ایک بھاشا، دو لکھاوٹ، دو ادب: گیان چند جین مبصر: پروفیسر کوثر مظہری
بھائی اقلیدس نے کہا تھاکہ اگر دو متوازی خطوط کھینچے جائیں تودونوں آپس میں ایک دوسرے سے کبھی نہیں مل سکتے، خواہ یہ خطوط ہندوستان سے امریکہ تک ہی کیوں نہ کھینچے جائیں۔ یہ کلیہ اتنا مستحکم اور راسخ ہے کہ اگر ان دو متوازی خطوط میں سے ایک پر نارنگ صاحب اور دوسرے پر گیان چندجین صاحب چلتے رہیں تب بھی دونوں الگ الگ ہی رہیں گے۔ البتہ ہائے ہیلو ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر ان دومتوازی خطوط میں تھوڑی سی بھی منحنیت (کجی) ہوئی تو دونوں کہیں بھی باہم مل سکتے ہیں۔دومتوازی خطوط کا باہم مل جانا صرف اقلیدس ہی کے کلیے کی تنسیخ وتنکیر نہیں بلکہ تاریخ کا المیہ بھی ہوسکتا ہے۔ گیان چند جین کی کتاب ’ایک بھاشا، دولکھاوٹ‘ اسی ’تاریخی المیہ‘ کا جواز فراہم کرتی ہے بلکہ یہ کتاب اپنے آپ میں مکمل طور سے ایک تاریخی المیہ ہے۔
گیان چندجین کی اس کتاب کو پڑھ کر کسی بھی متوازن ذہن کے آدمی کو تکلیف پہنچے گی۔ یہ کتاب اردو ہندی پر کم اور ہندومسلم پر زیادہ ہے۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ 1933 میں چترسین شاستری نے ایک ایسی ہی بیہودہ اور لغو کتاب ’’اسلام کا وِش ورکش‘‘ تصنیف کی تھی جس کے خلاف منشی پریم چند اور بنارسی داس چترویدی وغیرہ نے بڑی محنت کی اور ایک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔ پریم چند نے جو خطوط لکھے، ان میں سے جنیندر کمار جین (ایک وہ بھی جین تھے، سبق لیجیے جین صاحب!)اور بنارسی داس چترویدی کولکھے گئے خط سے دواقتباسات ملاحظہ کیجیے جو میں نے پروفیسرقمررئیس کے مضمون ’پریم چند اور ہندوستانی تہذیب‘ (ماخوذازاردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب،اردواکادمی،دہلی) سے لیے ہیں:
’’ان چترسین کو کیا ہوگیا ہے کہ اسلام کاوش ورکش لکھ ڈالا۔ اس کی ایک ’’تنقید‘‘ تم لکھو اور وہ کتاب میرے پاس بھیجو۔۔۔ ایک کمیونل پروپیگنڈے کا زوروں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘ (جنیندر کمار جین کے نام۔۔۔)
’’فرقہ پرستی پھیلانے کی یہ نہایت شرانگیز اور سستی کوشش ہے جس کا پول کھولنا ضروری ہے۔میں خود سوچ رہا تھا کہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اس کے بارے میں لکھوں گا اوراب جبکہ آپ نے اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے لیا، میں دل وجان سے آپ کے ساتھ ہوں۔ ہم اقلیت میں ضرورہیں لیکن ہمیں اس کی پروا نہ کرنی چاہیے۔ ہمارا مقصد مقدس ہے۔ میں آپ کا نوٹ ’’جاگرن‘‘ میں شائع کررہاہوں۔‘‘ (بنارسی داس چترویدی کے نام۔۔۔)
ہرزمانے میں اردو ہندی تنازعہ اور ہندومسلم فرقہ پرستی کو ہوادی جاتی رہی ہے۔ لیکن ہر زمانے میں کچھ ایسے لوگ بھی رہے ہیں جو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے آگے آتے رہے ہیں۔ تکلیف توجب ہوتی ہے کہ ایک اردو کا آدمی جس کی پوری زندگی، پوری شہرت اوراس کے جسم کے دوران خون کی ایک ایک بوند پر اردو کا احسان ہے، وہی اس زبان کو گالیاں دینے لگتاہے۔ وہ بھی چلتے پھرتے یا رواروی میں نہیں بلکہ شعوری طور پر پوری Thesisقائم کرکے گالیوں پر مشتمل ایک کتاب تصنیف کرتاہے۔ یہ کتاب محض ایک آدمی یا جین صاحب کی ذہنیت کی غمازی نہیں کرتی، بلکہ ایسے ہزاروں، بلکہ لاکھوں مسموم ذہنوں کے اندرون میں پل رہے شبہات اور اردو/مسلم دشمنی کی پول بھی کھول دیتی ہے۔ کبھی کبھی یہ سوچ کر دکھ ہوتاہے کہ اردو کے ہندوشاعر وادیب جو مسلم تہذیب وروایت کو اپنی شاعری اور اپنے تخلیقی فن پارے میں سمو کر پوری مسلم قوم سے دادوتحسین حاصل کرتے ہیں وہ بھی اسی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ جین صاحب نے کئی باتیں کالی داس گپتا رضا کے حوالے سے لکھی ہیں۔ اگران سب پر اعتبار کرلیا جائے تو پھر یہ کیا ہے:
ہندو ہے نہ مسلم ہے رضاؔ مذہبِ اردو
دونوں ہی کی آغوش میں یہ پھولی پھلی ہے
(رضاؔ)
بے شک اردو کی پرورش اور آبیاری میں ہندومسلم دونوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیاہے۔ لیکن آخر آخر میں جین صاحب کو کیا ہوگیا کہ اپنے اندر کے زہر کو صلح وآتشی کے پانی میں گھولنے کی کوشش کی اور جس میں پورا پورا ساتھ دیا اردو کے بڑے ناقد پروفیسرگوپی چند نارنگ نے۔ نارنگ صاحب اس کتاب کی اشاعت کے پورے طور پر ذمہ دار ہیں جس کی تصدیق کتاب کے پبلشر یعنی ایجوکیشنل کے مالک مجتبیٰ خان بھی کرچکے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر وہ تصدیق نہیں بھی کرتے جب بھی اس کتاب کے انتساب سے اس کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اردو تہذیب، مسلم روایات اور مذہبی رواداری کے تحت نارنگ صاحب کی تحریریں اور تقریریں دونوں بے معنی ہوجاتی ہیں۔ اگرنارنگ صاحب کا اس کتاب کی اشاعت میں کوئی ہاتھ نہیں تو انھیں غلط بیانیوں سے بھری ہوئی اس ناقص اور افترا پرورکتاب کی تردید میں کچھ تحریری،تقریری بیان ضرور دینا چاہیے۔ لیکن یہ کام ان کے لیے شاید مشکل ہے۔ اگر وہ چاہتے تو انتساب میں ان کے لیے تراشیدہ جملوں کو درست کرسکتے تھے۔ میں کسی قواعد کی غلطی کی طرف اشارہ نہیں کررہاہوں، بلکہ جس بچکانہ انداز میں ان کی شخصیت کو ہوا بازی کرائی گئی ہے وہ محل نظر ہے۔ دال اور مدلول (جین صاحب اور نارنگ صاحب) کی پختہ ذہنی کی قلعی کھلتی نظر آتی ہے۔ اگر گیان چند جین کو معلوم نہیں کہ نارنگ صاحب کے تصنیفی آثار میں سے کون سی یا کون کون سی کتابیں معیاری (یعنی ہوش رُبا) ہیں تو نارنگ صاحب کو تو اپنی کتابوں کے معیار کا اندازہ ہوگا۔ وہ خود ہی اسے درست کرلیتے۔ فاروقی صاحب نے بجاطور پر لکھا ہے کہ جین صاحب نے نارنگ کی جس کتاب کا ذکر کیاہے (امیرخسرو کا ہندوی کلام) وہ ان کی سب سے کمزور تصنیف ہے۔
گیان چند جین نے ’’حرف اول‘‘ میں یہ بھی لکھاہے:
’’مجھے یہ کتاب بڑے نامساعدحالات میں لکھنی پڑی ہے۔ میری اہلیہ اور میں مسلسل بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ اب میرے جسم کا توازن بگڑگیاہے۔۔۔ لیکن ذہن چاق وچوبند ہے۔۔۔‘‘ (ص12)
تصنیف وتالیف کا کام ہمیشہ یکسوئی اورجذب وخلوص کے ساتھ کیا جاتاہے۔ اگر جبر ہو تو ایک شعر نہیں کہا جاسکتا چہ جائیکہ پوری کتاب لکھ دی جائے، وہ بھی اس قدر مربوط ومبسوط۔ جین صاحب نے لکھا ہے کہ ’’لکھنی پڑی‘‘ اس سے ظاہر یہ ہوتاہے کہ یہ کام صرف جین صاحب کا نہیں، بلکہ کئی ذہنوں نے کیاہے یاان سے کرایا گیا ہے۔ میرااپنا perceptionاور میری وجدانی قوت کہتی ہے کہ اس تصنیف میں او ربھی لوگ شامل ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ جین صاحب اکیلے ہی میدان میں اترے اور اپنی بنی بنائی ساکھ خراب کرلی۔ افسوس ناک بات یہ بھی ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ مسلسل بیماریوں میں وہ مبتلا ہیں، ذہن کا توازن بگڑ گیاہے۔ لیکن یہ بھی لکھتے ہیں’’ذہن چاق وچوبندہے‘‘ میں پوچھتا ہوں کہ کیا اب تک اسی لیے ہیں کہ ایسی بیہودہ اور لغو کتاب تصنیف کی جائے؟ اب آپ صفائی دیتے پھر رہے ہیں۔ ہماری زبان (22-28 جون2006)کے آخری صفحے پر فاروقی صاحب کے تبصرے پر اظہارخیال کرتے ہوئے پھر وہی باتیں دہرادی ہیں جو اس کتاب کے آخر میں موجود ہیں۔ جین صاحب نے شاید یہ سمجھ لیاہو کہ فاروقی صاحب نے یہ تبصرہ لکھتے ہوئے اس حصے کو نظرانداز کردیا ہے۔ دراصل وہ حصہ استخواں فروشی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اپنی لغویات پر پردہ ڈالنے کی یہ ایک بے معنی اور مجہول سی کوشش ہے۔
جین صاحب لکھتے ہیں:
’’ہندوستان میں مسلمان اردو والے اپنی کمر پر دوقومی نظریے کا بھاری گٹھر اٹھائے پھرتے ہیں۔ ہندوستان نے یہ بہت اچھا کیا کہ اپنے آئین میں دینی حکومت (Theocracy)کا تصور رد کردیاا اور غیرمذہبی آئین اختیار کیا۔اس کی وجہ سے مسلمان اردو والے بجاطور پر اپنے لیے ہرقسم کے حقوق اور سہولتیں طلب کرسکتے ہیں۔ ایک عام ہندو کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ملک میں مسلمانوں کو ہندوؤں کے برابر کیوں رکھا جائے۔‘‘ (ص33)
اس اقتباس پر غور کیجیے۔ مسلمان اردو والے اگر اپنی کمر پر دوقومی نظریے کا بھاری گٹھر اٹھائے پھرتے ہیں (جو صرف جین صاحب کو نظر آتاہے) تو سوال پیدا ہوسکتاہے کہ ہندواردو والے اپنی کمر پر کیا کچھ اٹھائے پھرتے ہیں؟ کیا ان کی کمر ہلکی ہوچکی ہے، یا کمر ہی ٹوٹ گئی ہے؟ آخر کچھ تو ہوگا جسے وہ بھی اٹھائے پھرتے ہوں گے۔ جین صاحب کو سمجھنا چاہیے کہ اس آزاد ہندوستان میں مسلمان اردو والوں کی کمر واقعتا فسادات نے توڑدی ہے۔ یہ تو جب آپ یا آپ جیسے کرم فرما اپنی تحریر یا تقریر میں دوقومی نظریے کا ذکر کرتے ہیں تو ان بے چارے مسلمان اردو والوں کو اس کی یاد آتی ہے اور آن کی آن میں اس کی تصویر دھندلی بھی ہوجاتی ہے۔ کیوں کہ عام مسلمانوں کو اس دوقومی نظریے سے کبھی کچھ لینا دینا نہیں رہا۔ہندوستان کے غیرمذہبی آئین کی تعریف میں بھی کرتا ہوں۔ اگر Theocracyکا تصور رد کردیا گیا تو غور کیجیے کہ اس کے باوجود اس دیش کو ہندوانے کی کیسی کیسی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک عام ہندو (یہ ’عام ہندو‘بھی وضاحت طلب ہے) کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ملک میں مسلمانوں کو ہندوؤںکے برابر کیوں رکھا جائے۔ جین صاحب کو (’عام ہندو‘کے زمرے میں غالباً وہ بھی ہیں۔ حالانکہ وہ مذہب بے زار ہیں) اگر سمجھ میں نہیں آتا تواس کا کیا علاج ہے۔ ہندو اور مسلمان کس کس سطح پر برابر ہیں اوربرابر نہیں ہیں۔ آئین ہند کیا کہتاہے۔ جین صاحب شاید ہندوستان کے آئین کی نفی کرنا چاہتے ہیں جس طرح کٹر ہندو کیا کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا سازشیں نہیں ہوتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ان کے تمام حقوق ہندوؤں کے برابر خوب مل رہے ہیں جس کے سبب جین صاحب کو تکلیف ہورہی ہے۔ اگر وہ تمام اردو والے نہ لکھ کر صرف مسلمان لکھتے تب بھی ٹھیک تھا، کیوں کہ ان کا منشا تو یہی ہے۔
اسی میں آگے چل کر لکھتے ہیں:
’’میں اپنے اردو والے مسلمان دوستوں کی تحریریں دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔ ان میں اب بھی وہی علاحدگی پسندی دکھائی دیتی ہے جو پہلے تھی۔ابنائے وطن کے بارے میں ان کے جذبات وہی ہیں جو ہندوستان کے باہر کے اردو والوں کے ہیں۔ ہندی کے لیے اب بھی وہی جذبہ ہے کہ متعصب ہندوؤں نے اسے اردو کے مقابلے میں مصنوعی طور پر گھڑ لیا۔ ’’اپنے ایسے خیالات کے ساتھ حکومت ہند سے ان کی توقعات ہیں کہ ان کو سہولتوں میں ترجیح دی جائے۔‘‘ (ص33)
سب سے پہلے جین صاحب سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ جب انھیں اپنے اردو والے مسلمان دوستوں کی تحریریں دیکھ کر (جن میں علاحدگی پسندی بھری ہوئی ہے) حیرت ہوتی ہے تو ذرا سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ان کی اس تحریر(کتاب) کو دیکھ اور پڑھ کر اردو والے مسلمان دوستوں کو کس درجہ حیرت ہوئی ہوگی یا ہوسکتی ہے؟ علاحدگی پسندی کی بو جس شدت کے ساتھ آپ کی اس کتاب سے آتی ہے ایسی کوئی مثال کم سے کم ہندوستان کے کسی مسلمان اردو والے کی تحریر سے نہیں آتی۔ جہاں تک ابنائے وطن کے بارے میں ان کے جذبات کی بات ہے، ان سے، آپ کے علاوہ کم از کم 70فیصد ’ابنائے وطن‘ واقف ہیں۔ ہاں ادھر چندبرسوں میں کٹر ہندوپرستی کے زہر نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی فضا کو مسموم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے۔ ہندی زبان سے محبت(خواہ وہ ضرورت کے تحت ہی کیوں نہ ہو) کی یہ بھی مثال ہے کہ پڑھے لکھے مسلمانوں میں سے کم سے کم80فی صد ضرور ایسے مل جائیں گے جو ہندی اچھی طرح لکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ ہندوستان کے باہر کے اردو والے کیا جذبات رکھتے ہیں، اس سے مجھے کچھ لینا دینا نہیں۔ جب آپ اردو والے ہوکر، اردو کے تئیں ایسا پست خیال رکھتے ہیں؛ تو دوسرے پر انگشت نمائی کرنے کا بھلا آپ کو حق ہی کیا پہنچتا ہے؟
(یہ بھی پڑھیں محمد حسن کا مضمون ’سچی جدیدیت، نئی ترقی پسندی‘ بازدید- پروفیسر کوثر مظہری)
دراصل گیان چند جین جب اردو والے مسلمان کہتے ہیں تواس سے صرف اور صرف ’’مسلمان‘‘ مراد لیا جانا چاہیے۔ مسلمان اور اسلام نے کبھی بھی ہندوؤں یا ہندوستان کو ضرب نہیں پہنچائی۔ جین صاحب نے اگر اور کتابیں نہیں تو کم از کم ڈاکٹرتاراچند کی مشہور کتاب Influence of Islam on Indian Cultureتو ضرور پڑھی ہوگی۔ بلکہ اس کتاب میں کئی جگہوں پرانھوں نے اسے Quoteبھی کیا ہے۔اسی کتاب سے گن کر بتائیں کہ مسلمان اور اسلام نے ہندوستان اور ہندوؤں کو کہاں کہاں نقصان پہنچایا؟ اس کتاب سے ایک چھوٹا سا اقتباس یہاں دیکھتے چلیں:
’’جب فتح یابی کا پہلا طوفان تھم گیا اور ہندو اور مسلمان ایک پڑوسی کی طرح رہنے سہنے لگے تو بہت دنوں تک ساتھ ساتھ رہنے کی وجہ سے انھوں نے ایک دوسرے کے خیالات، عادات واطوار، رسم ورواج کے سمجھنے کی کوشش کی اور بہت جلد ان دونوں قوموں میں اتحاد پیدا ہوگیا۔‘‘
(کتاب مذکوراز تاراچند،ص137)
گیان چندجین اس پرآشوب دور میں ہندوستان سے دورجاکر ہندوستان کی دوبڑی قوموں کے مابین نفرت کی دیوار کھینچنا چاہتے ہیں۔ یہاں اگر ہندوستانی تہذیب کا عکس صرف اردو شاعری میں دیکھنا چاہیں تو بے شمار مثالیں بھری پڑی ہیں۔ آج تک اقبال کے علاوہ کوئی دوسرا ہندی (ہندوستانی)، اردو یا کسی دوسری زبان کا شاعر نہیں ہوا جس نے حب الوطنی کے جذبے کو صرف ایک مصرعہ میں اس شدت کے ساتھ پیش کردیا ہو: ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ یہ الگ بات ہے کہ جین صاحب نے اقبال کو بھی نہیں بخشا۔ اقبال نے ’رام‘ پر بھی نظم کہی۔ گرونانک پر بھی کہی، اور بھی دوسری کئی نظمیں ہیں۔ ہندوستان کی تعریف میں ’ہمالہ‘ سے اچھی کوئی نظم اگر ہندی میں کہی گئی ہو تو جین صاحب پیش کریں۔ جین صاحب کو مزید تسلی کرنی ہو تو نظیراکبرآبادی کی بازقرأت کرلیں تاکہ وہ اس قسم کی بہکی بہکی باتیں نہ کریں۔ کچھ اور مثالیں دیکھنا پڑھنا چاہیں تو پروفیسرنارنگ کی ہی دواہم تصانیف ’اردوغزل اور ہندوستانی ذہن وتہذیب‘ اور ’ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردوشاعری‘ کی ورق گردانی کرلیں یا کروالیں۔ اس کے علاوہ بارٹولڈکی تہذیب اسلامی (ترجمہ وزارت علی) گوری شنکر ہیراچنداوجھا کی کتاب قرون وسطیٰ میں ہندوستانی تہذیب (ترجمہ: پریم چند) اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب (مرتبہ: کامل قریشی دہلی، اردواکادمی، 1987)بھی دیکھ سکتے ہیں، کچھ کام کی چیزیں ضرور مل جائیں گی۔ انگریزی میں پی سی رائے کی کتاب Islamic culture & National Educationہی پڑھ لیتے تو انھیں اس ہذیاں سرائی کی نوبت نہیں آتی۔ Medieval Islamپڑھ لیتے جو Grunebaumکی تصنیف ہے، یوسف حسین کی Glimpses of Medieval Indian Cultureدیکھ لیتے۔مقام افسوس ہے کہ تمام احوال وکوائف نیز تاریخی شواہد سے باخبر ہونے کے باوجود، ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اورآخرکار چھلک پڑا۔ کیوں نہ نارنگ صاحب کی کتاب سے ایک دواقتباسات پیش کردیے جائیں تاکہ قارئین غور کریں کہ جین صاحب جن کے نام یہ کتاب معنون کرتے ہیں، ان کے نظریات کیا ہیں۔ لکھتے ہیں:
.1 ’’ہندوستانی ذہن جو کثرت میں وحدت دیکھ لینے کا حیرت انگیز ملکہ رکھتا ہے،اس اختلاف کی نہ تو مذمت کرتاہے نہ اسے مٹانا چاہتا ہے، کیوں کہ ہندوستان جیسے پھیلے ہوئے وسیع وعریض ملک میں زندگی کی یہ بوقلمونی ناگزیر ہے۔۔۔ ہندوستانی ذہن کے نزدیک اخلاق کی بنیاد کشمکش پرنہیں بلکہ ہم آہنگی پر ہے۔‘‘
(اردوغزل اورہندوستانی ذہن و تہذیب، ص30,31)
.2 ’’فن تعمیر اور مصوری کی طرح موسیقی میں بھی ہندوؤں اور مسلمانوں کے مذاق میں گہری ہم آہنگی پیدا ہوگئی تھی۔ ’خیال‘ مسلمانوں کی ایجاد ہے، وہ ہندوؤں میں بھی مقبول ہوا۔ اسی طرح دھرپدجوقدیم ہندوطرز تھا، اسے مسلمانوں نے شوق سے اپنایا۔ ستار اورطبلہ کی ایجاد مسلمانوں سے منسوب ہے۔‘‘ (ایضاً،97,98)
.3 ’’ادبی سطح پر ہندوؤں اورمسلمانوں میں جوگہرا ارتباط پیدا ہوا اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ ’’ہندواورمسلمان اپنی تصنیف وتالیف کا آغاز حمدوثنا سے کرتے تھے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ یہ حمدوثنا مصنف کے مذہب کے بجائے زبان کے مذاق کے مطابق کی جاتی تھی۔ مثلاً ہندواگرفارسی زبان میں کوئی کتاب لکھتا تو بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع کرتا۔۔۔ اسی طرح مسلمان ہندی میں کوئی کتاب لکھتا تو اس کا آغاز وہ گنیش،سرسوتی، ہندوؤں کے کسی دیوتا کا نام لے کرکرتا۔ چنانچہ رحیم نے ’مدناستکا‘ شری گنیش نامہ لکھ کر شروع کیا۔ یعقوب نے راشابھوشن لکھی تو شری گنیش جی شری، شری سرسوتی جی، شری رادھا کشن جی اور شری گوری شنکرجی کے فضل ورحمت کا طالب ہوا۔‘‘
(ایضاً،ص:101،بحوالہ معارف، جلد45، شمارہ 40، ص231)
نارنگ صاحب کے مذکورہ بالا اقتباسات پر جین صاحب توجہ دیں، ان کا بھی بھلا ہوگا اور قوم کا بھی۔
جین صاحب کی کچھ باتیں درست بھی معلوم ہوتی ہیں۔لیکن ان باتوں کے ایک ہی رخ پر ان کی نظرہے۔ انھوں نے ہندوستان میں اردو کے ہندوادیبوں کے کئی زمرے بنائے ہیں۔ پہلے زمرے میں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوادیب شخصی اور تہذیبی اعتبار سے مسلمان نہیں تو نیم مسلمان ہیں۔ انھیں دکھ ہے کہ وہ ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ میرا ماننا ہے کہ اس زمرے میں کچھ مسلمان بھی آتے ہیں اور یہ بالکل ذاتی بلکہ نہایت ہی ذاتی چیز ہے کہ وہ خود کو کیا سمجھتا ہے۔ مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ وہ سچا اور پکا مسلمان بھی ہو۔بہت سے ایسے مسلمان ہیں جنھیں خود اپنے گھر کی مذہبی اوراسلامی طرززندگی کبھی پسندنہیںآئی، جس کا اظہار بھی ہوتا رہا۔ میں صرف تین مثالیں پیش کرتاہوں۔ جوش ملیح آبادی، ن م راشد، عصمت چغتائی، ان کے علاوہ بھی کئی لوگ ہیں۔ دوسرے زمرے میں جین لکھتے ہیں کہ ایسے ہندو ہیں جو ہندومسلمان کے بیچ کے ہر معارضے میں اپنی وسعت نظر دکھانے کے لیے سارا قصور ہندوؤں کا بتاتے ہیں۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ یہاں ایسے مسلمان بھی بہت ہیں جو اپنی وسیع النظری اور وسیع المشربی ثابت کرنے کے لیے سارا قصور مسلمانوں کے سرتھوپ دیتے ہیں۔ مسلمان تو خیرہندواکثریت والے دیش میں مصلحتاً بھی ایسا کرتے ہیں لیکن اگر ہندوادیب ایسا کرتے ہیں تواس میں کوئی مصلحت ہے یا کیا ہے اس کا صحیح جواب جین صاحب کے پاس بھی نہیں ہوگا۔ کیوں کہ انھوںنے لکھا ہے کہ کچھ ہندومصلحتاً Secularہوگئے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ ہندوئوں کو جب اس حقیر قوم سے کوئی خطرہ یا خوف نہیں تو مصلحت کیسی؟ مسلمان تواپنے وجود کے تحفظ کے لیے مصلحت کوشی سے کام لیتے ہیں جو ایک طرح کی مجبوری ہے۔ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ بعض ہندوادیب مسلمانوں کی طرح نعت ومنقبت وغیرہ لکھ کر مسلمانوں میں مقبول ہوجاتے ہیں۔ بلکہ ان سے تمتع اندوزی بھی کرتے ہیں۔ اگرانھیں مسلمان دینی بزرگوں اورقائدوں سے اتنی ہی عقیدت ہے توان کے عقائد،صحیفوں اورمسلک کوکیوں نہ قبول کریں (ص:26)۔ پہلے تومیں ان کے اس موقف سے اتفاق کرتاہوں کہ اگرواقعی ایسے ہندوادیب مسلم تہذیب اورعقائد سے اتنی عقیدت رکھتے ہیں توان کے مسلمان ہو جانے میں کیا حرج ہے؟ لیکن یہ سب محض صنّاعی ہے، جیسا کہ جین صاحب نے بھی لکھاہے۔ جین صاحب کی تسلی کے لیے اتنا عرض کردوں کہ بہت سے ایسے عاشق رسول ہیں جو نعت کہتے ہیں اور شراب بھی پیتے ہیں۔ بہت سے ایسے مسلم شعرا ہیں جو نعت،حمد اوردوسرے مذہبی موضوعات پرنظمیں کہتے ہیں لیکن شراب پیتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ یہاں تک کہ اسلامی عقیدے کی جوروح نماز ہوتی ہے، اس سے بھی دورہوتے ہیں۔ جہاں تک ان اصناف شعر کو برتنے کا سوال ہے تواس سے جین صاحب کو بالکل پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ ایساتومحض فن شعر میں طبع آزمائی کرکے تخلیقی جوہر ظاہر کیاجاتاہے۔ جس طرح نظم، قصیدہ، مثنوی،رباعی،قطعہ اوردوسری اصناف شعرکو برتا جاتاہے، اسی طرح نعت اور حمد یا منقبت وغیرہ میں طبع آزمائی کی جاتی ہے۔ اورہاں جسے مسلمان ہونا ہوتاہے وہ بغیر حمد، نعت یا منقبت کہے ہوئے حلقہ اسلام میں آجاتا ہے۔ ایک پہلو اورہے جس کی طرف غورکرنا چاہیے کہ دراصل ایسا کرنے سے تفریق بین الملل بھی ختم ہوتی ہے اور آپسی ہم آہنگی اور تہذیبی اختلاط کی صورت پیدا ہوتی ہے، جوکم سے کم ہندوستان جیسے ملک کے لیے ضروری ہے۔ رام پر اورگرونانک پر شاعر مشرق نے بھی نظمیں کہی ہیں توکیا ان سے یہ کہا جانا چاہیے تھا کہ آپ ہندو یا سکھ ہوجائیے۔ ایسی باتیں کرکے جین صاحب ہندوستان کے دوفرقوں کے درمیان ایک گہری کھائی بنانا چاہتے ہیں۔ کاش وہ ہندوستان میں ہوتے اور گوپی ناتھ امن کامسلک سمجھتے:
ہے دیر سے لگائو بھی حرم سے بھی ہے واسطہ
لحاظِ خانقاہ بھی عزیز چاردھام بھی
یہاں کے ہندوادیب خوب سمجھتے ہیں کہ جین صاحب کی یہ کتاب ایک شوشہ، ایک شگوفہ کے سوا کچھ نہیں یا پھر یہ کہ آخری وقت میں وہ سستی شہرت کمانا چاہتے ہیں لیکن اس سے انھیں نقصان یہ ہوگا کہ پوری زندگی کی کمائی ہوئی عزت مٹی میں مل جائے گی۔ بلکہ یہ عمل شروع ہوچکاہے۔
فارسی کے مشہور شاعر مرزاعبدالقادر بیدل نے ’نرگسستان‘‘ کے نام سے منظوم کتاب تحریر کی جس میں رام چندر کے تئیں اپنی عقیدت کااظہار کیا۔ چنداشعار دیکھئے:
اگرچہ بیشتر این داستانے
بہ نظم آوردہ ام دریک زمانے
بہ عشق رام چون بلبل سرایم
سرائے غنچۂ دلہا کشایم
چوں اندر گوشۂ او بنشینم
گل از باغ و بہار اوبچینم
بہ عشق رام گویم این فسانہ
کہ باشد دل ربا از ہر ترانہ
بود نامش فروز مشعل روز
بہ ہر منزل بود نامش دل افروز
اس کے علاوہ بیدل نے شاہنامہ کی بحر میں بھی ایک نظم رام کی عقیدت میں کہی تھی۔ چند شعر دیکھیے:
بود نام او کیمیا در جہاں
مس روح را کیمیا زر نہاں
کزاں ذکر بارام خود در جہاں
شوم تا ابد خرّم و شادماں
گہر سفت آں مرشد خاص و عام
بگفتا زہے نرگسستانِ رام
مثالیں بہت سی ہیں۔ ایسے مسلمان شعرا کی فہرست طویل ہے جنھوں نے ہندی شعر وادب کو اس کے پورے تہذیبی تناظر میں پروان چڑھایا۔ عبدالرحیم، کبیر، ملک محمدجائسی، ملاکمال(کبیر کے بیٹے)، نورمحمد، کتبن، ملاراؤ، رس کھان، ادیب طاہر وغیرہ۔ اسی طرح اردو کے ہندوشاعروں اور ادیبوں نے اردو شعر وادب کو اس زبان کے تہذیبی وتلمیحی تناظر میں پروان چڑھایا۔ بس اتنی سی بات جین صاحب کی سمجھ میں نہیں آئی، اوراگر سمجھ میں آئی تو عمداً الٹا مطلب اخذ کرنے کی کوشش کی۔ پوری قومی یک جہتی اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کی روح کو جین صاحب نے اپنی اس کتاب سے مجروح کرنے کی کوشش؍سازش کی ہے۔
ہم سب کو معلوم ہے کہ شاہ جہاں کے بیٹے داراشکوہ نے اُپنشد کووحدانیت کا منبع قرار دیا تھا۔ اس کی انگوٹھی میں لفظ’پربھو‘کندہ تھا۔ جب وہ بنارس کا گورنر تھا توا س وقت ویدانت،گیتا اور اپنشد کے ترجمے فارسی میں کرائے تھے۔ اس کے علاوہ اس نے خود ہندوویدانت اوراسلامی تصوف کے حوالے سے ’مجمع البحرین‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی تھی۔ ان تمام تاریخی شواہد کے ساتھ غالب کی مثنوی ’چراغ دیر‘ بھی پڑھی جاسکتی ہے— یعنی جین صاحب اگر اس موضوع پر موجود متون کا Intertextualمطالعہ کریں اور نیت درست کرکے کریں، تو شاید انھیں خود ہی اپنی کتاب کا جواب، جواب شکوہ یا قاطع برہان کی طرح لکھنا پڑے گا۔
استاد ص38 پر اپنے شاگرد کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:
’’پنڈت آنند نرائن ملا نے اپنی نثری تحریروں میں کہاہے کہ اردو غزل کی محبوبہ ایک طوائف ہے، غزل کی گہرائی میں یہ بات صحیح معلوم ہوئی ہے۔ غالب کے یہ شعر دیکھئے:
نقشِ نازِ بت طنّاز بہ آغوش رقیب
پائے طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے
——
رات کے وقت مے پیے ساتھ رقیب کو لیے
آئے وہ یاں خدا کرے پر نہ کرے خدا کہ یوں
لندن کے مشہور اردو عالم پروفیسر رالف رسل نے اپنی انگریزی کتاب The Persuit of Urdu literature:A Short Historyمیں لکھاہے ہے کہ انگریزی بولنے والے مغربی قارئین کے لیے غزل کو سمجھنا اور اس کی قدر کرنا بہت مشکل ہے۔ وہ غزل کے عاشق اور محبوب کے کردار اور رقیب اور شیخ وغیرہ کو نہیں سمجھ پاتے۔ غزل کی ریزہ خیالی انھیں بوکھلاتی ہے۔ غزل کی رسّی پربیش قیمت جواہر، خزف اورکانچ ایک ساتھ ٹانک دیے جاتے ہیں۔ غزل کے محبوب کی جنس مغربی قارئین کی فہم سے بالا تر ہے۔‘‘ (گیان چند:اردو کی ادبی تاریخیں، کراچی2000، ص109)
اردو کے متعدد بڑے شعرا مثلاً مومن، داغ، جگر اور اصغر وغیرہ کی زندگیوں کے ساتھ طوائفوں کے معاملات لپٹے ہوئے ہیں۔‘‘
استاد! غزل کاجو محبوب ہے (آپ ’کا‘پر کئی بار غور کیجیے شاید آپ کا عقدۂ جنس کھل جائے) اس کی جنس کے چکر میں ملّاجی اورآپ دونوں کیوں خراب ہونا چاہتے ہیں؟ ملا جی توخیر حیات نہیں رہے، انھیں مقتبس کرکے آپ ان کی روح کو آخر کیوں تکلیف دینا چاہتے ہیں۔ اگریہ محبوب ؍محبوبہ طوائف ہے تویہ اردوزبان کی حددرجہ وسیع ظرفی ہوئی کہ اس نے اس Untouchableکو اپنے دامن میں جگہ دی، جسے دنیا والے صرف بازار اور کوٹھے کی زینت تصور کرتے ہیں۔ جین صاحب نے ایک جگہ یہ بھی لکھاہے کہ اردو طوائفوں کی زبان ہے۔ یعنی اس زبان اردو کا جو بھی سیاق وسباق ہے وہ طوائف اور صرف طوائف ہے۔ لیکن ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ اس طوائف کی زبان، جس کی محبوبہ بھی (میں تو جس کا محبوب کہتاہوں) طوائف ہے، اپنے دوران خون میںشامل کرکے، اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کے، بلکہ اسی کو ذریعہ شہرت ومعاش بناکے، اب تک کیوں جیتے رہے؟ اوراب جبکہ عمر کے آخری پڑاؤ پر آچکے تواس طوائف کو آپ پھراسی چکلے میں واپس بھیجنا چاہتے ہیں؟ لیکن یہ توشاید ایک فطری عمل ہے۔ طوائف مستقل بیوی بن کر تورہ نہیں سکتی، اس کا احساس جین صاحب کواب ہوا ہے تو انھیں اچانک اس طوائف سے گھن سی آنے لگی ہے۔
لندن کے مشہور عالم رالف رسل کچھ نہیں بیچتے۔ ان کو دیکھ اور سن چکا ہوں۔پروفیسر خورشیدالاسلام سے جو کچھ تھوڑا بہت سیکھا، اس کا بھی آدھا بھلا کر وہ لندن چلے گئے۔ انھوں نے توشعبہ اردو جامعہ ملیہ میں تقریر کرتے ہوئے ایک بار یہ کہا تھا کہ ’’اقبال کہتے ہیں کہ ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘ یہ کیا بات ہوئی، بالکل بچکانہ بات ہے۔‘‘ آپ رالف رسل کی شعر فہمی اورتناظر اور محل سے ان کی لاعلمی کا اندازہ لگا لیجیے۔ رالف رسل نے اگر یہ لکھ دیا کہ مغربی قارئین کے لیے غزل کو سمجھنا مشکل ہے تواس پر اس قدر ہراساں ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ مشرقی قارئین میں ہی کتنے ہیں جنھیں غزل سمجھ میں آجاتی ہے؟ اگر سب کے سب سمجھ لیتے توپڑھنے پڑھانے یا فاروقی صاحب یا خود جین صاحب کو تشریحیں لکھنے کی کیا ضرورت پڑتی؟ بے چارے یوسف سلیم چشتی کو سرکھپانے کی کیا ضرورت پڑتی؟ ہمیں بھی مغرب کی کوئی چیز بلکہ بیشتر چیزیں سمجھ میں نہیں آتیں تو سر کھپاتے ہیں، لغات دیکھتے ہیں، کبھی کسی سے پوچھ بھی لیتے ہیں۔ جین صاحب کو خود اسی اقتباس میں پیش کیا گیا دوسرا شعر کہاں سمجھ میں آیا۔ اوپر کا دوسرا شعر پڑھیں۔ جین صاحب اور ملاجی یہی سمجھتے ہیں کہ اردو غزل کا محبوب طوائف ہے۔ واضح رہے کہ اردو غزل میں محبوب ہمیشہ ساقی کا کام کرتاہے، خود شراب نہیں پیتا۔ میں ’’پیتا‘‘ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ مجھے اس کا طوائف ہونا قبول نہیں۔ چلیے اگر طوائف ہے تویہی کہیں گے کہ اردوغزل کی محبوب شراب نہیں پیتی بلکہ پلاتی ہے خواہ وہ آنکھوں سے پلائے یا جام سے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو غالب کے اس شعر میں ہی سقم ہے۔ غزل فارسی سے آئی ہے اس لیے اردو میں بھی، روایت، لفظیات اصطلاحات بیشتر (قدیم غزل میں توپوری طرح) وہی رہی ہیں جو فارسی میں رائج ہیں۔ بہ لحاظ جنس فارسی غزل کا محبوب آخر کیا ہے؟
اگر ’آں ترک شیرازی‘ بدست آرد دل مارا
بخالِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را
اگر غزل کے محبوب کی جنس مغربی قارئین کی فہم سے بالاتر ہے توآپ کو پھر سے اپنی دیسی تہذیب وثقافت کو سمجھنا ہوگا۔ تبھی غزل کا محبوب بھی سمجھ میں آئے گا۔
اردو غزل کے محبوب میں ایک توازن، رکھ رکھاؤ، سلیقہ مندی اور کسی قدرجھجک بھی ہے لیکن مغرب کا محبوب بلکہ کی محبوب توہمیشہ بے پردہ ہے اور اس میں ایک طرح کی جرأت مندی اور Boldnessہے۔ ہم اردو والے یعنی غزل والے، مغربی محبوب سے غزل کی محبوب کا موازنہ کیوں کریں؟
ان سب باتوں کے باوجود یہ بھی عرض کردینا ضروری ہے کہ اردونے اپنا جادو ایسا چلایا ہے کہ ہندی، نیپالی اور بھوج پوری میں غزلیں کہی جانے کے بعد انگریزی میں بھی غزلوں کا رواج قائم ہوچلا ہے اورکئی ایک غزل کے مجموعے انگریزی میں بھی آچکے ہیں۔
انگریزی میں غزل کہنے والے شاعروں اوران کے مجموعوں کا ذکر مختصراً یہاں کیا جارہا ہے۔ مشہور جرمن شاعر گوئٹے (1749-1832) نے ایک مجموعے میں اپنی غزلیں شامل کیں۔ یہ مجموعہ 1819 میں West Ostlicher Divan (West Easterly Divan) کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غزل کا جادو چلنا کتنا پہلے شروع ہوگیاتھا۔ اسی طرح Friedrich Ruckertنے 1821 میں Ghazlenکے نام سے اور Von Platenنے بھی Ghaslenہی کے نام سے اپنا مجموعہ غزل شائع کیا۔ Adrien Richنے اپنے مجموعہ کلام Leaflets(1969) میں اپنی ۱۷غزلیں Homage to Ghalibکے عنوان سے اور 9غزلیں اپنے مجموعے The will to change(1971) میں شامل کیں۔ اس کے علاوہ اپنی کتاب Collected Early Poems(1993) میں غزل اور غالب دونوں پراظہار خیال کیا۔ وہ امریکہ کی ایک مشہور شاعرہ ہیں۔ آسٹریلیا کے شاعر Judith wrightنے اپنی 12غزلیں Shadow of fireکے عنوان سے اپنے مجموعہ کلام Phantom Dwelling(1985) میں شامل کیں۔ کینڈا کے شاعر John Thomsonکا مجموعہ Stilt Jack(1978) کے نام سے چھپا، جس میں 38 غزلیں موجود ہیں۔ Jim Harrisonکا مجموعہ Outlyer and Ghazalsچھپا جس میں 65غزلیں شامل کیں۔ اسی طرحPhyllis webbایک مشہور شاعرہ ہے جس نے 13غزلیں (اینٹی غزل) اپنے مجموعہ Sunday water(1982) میں شامل کیں اور آگے چل کر غزلوں کابھی مجموعہ water and light(1982) کے نام سے چھپا۔ Douglas Barbourنے اپنی آٹھ غزلیں Breath Ghazalsکے عنوان سے اپنے مجموعہ کلام Visible visions(1984) میں شائع کیں۔ اسی طرح آغاشاہدعلی نے 109 شاعروں کی انگریزی غزلوں کا مجموعہ مرتب کیاجس کا نام ہے۔Ravishing Disunities:Real Ghazals in English (2000)اس کتاب میں John Hollanderنے اردو غزل کو Defineکرتے ہوئے ایک طرح سے اس صنف سخن پر تبصرہ بھی کیاہے۔ اس غزل کا عنوان بھی ہے، Ghazals on Ghazals۔آئیے صرف مطلع ملاحظہ کیجیے:
For couplets Ghazal is prime : at the end
of each one’s refrain like a chime : at the end
پروفیسر انیس الرحمن نے یہ پوری غزل اپنے مضمون On translating a form: The Possible/impossible Ghazal in English کے آخر میں دیے گئے Notesمیں شامل کی ہے۔ یہ مضمون ان کی مرتب کردہ کتاب Translation: Poetics & Practice (2002)میں شامل ہے۔
میں نے اوپر ایک اقتباس نقل کیا تھا جس کے ذیلی جواب کے لیے انگریزی غزل کا ذکر چھیڑنا پڑا، اس کے آخر میں جین صاحب نے چارشعرا مومن، داغ، جگر اوراصغر کے بارے میں لکھاہے کہ ان کی زندگیوں سے طوائفوں کے معاملات لپٹے ہوئے ہیں۔ معاملات کا لپٹنا بھی کیا خوب محاورہ ہے۔ ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر جین صاحب یا ان کے دوسرے ہم نوا بتائیں کہ طوائفوں کے معاملات کیا انہی چار غریب شعرا کے دامن سے لپٹے ہوئے ہیں یا اس فہرست میں اضافے کی مزید گنجائش ہے؟ میرا خیال ہے کہ ایک لمبی فہرست تیار ہوسکتی ہے جس میں اردو کے ہندوادیب بھی شامل ہوں گے۔ اگریہ تسلیم کربھی لیں تواس سے کیا یہی ثابت ہوتاہے کہ غزل کا/کی محبوب طوائف ہے۔ مان لیجیے کہ کسی شاعر نے طوائف کے علاوہ کسی اور خاتون سے معاملہ رکھا تو پھر اس کی غزل میں جو محبوب ہوگا؍ہوگی اس کی جنس کیا ہوگی؟ کیا وہ بھی طوائف ہوگی؟ اس جدید عہد میں میرے خیال سے طوائف کی Definitionبھی بدل چکی ہے۔ یعنی اس لفظ کا اطلاق اپنے سیاق وسباق میں اسی طرح نہیں ہوتا جس طرح تیس یا چالیس پچاس برس پہلے تک ہوتا رہاہے۔ ’کال گرلز‘ کی اصطلاح نے سب کچھ بدل دیا ہے۔ لہٰذا غزل کے محبوب والا مسئلہ بڑا پیچیدہ ہے، بلکہ لاینحل ہے۔ اس محبوب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ مذکر بھی ہوسکتا ہے اور مونث بھی، بلکہ یہ بھی کہ مذکر بول کر مؤنث مراد لیاجائے۔ اردو کے کئی شاعروں نے اپنی تسلی کے لیے مونث محبوب کا استعمال کیاہے۔ البتہ اس کا طوائف ہونا یقینی نہیں۔ غزل کا محبوب ایک علامت ہے۔ آخر صوفیانہ شاعری میں یہ محبوب اور معشوق اللہ کی طرف کیسے ہمارے ذہن کو مائل کرتا ہے؟ دوسرے یہ کہ جو شاعرات ہیں ان کے محبوب کا مسئلہ بھی تو ہے آخر اسے کون طے کرے گا؟ یہ بحث فضول ہے۔یہاں اس کی تفصیل کی گنجائش نہیں۔
آٹھویں باب میں ص119 پر لکھتے ہیں:
’’ہریجن ہوں یا غیرہندو، ہندوستان کے ہرمندر میں سب کو داخلے کا حق ہے جبکہ ہریجنوں بلکہ غیرمسلموں کو دوپورے شہروں مکہ اور مدینہ میں جانے کی اجازت نہیں۔آج شہروں میں ہندوعام طورپر ہریجنوں یا غیر ہندوؤں کا کھانا پانی بے جھجک استعمال کرتے ہیں تووہ صرف گاندھی جی کی دین ہے۔‘‘
نالندہ ضلع میں راج گیر ایک تاریخی جگہ ہے۔ یہاں ایک بار مجھے بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ جگہ سیتا کنڈاورمخدوم کنڈ کے لیے مشہور ہے۔ پہاڑ کے بالکل دامن میں یہ دونوں کنڈ(حوض) ہیں۔ گرم پانی کی سوت پہاڑ سے پھوٹتی ہے جو مسلسل جاری رہتی ہے۔ سیتا کنڈ میں ہندوعقیدت مند اور مخدوم کنڈ میں مسلم عقیدت مند جاتے ہیں۔ مجھے پتہ نہیں تھا۔ پہلے سیتا کنڈ کی طرف گیا۔ گیٹ پر ایک بورڈ تھا جس پر لکھا تھا Non Hindus are not allowed میں پہلے تو ٹھٹھک گیا۔ پھرہمت کرکے آگے بڑھا۔ داڑھی ٹوپی توتھی نہیں۔ ایک گیروے وستروالے پنڈت جی نے پوچھا کہاں سے آئے ہو۔ میں نے کہاپٹنہ یونیورسٹی سے۔ پوچھا کیا نام ہے؟ میں نے کہا راجیشن، اورآگے بڑھ گیا۔ جھوٹ بولنا پڑا۔ وہاں سے لوٹ کر مخدوم کنڈآیا۔ ایسا کوئی بورڈ وہاں نہیں تھا۔ اب جین صاحب ٹھنڈے دل سے، نیت درست کرکے سوچنے کی زحمت کریں کہ تفریق کہاں ہے؟ میں نے اپنے گائوں کی مسجد میں ایک ہندو کو آکر جمعہ کے دن کسی مسئلے پر تقریر کرتے ہوئے سنا ہے۔ تفریق کو مٹانے کا جیسا مستحکم پیغام اسلام نے دیا اس کی نظیرنہیں ملتی۔ قدیم زمانے کو تو چھوڑ دیجیے، آج بھی کہیں کہیں مندر میں نچلی ذات کے ہندو داخل نہیں ہوسکتے۔ وہ زمانہ بھی گزرا ہے کہ نچلی ذات کے لوگوں کو اشلوک اور دویہ بانی سننا تک منع تھا۔ اگر کوئی سن لے تواس کے کانوں میں سیسہ پگھلاکر ڈال دیا جاتا تھا۔ مسجد میں راجہ اور پرجا ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوسکتے ہیں۔ بلکہ کھڑے ہوتے ہیں:
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اورنہ کوئی بندہ نواز
جہاں تک مدینہ اورمکہ میں ہندوؤں کے داخلے پرپابندی کی بات ہے تومیں اس ضمن صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ان کی اپنی داخلی پالیسی ہے، وہ کوئی سیکولر ملک نہیں ہے، بلکہ جمہوری بھی نہیں ہے۔ مکہ میں تو کہیں کہیں داخلے کی اجازت ہے۔ البتہ حدود حرم میں داخلہ ممنوع ہے۔ریاض جودارالحکومت ہے وہاں بھی ہندوموجودہیں۔ دوسرے یہ کہ کسی ملک سے ہم اپنے ہی ملک جیسے قانون کی مانگ نہیں کرسکتے۔
شہروں میں ہندو،ہریجنوں یا غیرہندوؤں کا کھانا پانی بے جھجک استعمال کرتے ہیں تواس میں صرف گاندھی جی کا کمال نہیں ہے بلکہ یہ علم کی نئی روشنی اورکشادہ ذہنی ہے۔ جین صاحب نے ہریجنوں یا غیرہندوؤں کا استعمال کیاہے۔ دونوں گویا ایک ہی زمرے میں ہیں۔ اسلام میں تو ایسی کوئی درجہ بندی نہیں ہے۔ مسلمان صرف مسلمان ہے۔ کہا گیا ہے کہ کُلُّ مُسْلِمٍ اِخْوَۃٌ۔ لیکن ہریجن اگر ہندو ہے تو اس کے لیے تفریق کیوں؟ ہم ہوٹل میں جاتے ہیں تو یہ پوچھ نہیں سکتے کہ serveکرنے والے کی ذات کیاہے۔ ممکن ہے کہ ایک برہمن کو ایک ہریجن Serveکررہاہو۔ جگجیون بابوجب کچھ دنوں کے لیے وزیراعظم ہوئے تھے تو کیا بڑی ذات کے لوگ ان کے لیے کرسیاں نہیں چھوڑ دیتے تھے؟ کے آرنرائنن ہمارے صدر جمہوریہ ہوئے تو کیا تینوں فوجوں کے ہیڈ اور دوسرے لوگ انھیں Saluteنہیں کرتے تھے؟ یا یہ کہ کیا انھیں ہندوستان کے پہلے شہری ہونے کا شرف حاصل نہیں تھا؟ دراصل انسان کی قدر ومنزلت کے لیے اس کا اعلیٰ منصب پر فائز ہونا بھی ہماری سائیکی کا حصہ ہے۔ دوسری چیز ہے علم۔ علم سے ایک ہریجن کلکٹر ہوجاتاہے۔ ایک برہمن جب اس کے چیمبر میں آتاہے تو بغیر اجازت کے کرسی پر بیٹھ نہیں سکتا۔ جین صاحب کو چاہیے کہ تمام پہلوئوں پر غور کرنے کے بعد فتویٰ صادر کریں۔
ص148 پر اردو نثر میں عربی فارسی الفاظ کے حددرجہ استعمال اور مرصع ومسجع طرز پر جین صاحب اظہار خیال کرتے ہوئے کربل کتھا، نوطرزمرصع اور کلیات سودا کے دیباچے سے اقتباسات نقل کرکے لکھتے ہیں کہ اس جناتی زبان کو ہندوستان کی زبان کہنا ستم ظریقی ہے۔ کربل کتھا ازفضلی کا یہ اقتباس ہے: ’’حمدبے غایت اور ثنائے بے نہایت شائستہ وسزاوار اس کبریائے واجب الوجود کو کہ بزرگی صفات کمال اس کی درک ابہام سے مبرّاہے۔ (1748)۔ آگے چل کے لکھتے ہیں کہ اٹھارہویں صدی کے آخر میں مہرچند کھتری مہر نے اپنی داستان قصہ ملک محمدوگیتی افروز(1793) میں سب سے چست اردو لکھی:
’’گھڑی دوایک کے بعد آندھی تھم گئی اور ہوا موقوف ہوئی تو بادشاہ کے کان میں ایک عورت کی آواز آئی کہ آہ آہ کرکے کہتی تھی کہ میں جاتی ہوں کوئی ایسا ہے جو مجھے رکھ سکے۔‘‘ (ص149)
دونوں اقتباسوں کے درمیان 45برس کا فرق ہے۔ لہٰذا زبان بھی صاف ہوگئی ہے۔ کم سے کم کوں تو ’کو‘ میں بدل ہی چکا ہے۔ اس کے علاوہ بھی زبان صیقل ہوئی ہے۔ لیکن جین صاحب یہ صحیح کہتے ہیں کہ معرب اور مفرس عبارت آرائی اور پرتصنع طرز تحریر نے اردو نثر کو بہت نقصان پہنچایا۔ البتہ یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس زمانے میں یہی طریقہ تھا اپنی صلاحیتوں کودکھانے اور زبان پر اپنی قدرت کے اظہار کا۔بلکہ دبیاچے اور مقدمے میں استادانہ اور معرب ومفرس اسلوب پرزور دیا جانا ایک لازمی وطیرہ تھا۔ اب بہرحال معاملہ بہت کچھ بدل چکا ہے۔ بیتی باتوں کو دہراکر محض کیڑے نکالنا مناسب نہیں۔ ہمارے کلاسیکس میں اگر یہ سرمایہ نہ ہوتا توجین صاحب نثری داستانیں کے عنوان سے ضخیم کتاب کیسے لکھتے؟ یا پھر ان سے لے کر ہم تک، اساتذہ اپنے نصاب میں کربل کتھا، فسانۂ عجائب، باغ وبہار، قصہ مہرافروز دلبر، نوطرزمرصع وغیرہ کو اہم Textکے طور پر کیوں پڑھتے اور پڑھاتے رہے ہیں؟ یہ نہ بھولنا چاہیے کہ عربی اور فارسی تراکیب سے بوجھل عبارتوںنے ہماری نئی نسل کی Vocabularyمیں اضافہ ضرور کیا ہے۔ پھر یہ کہ اس سے ہمیں ایک ہی عہد میں برتے جانے والے کئی اسالیب کو سمجھنے میں بھی مدد ملی ہے۔ اگر مذکورہ بالا مختلف اسالیب نہیں ہوتے تو اردو کا دامن بالکل تنگ ہوتا۔
بیسویں صدی کے اوائل میں بھی بہت سے لکھنے والے عبارت آرائی کو اہمیت دیتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ علمی نثر میں بھی اپنے اسلوب خاص کو نبھاتے رہے ہیں۔ پنڈت برجموہن دتاتریہ کیفی جو ایک بڑے عالم اور شاعر تھے ان کے ایک مشہور لکچر بہ عنوان ’اردو اورلکھنؤ‘ (1927) سے صرف دوجملے پیش کرکے بغیر کسی تبصرے کے میں چپ ہو رہوں گا۔واضح رہے کہ یہ عبارت مہرچند کھتری کی چست اردو کے 134سال بعد لکھی جارہی ہے جو لگتی ہے کہ کربل کتھا کے آس پاس کی ہے۔
.1 ’’عریاں نویسی اورخارجی سقایم کے جراثیم جو جرأت مرحوم کے نفس نفیس سے پیدا ہوئے تھے، ان بزرگوں کے شعور اورنفس ناطقہ میں حلول کرگئے اور اب ایک نئے رنگ روپ میں باصرہ آزمائی کررہے ہیں۔‘‘
.2’ ’صورذہنیہ کے شعور کواس بارے میں قطعاً بطی الحس بنا دیا اور سخافت وظرافت، تفحص وتمسخر میں امتیاز زائل ہوگیا۔‘‘ (ص:152،ماخوذ ازمنشورات)
جین صاحب صفحہ124 پرلکھتے ہیں:
اردو کا مزاج تنگ نظری کا ہے۔ خالص اردومحض دومرکزوں دلّی اور لکھنؤ کی مستند ہے۔۔۔ لکھنؤ والے لکھنؤ کے باہر والوں کو زبان کے معاملے میں دیہاتی قرار دیتے ہیں۔۔۔ ہندی کا مزاج جمہوری ہے وہاں اس بات پر فخر کیا جاتاہے کہ ادیب عوامی بول چال کا عکاس ہے۔۔۔‘‘ (ص124)
جین صاحب نے اردو کے مزاج کو تنگ نظری والا بتایا لیکن وضاحت کی اردو والے کے مزاج کی۔ اردو تو اپنی جگہ خاموش ہے، اس کے استعمال کرنے والے اسے جس طرح چاہیں استعمال کریں۔ لکھنؤ والے اگر لکھنؤ کے باہر والوں کی زبان کو غیرفصیح قررار دیں یا لکھنؤ کے باہر والوں کو اس معاملے میں دیہاتی قرار دیں تو اس میں اس اردو کا قصور نہیں بلکہ اہل لکھنؤ کا قصور ہے۔ یعنی یہ تو لکھنوی مزاج کی بات ہوئی نہ کہ اردو کے مزاج کی۔ حالانکہ اردو کے مراکز ہندوستان کے ان دو شہروں دہلی اور لکھنؤ میں نہیں، بلکہ ہندوستان کے باہر بھی دوسرے ممالک میںہیں۔ خود اردو کے حوالے سے لکھنؤ کی صورت حال بہت ہی خراب ہے۔اگر لہجہ اور ادائیگی خاص کو چھوڑدیں تو اردو اپنی مستحکم صورت میں دوسرے صوبو ںمیں منتقل ہوچکی ہے۔ اہل لکھنؤ کو چاہیے کہ اسے پھر سے Reviveکرنے کی سوچیں۔ حالانکہ یہ ایک فطری عمل ہے کہ نادانستہ طور پر زبان بھی گردش میں رہتی ہے۔ اگر نمی نہیں ملتی تواس زبان کی کھیتی بھی اجڑ جاتی ہے۔
دوسری طرف جین صاحب نے ہندی کو جمہوری کہا ہے کہ اس کے ادیب عوامی بول چال کے عکاس ہوتے ہیں۔ اب انھیں کون سمجھائے کہ ایسا بالکل نہیں، بلکہ ٹی وی کے مختلف چینلوں پرآنے والے مختلف پروگرام یا نیوز کی جو زبان ہوتی ہے اس میں کم از کم 80فی صد اردو استعمال ہوتی ہے جو پورے ہندوستان میں سنی اور سمجھی جاتی ہے۔ چونکہ میں کسی تھیوری یا نظریے کی بات نہیں کررہاہوں، اس لیے اس کی تصدیق کے لیے ٹی وی کے پروگرام بغور دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں۔ مشہور نیوز چینل آج تک، این ڈی ٹی وی، اسٹار نیوز، جیسے چینلوںپر پڑھی جانے والی خبروں کے الفاظ گن کر ان کیPercentageدیکھی جاسکتی ہے۔ کیا اردوادیب اس زبان کے عوامی ہونے پر فخر نہیں کرتے؟جین صاحب کو چاہیے کہ اپنے اس تنگ نظری پر مبنی بیان کی خود ہی تردید کریں ورنہ آنے والی نسلیں اسے جھوٹ کا ایک بین نشان تصور کرے گی:
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
کتاب کے تیسرے باب کا عنوان ہے’اردو اور ہندی کے آغاز کی تلاش‘ اس باب کو پڑھ کر جین صاحب کی نیت کا اندازہ ہوجاتاہے۔ اس باب کے عنوان سے التباس ہوتاہے کہ واقعی اردو اورہندی کے آغاز پرایک محققانہ نظر ڈالی گئی ہوگی۔ لیکن ایک آدھ صفحہ کے بعد ہی ان کا مقصد ظاہر ہوجاتاہے۔ شروع میں ڈاکٹرسہیل بخاری کے تین اقتباسات پیش کرکے ایک جملے کا تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ تھے ہمارے سنسکرت جاننے والے ڈاکٹر سہیل بخاری۔ بعد ازاں یہ راز فاش کرتے ہیں:
’’اردو کی لفظیات میں لاکھ عربی فارسی کی بھرمار ہو لیکن اس کے بنیادی الفاظ اور صرف ونحو کے قواعد تمام کے تمام وہی ہیں جو ہندی کے ہیں۔ عربی فارسی الفاظ اس کے لیے بیرونی مستعار دولت ہیں اوربس۔‘‘ (ص57)
کبھی کبھی بیرونی دولت بڑے کام کی ہوتی ہے جیسے انگریزی پوری طرح مستعار دولت ہے جو ہمارے گھر اور تہذیب دونوں کو متاثر کررہی ہے۔ جین صاحب نے جذباتی ہوکر یہ لکھ دیا ہے کہ صرف ونحو کے قواعد تمام کے تمام وہی ہیں جو ہندی کے ہیں۔ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ مذکر مونث اور واحد جمع بنانے سے لے کر تحلیل صرفی کے اصول اور طریقے وہ نہیں جو ہندی قواعد کے ہیں۔ کہیں کہیں مماثلت ہوسکتی ہے، لیکن بالکلیہ ایسا نہیں ہے۔ حالانکہ اسی صفحے پر آگے لکھتے ہیں کہ اس میں ہندوستان سے زیادہ عرب وعجم کا رنگ ہے۔ مزید گل افشانی ملاحظہ کیجیے:
’’اس لے پالک(اردو) کا فرضی جدعربی، اس کے صلبی جدسنسکرت سے علاحدگی اور آویزش پرعمل کرتا رہاہے۔‘‘ (ص57)
اس کے بعد زبان کا معاملہ تقریباً ختم ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر معین الدین عقیل کی کتاب ’اقبال اور جدید دنیائے اسلام‘ (لاہور86) اور عزیزاحمد کی انگریزی کتاب Studies in Islamic culture in the Indian Environment (oxford 1966)کے حوالے سے وہابی تحریک، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی، شاہ ولی اللہ تحریک، تحریک اتحاد اسلامی، علی گڑھ تحریک اور سرسیدکونشانہ بناتے ہوئے ان میں کیڑے نکالنے لگتے ہیں۔ شاید کسی اردو والے کی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ اردو اورہندی کے آغاز کی تحقیق کا یہ کون سا طریقہ ہمارے محقق اعظم نے نکالا ہے۔اسی باب میں ذکر ہے کہ طالبان کے عہد میں مذہبی پولیس سڑکوں پر بے حجاب خواتین پر ڈنڈے چلاتی تھی۔ اس نے بامیان کے چٹانوں پر گوتم بدھ کے دوبلند وبالا مجسموں کو توڑدیا۔ سعودی عرب ہندومذہب کے کسی دیوتا کی مورتی تک نہیں لے جاسکتے۔ قارئین ذرا غور کریں کہ جین صاحب ایسی باتیں لکھ کر زبان کی تحقیق کا کون سا معیار قایم کرنا چاہتے ہیں؟ اس باب کے آخرمیں امرت رائے کی کتاب A House Dividedکی مدح سرائی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اردو میں کوئی کتاب اس کے چوتھائی کے برابر بھی نہیں ٹھہرتی۔ یہی مدح سرائی وہ انتساب میں بھی کر آئے تھے۔ لکھتے ہیں کہ اس کتاب کے محاسن ایک بار پڑھنے سے گرفت میں نہیں آتے۔ اسے کم از کم تین چار مرتبہ کھنگالا جائے تبھی آشکار ہوتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ کتاب کی خوبی ہے کہ خرابی؟ جین صاحب جیسے عالم فاضل اردو کے پروفیسر کو جب یہ کتاب چار مرتبہ پڑھنے کے بعد سمجھ میں آتی ہے توعام قارئین کو شاید کم ازکم چھ سات بارپڑھنا پڑے گا۔تِس پر بھی لازم نہیں کہ سمجھ میں آجائے۔ لیکن اس بھاگ دوڑ میں کسے اتنی فرصت ہے کہ اس دقیق تصنیف کے فلسفیانہ رموز وافکار تک رسائی حاصل کرنے کے لیے قرأت وباز قرأت کے عمل سے گزرتارہے، جیسے اور کوئی کام ہی نہیں۔ جین صاحب کا ایک جملہ اورملاحظہ کرتے چلیں۔ لکھتے ہیں کہ اہل اردو تومطالعہ کے بجائے اپنے لسانی تعصب کوکافی وشافی سمجھتے ہیں۔ (ص66) جین صاحب کیا خود کو اہل اردو نہیں سمجھتے؟ میرے خیال سے وہ خود بھی لسانی تعصب کے شکار ہیں۔ لیکن یہ ایسے اردو والے ہیں کہ خود اردو کے تئیں ان کا تعصب آئینے کی طرح بالکل صاف ہے۔ ان کا بالواسطہ ایک مشور ہ ہے کہ اردو والوں کو چاہیے کہ پراکرت اوراپ بھرنش سے بخوبی واقف ہوں، ساتھ ہی رام ولاس شرما کی کتاب بھاشا اورسماج، راشٹربھاشا کی سمسیائیں، نامور سنگھ کی ہندی کے وکاس میں اپ بھرنش کایوگ اور سب سے عالمانہ تصنیف A House Dividedکا مطالعہ بھی گہرائی سے ضرور کریں۔ یہ ایک اچھی بات بھی ہے۔ شاید اس سے اردووالوں کو اپنی تاریخی لسانیات سے کچھ واقفیت ہوجائے گی ساتھ ہی ہندی کے آغاز وارتقا سے بھی بخوبی واقفیت ہوجائے گی؛ تاکہ ضرورت پیش آئے تو ہندی والوں سے معرکہ آرائی کرسکیں۔ ایسے اس ضمن میں فاروقی صاحب نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے وضاحت کردی ہے کہ امرت رائے کی کتاب کی مخالفت خود ان کے بیٹے پروفیسر آلوک رائے نے کی ہے۔ فاروقی صاحب نے جین صاحب سے بجاطور پر یہ استفسار کیاہے کہ کسی کے مبلغ علم کو ناپنے کا ان کے پاس آخر کون سا پیمانہ ہے۔ انھوںنے آلوک رائے کے علاوہ اردو کے علما میں پروفیسر گوپی چندنارنگ، مختارالدین احمد، رشیدحسن خاں، انصار اللہ نظر، نوجوانوں میں سراج منیر، تحسین فراقی اور سہیل احمد کے ناموں کا ذکر کیاہے۔ ان ناموں میں اگر کچھ نام اورشامل کرلیں تو بہتر ہوگا۔ شمس الرحمن فاروقی، نثاراحمد فاروقی، تنویراحمدعلوی، سیدعبداللہ، وزیرآغا۔
داستانوں اور مثنویوں میں ہیروکے مسلمان ہونے اور ہیروئنوں کے ہندوہونے پر جین صاحب کوبہت ملال ہے۔ اگراس ترتیب کو بدل بھی دیں تو مقصد مذہبی رواداری اور تہذیبی اختلاط ہی رہتاہے۔ جین صاحب کو رائے دیتے ہوئے یہی مقصدی نظریہ پیش نظر رکھنا چاہیے تھا۔ ظہیرالدین مدنی نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ مثنوی کا ہیرو مسلمان ہوتا اور ہیروئین ہندو اورآخر کار ہیروئیں اپنا مذہب بدل کر ’مشرف بالاسلام‘ ہوجاتی۔ اس پر جین صاحب لکھتے ہیں:
’’مشرف بالاسلام‘‘ کا اپنے منہ میاں مٹھو بننے والا فقرہ مسلمان مصنّفین کے لیے ایسی معمول کی بات ہے کہ وہ ہر قاری سے اسے تسلیم کرنے کی توقع رکھتے ہیں لیکن ہندو قارئین کے لیے یہ ایک مذہبی جارحیت ہے۔ اسے لکھتے وقت گوپی چند نارنگ کے قلم کی روانی کو کچھ نہ کچھ دھچکا تو لگا ہوگا، کیوں کہ ان کا ادبی مسلک توباہمی لین دین، رواداری اور اشتراک کا ہے۔‘‘ (ص190)
تبلیغ اسلام کی روایت پر جین صاحب کی نظر ضرورہوگی۔ انھوں نے مذہب اسلام کا مطالعہ ضرور کیا ہوگا۔ اسلام کی اشاعت کے لیے جبر کی ضرورت نہیں پڑتی۔ قرآن نے خود کہا ہے کہ لَاإِکْراہَ فِی الدِّین یعنی دین میں اکراہ (زور وزبردستی نہیں) اس لیے اسلامی تاریخ میں جتنی جنگوں کاذکرہے سب کے سب Defensiveرہی ہیں۔صوفیوں نے ہندوستان میں اسلام کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی وسیع المشربی اور چھوا چھوت سے اعراض کے سبب نچلی ذات کے ہندوؤں نے اسلام قبول کیا۔ اگر مثنویوں اورداستانوں میں اس کے نقوش ملتے ہیں تو استعجاب کاہے کا؟ اس کتاب میں جین صاحب نے اپنے بھائی پرکاش مونس کی کتاب ’اردو ادب پر ہندی ادب کا اثر‘ کو خوب Quoteکیاہے۔ اس باب 11؎ میں تبلیغ اسلام، تبدیلی مذہب اوراسلامی اقدار کے خلاف غیرضروری طورپر جین صاحب نے اپنا زور قلم صرف کیاہے۔ حقیقت تو یہ ہے جین صاحب! اسلام آج بھی پھل پھول رہاہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام کے خلاف پوری دنیا میں سازشیں ہورہی ہیں۔ مسلمان البتہ اپنے راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی قدرشناسی تو گارسیں دتاسی نے بھی کی ہے۔اس کے علاوہ بھی ہزاروں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کتنے لوگ اپنے مطالعے اور غور وفکر کے بعد مشرف بالاسلام ہوئے۔ لہٰذا جین صاحب کا ’مشرف بالاسلام‘ ہونے کو اپنے منہ میاں مٹھو بننے کے مترادف سمجھنا لاعلمی یاکٹھ حجتی والی بات ہے۔ پیغمبر اسلام کی پیدائش کے متعلق پیش گوئی کے حوالے سے دتاسی نے بھی بائبل اور انجیل سے چند اقتباسات پیش کیے ہیں اوران پر تائیدی توضیحات بھی سامنے رکھی ہیں۔ (گارسی دتاسی:پروفیسرثریاحسین،ص201)
مذہب اسلام اورپیغمبرمحمدؐ کے بارے میں زعمائے عالم کے خیالات بھی جین صاحب کے سامنے ہوں گے۔ کچھ ایک نے خلاف میں زہرفشانی بھی کی لیکن وہ ہزیمت خوردہ ہوئے۔ جین صاحب گارسی دتاسی کی کتاب مذہب اسلام کے عقائد وفرائض، مارٹن لنگز کی کتاب ’محمدؐ‘ اور مالک رام کی تصنیف اسلام پر ملاحظہ فرمالیں۔ کسی مسلمان مصنف کی کتاب تو وہ پڑھنے سے رہے۔ مارٹن لنگز بھی مشرف بالاسلام ہوگئے۔ اسی باب میں وہ لکھتے ہیں:
’’سوال یہ ہے کہ کیا قصوں میں مذاہب کے عقیدوں کی نازک بحث اٹھانی چاہیے۔ کیا وہ پیغمبر اسلام اور دوسرے بزرگان دین کے لیے ایسی لغویات برداشت کریں گے۔‘‘ (ص204)
جین صاحب نے سوال تو مناسب اٹھایاہے لیکن وہ تو داستان (بوستان خیال) کی باتیں تھیں۔ پرانی باتوں اور پرانے قصوں میں اگرایسی مثالیں ملتی ہیں جو بقول جین ایک نازک بحث ہے، جو غیرمناسب ہے تو بھلا آج 21ویں صدی میں اس طرح کی نازک بحث چھیڑنا کہاں تک مناسب ہے؟ جین جو خوداسلامی قدروں اور عقائد کو پامال کرنے اور بزرگان دین کے کارناموں کی تحقیر و تضحیک میں اپنی قوت تحریر جھونک دیتے ہیں، ان کے لیے ایسا سوال قائم کرنا کہاں تک درست ہے؟ اسلام کبھی بھی کسی دوسرے مذہب پر کیچڑاچھالنے کی اجازت نہیں دیتا، ہاں اس کی تبلیغ اور اشاعت پر ہرزمانے میں محنت ہوتی رہی ہے اور یہ آزادی ہر مذہب کو ہے۔ میں یہاں ایک بات بہت ہی Clarityکے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلام اپنی اشاعت توچاہتاہے لیکن کبھی خود کو کسی پر Imposeنہیں کرتا۔ مذہب توخالص دل کی حالت سے تعلق رکھتاہے۔ اسلام نے تو کھول کر کہہ دیا ہے کہ’ لکم دینکم ولی دین‘ یعنی ’’تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے‘‘ اگر اس بات کو ہندواور مسلمان سمجھ لیں تو جھگڑا ختم ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر کوئی اپنے مذہب سے دوسرے مذہب میں سوچ سمجھ کر مطالعے اور مشاہدے کے بعدجانا چاہتاہے تو یہ اس کی اپنی مرضی ہے ’مشرف بالاسلام‘ والا معاملہ بھی ایسا ہی رہاہے۔
جین صاحب نے پہلے باب میں لکھا ہے کہ انھوں نے کالی داس گپتا کو لکھا کہ شاعری میں تونہیں لیکن نثرمیں اقبال نے ہندوؤں کے بارے میں جہاں بھی لکھاہے وہ تحقیر وتذلیل کے سوا کچھ نہیں۔ کالی داس نے 5جنوری کو جین صاحب کو ایک طویل خط لکھا۔ اس کا طویل اقتباس بھی درج کیا ہے۔ اس اقتباس سے چند جملے ملاحظہ کیجیے:
’’میرے مثنوی چراغ دیر کے اردو ترجمے کے خلاف ڈاکٹر حنیف نقوی نے جو مضمون لکھا تھا، خلیق انجم نے اسے بڑے ٹھسّے سے ہماری زبان میں چھاپاہے۔۔۔ میں نے دیکھا ہے کہ کسی ہندومشہور شاعر یا ادیب کو بخشا نہیں گیا ہے۔ دیاشنکر نسیم، چکبست، مالک رام، گیان چند، گوپی چند اور اب میں، سبھی پر کیچڑ اچھالی گئی ہے۔۔۔ لیکن مسلمانوں سے کوئی تعصب نہیں رکھتا اورمسلمان اردو والوں نے میری پذیرائی بہت کی ہے مگر ان ہندوستانی مسلمانوں نے کم لکھاہے جو اردو حلقوں یا اردو انجمنوں کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ ہم صرف اپنے کام کی وجہ سے اوپرآئے ہیں۔‘‘ (ص22)
کیچڑ اچھالے جانے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ اس میں ہندومسلم کی قید نہیں۔ اب میں یہاں خواہ مخواہ سروے کرکے اپنا اورقارئین کا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ چلیے تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ مذکورہ بالا ہندوشاعروں اورادیبوں پر کیچڑ اچھالی گئی، لیکن خود جین صاحب نے اپنی اس کتاب کے ذریعہ کیچڑ اچھال کر انتقام لینے کا جو ایک منظم تناظر وضع کیاہے اس کی نظیر بھلا کہاں سے پیش کی جائے؟ساری کسرپوری کرلی گئی، شاید اب سبھوں کے دل کو ٹھنڈک پہنچ گئی ہوگی۔ بڑے منصب کے کسی مسلمان اردووالے نے کم لکھا۔ کالی داس گپتا اگر ہوتے تو میں ان سے یہی کہتا کہ جب آپ اپنے کاموں کے سبب(یہ حقیقت بھی ہے) اوپر آئے ہیں توبڑے لوگوں سے خود پر لکھوانے کی فکر ہی کیوں کرتے ہیں؟ یہ بڑے لوگ خود ہی پر لکھوانے کی فکرمیں رہتے ہیں تو بھلا دوسروں پر کیسے لکھیں گے۔ بلراج ورما نے ’تناظر‘ کا کالی داس گپتا رضا نمبردسمبر1985 میں شائع کیا تھا، جس میں 42لوگوں کی تحریریں ہیں، جن میں صرف 14ہندو لکھنے والے ہیں۔ مسلمان بڑے لکھنے والوں میں قاضی عبدالودود، وارث علوی، شمس الرحمن فاروقی، آدم شیخ، ظفرادیب، صفدرآہ، عبداللہ کمال اورعلیم اللہ حالی کے نام شامل ہیں۔ ساتھ ہی سردارجعفری اور افتخار امام صدیقی سے گفتگو بھی شامل ہے۔ اورکیا چاہیے، کتنا چاہیے؟ یہ سب بے کار کی باتیں ہیں، جنھیں جین صاحب غیرضروری طورپر Highlightکرنا چاہتے ہیں۔ کسی پر کسی کے لکھنے یا نہیں لکھنے کو کسی طرح کی سازش پر محمول نہیں کرنا چاہیے۔ دورحاضرمیں ہی دیکھ لیں کہ پروفیسرنارنگ پر کس بڑے مسلمان ادیب نے خامہ فرسائی نہ کی ہوگی۔ ان پر کتنے گوشے، تحقیقی مقالے اور دیگرکتابیں منظرعام پر آچکی ہیں۔ اس لیے میں جین صاحب اور ان کی سی ذہنیت کے دوسرے اردو والوں سے گزارش کروں گا کہ وہ ذہن ونظر صاف رکھیں تاکہ سب کچھ آلودہ نظر نہ آئے۔
کتاب کا دسواں باب ہندی اردوتنازعہ اورفرقہ وارانہ سیاست پر مبنی ہے۔ اس باب کے دوتین اقتباسات دیکھئے:
.1 ’’اسلامی سلطنتوں کا دورفاتح اورمفتوح میں ذہنی اورجذباتی فاصلے کا دوررہا ہوگا۔ ہندو دیکھتے ہوں گے کہ اقتدار اور طاقت کی بلند کرسی پر باہر سے آئے ہوئے امرا بلکہ معمولی ایرانی تورانی بٹھا دیے جاتے ہیں۔18ویں صدی عیسوی کے آخر تک دیکھنے میں آتا ہے کہ باہر کے مجہول الاسم مہم جویوں کو صمصام الدولہ، عمادالملک جیسے خطاب دے کر بڑے سے بڑے عہدوں پر فائز کردیاجاتاہے جبکہ دھرتی کے سپوتوں کو نان ونمک پر ٹال دیاجاتاہے۔‘‘ (ص155)
.2 ’’اسلامی دور میں اکثریت یعنی ہندوؤں کی تہذیب اورزبان کو دباکر رکھا گیا۔انیسویں صدی میں اسلامی دوراقتدار ختم ہونے پر اگر ہندوؤں نے ناگری کا حق مانگا تواس میں کیا برا تھا۔‘‘ (ص169)
.3 ’’ایک حقیقت کا اعتراف کرتاہوں کہ ہندوستان کی اسلامی دور کی تاریخ ایک طرف ہندوؤں پر مسلمانوں کی جفاکاریوں کے بیانات سے بھری پڑی ہے دوسری طرف ان کی رواداری اور منصفانہ برتاؤ کی بھی کمی نہیں۔‘‘
اس باب میں فورٹ ولیم کالج کے حوالے سے بھی متضاد، جانب دارانہ اور متعصبانہ خیالات ملتے ہیں۔ ان پر میں اظہار خیال نہیں کروں گا کیوں کہ قارئین کو فورٹ ولیم کالج کا مقصد قیام معلوم ہے۔ اگر ہندی زبان کا شعبہ اس کالج میں نہیں تھا تو اس میں مسلمان کتنے اور کس طرح ذمہ دار واقع ہوتے ہیں۔ گلکرسٹ اگرناراض ہوکر فروری 1804 میں استعفیٰ دے کر واپس چلا جاتاہے تواس کے پیچھے مسلمانوں کی ناراضگی ہے یا کچھ اور؟ اسی طرح کیپٹن ویسٹن کو عربی وفارسی کا اور ولیم پرائس اورلفٹنٹ ڈی رڈیل کو ہندوستانی کے پروفیسر کے عہدے پر فائز کرنا بعدمیں اخراجات میں کمی کرنے کا بہانہ کرکے عربی وفارسی کے پروفیسر ویسٹن کو ہٹانا اور پھر ولیم پرائس کا ہندوستانی شعبے کا صدر ہونا۔ غور کیجیے کہ ولیم پرائس جو ہندوستانی کا پروفیسر تھا، بعدمیں اس نے گورنرجنرل کو خط لکھا جس میں ہندی کو اردو پر ترجیح دی اوراپنے نام کے ساتھ ہندوستانی پروفیسر کے بجائے ہندی پروفیسر لکھا۔ ان سب باتوں کا ذکر خود جین صاحب نے کیاہے۔ جین صاحب قدرے توقف کے ساتھ وِچار کریں کہ یہ ہندوستانی کا پروفیسر اپنے نام کے ساتھ اچانک ہندی پروفیسر کیسے لکھنے لگا؟اس نفسیات اور سازش کی جزیات تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ یہاں بے چارے مسلمانوں کو جین صاحب بخش دیں تو بہتر ہے۔ دوسرے یہ کہ فورٹ ولیم کالج میں کوئی اسلامی تاریخ یاسیرت پاک پر کتابیں تصنیف نہیں کی جارہی تھیں۔ بلکہ مادھونل اورکام کندلا سنسکرت قصہ، بیتال پچیسی قدیم ہندومعاشرت شکنتلا، سنگھاسن بتیسی، راجہ بکرماجیت کے عدل وانصاف کے قصے اردو؍ہندوستانی میں منتقل ہورہے تھے۔ اتنی مثالیں غور وفکر اور نصیحت دھرنے کے لیے کم نہیں، خیر۔ہوا میں تیر چلانا ایک محقق کو زیب نہیں دیتا۔
آئیے اب اقتباس نمبر 1؎ کی روشنی میں دیکھیں کہ جین صاحب سے کہاںچوک ہوئی ہے۔ انھوںنے اسلامی دور یا اسلامی سلطنت کا استعمال کیاہے۔ میرے خیال سے ہندوستان میں مسلم سلطنت رہی ہے، اسلامی نہیں۔ دونوں کے مالہٗ وماعلیہ (Pros & Cons)سے جین صاحب بھی واقف ہیں اور قارئین بھی۔ اسلامی حکومت ہندوستان کی تاریخ میں کبھی نہیں رہی۔ اس نظام فکر اور زاویہ نظر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے یہ کہ مجہول الاسم مہم جویوں کو صمصام الدولہ اور عمادالملک کے خطاب سے نوازا گیا اورملک کے سپوتوں کو نان ونمک پر ٹال دیا گیا۔یہ رویہ کب اور کس کا تھا؟ سیدھی سی بات ہے جس کا دورِ حکومت تھا اس نے اپنے طور پر جسے چاہا خطابوں سے نوازا اورملک کے سپوتوں کو اگر خطابات نہیں ملے تو کس نے نہیں دیے،اس کی وضاحت بھی ہونی چاہیے تھی۔
اقتباس نمبر 2؎ میں جین صاحب فرماتے ہیں کہ اسلامی دورحکومت میں ہندوؤں کی تہذیب اور زبان کو دباکر رکھا گیا۔ جین صاحب کویقینا التباس ہوا ہے۔ فارسی کے زمانے میں، ہندی دبی ہوئی رہی کیوں کہ اہل سلطنت کی زبان ہندی نہیں تھی۔ باہر سے آئے ہوئے مسلمانوں نے سلطنت قائم کی۔ اس کے اپنے تقاضے تھے، لہٰذا فطری طور پر ہندی کو کچھ عرصے کے لیے پردئہ خفا میں رہنا پڑا۔ اس کے باوجود بہت سے مسلمان ہندی شعرا طبع آزمائی کرتے رہے۔ اس کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں۔ جین صاحب اس موقف اورنظریے کی نظرثانی کریں توبہتر ہے۔ دوسری بات یہ کہی گئی ہے کہ 19ویں صدی میں اسلامی دورحکومت ختم ہونے کے بعداگر ناگری کا حق مانگا گیا تو اس میں برا کیاتھا۔ اس میں برا تو کچھ بھی نہیں تھا، لیکن جب اسلامی حکومت یعنی مسلم حکومت ختم ہوگئی تویہ حق کس سے مانگا جارہاتھا اوراس حق طلبی پر معترض کون تھا؟ یہ پہلو بھی غور طلب ہے۔ بال کی کھال نکال کرجین صاحب دوفرقوں میں خلیج پیدا کرنے کی صورت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ میر کا یہ شعر پڑھئے:
ہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر وحرم کی راہ چل
اب یہ جھگڑا حشر تک شیخ و برہمن میں رہا
اقتباس نمبر 3؎ میں ایک اچھی بات کہی ہے کہ ایک طرف اسلامی دور کی تاریخ ہندوؤں پر مسلمانوں کی جفاکاریوں سے بھری پڑی ہے تودوسری طرف ان کی رواداری اور منصفانہ برتاؤ کی بھی کمی نہیں۔ اب اس بیان کو کس طرح لیا جائے۔ پوری کتاب تو مسلمان کی جفاکاریوں کو نشان زد کرتی ہے کاش چند مثالیں وفاداریوں،رواداریوں اور ان کے منصفانہ برتاؤ کی بھی پیش کردی جاتیں۔ لیکن جین صاحب ایسا کام کاہے کوکرتے، پھر تو ان کا مقصد ہی فوت ہوجاتا۔
جین صاحب کاایک اقتباس ملاحظہ کیجیے اس کے بعد ڈاکٹر معین الدین عقیل کا ایک اقتباس پیش کیا جائے گا۔ جین صاحب لکھتے ہیں:
’’اتحاد اسلامی کی کوئی بھی شکل ہو جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ہندوؤں اور ہندوستان کی مخالفت اس کے عزائم سے ہوتی ہے۔‘‘ (ص522)
اتحاد اسلامی کا مفہوم ہندوؤں اور ہندوستان کی مخالفت کیسے ہوا، سمجھ میں نہیں آتا۔ ہم اگر یہ کہیں کہ ہم تینوں بھائیوں کو مل کے رہنا چاہیے تواس کا یہ مطلب کیسے ہوسکتا ہے کہ پڑوسی یادوسرے گھر کے تین بھائیوں یا دس بھائیوں کی مخالفت مقصود ہے؟ اگر کوئی بھی قوم متحد ہونا چاہتی ہے تواس میں برائی کیا ہے؟ البتہ منفی اقدام کرنا غلط ہے۔اس کے بعد معین الدین عقیل کوسنیے:
’’تحریک اتحاد اسلامی ایک سیاسی تحریک کی صورت میں انیسویں صدی کے نصف آخر میں شروع ہوئی۔اس روئے زمین پر دوہی قومیں آباد ہیں، ایک وہ جو اسلام کی پیرو ہیں اور دوسری وہ سب جو غیرمسلم ہیں۔ قرآن حکیم نے ان کے لیے حزب اللہ اور حزب الشیٰطین کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ تمام غیرمسلم حزب الشیٰطین اس وجہ سے ہیں کہ شیطان ان پر غالب ہوتا ہے۔‘‘
(اقبال اورجدیددنیائے اسلام بحوالہ:ایک بھاشا۔۔۔ص225)
اسلام کے فلسفے کو اتنی آسانی سے سمجھ لینا اور پیش کردینا آسان نہیں ہے۔ دراصل مفہوم یہ ہے کہ اس زمین پر ایک گروہ ہے جو اللہ کی وحدانیت یعنی Oneness of Godکو تسلیم کرتاہے اور دوسرا وہ ہے جو اللہ کا منکر ہے اور اگر منکر نہیں توایک ایشورکونہیں مانتا۔یہ جماعت گویا بھٹکی ہوئی ہے اور بھٹکانے کا کام شیطان کرتاہے، اس لیے ایسے گروہ کے لیے حزب الشیٰطین استعمال ہوا۔ عقیل صاحب غورکرکے بتائیں کہ کیا مسلمانوں میں ایسے لوگ نہیں جن پرہمہ وقت شیطان غالب رہتاہے؟ ایسی باتیں لکھ کر عقیل صاحب بھی جین صاحب کی طرح، منافرت کا بیچ لگانے کا کام کرتے ہیں۔ ایسی تعبیر وتشریح سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔ اگر شیطان ہم پر بھی غالب نہ ہوتایا اس کا خدشہ نہ ہوتا تو ہمیشہ اعوذباللہ۔۔۔ اورلاحول۔۔۔ کا ذکر کیوں کرتے اور شیطان کے وسوسے سے خودکو بچانے کی دعا کیوں کرتے؟ شیطان جب راندئہ درگاہ ایزدی ہوا تو اس نے آدم کی پوری ذرّیت کوبہکانے کی قسم کھائی تھی نہ کہ صرف غیرمسلموں کو۔ اس پر مزید گفتگو ہوسکتی ہے لیکن موقوف!
اسی تحریک اتحاداسلامی کے ذیل میں جین صاحب نے شبلی،ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر مختاراحمدانصاری، مولانا محمدعلی اور مولانا محمودحسن کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ سب اس تحریک کے لیے سرگرم رہے۔ میں جین صاحب سے پوچھنا چاہتاہوں کہ اگراپنی قوم اور ملت کے اتحاد کے لیے یہ سب سرگرم رہے تو اس سے ہندوستان کو کیا خطرہ لاحق ہوا؟ یہ سب کے سب تحریک آزادی کے سرگرم سپاہی اور مجاہد رہے ہیں۔ پوری دنیا اورکم از کم ہندوستان کی تاریخ آزادی میں ان کے کارناموں کوسنہرے حروف میں لکھا گیاہے۔ ابوالکلام آزاد، محمدعلی اورمحمود حسن نے انگریزوں کے خلاف بڑی لڑائیاں لڑیں۔ ان کو بھلا دینا یا جین صاحب کا ان زعمائے ہند پر کیچڑ اچھالنا ایک اوچھی حرکت ہے۔ حکومت ہند کو چاہیے کہ اس سلسلے میں وہ جین صاحب کی اور ان کی اس تحریر کی مذمت کرے۔ ان کے علاوہ بھی مولانا حالی اور سرسید کو بھی جگہ جگہ معتوب کیا گیا ہے جس سے جین صاحب کی آلودہ ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے۔
پوری کتاب میں جین نے کلمات آخر میں ایک بات کہی ہے، دراصل یہی وہ حقیقت ہے جسے ہمیں قبول کرلینا چاہیے۔ البتہ تعجب ہوتاہے کہ جین صاحب جب اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں تواس قدر مفسدانہ اور باعث افتراق کتاب تصنیف کرنے کی انھیں ضرورت کیوں پڑی؟ لکھتے ہیں:
’’آپ مجھ سے اتفاق کریں یا نہ کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ تہذیبی اعتبار سے مسلمانوں کے تشخص کا جو اظہار اردو زبان وادب میں ہوتا ہے وہ ہندی میں نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہندوؤں کے تہذیبی تشخص کا اظہار جو ہندی زبان وادب میں ہوتاہے، اس قدر اردو میں نہیں ہوتا۔ اردو زبان وادب کا لسانی وتہذیبی پس منظر عربی فارسی اور اسلام سے نزدیک ہے، ہندی زبان وادب کا سنسکرت اورہندودھرم ہے۔‘‘ (ص279)
اتنی سی بات لکھنے کے لیے اس قدر زہرافشانی کی آخر ضرورت کیا تھی؟
نوٹ: مضمون نگار شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ہیں۔

