Hallucinatory Realism یعنی موہوم حقیقت نگاری کی بحث آج کل دنیائے ادب میں زوروں پر ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ادب کا نوبل انعام ۲۰۱۲ چین کے جس مشہور ناول نگار کو دیا گیا اس کا جواز موہوم حقیقت نگاری کو ہی بتایا گیا۔ جب میں نے ٹیگور کا مطالعہ شروع کیا جو نوبل انعام سے نوازا جانے والا پہلا ایشیائی تھا تو مجھ پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ در اصل ہندوستان میں حقیقت نگاری اور موہوم حقیقت نگاری دونوں کی اولیت کا سہرا ٹیگور کے سر جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اس طرح کے اور بھی بہت سے رجحانات ، میلانات اور تصور ات کے اولین نقوش ٹیگور کی تخلیقات میں موجود ہیں۔
دنیا کا ذہین تر ین انسان تسلیم کیا جانے والاشخص البرٹ آینسٹائن جس کی ذہانت پر کسی کو شک نہیں ، جب ٹیگور سے ملا تو کس طرح ملا ہوگا ۔ وہ ملاقات کیسی ملاقات رہی ہوگی۔ چودہ جولائی ۱۹۳۰ ء کو برلن کے نزدیک ـ’کاپتھـ‘میں ٹیگور کی ملاقات آئنسٹائن سے آینسٹائن کے گھر پر ہوئی تھی۔ ان دونوں قد آور ہستیوں کے درمیان مکالمے ہوئے اور وہ مکالمے محفوظ بھی کر لیے گئے ۔ ان دونوں حضرات کے مکالموں کے دوران ٹیگور نے کچھ ایسی باتیں کہیں جس سے متن کی اہمیت کے متعلق ٹیگور کے ایمان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس ملاقات کے موقع پر آئنسٹائن نے ٹیگور کا انٹرویو کیا تھا۔ اس انٹرویو کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس وقت تک ٹیگور کو نوبل انعام مل چکا تھااور انعام ملے ہوئے سترہ سال ہو گئے تھے ۔ ان کی شخصیت بحیثیت ایک بڑے ادیب اور مفکر کے تسلیم کی جا چکی تھی اور یہ پہلا موقع تھا کہ کسی غیر یوروپی قلم کار کو اتنے بڑے اعزاز سے نوازے جانے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ایسے میں ٹیگور کی حیثیت ایشیا کے تہذیبی وثقافتی علامت کے طور پر سمجھی جا رہی تھی۔ جرمنی جیسے ملک میں جہاں کی مٹی ادیبوں کے لیے ہمیشہ زرخیز رہی ہے وہاں ان کا والہانہ استقبال ہونا فطری تھا۔جب آئنسٹائن نے ٹیگور سے یہ کہا ’’ کیا گانوں کے الفاظ بھی آزاد ہوتے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ کیا گانے والے کو یہ آزادی ہے کہ گاتے وقت اس میں تحریف کر دے۔‘‘
تو اس سوال کے جواب میں ٹیگور نے کہا تھا کہ بالکل، ہمارے یہاں بنگال میں اس طرح کے کیرتن ہوتے ہیں جن میں گانے والے کو یہ آزادی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخاطب کو مدِ نظر رکھ کر گاتے وقت ، اپنے جذبات کی آمیزش بھی اصل گانے میں کرتا ہے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔دوسرا سوال آئنسٹائن کا یہ تھا کہ کیا گانے بغیر الفاظ کے بھی وجود میں آ سکتے ہیں تو اس کے جواب میں ٹیگور نے کہا تھا کہ ہاںآ سکتے ہیں۔ ہمارے یہاں ایسے گانے ہیں جن کے الفاظ بے معنی ہوتے ہیں ، مصوتے آلہ ترسیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شمالی ہند میں موسیقی ایک آزاد آرٹ ہے، الفاظ اور خیالات کی ترجمانی نہیں جیسا کہ بنگال میں ہے۔
(یہ بھی پڑھیں عبدالصمد کی افسانہ نگاری-ڈاکٹر انوارالحق)
مطلب واضح ہے کہ ٹیگور متن کو مقید نہیں دیکھ سکتے ، کیا ضرور ہے کہ گانوں کو ویسے ہی گایا جائے جیسا کہ وہ اصل میں ہیں، اور دوسری بات یہ کہ جو شاعر کا پیغام ہے وہی پیغام قاری ہو بہ ہو قبول کرے یہ ضروری نہیں۔
گویا ٹیگور اس بات کے قائل نہیں کہ متن کے ذریعہ الفاظ یا خیالات کی ترسیل ہی مقصود ہوا کرے۔ موسیقی خود بھی انسان کی دلجوئی کرتی ہے ، اس میں معنی پوشیدہ ہوں یا نہیں اس سے فرق نہیں پڑتا ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک زبان کا جاننے والا جب دوسری زبان کے گانے سنتا ہے تب بھی وہ محظوظ ہوتا ہے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں سمجھ پاتا۔یعنی متن محض آلہ ترسیل نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ اور بھی ہے۔ یہ معاملہ محض موسیقی تک ہی محدود نہیں بلکہ اشعاراور نثر میں بھی ہے۔
بہت سارے تصورات کے باضابطہ ابتدا کے کئی سال پہلے ہی ٹیگور کے یہاں اس کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔
آئنسٹائن اور ٹیگور کا یہ مکالمہ ملاحظہ کریں
EINSTEIN: The same uncertainty will always be there about everything fundamental in our experience, in our reaction to art, whether in Europe or in Asia. Even the red flower I see before me on your table may not be the same to you and me.
TAGORE: And yet there is always going on the process of reconciliation between them, the individual taste conforming to the universal standard.
ترجمہ:
آئنسٹائن: یوروپ ہو یا ایشیاآرٹ کے معاملے میں وہی غیر یقینی صورتِ حال رہیگی ہمارے تجربوں میں، اور آرٹ کے تئیں ہمارے ردِّ عمل میں۔ یہاں تک کہ ایک لال گلاب جو میں اپنے سامنے آپ کی میز پر دیکھ رہا ہوں وہ میرے اور آپ کے لیے کوئی ضروری نہیں کہ ایک ہی مطلب کا حامل ہو۔
ٹیگور: اور ان دونوں کے درمیان مفاہمت کا مرحلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔انفرادی ذائقہ عالمی معیار کے مساوی ہوتا ہے۔ـ‘‘
آئنسٹائن کا سوال جس میں لال گلاب کا مطلب ایک ہندوستانی اور ایک جرمن کے لیے الگ الگ ہونے سے مراد صاف ہے اور وہ یہ کہ متن سے معنی اخذ کرنے کی ذمہ داری تخلیق کار کی نہیں بلکہ ریسیور کی ہے یعنی پڑھنے والا، یا سننے والا یا دیکھنے والا یا محسوس کرنے والا جو چاہے وہ سمجھ سکتا ہے ۔ اس سے یہ تو صاف ہو ہی جاتا ہے کہ جب تخلیق کار تخلیق کر چکا تو اس کے بعد متن سے معنی اخذ کرنے میں اس کا عمل دخل نہیں۔ موہوم حقیقت نگاری میں حقیقت ہوتی تو ضرور ہے مگر وہ حقیقی دنیا کی حقیقت نہیں خواب کی دنیا کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ ایسے میں متن میں ابہام کا عنصر متن کو بغیر کسی چوں چرا کے ہو بہ ہوقاری تک پیغام برداری نہیں کرنے دیتا۔
ممکن ہے کہ تھوڑی سی دھند باقی رہ جائے اور یہ صاف نہیں ہو پائے کہ ٹیگور کس کی اہمیت کو زیادہ تسلیم کرتے ہیں، متن کی، قاری کی یا تخلیق کار کی تو اس کے متعلق خود گیتانجلی میں ایسی نظمیں ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ٹیگور سماج میں ایسی آزادی کے قائل تھے جس میں جینے کی آزادی ، اپنی بات سلیقے سے رکھنے کی آزادی اور خود کو ثابت کرنے کے لیے جرح کرنے کی آزادی ہو، سماج کے ساتھ ساتھ ادب میں بھی وہ اسی آزاد ذہن کے خواہاں تھے۔وہ ادب کو کسی بھی طرح کے قید و بند سے آزاد رہنے دینے کے خواہش مند تھے۔گیتانجلی کے یہ اشعار اسی طرف اشارہ کرتے ہیں:
Where the mind is without fear
and the head is held high;
Where knowledge is free;
Where the world has not been
broken up into fragments
by narrow domestic walls; …
Where the clear stream of reason
has not lost its way into the
dreary desert sand of dead habit; …
Into that heaven of freedom,
my Father, let my country awake.
لکیر کے فقیر بنے رہنا اور روایت کی پیروی کی غرض سے اپنے خیالات کا گلا گھونٹ دینا ٹیگور کو کبھی گوارا نہیں تھا۔ وہ اپنے ملک کو جگانا چاہتے ہیں، وہ سماج کو کسی بھی طرح کے خانے میں بٹتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے ، سماج ہی کی طرح انہیں ادب میں بھی کسی طرح کی درجہ بندی پسند نہیں۔
یوں تو ایشیائی ادب میں حقیقت نگاری کی ابتدا ٹیگور سے قریب سوسال پہلے دستو وسکی نے کر دی تھی ، مگرایشیائی ادب میں حقیقت نگاری کی بہترین مثالیںجو ٹیگور کے یہاں ملتی ہیں وہ کہیں اور نہیں، صرف حقیقت نگاری ہی نہیں ساختیات کی بھی اولین مثالیں ٹیگور کے یہاں ہی ملتی ہیں، موہوم حقیقت نگاری کی ایشائی ادب میں اولیت کا سہرا بھی ان ہی کے سر جاتا ہے۔ یہاں تک کے سو سال کی جدّ و جہد کے بعد ہم نے آج جو پیمانے ادب کے طے کیے ہیں وہ خوبیاں ان کی اس زمانے کی تخلیقات میں ، خاص کر فکشن میں محسوس کی جا سکتی ہیں۔ مگر یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ ٹیگور کو نوبل انعام سے نوازے جانے کے سو سال بعد بھی ان کی تمام تخلیقات کا اردو میں ترجمہ موجود نہیں جبکہ ہمارے پڑوسی ملک چین میں ٹیگور کی تقریباََ تمام تر تخلیقات کا ترجمہ چینی زبان میں ہو چکا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے شعری مجموعہ کریسنٹ مون کے نام پر چینی زبان کا مشہہور ادبی رسالہ کریسنٹ مون جاری کیا گیا جو بے حد مقبول ہوا۔
Sampson C. Shen نے اپنے ایک مضمون میںلکھا ہے کہ ٹیگور ایک بار چین کی دعوت پر چین میں ایک لکچر کے لیے تشریف لے گئے اور اس کا اتنا اثر ہوا کہ چینی زبان میں تقریباََ ان کی تمام تخلیقات کا ترجمہ ہو چکا ہے ملا حظہ کیجیے ان کے مضمون کا یہ حصہ:
But his visit was not in vain. He made a deep impression upon the Chinese mind. He loved China and was loved by the Chinese. Since then, almost all of his works in English have been translated into Chinese, one after another. He came to China just when the latter was beginning her Renaissance and his visit certainly gave a great impetus to this new movement. His poems of "Stray Birds” and "The Crescent Moon” have created new styles of prosody in the new Chinese poetry. A Crescent Moon Society (for poetry) and a Crescent Moon magazine were started immediately after this event by the late Mr. Hsu Chih-mo and Dr. Hu Shih. Dr. Hu was later hailed by some Americans as the counterpart of Rabindranath in China.
ٹیگور کے لیے دیوان گی کی ہوا صرف چین ہی نہیںبلکہ پوری دنیا میں چل پڑی تھی ۔ دنیائے عرب میں ٹیگور طاغور کے نام سے مشہور ہوا ، آئیے ٹیگور کے فکشن کا رخ کرتے ہیں۔
ٹیگور کے فکشن کے موضوعات بھی انقلابی ہیں، انہوں نے اپنی کہانی’ جہیز ‘ میں نروپما کی موت کی درد ناک کہانی جب سنائی تو کسی کو یہ لگا کہ یہ سماج سدھار کی دوا پلائی جا رہی ہے اس میں ایسا کیا ہے کہ اس کو اچھی کہانی کے درجہ میں رکھا جائے۔اس میں مزدوروں کے لیے آواز نہیں اٹھائی گئی تھی اس لیے یہ ترقی پسندی کے دائرے میں نہیں آتا، اور چونکہ جب اس میں ڈاکٹر کہا گیا تو ڈاکٹر ہی مراد لیا گیا اور جب نروپما کی موت کی بات کی گئی تو محض اس کی موت ہی مراد لی گئی اس میں کوئی علامت نہیں تھی پھر بھی یہ ایک با اثر کہانی ہے ظاہر ہے یہ علامتی کہانی نہیں ۔تو پھر یہ کس طرح کی کہانی ہے۔ یہ نری حقیقت نگاری کے سوا اور کچھ نہیں ۔اور اس طرح کی کہانی جس کی جڑیں اس تہذیب میں پیوست ہیں جس کو ہم ہندوستانی تہذیب کہتے ہیں۔ اس کہانی کو ہندوستان کی تہذیبی فضا سے نکال کر اگر آپ اس کی قرأت یوروپ میں کریں تو یہ کہانی کوئی زیادہ معنی خیز نہیں ہوگی مطلب صاف ہے کہ اس کہانی میں معنی کی گہرائی اس کی سماجی ساخت کی وجہ کر ہی پیدا ہوتی ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ تخلیقات کا تعلق تہذیب اور اس پس منظر سے ہوتا ہے جس میں تخلیق کار سانس لے رہا ہوتا ہے۔
حقیقت نگاری کی ابتدا اگر ہم دیکھیں تو دوسری تحریکات کی طرح اس کی بھی شروعات مغرب سے ہوئی ۔ ادب میں حقیقت نگاری کی ابتدا کی مثالیں انیسویں صدی کے اواخر میں اور بیسویں صدی کے اوائل میں ملتی ہیں۔ ٹیگور کا زمانہ بھی کم و بیش وہی زمانہ رہا ہے۔ انگریزی میں حقیقت نگاری کے تجربہ کا سہرا ویلیم ڈین ہویلس William Dean Howells کے سر جاتا ہے۔ اس کے مقبول ترین ناول The Rise of Silas Lapham سے حقیقت نگاری کی روایت انگریزی میں اور امریکہ میں مقبول ہونی شروع ہو گئی۔ اتفاق سے ٹیگور کا زمانہ بھی وہی تھا تو اب یہ بات کہی جانی ممکن ہے کہ ٹیگور نے حقیقت نگاری کا آیڈیا مغرب سے مستعار لیا ہو گاجب کہ ایسا قطعی نہیں تھا۔ ٹیگور کے تخیل کی اڑان کو خانوں میں بالکل نہیں بانٹا جا سکتا ہے۔ ان کی سوچ آفاقی تھی۔ ہیومنزم کا فلسفہ جب انہوں نے دنیا کو دیا تو بھی وہ ان کے ذہن کی اپج تھی۔ اور چلیے اگر ہم مان بھی لیتے ہیں حقیقت نگاری کو ادب سے متعارف کرانے کا ان کا آئیڈیا مغرب سے مستعار ہے تو ان عناصر کا کیا کریں جن کا ذکر بھی اس زمانے کے ادیبوں نے کبھی نہیں کیا۔ مثلاََ ’موہوم حقیقت نگاری‘ ہی کو لے لیجیے جس کی کوئی مثال ۱۹۷۵ کے پہلے شاید ہی ملتی ہو۔ اور اکیسویں صدی کے اوائل تک آتے آتے ادب کی یہ روایت اتنی مستحکم ہوئی کہ ادب کا نوبل انعام ۲۰۱۲ کی بنیاد اسی موہوم حقیقت نگاری یعنی Halucinatory Realism کو بنایا گیا۔ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ ادب کا نوبل انعام ۲۰۱۲ موہوم حقیقت نگاری کی خصوصیت کی وجہ کر دیا گیا اور ادب کا نوبل انعام ۱۹۱۳ حقیقت نگاری کی وجہ کر آج سے ٹھیک سو سال پہلے ٹیگور کو دیا گیا تھا۔ اور یہ دونوں حضرات ایشیائی ہیں۔ تاریخ تب بھی رقم کی گئی تھی تاریخ اب بھی رقم کی گئی ہے ۔ لیکن ایک اہم بات جس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ یہ کہ موہوم حقیقت نگاری کے بھی اولین نقوش ٹیگور کی کہانیوں میں دیکھے جا سکتے ہیں اور یہ موہوم حقیقت نگاری کی باضابطہ ابتدا سے قریباََ ۵۰ یا ۶۰ سال پہلے کی تخلیقات ہیں۔ Halucinatory Realism کی اصطلاح کا استعمال پہلی دفعہ Clemens Heselhaus نے Annette von Droste-Hülshoff, کی نظموں کی تنقید کرتے وقت کیا تھا۔ مگر اس وقت ترکیب ’موہوم حقیقت نگاری‘ میں پوشیدہ تضاد کے پہلو کی وجہ کر اس کو مسترد کر دیا گیا لیکن بعد میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کےprofessor Elisabeth Krimmer نے von Droste-Hülshoff’s کی موہوم حقیقت نگاری کی ان الفاظ میں تعریف کی ۔ انہوں نے کہا۔
"the transition to the dream world is even more compelling because it is preceded by a detailed description of the natural environment.
, The Oxford Companion to Twentieth Century Art نے پہلی دفعہ موہوم حقیقت نگاری کو Surrialism کی ایک شاخ کے طور پر شامل کر لیا۔
"a careful and precise delineation of detail, yet a realism which does not depict an external reality since the subjects realistically depicted belong to the realm of dream or fantasy.”
ترجمہ: تفصیلات کا محتاط اور جامع بیان ، ایک ایسی حقیقت نگاری ہے جو باہری دنیا کی حقیقت کا بیان نہیں کرتی کیونکہ اس کے موضوعات کا دار ومدار خواب یا تخیل پرہوتاہے۔
ٹیگور کی مشہور کہانی ’جیوتے مرتے‘ زندہ یا مردہ ایک ایسی ہی کہانی ہے جس میںموہوم حقیقت نگاری کی جلوہ گری کو آپ محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ کہانی ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو ایک بڑے گھر کی بہو ہے اور بڑے گھر کی بہو ہونے کی وجہ سے اس پر بہت سی بندشیں ہیں جو شرفا کا طور ہوا کرتا ہے۔ ایک دن وہ مر جاتی ہے اور اس کو مردہ سمجھ کر گھر کا مالک اس کو اپنے چار نوکروں کے ساتھ رات کے اندھیرے میں چِتا تک بھیج دیتا ہے۔ چونکہ وہ مری ہوئی نہیں ہوتی وہ بے ہوش ہوتی ہے اس لیے جب اس کو ہوش آجاتا ہے تواس کا پیر ہلتا ہے اور اس کا پیر ہلتے دیکھ چاروں نوکر بری طرح ڈر جاتے ہیں۔ اور وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔وہ عورت چتا سے اٹھ کر اپنے گھر جانا چاہتی ہے مگر لوگ اس سے ڈرنے لگتے ہیں اور وہ نہیں جا پاتی۔ وہ جانا چاہتی بھی نہیں ہے دریں اثنا اس کو اپنی اس آزادی کا مزہ مل جاتا ہے۔ لوگ اس کو دیکھ کر ڈر جاتے اور اس کو نہ اب کوئی بندش ہے اور نہ کوئی خطرہ۔ اس کو یہ آزادی پسند آنے لگتی ہے اور لوگوں کو ڈرانا بھی اس کو رفتہ رفتہ اچھا لگنے لگتا اور وہ خود کو زندہ سے زیادہ لوگوں کی نظر میں مردہ ہو نا پسند کرتی ہے۔ ٹیگور کی کہانی جیوتے مریتے کا یہ اقتباس ملاحظہ کریں:
’’پہلے تو دل میں آیا کہ گھر لوٹ جانا چاہیے لیکن ساتھ ہی سوچا ۔۔۔!!میں تو زندہ نہیں ہوں۔ مجھے وہ گھر میں کیوں گھسنے دینگے؟ وہاں تو اسے نجس مانا جائے گا۔ میں تو دنیا کی ہر آسائش سے نجات پا کر آئی ہوں۔میں اپنی ہی بد روح ہوں۔
اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اس آدھی رات میں شاردا شنکر کی محفوظ حویلی سے اس غیر محفوظ شمشان میں آئی کیسے؟ اگر اس کی آخری رسم ابھی ادا نہیں ہوئی ہے تواس چتا کو نظرِ آتش کرنے والے کہاں گئے؟شاردا شنکر کی حویلی میں موت کے آخری پل اسے یاد آئے اور اس کے بعد اس دور دراز بنی نوع انساں سے محروم ، اس تاریک شمشان میں خود کو تنہا دیکھ کر اس نے محسوس کیا ’اس ارضی معاشرے سے میرا تعلق ختم ہو گیا۔میں اب خوفناک اور نا قابلِ قبول اپنی ہی بد روح ہوں‘۔ دل میں یہ خیال آتے ہی لگا دنیا کے تمام قواعد و اصول کے وہ بندھن ٹوٹ چکے ہیں، جن میں وہ جکڑی ہوئی تھی۔ اس میں قوتِ مدافعت پیدا ہو گئی۔اب وہ آزاد ہے جہاں چاہے جا سکتی ہے۔اس لا محدود جدید خیال کے زیرِ اثر ہوا کے تازہ جھونکے کی طرح وہ جھونپڑی سے باہر نکل کرتاریک شمشان کی مٹی کو روندتی ہوئی چل پڑی ۔ شرم، حیا ڈر اور فکر کے ہر احساس سے وہ نجات حاصل کر چکی تھی۔‘‘ (جیوتے مرتے سے اقتباس، اردو ترجمہ: رشید انجم)
موہوم حقیقت نگاری کی یہ جلوہ گری ناقدین کو راس نہیں آئی بہت سے ناقدین ان کی اس خصوصیت کو کہانی کی خامی سمجھ بیٹھے۔ شانتی رنجن بھٹاچاریہ ٹیگور کے اہم ناقدین میں سے ایک ہیں۔ وہ ٹیگور کے مشہورِ زمانہ ناول نوکا ڈوبی کے متعلق جس میں موہوم حقیقت نگاری کی کارفرمائی ہے،کو کامیاب ناول ماننے سے انکار کر دیا ہے کیوں کہ اس میں جو کہانی بیان کی گئی ہے اس کا تعلق حقیقت سے نہیں ہے، حالانکہ وہ اس ناول کی دیگر خصوصیات کے دلدادہ معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی اس میں وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو حقیقت سے دور ہیں ان ہی کے الفاظ میں ملاحظہ کیجیے۔ وہ نوکاڈوبی کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’اس ناول میں ٹیگور نے کئی جنسی مسائل کو چھیڑا ہے جو بنگلہ ناول نگاری کے میدان میں ایک بالکل انوکھی اور اچھوتی چیز رہی ہے لیکن اسے ایک کامیاب ناول اس اس لیے قرار نہیں دیا جا سکتا کہ اس میں بہت سی باتیں ان ہونی یعنی حقیقت سے دور معلوم ہوتی ہیں۔ جن کا رونما ہونا ممکن نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم حقیقت نگاری کے اس پہلو کو نظر انداز کر کے اس ناول پر غور کریں تو زبان و بیان کے اعتبار سے یہ ناول بنگلہ ادب میں ایک یادگار تخلیق ہے۔ ‘‘
(رابندرناتھ ٹیگور :فکر وفن، صفحہ ۱۰۰)
در اصل اس میں شانتی رنجن بھٹاچاریہ جی کا کوئی قصور ہے ہی نہیں ۔چونکہ موہوم حقیقت نگاری جیسی کوئی کسوٹی اس وقت موجود ہی نہیں تھی جب بھٹا چاریہ جی اس ناول پر بات کر رہے تھے اس وقت تو ان کی تنقید کا زاویہ حقیقت نگاری ہی تھا۔ اور اگر حقیقت نگاری کو بنیاد بنایا جائے تو بھٹاچاریہ جی کی تنقید سو فی صد درست ہے۔ اگر آج کا نا قد اسی ناول کا مطالعہ موہوم حقیقت نگاری کی کسوٹی کو سامنے رکھ کر کرے تو یہ باور ہوگا کہ ٹیگور بھی کس کمال کے تخلیق کار تھے کہ انہوں نے اپنے ناولوں میں وہ حسن رکھ چھوڑا ہے جس کے نکھرنے میں ایک صدی سے زیادہ وقت لگ گیا اور اب ممکن ہے کہ ٹیگور کے ناول نوکا ڈوبی کے حسن کو ریکورrecover کرنے کی کوشش ایک بار پھر سے شرو ع ہو جائے اور ان ابعاد کی جستجو ہو جو اس ناول میں پوشیدہ ہیں۔
اور اگر کسی نے نوکاڈوبی کو موہوم حقیقت نگاری کی کسوٹی پر پر کھا تو ممکن ہے کہ ٹیگور کا یہ ناول ان کی بہت سی دوسری تخلیقات سے بالا تر سمجھا جانے لگے گا۔ اور وہ متھ بھی ٹوٹے گی جس نے اس کو ناکام ناول یا کم کامیاب ناول کے خانے میں ڈال رکھا ہے۔ اور اگر Hallucinatory Realism کی جڑیں کھودی جائیں اور یہ معلوم ہو کہ اس کے اولین نقوش ٹیگور کے ناول نوکاڈوبی میں موجود ہیںتو اس طرح سے پورے جنوبی ایشیا میں ادب کو پرکھنے کا معیار ایک بار پھر بدل جائے گا اور ٹیگور کی تمام تخلیقات میں موجود ان رموز کے آشکار ہونے سے یہ بھی معلوم ہو جائیگا کہ موہوم حقیقت نگاری کے اولین نقوش کی وجہ کر چین، جاپان، کوریا اور روس کی ادبی سلطنتوں پراکیلے ٹیگور کی تخلیقات بھاری پڑینگی۔
نوٹ: مضمون نگار دی ونگس فاؤنڈیشن، نئی دہلی کے صدر ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

