Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جولائی 15, 2026

      کتاب کی بات

      جون 6, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      سنت ابراہیمی کی حقیقی روح اور اس کا…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      آبِ زمزم کے طبی ، روحانی اور سائنسی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قربانی صرف رسم نہیں، اللہ کے حکم کی…

      جون 6, 2026

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خصوصی مضامین

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      تعلیمی اداروں کا زوال اور سوشل میڈیا- نازش…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      آٹزم : خاندان کا سفر ، قبولیت اور…

      جولائی 16, 2026

      متفرقات

      ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کو شاہ ولی اللہ  ایوارڈ سے…

      جولائی 2, 2026

      متفرقات

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام بشیر بدر،…

      جون 7, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

ایک ستارہ سا شب زمیں سے اٹھا شبنم عشائی کی تخلیقی سانسوں کا شمار -حقانی القاسمی

by adbimiras ستمبر 27, 2020
by adbimiras ستمبر 27, 2020 0 comment

Who looks outwards, sleeps, who looks inwards, awakes.

                                                       –Carl Jung

شبنم عشائی کی شاعری میں ’لل تراگ‘ کی کچھ بوندیں ہیں جن کی وجہ سے ان کی شاعری میں شیفتگی، رفتگی اور جذب و جنوں کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے:

کن سوچوں میں ڈوبے ہو/ ہاں/ میں اسی پانی کی بوند ہوں/ جو تمہارے کمرے کے کونے میں پڑی/ صراحی میں رہتا تھا، آخرکار/ تمہارا سمندر/ نہ جانے کتنے دریاؤں کا/ پیاسا تھا اور/ جگ جگ پھرتا تھا/ میں/ ہر شام/ صراحی کی حدیں پار کرتی/ تمہارے ہونٹ/ طراوت کے ذائقے لیتے/ جگ جگ پھرنے کی/ تھکن مٹ جاتی/ پر ہر جگ سے لایا گیا گیان/ تمہیں سوئم بھگوان بنا گیا!/ پھر تمہارے/ پتھریلے ہاتھ اٹھے/ کونے میں پڑی صراحی/ توڑ بیٹھے اور/چوٹ/ پانی کو لگی/ بوند بوند درد سے تڑپ اٹھی/ سر پٹکنے لگی/ تم اپنی سوکھی آتما کو لے چلو یہاں سے/ کن سوچوں میں ڈوبے ہو/ میں اُسی پانی کی بوند ہوں

 

شویوگنی، لل وید کے واکھیوں اور شبنم عشائی کی نظموں میں بڑی مماثلت ہے۔ وہی درد، آنسو، تنہائی، بے اعتنائی، بیزاری، اضطراب و التہاب اور دل شکستگی (dispondency) ہے جس نے لل وید کی زندگی کا محور و منہج تبدیل کردیا تھا۔ شبنم کی شاعری میں بھی لل کی طرح شو کی تلاش کا عمل متحرک اور رقصاں ہے۔ اسی لیے دل کے دروں میں قوت اور محبت کے مظہر شو کے لیے اِس قدر شکیبائی اور اضطراب ہے۔

شبنم عشائی بھی دھیان میں گم، للا عارفہ کی طرح اپنی سانسوں کا شمار کرتی ہیں اور ذہنی کیفیت بھی ان ہی کی طرح ہے جو ننگے بدن سے زیادہ روح کی عریانی سے پشیماں ہیں:

تمہاری رضا کو لوگ/ میری خطا کہتے ہیں/ میرے ہاتھوں سے وہ پوشاک/ چھین لی گئی/ جو میں پہننے والی تھی/ اور پہنی ہوئی پوشاک/ میں اتار چکی تھی/ میرے سارے آنے والے موسم/ منسوخ کردیے گئے تھے/ میں نے کوئی احتجاج نہیں کیا/ اپنا سر تسلیم خم کردیا تھا/ مجھے اتنی ایذا دی گئی/ کہ ارمانوں کا ریشم کا تنا/ اب میری برداشت سے باہر ہے/ اور پھر موسم منسوخ نہ ہوتے/ پھول ریشم بٹورے/ میری عریانی ڈھک جاتی/ تمہاری تابع داری میں/ میں نے اپنی مٹھی کبھی کھول کر نہیں دیکھی/ کون اپنے خواب کا/ ایک ٹکڑا کاٹ کر/ میری عریانی ڈھانپ دے گا/ لاؤ میں اپنے ہاتھ کی لکیریں مٹا دوں

 

جس طرح لل کے حصے میں پتھر ہی پتھر تھے، اسی طرح شبنم عشائی کے نصیب میں وہی سنگ خارا ہیں جو احساس اور ان کی تخلیق کے سینے کو مضروب اور مہمیز کرتے رہتے ہیں۔ شبنم عشائی کی شاعری میں درد کے heat waves کو ہر حساس فرد محسوس کرسکتا ہے۔ وہی درد جو لل کے وجود کا استعارہ تھا اور جس درد نے اسے آشفتہ سری اور جرأت عطا کی تھی، شبنم عشائی کی شاعری کی شریانوں میں بھی دوڑ رہا ہے:

شبنم عشائی کی شاعری میں درد کے مربوط سلسلے ہیں اور درد کی زمیں سے ہی ان کے اظہار کی کونپلیں پھوٹی ہیں۔ شبنم عشائی کی ایک نظم ہے:

مجھے میرے من کی قبر میں ہی پڑھ لو/ ناول نہیں/ ایک درد ہوں میں/ جو زندگی سے / زیادہ پتھریلا ہے/ درد کبھی بھی تمہارے من سے مل سکتا ہے/ بس طوفان کا/ کوئی حلف نہیں اٹھانا

—————

تناؤ میں حویلی سے نکلی/ 60 روز ہ منکوحہ/ ہر گاندھین کے/90 سال/ خاموشی سے پیستی ہے/ بدلاؤ کا کرب/ روح پہ/ لکیریں کھینچتا ہے/ کاغذ پہ کھینچی/ لکیروں میں/ کوئی کھویا ہوا اپنا/ دفن نہیں ہوتا

 

شبنم عشائی کی شاعری کے بین القوسین میں درد کی لہریں ہی موجزن ہیں۔ ان کے ہاں جو درد کا داخلی طوفان(Inner storm of torment) ہے، وہ ان کے شعری، تخلیقی بیانیہ سے مترشح ہے— تضادی وجود کو تسلیم کرنے میں بھی ایک درد ہی ہے۔ ان کے یہاں جو تضادات کا تناؤ ہے وہ وجود کی واقعیت کا اظہار ہے۔ زندگی ایک گرداب ہے اور اسی گرداب کی تعبیر یہ نظمیں ہیں جو مختلف موجوں اور لہروں کے ساتھ ابھرتی اور ڈوبتی رہتی ہیں۔

شبنم عشائی کی نظموں میں کیفیتیں ہزار ہیں اور ہر کیفیت ان کے ذہن کے موسم اور مافیہ کا کشاف ہے۔ اس میں وجود کے حوالے سے خودسپردگی بھی ہے، تکرار بھی۔ اقرار بھی ہے، انکار بھی۔ وصل جاناں بھی ہے، آتش ہجر بھی۔ موج خیز جذبات بھی ہیں، شبنمی احساسات بھی۔ انہوں نے اپنے وجود کے سارے حوالے، کائناتی وجود کے حوالوں سے مربوط کردئیے ہیں۔ یہ گویا صرف اپنے وجود کی کہانی نہیں ہے بلکہ کائنات کے ہر اس حساس وجود کی کہانی ہے جس پر یہ کیفیات طلوع اور غروب ہوتی رہتی ہیں۔ اس میں کئی طرح کے رَس اور بھاؤ ہیں۔ اس میں ’’رتی بھاؤ‘‘ ہے، سنجوگ اور ویوگ ہے۔ وہ سارے رس اور عناصر جن سے انسانی وجود عبارت ہے، وہ شاعری میں موجود ہیں۔

دل کے دُوار کا اور من کے متھرا میں جو شاعری بسائی جاسکتی ہے وہ کچھ ایسی ہی ہوتی ہے جیسی شبنم عشائی کی ہے۔ کہیں کہیں شبنم میرا بائی بن جاتی ہیں، تو کہیں دَمن جیسی باغی، لیکن شاعری میں باغیانہ لہجہ اور احتجاج مکمل تمکنت اور وقار کے ساتھ روشن ہے۔

 

(۲)

ملک یونان کے شہر ایتھینز کے ایک پارک میں سقراط کا ایک قول جلی حرفوں میں لکھا ہوا ہے ’’اپنے آپ کو جانو‘‘ سقراط کے اس جلی جملے کی خفی صورت شبنم عشائی کی شاعری میں نظر آتی ہے۔ شبنم کی شاعری بھی ذات کی معرفت سے ہی عبارت ہے۔ ’میں‘ سے آشنائی کائنات کے گیان کے لیے ناگزیر ہے۔ دراصل اسی  ’میں‘ سے آدمی اس سچ کو پاسکتا ہے جو آتما کی آنکھوں میں بسا ہوتا ہے۔ سقراط نے اپنے آپ کو جاننے میں ہی پوری زندگی گزار دی اور یہی مناجات کرتا رہا کہ اے خدا میرے ظاہر و باطن کو ایک کردے۔ من اور بانی کا فرق مٹا دے۔ میرے اندرون کو خوبصورتی سے بھردے۔ شبنم عشائی کی شاعری بھی اپنی ذات کی معرفت کا ایک وسیلہ ہے۔

باطن کے موسم پر ہی خیال کا انحصار ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنی شاعری میں اپنی اندرونی کیفیت کا ہی اظہار کیا ہے کہ تخلیق دراصل سیلف ڈسکوری ہے۔ اپنے من میں ڈوب کر سراغِ زندگی پانے کی ایک کوشش۔

’میں‘ کے متواتر قتل یا ’میں‘  کی موت سے جو ایک ردِّعمل ہوسکتا ہے وہ پوری شدت کے ساتھ یہاں موجود ہے۔ شبنم عشائی نے ’میں‘اور اس کے اضطراب کو ہر سطح پہ زندہ رکھا ہے۔ دراصل یہی ان کی زندگی اور ان کے وجود کا جواز بھی ہے:

ہاں میرا میں/ کتنے جنم لے چکا تھا/ وہ جب پہلی بار قتل ہوا تھا/ تو ایک بنجر ساحل پر/ کئی روز پڑا رہا/ پھر ایک دن کیا دیکھا/ سورج پر کوئی ہنس رہا ہے/ یہ میرا ’میں‘ تھا/ روپ بدل چکا تھا/ پتھر ہوگیا تھا

—————

میرے دوسرے ’میں‘ کے قتل پر/ ایک اور تخلیق پاگیا/ میرا تیسرا ’میں‘/ کالی صدیوں کا/ ایک گونگا ہے/ جو صدیوں کی سرگوشی سننے/ روز سمندر میں چھلانگ لگاتا ہے/سفید جھاگ میں ملبوس/ میرے پہلو میں آکر بیٹھ جاتا ہے/ اور پوچھتا ہے کہ تم کون ہو/ میں پھر سوچتی ہوں/ میں تو جب ہی کی قتل ہوچکی ہوں/ میں کون ہوں/ کیونکہ ہر قتل نے/ ایک نئی تخلیق کو جنم دیا/ تو کیا میرا’میں‘/ ہر قتل کے بعد/ تخلیق پایا ہے/ ہر قتل ایک تخلیق ہے/ تو کیا ہر قتل یہ نہیں بتاتا/ کہ میں جی کیوں رہی ہوں!

 

شبنم عشائی کی نظموں میں احساس کی کئی سرحدیں ہیں۔ کہیں آشفتگی ہے تو کہیں آسودگی، کہیں خستگی ہے تو کہیں دل بستگی، کبھی سوزِ سینہ سے داغ ہے تو کبھو درد و غم سے فگار، کبھی سراپا آرزو تو کبھی سراپا بیزار:

آدھی رات/ کوئی میری زمین پر اترتا ہے/ روشنیاں بکھیرتا ہے…/ جھلستی دھوپ میں

سایہ بن کے/ پھیل جاتا ہے!/ دنیا کی بھیڑ میں/ وہ کتنا نمایاں ہے

—————

تجھے / دیکھ کے/ یوں لگتا ہے/ جیسے/ چاند اترا ہو/ مری زندگی کی/ سیہ راہوں میں/ جس کی/ شفاف خنک کرنوں سے/ میرا وجود/ روشن ہوا جاتا ہے/ تو/ میری روح کا/ نغمہ/ تیری ذات سے/ آباد/ میرا وجود

—————

کھونا نہیں/ جینا چاہتی تھی/ تمہاری/بانہوں کے چھوٹے سے حصار میں

—————

جب تم نے/ اپنی رفاقت سے/ اس کی افشاں/ بھری تھی/ ایک/ نئے پن کی خوشبو سے/ فضا معطر ہوئی تھی/ اور وہ/ تمہاری روشنی میں/ نہائی تھی/ پھر/ تم اور وہ/ دھند کی مہین لہر جیسے/ ایک دوجے کے/ رگ و پے میں/ سرایت کرنے لگے

بس ان کے وجود کی تعبیر یہ ہے کہ اس میں نہ تاب ہے، نہ قرار ہے، وصال کی تڑپ، ملن کی آرزو ہے۔ ان کی نظموں میں راہِ عشق کی دونوں  منزلیں ’وصل‘ اور ’ہجراں‘ روشن ہیں۔

شبنم عشائی کی شاعری کا ایک رنگ وہ ہے جب دل بستگی کا ساماں تھا، وصل کی راحتیں تھیں اور ایک رنگ وہ ہے جس میں خستگی اور شکستگی، پامالی کا احساس ہے۔ شبنم عشائی کی شاعری میں ایک موڑ وہ بھی آتا ہے جب وہ مکر و فریب اور منافقت سے آلودہ زندگی کو دیکھتی ہیں اورانہیں اپنی معصومیت، محبت کی شکستگی اور ایثار کے انہدام کا احساس ہوتا ہے۔ عورت تو اپنی ذات کے آئینے میں ہی کائنات کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہے اور جب اس کا آئینہ شکستگی سے دوچار ہوتا ہے تو دل کے آئینے کی کیفیت بھی تبدیل ہونے لگتی ہے۔ شبنم عشائی جس درد کے صحرا سے گزری ہیں، اس میں ایسی ہی شاعری کا ظہور ہوسکتا ہے اور کیفیت میں ایسا ہی اضطراب جنم لے سکتا ہے جو ان کی شاعری کے ساتھ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ شبنم عشائی باوجود اپنی فطری معصومیت اور جذبۂ ایثار کے انتقامی اور احتجاجی لہجے میں بات کرنے لگتی ہیں۔

شبنم عشائی کے اس تیور میں گویا پنجم سر میں سورج کی گنگناہٹ سی محسوس ہوتی ہے۔ سورج کے سینے کی جوالا مکھی، اس شاعری کے سینے میں بھی دہکتی نظر آتی ہے:

تم جان لو کہ دنیا سوچنے سے عبارت ہے/ اب زندگی کی سگریٹ صرف میں پیوں گی/ اور تم سگریٹ کی راکھ کی طرح/ میری انگلیوں سے جھڑتے رہو گے

 

¡

میرے ناخن مت کاٹنا کہ/ مدافعت کے لیے/ ایک ہتھیار تو ضروری ہے

 

دراصل وقتی اور جذباتی اُبال اور طغیان و جولان کی وجہ سے ذہن کی موجوں میں اضطراب پیدا ہوتا رہتا رہتا ہے۔ شبنم عشائی نے اپنے جذباتی ہیجانات کو جو اظہاری شکل عطا کی ہے اور تخلیقی فضا قائم کی ہے۔ اس میں وہ مکمل طور سے کامیاب نظر آتی ہیں۔

ان کا تخاطب یا تو اپنی ذات ہے، اپنی تقدیر ہے یا پھر اپنی ذات ہی میں مدغم کوئی اور پیکر جو بار بار اس سے جدا ہوتا ہے اور اسے تنہائی کے صحرا میں چھوڑ جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی ذات میں جس وجود کو بسایا ہوا ہے، اس وجود کے فریب نے ہی اس کے احساس و اظہار کی شکلیں اور صورتیں بدل دی ہیں۔

شبنم عشائی کی نظموں میں خود سوانحی عناصر زیادہ ہیں، جو واردات اور سانحات ان کی ذات پر وقوع پذیر ہوئے، ان واردات کا اپنے تخلیقی فائل میں اندراج کرتی رہیں اور اظہار کی صورت عطا کرتی رہیں۔ شبنم عشائی کی شاعری اور شخصی زندگی کے مابین زیادہ حدِّفاصل نہیں ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے مربوط اور متراکم ہیں۔ شاعری گوکہ ایک شخص کی ہے مگر اس میں مختلف کیریکٹر موڈ کی شکلیں ہیں۔ یعنی ایک کرداری ہوتے ہوئے بھی یہ شاعری کثیر کرداری ہے کہ انسان بنیادی طور پر اپنے دروں اور بیروں شکلوں کے ساتھ کئی حصوں میں منقسم ہوتا ہے۔ وجود کی یہ تقسیم ذہنی تخیلات کو تعینات سے ماوراء کردیتی ہے اور ایک ہی شخص کی گفتگو مختلف ہیئت و اشکال میں سامنے آتی ہے۔ شبنم کی شاعری میں جتنے بھی کردار ہیں، دراصل وہ ایک ہی کردار کی ذہنی کیفیتیں اور صورتیں ہیں۔

شبنم عشائی کی شاعری شکستہ خوابوں اور شکستہ بازوؤں کی شاعری ہے جس میں زندگی کی  تلخیوں اور اس کی خار شگافیوں کا بیان ہے، جس میں داخلی آزار کا اظہار ہے۔ اس دل شکستگی نے شبنم عشائی کو فطرت کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے وجود کی تجسیم (personification) کبھی درخت سے کرتی ہیں تو کبھی مہاجر پرندوں سے۔ اس طرح وہ گویا اپنی تجسیم کے لیے یا اپنے وجودی اظہار کے لیے نئے استعارے اور نئی علامتیں وضع کرتی ہیں۔ جب انسانی وجود کی اصل علامت اور استعارے معدوم ہوجائیں تو دوسرے استعاروں کی تلاش ایک امر فطری بن جاتی ہے۔ شبنم عشائی نے اپنے وجود کی استعاراتی تقلیب کے ذریعے یہ واضح کردیا ہے کہ وجود کی جو حقیقی ماہیت اور اس کی حقیقی علامت ہے، اس کی گمشدگی یا اس کا انہدام ہی انسان کو دوسری راہیں شکلیں اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے:

اگر تمہارے ہزار پیڑوں میں سے/ ایک میں بھی ہوتی/ ایک سال میں/ چھ اسپرے، ایک کھاد/ اور تمہاری ہزاروں چاہت بھری نظریں/ مجھے نصیب ہوتیں اور تب/ دل سوگوار نہ ہوتا/ میری ہر ٹہنی/ تم اپنے ہاتھوں تراشتے/ میں سنور جاتی

وہ اپنی زندگی کو سی سی فس کی طرح لایعنی قرار دیتی ہیں:

میں چلتی رہتی ہوں/ چلتے چلتے میری ایڑیاں پھٹ گئی ہیں/ سی سی فس کا فرض کب تک نبھاؤں گی

(۳)

شبنم عشائی کی شاعری نسائیت کا نوحہ بھی ہے اور وہ ’نوا‘ بھی جس میں آگ بھری ہوئی ہے۔ یہ نسائی ذات کی وہ لمبی خاموشی ہے جو بول پڑی ہے۔ شبنم کے شعور و احساس میں یہ بات اچھی طرح گھر کرگئی ہے کہ تابعداری، فرمانبرداری، ایثار ہی عورت کا مقدور اور مقدر ہے :

وہ جب پیدا ہوئی تھی/ اس کے کانوں میں/ تابع داری کی اذان دلوا دی گئی تھی/ جب سے اب تک وہ/ تابع داری کرتی رہی!

—————

ہوا سے پوچھتی ہوں/ ہوا میری رہائی کی تاریخ بھول گئی ہے/ مجھے اتنا یاد ہے/ کہ سارے کرب میری ذات تک محدود ہیں

 

زندگی کے جبری حالات اور تقدیر کی تابع داریوں نے شبنم عشائی میں مرگ کے احساس کو بھی زندہ کردیا ہے۔ یہ احساس اُس وقت جنم لیتا ہے جب زندگی تمام تر عذابوں کے ساتھ ایک وجود پر مسلط ہوجائے اور وجود بے دیار، بے دل اور بے خانماں بن جائے:

مجھے سفر کرنے دو / زمین کے کسی ٹکڑے پر/ پاؤں جمانے کے لیے نہیں/ موت کے انتظار کے لیے/مجھے وہاں تک جانے دو/ جہاں چاندنی کے بستر پر/ ساعت گذشتہ میں ٹھہری ہوئی/ موت/ میری راہ دیکھ رہی ہے!

—————

جب سے / ڈھیر سارے دن گزر گئے/ میری موت/ شروع ہوئی تھی/پہلی قسط میں تھا/ معصوم اعتبار/ جس کی موت نے/ رنگ چہرے کا/ چراغ آنکھوں کے/ دھندلا دیے/ دوسری قسط میں تھا/ اعتقاد/ جس کی موت نے/ ساٹھ سال کا بنا ڈالا/ اور اب میں/ موت کی تیسری قسط کے انتظار میں بیٹھی/ دھول بھری زندگی گزار رہی ہوں

 

شبنم عشائی میں مرد معاشرے کے رویے نے ایک عجب سی بے اعتباری اور mistrust کا احساس پیدا کردیا ہے۔ اسی لیے ان کی نظموں میں مردانہ مکر و فریب کے وہ سارے نقوش ملتے ہیں جس سے ایک عورت کی زندگی بانجھ بن جاتی ہے اور اس کے وجود سے اذیت لپٹ جاتی ہے:

تمہارے دوغلے پن نے/ میرے سپنوں کو/ بانجھ کرڈالا/ میرے ہمراہ/ یہ بانجھ سپنے/ دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں/ کتنی محفلوں میں لیے پھری ہوں انہیں/ میری آنکھیں/ مجھے محفل میں بیٹھا کر/ نئے سپنے ڈھونڈنے نکلتی ہیں/ پھر رات/ نیند کی گولی سے/ انہیں سپنے دیکھنے کا فریب دیتی ہوں/ سنو/ اس سے پہلے کہ میری آنکھیں/ کوئی سپنا چرا کے لائیں/ یا میں/ فریبی کہلاؤں/ تم اپنا ایک مقرر کرلو

یہ شاعری دو کرداروں کی تقطیب سے عبارت ہے۔ ایک فعال کردار ہے اور ایک مفعول۔ فعال کردار کی شکل میں مرد کی ذات ابھرتی ہے جس کے لیے محبت محض بھوگ، ولاس ہے، جو صنعتی سماج کی محبت پہ یقین رکھتا ہے جو ہردے ہین ہوتا ہے اور انفعالی کردار کی صورت میں عورت کی ذات جس میں محبت کا کومل احساس ہوتا ہے، جو زرعی سماج کی محبت پہ یقین رکھتی ہے جس کے پاس ایک دھڑکتا ہوا پرسوز دل ہوتا ہے۔ ایک کے اندر سادیت پسندی ہے تو دوسرا مساکیت پسند ہے۔ ایک ایذا کوش ہے تو دوسرا ایذا دینے والا۔ دراصل یہی دو کردار بنیادی طور پر اس شاعری میں نمایاں ہیں اور ان دو کرداروں کی ذات سے ہی شاعری میں تناؤ اور تضاد کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ مساکیت پسند کردار کی تعبیر ان نظموں میں ہے:

تم تو فاصلوں کا خواب تھے/ (جو تم نے کبھی طے ہونے نہیں دیے)/ اور میں پھر بھی/ تمہارا حرارت سے خالی ہاتھ تھامے/ اپنے وجود کا لمس/ لٹاتی ہوئی/ فاصلہ کم کرنے کی/دیوانگی میں چلتی رہی

—————

زندگی کی سگریٹ/ تمہارے ساتھ پینے کی خاطر/ میں نے اپنے سوچنے کی صلاحیت/ تمہارے نام کردی تھی/ اور وہ تمام مکھوٹے/ تمہارے کمرے میں سجا دیے تھے/ جنہیں تم نے عمر بھر/ شکار کیا تھا/ میں اپنی ساری خوشبوئیں/خرچ کرکے/ تمہارا پورا درد خرید رہی تھی/ لیکن تم نے آنکھوں پر ہی نہیں/ دماغ پر بھی پٹی باندھ رکھی تھی/سڑک حادثے کے بعد / میرا پلستر چڑھتے سمے/ جو تم نے ایک لمحے کو/ اپنی آنکھوں کی پٹی کھول دی تھی/تمہارا سر جھک گیا تھا!

—————

اَطلسی، کمخواب / مہذب، جھمکے، کنگن، گجرا/ سبھی رُلا دیے تھے/ جب جھوٹ کی قینچی سے/ تم سچ کا ریشم کتر رہے تھے/ میں بھی منڈپ میں بیٹھے/ سب کچھ دیکھ رہی تھی/ لیکن اپنا من/ تمہاری ہتھیلی پہ رکھتے سمے/ بہت سا لوہا/ میں نے اپنے سینے میں رکھ دیا تھا/ میں نے اپنے ہاتھ کی لکیروں کو بھی تو اُتار کر/ تمہیں دے دیا تھا/ اپنی سانسوں کو بھی تو کھول کر/ تمہیں اوڑھا دیاتھا

—————

میں جسم پہTelcumنہیں/ اپنے وجود پہ/ نمک چھڑکنا چاہتی ہوں/ صدیوں سے جمی ہوئی/ برف کاٹنا چاہتی ہوں/ کیا تم رشتوں کا الاؤ/ دہکا سکتے ہو؟/ میں اپنی آنکھوں کو/ آنسوؤں سے/ طلاق دلانا چاہتی ہوں/ جو صدیوں سے/ آنسو کاشت کررہی ہیں/ کیا تم میری آنکھوں کو/ خواب دے سکتے ہو؟/ زمانے کے بکھیڑوں میں نہیں/ من کی دنیا میں/ گھر بنانا چاہتی ہوں/ بس اب میں/ دل کی بات سننا چاہتی ہوں/ کیا تم میرے من میں/ بول سکتے ہو

—————

میں کسی آنکھ میں/ ٹھکانہ نہیں/ تمہاری کھوئی ہوئی/ نیندیں ڈھونڈنا چاہتی ہوں/ گھر کی چھت سے/ رہائی نہیں/ اس فرار میں جینا چاہتی ہوں/ جس میں تیری زندگی ہے

 

دوسرا کردار سادیت پسند ہے جس کی تعبیر یوں ہے:

وہ صرف ویسا کرتا/ جیسے وہ سوچتا/ لیکن رائے/ ہر شخص کی ضرور لیتا/ مشورہ اپنائیت کی علامت ہے لیکن/ مجھے خوف آتا ہے کچھ کہنے سے/ اس کے فیصلوں کی تلوار نے/ میری سوچ کو زخمی کردیا ہے/ اب میری آنکھوں میں/ خواب نہیں اندیشے ہیں!/ مجھے خوف آتا ہے کچھ کہنے سے/ میں ڈرتی ہوں کوئی میرے لفظوں سے مفہوم/ اور میری سوچوں سے خود آگہی/ چھین لے گا

—————

وہ جو دوسروں کی دنیا کے/ خدا ہوتے ہیں/ ایک بدن کو/نہ جانے کتنی قبروں میں/ بانٹ دیتے ہیں/ اور جب کبھی وہ/ اُن قبروں کے عذاب سے/ جاگتے ہیں/ زندگی کی/ آزاد سانسوں میں/ زندہ خوابوں کو ہمکتا دیکھ کر/ اپنے اندر دھڑکنا/ چھوڑ دیتے ہیں/ اور پھر آہستہ سے/ اُنہی قبروں کی تہہ میں/ آکر بیٹھ جاتے ہیں

—————

تم بار بار/ جینے کی خاطر/ میری من کی مٹی میں/ موت کیوں بوتے ہو؟/ جو مٹی تخلیق کا دکھ/ سہتی ہو/ بانجھ نہیں ہوتی!/ تم مجھ سے/ اور کتنی نظمیں لکھواؤ گے؟

 

محبت سے مربوط شبنم عشائی کی شاعری میں اس کیمیائی ردِّعمل کی شناخت بآسانی ہوجاتی ہے جسے فینائلے تھیلے مائن (Phenylethoylamine) کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں اس کیمیا کا تیز بہاؤ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ڈوپے مائن (Dopamine) اور ایڈرنیلنAdrenalin) (جیسے کیمیائی نظام سے ان کے تخلیقی نظام کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ کیمیکل اور ہارمونز کے امتزاج کی وجہ سے محبت کا دریا، موجزن اور مضطرب ہونے لگتا ہے اور اسی کیمیائی اضطراب کا اظہار ان کی شاعری میں بھی ہے۔ اس سے شبنم کے ذہنی نظام اور اس کے تحرکات کی تفہیم میں مدد مل سکتی ہے۔

ایرخ فرام کے نظریے سے اس شاعری کو دیکھا جائے تو اس میں تکفیلی وصل کی انفعالی صورت نظر آتی ہے۔ جب شاعرہ کسی ایک ذات کے جز کی حیثیت سے اپنی وابستگی چاہتی ہے یا اس کی ذات کا تتمہ بن جاتی ہے اور دوسری طرف مرد ایک سادیت پسند کے طور پر سامنے آتا ہے۔ دو مخالف قطبین کے مابین وصل کی ایک صورت بھی اس میں نمایاں ہے۔ سب سے بڑی چیز جو اس شاعری میں ہے وہ تقطیبی وصل ہے۔ یہ تقطیبی وصل ہی شبنم عشائی کو اپنی ذات سے آشنا کرتی ہے۔ باوجودیکہ شبنم کے یہاں  لہجے میں زیادہ کرختگی نہیں ہے پھر بھی کہیں کہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے اصل کی تلاش میں ان حدوں کو پار کرنا چاہتی ہیں جو حدیں تضاد کی طرف لے جاتی ہیں۔

مرد عورت کے تضاد میں وصل ہی اصل ہے اور اسی سے عورت مرد کی ذہنی اور نفسی حرکیات سے آگہی ہوتی ہے۔ شبنم عشائی کے یہ دو شعری کردار دراصل انسانی زندگی کی کیفیات کے مظہر ہیں۔ ایک طرف محبت کی فعالیت ہے، فعال لگاؤ ہے دوسری طرف مفعولیت اور بے توجہی ہے۔ ایک طرف محبت میں شدت ہے، دوسری طرف تشدد ہے۔ شبنم عشائی کے یہاں اسی لیے اس فردیت نے جنم لیا ہے جو لاتعلقی اور بیگانگی کا اشاریہ ہے۔ وہ اپنے اکیلے پن اور جدائی پر غلبہ پانے کی کوشش میں فطرت کی آغوش میں پناہ لیتی ہیں اور اس طور پہ اپنی فردیت کے عذاب سے نجات حاصل کرتی ہیں۔ مگر دراصل تلاش، ایک ہم آہنگی کی ہے۔ کائناتی شعور (cosmic consciousness) اور کائناتی توانائی (cosmic energy) کے وصال کی ہے جس سے وجود حقیقت اور اصل تک رسائی پاسکتا ہے اور یہ عورت، مرد کی مکمل خود سپردگی کے ذریعے ہی طے کی جاسکتی ہے، عضویاتی ہم آہنگی یعنی متھن کے بغیراصل تک رسائی ناممکن ہے۔  پرش اور پراکرتی دونوں ایک ہی ہیں۔ اسطوری کہانی میں ہے کہ ابتداء میں مرد عورت ایک تھے، کاٹ کر انہیں دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ تبھی سے دونوں اپنے اپنے کھوئے ہوئے حصوں کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ دونوں کے وصل ہی سے کائنات کی ہم آہنگی جنم لیتی ہے اور یہی Oneness کائنات کا فینومینا ہے۔

مدھر بھکتی کے باوجود محبت میں فصل ہے، وصل نہیں۔ للا عارفہ کو آتما سم یوگم نصیب ہوا، مگر شبنم عشائی کو اپنے شعور کی گمشدگی اور محبوب کی ذات میں مکمل تحلیل کے باوجود محبت کا نورانی ہالہ نہیں ملا۔ رادھا کی طرح اپنی ذات کی نفی اور خودفراموشی کے باوجود بھی ’’وصال‘‘ اور true other نصیب نہیں ہوا۔

شبنم عشائی کی شاعری میں نسائی احساسات، جذبات اور ادراکات ہیں اور ان میں مثبتیت (positivism) بھی ہے۔Auguste Comte کی طرح شبنم عشائی کی شاعری میں بھی جارحیت نہیں بلکہ معروضی انداز سے مسائل کو سمجھنے اور خود کو قربان کرنے کی کیفیت بھی ملتی ہے۔ ان کا تعلق raunchy culture اور playboy bunny امیج میں اسیر female chaunist pig سے نہیں ہے۔

عورت اور مرد کے تفاعلات الگ ہیں۔ مرد معاشرے نے جس نسائی تفاعل کا تعین کیا ہے وہ غلط ہے۔ عورت محض pleasure اور power کی غلام نہیں ہے اور نہ ہی وہ chattel status میں قید رہنا چاہتی ہے بلکہ اس کے دائرۂ کار میں اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں۔ ان کے جذبات ان کی دھڑکنیں ہیں۔ جب عورت کو خانگی اقدار اور امور میں قید کردیا جاتا ہے تب بغاوت جنم لیتی ہے۔ جب اس سے space چھین لیا  جاتا ہے تب باغیانہ جذبے کی نمود ہوتی ہے کیونکہ آج کی عورت اَن سویا یا گندھاری بن کر نہیں رہ سکتی۔ وفا اور ایثار کی پیکر بن کر رہنا ہی اس کی زندگی کا مطلوب و مقصود نہیں ہے بلکہ اپنے space کی تلاش بھی اس کی زندگی میں شامل ہے کیونکہ وہ یہ محسوس کررہی ہے کہ اس کے لیے تو چاکِ قفس سے باغ کی دیوار دیکھنا بھی ممنوع ہے۔ بقول سارہ شگفتہ عورت کی ریاست چادر کشائی تک محدود ہے اور اس کا وطن بدن سے زیادہ نہیں ہے۔ جب کہ  مردوں کی خودمختاری کا رقبہ اس قدر وسیع ہے کہ اسے Polygamy تک کی مراعات حاصل ہے جب کہ عورت ایک ہی مرد کی ’اسیر زندانی‘ بن کر رہتی ہے۔ اس کے لیے Polyandry ممنوع و محظور ہے۔ مرد کی اس خودمختاری کے غلط استعمال سے عورت اور مرد کے مابین رشتے کے استحکام اور اعتبار پر منفی اثرات پڑے ہیں اور دونوں کے مابین بے اعتمادی اور خلیج بڑھی ہے۔ اس لیے عورت ایسے تقطیبی نظام کے خلاف ہے بلکہ وہ تو پدرسری نظام کے بھی خلاف ہے۔ وہ اپنے ان حقوق کا مطالبہ کرتی ہے جو انہیں عطا کیا گیا ہے۔ حیاتیاتی اعتبار سے اس کا دائرۂ کار الگ ہے۔ مگر سماجی اور سیاسی اور ذہنی تخلیقی اعتبار سے دونوں کے دائرۂ کار میں اشتراک ہے۔ شبنم عشائی کے یہاں بھی اس پدرسری نظام سے بغاوت ملتی ہے۔ مگر یہ بغاوت energetic ہے۔

عورت جس سماجی جنسی آزار کے بیچ زندگی گزارتی ہے، اُس آزار سے نجات حاصل کرنے کی تمنا ہر ایک عورت میں ہوتی ہے۔ یہی آرزو، یہی خواہش، یہی تمنا اس شاعری میں بھی ہے۔ شبنم عشائی مرد کو متغایر نہیں بلکہ اپنے اصل کا ایک حصہ سمجھتی ہیں۔ اسی لیے ان کے یہاں اس کھوئے ہوئے حصے کی تلاش کا عمل سب سے زیادہ نمایاں ہے اور تلاش کے مرحلے میں جن اذیتوں سے دوچار ہوتی ہیں، ان اذیتوں کا اظہار بھی ہے۔

شبنم کی شاعری میں عشقیہ روایتی کردار کی تقلیب بھی ہے۔ روایتی اور کلاسکی شاعری میں مرد ہی مظلوم ہوتا تھا اور عورت ستم گر اور جفاشعار ہوتی تھی۔ یہاں معاملہ مقلوب ہے۔ عورت شہامت، شجاعت، فراخ دلی magnanimity کی علامت کے طور پر سامنے آتی ہے جب کہ مرد بزدل اور تنگ چشم کے طور پر روبرو ہوتا ہے۔ مرد، عورت کی جبلی، خلقی تقلیب بھی یہاں نمایاں ہے۔ ایک عورت مرد کی بیوفائیوں اور ان کی ستم گری کا بیان کرتی ہے۔ عشق کی یہ تقلیب نئے زمانے کی کیفیت کا غماز ہے اور نئے زمانے کے سوا دراصل یہ اس زخمی روح کی داخلی داستان ہے جسے بار بار نیزۂ ستم سے چھلنی کیا جاتا ہے۔ دل کی بیتابی، آنکھوں کی بے خوابی اور تسکین اضطراب کی ایک ہی شکل ہے تخلیق مگر یہاں بھی عورت کو امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورت کا تخلیقی عمل اپنے وجود کے خلا (void of existence) کو بھرنے کی ایک کوشش بھر ہی تو ہے۔

یہ شبنم کی داخلی دنیا ہے، یہ لمحۂ حاضر کی شاعری ہے۔ دھیان کی، جہاں داخلی دنیا کا تحرک زیادہ ہے اور خارجی کائنات کا کم۔ دھیان کے ذریعہ شبنم عشائی باطنی دنیا کےepicentreتک پہنچ گئی ہیں۔

شبنم عشائی کی اس شاعری میں کہیں کہیں وہ طلسمی مقامات بھی آتے ہیں کہ قاری breathless ہوجاتا ہے۔ شبنم عشائی کی شاعری میں attractive molecules کی موجودگی، ان کی شاعری کو حسن کی تجسیم میں تبدیل کردیتی ہے:

لاؤ ذرا پہن لوں تمہیں/ تنہائی اُتار دی میں نے/ باہر کاریڈور میں پڑی سسک رہی ہے/ اپنے دھیمے لہجے میں/ وہ ساری داستانیں سناتی/ جنہیں سن کر میں دھیمی آنچ پر/ پہروں سلگتی تھی…/ لاؤ ذرا پہن لوں تمہیں/ وہ key hole سے جھانک رہی ہے/ جیسے ہم موقعہ پاتے ہی/ اپنے اصل میں جھانکتے ہیں/ اس سے پہلے کہ وہ/ مجھے ننگا دیکھ پائے/ لاؤ ایک دوسرے کی اصل میں/ شامل ہوجائیں/ میں اپنی ساری شبنم/ تمہاری پلکوں پہ گراتی ہوں/ تم میری سانسوں کی پگڈنڈی سے/ میرے اندر اُتر آؤ/ میں ڈھک جاؤں گی/ اپنی اصل کی اماں پاؤں گی/ لاؤ ذرا پہن لوں تمہیں

—————

میں نے ابھی تک/ اپنے سفر کا آغاز نہیں کیا/ لیکن بے شمار دکھ/ میری جان سے گزرتے رہے/ رقص کرتے رہے!/ اور وہ درد بھی جو میری ہمشیرہ نے/ ذبح ہوتے ہوئے/ میری آنکھوں میں رکھ دیا تھا/ جب سے/ دُکھ جی رہی ہوں

—————

لاتعلقی کے پانیوں میں/ ہم کب تک تیر سکتے ہیں/ تم میری آرزو/ پوری نہیں کرسکتے، نہ کرو/ مگر میرے دل کے اندر/ بولنا چھوڑ دو

 

شبنم عشائی کی شاعری ایسی ہے جیسے گورے چہرے پر سانوری آنکھیں۔ کبھی کبھی تو اس شاعری کے پیرہن پہ آنکھ بھی ٹھہر نہیں پاتی۔ یہ سرو قامت صنوبر شاعری دھیمی آنچ پر پہروں سلگتی رہتی ہے اور موتیوں کی لڑی سی بنتی جاتی ہے جس کا رشتہ آنسو اور درد سے ہے۔ مصحفی نے محبوب کی خوش قامتی پر ایک عمدہ شعر کہا تھا، شبنم عشائی کی خوش قامت شاعری کے بارے میں یہ شعر صادق آتا ہے کہ شبنم کی شاعری ان کی شخصیت سے علیحدہ نہیں ہے:

بیٹھے بیٹھے جو ہوگیا وہ کھڑا

اک ستارہ سا شب زمیں سے اٹھا

شبنم کی شاعری میں ensnaring قوت ہے اور سچ پوچھئے تو اردو شاعری میں یہ ایک husky voice ہے۔ یہ perfect porcelain poetry  ہے۔ شبنم عشائی مختلف لہجوں کی شاعرہ ہیں۔ کہیں کہیں ان کا imperious  style ہوتا ہے تو کبھی اس کا  low actave tone غضب ڈھاتا ہے۔

Haqqani Al qasmi

email : haqqanialqasmi@gmail.com

Cell: 9891726444

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

 

ادبی میراثحقانی القاسمیشبنم عشائی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بحث و تکرار- سرسید احمد خان
اگلی پوسٹ
راجندر سنگھ بیدی کے افسانہ ـ’کوارنٹین‘کا تنقیدی مطالعہ – ڈاکٹر پرویز شہریار

یہ بھی پڑھیں

مشاعرے کی افادیت – سید احتشام حسین

مئی 20, 2026

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (61)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (186)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (601)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (203)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (144)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,053)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (538)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (206)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (47)
    • طب (20)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (13)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (480)
  • گوشہ خواتین و اطفال (100)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,139)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (900)
    • خصوصی مضامین (127)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (229)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں