز کے کپتان کی ہمدردی کا شکریہ ادا کیا اور دوبارہ سفر شروع کیا۔
اس بار کسی بڑے حادثہ کا سامنا کیے بغیرمیں ہمپٹن پہنچ گیا۔اور میرے پاس پچاس پیسے بھی بچ گئے۔جس سے میں اپنی تعلیم کا آغاز کر سکتا تھا۔میرا یہ سفرنہایت دراز اور پر ازواقعات تھا۔مگر سہ منزلہ پختہ اسکول کی پہلی جھلک نے ان تمام دشواریوں کو کافور کر دیا جو میں نے اس سفر میں جھیلے تھے ۔
اگر میرے اور ہزاروں طلبا کے دلی جذبات کا گمان ان لوگوں کو ہو جائے جنہوں نے اس اسکول کے قیام میں تعاون کیا تھاتو یقینا ان کا حوصلہ اور دوبالا ہوجا تا اور وہ لوگ اس قسم کے اور دوچار اسکول بنوا دیتے ۔میں نے اس سے زیادہ بڑی اور خوبصورت عمارت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔اس کی زیارت نے مجھے گویا نئی زندگی عطاکر دی تھی۔ایسالگا کہ میرا وجود بدل گیا ہے ۔نہ صرف وجود بلکہ زندگی کا معنی و مطلب بھی بدل چکا ہے ۔وہاں پہنچ کر مجھے جنت کا احساس ہونے لگا تھا ۔میر احوصلہ اس وقت پہاڑ جیسا تھا کیوں کہ میں نے عزمِ مصمم کر لیا تھا کہ دنیا کا سب سے بہتر طالب علم بننے کے لیے میں ہر طرح کی محنت و مشقت برداشت کروں گا۔اور کسی بھی چیز کو اپنے راستے کا پتھر نہیں بننے دوں گا ۔ ہمپٹن انسٹی ٹیوٹ پہنچتے ہی میں صدر المدرسین استانی صاحبہ کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ داخلے کی کار روائی پوری کر سکوں ۔میں نے گزشتہ کئی دن سے نہ پیٹ بھر کر کچھ کھایا پیا تھا ،نہ غسل کیا تھا اور نہ کپڑے بدلے تھے ۔اس لیے اس میں شک نہیں کہ میں ان کے ذہن میں اچھا تاثر مرتب نہیں کر سکا۔اور فورا میں نے محسوس کر لیا کہ میرے داخلے کو لے کر ان کے من میں کچھ شکوک و شبہات گھوم رہے تھے۔اس وقت اگر وہ مجھے کوئی لفنگا گنوار یا خانہ ندوش بھی تصور کر لیتیں تو میں ان کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا۔
کچھ دیر تک انہوں نے میرا داخلہ لینے سے انکار کیا اور نہ میرے حق میں کوئی فیصلہ کیا ۔میں بھی اپنی متانت و شائستگی کا اظہار کرتا رہا ۔اور ان کو متاثر کرنے کی نیت سے ان کے آس پاس گھومتا رہا۔
اسی اثنامیں میں نے ان کو کچھ دوسرے طلبا کا داخلہ لیتے دیکھا ۔یہ دیکھ کر میرے وجود پر مایوسی کا سیاہ بادل چھا گیا۔ایسا لگا کہ میری آرزؤں کا آبگینہ ٹوٹ کر بکھر گیا ہو ۔اگر مجھے صرف ایک موقع مل جاتا تو میں دکھا دیتا کہ میرے اندر حوصلے کا کتنا بڑا سمندر ابل رہا تھا ۔اور یہ کہ میں ان طلبا سے کسی بھی طرح کم نہیں تھا۔
کچھ گھنٹے گزر جانے کے بعد ہیڈ مدرسہ نے مجھ سے کہا
’’بغل کے بلند خوانی والے کمرے میں صفائی کی ضرورت ہے ۔جھاڑو اٹھاؤ اور صفائی میں لگ جاؤ‘‘
اس حکم سے میری امید کے ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی لو پھر سے تیز ہو گئی ۔اتنی خوش دلی سے میں نے کبھی کوئی فرمان تسلیم نہیں کیا تھا ۔میں جھاڑو پوچھے کا ماہر آدمی تھا کیوں کہ روفنرصاحبہ نے مجھے سب کچھ سکھا رکھا تھا ۔
پہلے میں نے اس کمرے کو تین بار بوہارا ۔پھر پوچھالگانے والے کپڑے سے چار مرتبہ پوچھا لگایا ۔دیواروں کے ارد گرد لکڑیوں کا نقش و نگار ہو یا پھر کرسی ٹیبل اور تپائی، سب پر میں نے چار چار بار پوچھا لگایا۔میں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ ہر فرنیچر کوہٹا ہٹا کر کونہ کونہ صاف کرڈالا ۔میں جانتا تھا کہ میرے مستقبل کا پورا انحصار اسی صفائی سے مرتب ہونے والے نتیجہ پر تھا ۔صفائی سے نپٹنے کے بعد میں نے ہیڈ استانی کو تکمیلِ صفائی کی اطلاع دی ۔وہ بھی ایک امریکن تھیں جن کو خوب معلوم تھا کہ گندگی کہاں تلاش کی جا سکتی ہے ۔وہ اندر گئیں اور فرش کے چپے چپے کا معائنہ کیا ۔جب ان کو تل برابر دھول کا کوئی ذرہ نہیں ملا تو وہ نہایت اطمینان بخش انداز میں یوں گویا ہوئیں
’’میں نے پہلے ہی اندازہ کر لیا تھا کہ تم اس ادارے میں داخلہ لے کر ہی مانوں گے‘‘۔
اس وقت روئے زمین پر سب سے زیادہ خوش میں تھا ۔کمرے کی صفائی ہی میرے کالج کا امتحان ِ داخلہ تھا ۔کبھی کسی لڑکے کو ہارورڈ یونی ور سٹی یا ییل کالج(Yale College)میں بھی داخلے کا امتحان پاس کرکے اتنا لطف نہیں ملا ہوگا جتنا مجھے اس جھاڑو والے امتحان سے ملا تھا ۔
اس کے بعد میں نے درجنوں امتحانات میں کامیابی حاصل کی مگر ہمیشہ میں نے یہی محسوس کیا یہ میری زندگی کا سب سے اہم امتحان تھا۔
٭٭٭
ترجمہ : وسیم احمد علیمی
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی ،7835961294
wasimahmadalimi@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
یہ تحریر مجھے بے حد پسند ہے ۔انگریزی ادب کی میری پڑھی ہوئی تحریروں میں سب سے زیادہ دل کو چھونے والی تحریر۔ طلبہ کے لیے best motivating مواد ہے۔ میرا ترجمہ شائع کرنے کے لیے ‘!دبی میر!ث ‘ کی پوری ٹیم کا صد شکریہ۔